Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 4 · Chapter 49

علم کے ابواب

علم کے اٹھائے جانے کا بیان

7 hadiths in this chapter

315

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #315

Sahih

۔ (۳۱۵)۔عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِؓ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّ اللّٰہَ لَا یَقْبِضُ الْعِلْمَ اِنْتِزَاعًا یَنْتَزِعُہُ مِنَ النَّاسِ، وَلَکِنْ یَقْبِضُ الْعِلْمَ بِقَبْضِ الْعُلَمَائِ حَتَّی اِذَا لَمْ یَتْرُکْ عَالمًا، اِتَّخَذَ النَّاسُ رُؤَسَائَ جُہَّالًا فَسُئِلُوْا فَأَفْتَوْا بِغَیْرِ عِلْمٍ فَضَلُّوْا وَأَضَّلُوْا۔)) (مسند أحمد: ۶۵۱۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبد اللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ علم کو اس طرح نہیں اٹھائے گاکہ وہ اِس کو لوگوں سے سلب کر لے، وہ تو علماء کو فوت کر کے علم کو اٹھائے گا، یہاں تک کہ جب وہ کسی عالم کو زندہ نہیں چھوڑے گا تو لوگ جاہلوں کو اپنا سردار بنا لیں گے، پس جب ان سے سوال کیا جائے گا تو وہ بغیر علم کے فتوے دیں گے اور اس طرح خود بھی گمراہ ہو جائیں گے اور لوگوں کو بھی گمراہ کریں گے۔

316

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #316

Sahih

۔ (۳۱۶) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ)۔ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((اِنَّ اللّٰہَ لَا یَنْزِعُ الْعِلْمَ مِنَ النَّاسِ بَعْدَ أَنْ یُعْطِیَہِمْ اِیَّاہُ، وَلَکِنْ یَذْہَبُ بِالْعُلَمَائِ، وَکُلَّمَا ذَہَبَ عَالِمٌ ذَہَبَ بِمَا مَعَہُ مِنَ الْعِلْمِ حَتَّی یَبْقٰی مَنْ لَا یَعْلَمُ، فَیَتَّخِذُ النَّاسُ رُؤَسَائَ جُہَّالًا فَیُسْتَفْتَوْا فَیُفْتُوْا بِغَیْرِ عِلْمٍ فَیَضِلُّوْا وَیُضِلُّوْا۔)) (مسند أحمد: ۶۸۹۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بیشک جب اللہ تعالیٰ لوگوں کو علم عطا کر دیتا ہے تو وہ اس کو لوگوں سے چھین نہیں لیتا، بلکہ وہ علماء کو فوت کرنا شروع کر دیتا ہے، جب ایک عالم فوت ہوتا ہے تو وہ علم بھی چلا جاتا ہے، جو اس کے پاس ہوتا ہے، یہاں تک کہ صرف وہ لوگ باقی رہ جاتے ہیں، جن کو علم نہیں ہوتا، پس لوگ جاہلوں کو اپنا سردار بنا لیتے ہیں اور پھر جب ان سے فتوی طلب کیا جاتا ہے تو وہ بغیر علم کے فتوی دیتے ہیں اور اس طرح خود بھی گمراہ ہو جاتے ہیں اور دوسروں کو بھی گمراہ کر دیتے ہیں۔

317

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #317

Sahih

۔ (۳۱۷)۔عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَۃِ أَنْ یُرْفَعُ الْعِلْمُ وَیَثْبُتَ الْجَھْلُ وَتُشْرَبَ الْخَمْرُ وَیَظْہَرَ الزِّنَا۔)) (مسند أحمد: ۱۳۱۲۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: یہ قیامت کی علامتوں میں سے ہے کہ علم اٹھا لیا جائے گا، جہالت پھیل جائے گی، شراب کو پیا جائے گا اور زنا عام ہو جائے گا۔

318

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #318

Zaeef

۔ (۳۱۸)۔عَنْ قَابُوْسٍ عن أَبِیْہِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍؓ قَالَ: آخِرُ شِدَّۃٍ یَلْقَاہَا الْمُؤْمِنُ الْمَوْتُ، وَفِیْ قَوْلِہِ: {یَوْمَ تَکُوْنُ السَّمَائُ کَالْمُہْلِ} قَالَ: کَدُرْدِیِّ الزَّیْتِ، وفِیْ قَوْلِہِ: {آنَائَ اللَّیْلِ} قَالَ: جَوْفُ اللَّیْلِ وَقَالَ: ھَلْ تَدْرُوْنَ مَا ذَہَابُ الْعِلْمِ؟ قَالَ: ہُوَ ذَہَابُ الْعُلَمَائِ مِنَ الْأَرْضِ۔ (مسند أحمد: ۱۹۴۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبد اللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں: آخری سختی، جس میں مؤمن مبتلا ہوتا ہے، موت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان {یَوْمَ تَکُوْنُ السَّمَائُ کَالْمُہْلِ} میں مُھْل سے مراد تیل کا تلچھٹ ہے اور {آنَائَ اللَّیْلِ} سے مراد رات کا درمیانہ حصہ ہے۔ پھر انھوں نے کہا: کیا تم جانتے ہو کہ علم کا ختم ہو جانا کیا ہے؟ وہ زمین سے اہل علم کا اٹھ جانا ہے۔

319

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #319

Sahih

۔ (۳۱۹)۔عَنْ زَیَادِ بْنِ لَبِیْدٍؓ قَالَ: ذَکَرَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شَیْئًا فَقَالَ: ((وَذَاکَ عِنْدَ أَوَانِ ذَہَابِ الْعِلْمِ۔)) قَالَ: قُلْنَا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! وَکَیْفَ یَذْہَبُ الْعِلْمُ وَنَحْنُ نَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَنُقْرِئُہُ أَبْنَائَ نَا وَیُقْرِئُہُ أَبْنَائُ نَا أَبْنَائَ ہُمْ اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ؟ قَالَ: ((ثَکِلَتْکَ أُمُّکَ یَا ابْنَ أُمِّ لَبِیْدٍ، اِنْ کُنْتُ لَاَرَاکَ مِنْ أَفْقَہِ رَجُلٍ بِالْمَدِیْنَۃِ، أَوَ لَیْسَ ہٰذِہِ الْیَہُوْدُ وَالنَّصَارٰی یَقْرَؤُونَ التَّوْرَاۃَ وَالْاِنْجِیْلَ لَا یَنْتَفِعُوْنَ مِمَّا فِیْہِمَا بِشَیْئٍ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۶۱۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا زیاد بن لبید ؓ کہتے ہے: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے کسی چیز کا ذکر کیا اور فرمایا: یہ اس وقت ہوگا، جب علم اٹھ جائے گا۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! علم کیسے ختم ہو جائے گا، جبکہ ہم قرآن مجید پڑھتے ہیں اور اپنے بچوں کی اس کی تعلیم دیتے ہیں اور پھر ہمارے بیٹے اپنے بچوں کو اس کی تعلیم دیں گے اور قیامت کے دن تک یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: ابن ام لبید! تجھے تیری ماں گم پائے، میرا خیال تو یہ تھا کہ مدینہ میں سب سے بڑا سمجھ دار اور فقیہ آدمی تو ہے، کیا یہ یہودی اور عیسائی تورات اور انجیل کو نہیں پڑھتے،لیکن صورتحال یہ ہے کہ یہ لوگ ان میں سے کسی چیز سے مستفید نہیں ہو رہے۔

320

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #320

Sahih

۔ (۳۲۰)۔عَنِ الْوَلِیْدِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمٰنِ الْجُرَشِیِّ قَالَ: حَدَّثَنَا جُبَیْرُ بْنُ نُفَیْرٍ عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِکٍ (الْأَشْجَعِیِّؓ) أَنَّہُ قَالَ: بَیْنَمَا نَحْنُ جُلُوْسٌ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذَاتَ یَوْمٍ نَظَرَ اِلَی السَّمَائِ ثُمَّ قَالَ: ((ھٰذَا أَوَانُ الْعِلْمِ أَنْ یُرْفَعَ۔))، فَقَالَ لَہُ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ یُقَالُ لَہُ زَیَادُ بْنُ لَبِیْدٍ: أَیُرْفَعُ الْعِلْمُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! وَفِیْنَا کِتَابُ اللّٰہِ وَقَدْ عَلَّمْنَاہُ أَبْنَائَ نَا وَنِسَائَ نَا؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((اِنْ کُنْتُ لَأَظُنُّکَ مِنْ أَفْقَہِ أَھْلِ الْمَدِیْنَۃِ۔)) ثُمَّ ذَکَرَضَلَالَۃَ أَھْلِ الْکِتَابَیْنِ وَعِنْدَہُمَا مَا عِنْدَہُمَا مِنْ کِتَاب اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ، فَلَقِیَ جُبَیْرُ بْنُ نُفَیْرٍ شَدَّادَ بْنَ أَوْسٍ (ؓ) بِالْمُصَلَّی فَحَدَّثَہُ ھٰذَا الْحَدِیْثَ عَنْ عَوْفٍ فَقَالَ: صَدَقَ عَوْفٌ، ثُمَّ قَالَ: وَھَلْ تَدْرِیْ مَا رَفْعُ الْعِلْمِ؟ قَالَ: قُلْتُ: لَا أَدْرِیْ، قَالَ: ذَہَابُ أَوْعِیَتِہِ، قَالَ: وَھَلْ تَدْرِیْ أَیُّ الْعِلْمِ أَوَّلُ أَنْ یُرْفَعَ؟ قَالَ: قُلْتُ: لَا أَدْرِیْ، قَالَ: الْخَشُوْعُ حَتَّی لَا تَکَادُ تَرٰی خَاشِعًا۔ (مسند أحمد:۲۴۴۹۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عوف بن مالک اشجعی ؓ کہتے ہیں: ہم لوگ ایک دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے پاس بیٹھے ہوئے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے آسمان کی طرف دیکھا اور فرمایا: یہ علم کے اٹھ جانے کا وقت ہو گا۔ زیاد بن لبید نامی ایک انصاری آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا علم اٹھا لیا جائے گا، جبکہ ہمارے اندر اللہ تعالیٰ کی کتاب موجود ہے اور ہم اپنے بچوں اور عورتوں کو اس کی تعلیم دے رہے ہیں، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: میں تو تجھے اہل مدینہ میں سب سے زیادہ سمجھدار لوگوں میں سے سمجھتا تھا۔ پھرآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے دو کتابوں والوں یعنی یہودیوں اور عیسائیوں کی گمراہی اور ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی کتاب کی جو صورتحال ہے، اس کا ذکر کیا۔ جب جبیر بن نفیر کی سیدنا شداد بن اوس ؓ سے عید گاہ کے مقام پر ملاقات ہوئی تو انھوں نے ان کو سیدنا عوف ؓ کی حدیث بیان کی، انھوں نے کہا: جی عوف نے سچ کہا ہے، پھر انھوں نے کہا: اور کیا تم جانتے ہو کہ علم کا اٹھ جانا کیا ہے؟ میں نے کہا: جی نہیں، انھوں نے کہا: اس سے مراد علم کے برتنوں کا اٹھ جانا ہے، اور کیا تو جانتا ہے کہ سب سے پہلے کون سا علم اٹھایا جائے گا؟ میں نے کہا: جی نہیں، انھوں نے کہا: نماز میں خشوع، (اور اس چیز کا اتنا فقدان ہو جائے گا کہ) ممکن ہو گا کہ تو خشوع کرنے والا کوئی شخص نہ دیکھے۔

321

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #321

Zaeef

۔ (۳۲۱)۔عن أَبِیْ أُمَامَۃَ الْبَاہِلیِّ ؓ قَالَ: لَمَّا کَانَ فِیْ حَجَّۃِ الْوَدَاعِ قَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ یَوْمَئِذٍ مُرْدِفٌ الْفَضْلَ بْنَ عَبَّاسٍ عَلَی جَمَلٍ آدَمَ فَقَالَ: ((یَا أَیُّہَا النَّاسُ! خُذُوْا مِنَ الْعِلْمِ قَبْلَ أَنْ یُقْبَضَ الْعِلْمُ وَقَبْلَ أَنْ یُرْفَعَ الْعِلْمُ۔)) وَقَدْ کَانَ أَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ: {یَا أَیُّہَاالَّذِیْنَ آمَنُوْا لَا تَسْأَلُوْا عَنْ أَشْیَائَ اِنْ تُبْدَلَکُمْ تَسُوئْ کُمْ، وَاِنْ تَسْأَلُوْا عَنْہَا حِیْنَ یُنْزَّلُ الْقُرْآنُ تُبْدَلَکُمْ، عَفَااللّٰہُ عَنْہَا وَاللّٰہُ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ} قَالَ: فَکُنَّا نَذْکُرُہَا کَثِیْرًا مِنْ مَسْأَلَتِہِ وَاتَّقَیْنَا ذَاکَ حِیْنَ أنَزَلَ اللّٰہُ عَلَی نَبِیِّہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، قَالَ: فَأَتَیْنَا أَعْرَابِیًّا فَرَشَوْنَاہُ بِرِدَائٍ، قَالَ: فَاعْتَمَّ بِہِ حَتَّی رَأَیْتُ حَاشِیَۃَ الْبُرْدِ خَارِجَۃً مِنْ حَاجِبِہِ الْأَیْمَنِ، قَالَ: ثُمَّ قُلْنَا لَہُ: سَلِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، قَالَ: فَقَالَ لَہُ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! کَیْفَ یُرْفَعُ الْعِلْمُ مِنَّا وَبَیْنَ أَظْہُرِنَا الْمَصَاحِفُ وَقَدْ تَعَلَّمْنَا مَا فِیْھَا وَعَلَّمْنَا ہَا نِسَائَ نَا وَذَرَارِیَّنَا وَخَدَمَنَا؟ قَالَ: فَرَفَعَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلمرَأْسَہُ وَقَدْ عَلَتْ وَجْہَہُ حُمْرَۃٌ مِنَ الْغَضَبِ، قَالَ: فَقَالَ: ((أَیْ ثَکِلَتْکَ أُمُّکَ، وَہٰذِہِ الْیَہُوْدُ وَالنَّصَارٰی بَیْنَ أَظْہُرِہُمُ الْمَصَاحِفُ لَمْ یُصْبِحُوْا یَتَعَلَّقُوْا بِحَرْفٍ مِمَّا جَائَ تْہُمْ بِہ أَنْبِیَائُ ہُمْ، أَلَا وَاِنَّ مِنْ ذَہَابِ الْعِلْمِ أَنْ یَذْہَبَ حَمَلَتُہُ۔)) ثَلَاثَ مِرَارٍ۔ (مسند أحمد: ۲۲۶۴۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو امامہ باہلیؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کھڑے ہوئے ، اس وقت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سفید اونٹ پر سوار تھے اور سیدنا فضل بن عباس ؓ کو پیچھے بٹھایا ہوا تھا، اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: لوگو! علم حاصل کرو، قبل اس کے کہ علم سلب کر لیا جائے اور اس کو اٹھا لیا جائے۔ اُدھر اللہ تعالیٰ نے یہ فرمان بھی نازل کر دیا تھا: اے ایمان والو! ایسی باتیں مت پوچھو کہ اگر تم پر ظاہر کر دی جائیں تو تمہیں ناگوار ہوں اور اگر تم زمانۂ نزولِ قرآن میں ان باتوں کو پوچھو گے تو تم پر ظاہر کی دی جائیں گی، سوالات گزشتہ اللہ نے معاف کر دیئے اور اللہ بڑی مغفرت والابڑے حلم والا ہے۔ (سورۂ مائدہ:۱۰۱) ہم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے بڑے سوالات کرتے تھے، لیکن جب اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی پر یہ آیت نازل فرمائی تو ہم نے سوال کرنے سے بچنا شروع کر دیا۔ (ایک دن ایک سوال کرنے کی خاطر) ہم ایک بدّو کے پاس گئے اور یہ کام کروانے کے لیے اسے ایک چادر دی، اس نے اس سے پگڑی باندھی اور چادر کا کنارہ دائیں ابرو کی طرف سے نکلا ہوا نظر آ رہا ہے، پھر ہم نے اس سے کہا: تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے ایک سوال کر، پس اس نے سوال کرتے ہوئے کہا: اے اللہ کے نبی! ہم سے علم کیسے اٹھایا جائے گا، جبکہ ہمارے اندر قرآن مجید موجود ہے اور ہم نے اس کی تعلیم حاصل کی ہے اور اپنی عورتوں، بچوں اور خادموں کو اس کی تعلیم دی ہے؟ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اپنا سر اٹھایا اور غصے کی وجہ سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے چہرے پر سرخی نظر آ رہی تھی، اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: او فلاں! تجھے تیری ماں گم پائے، یہ یہودی اور عیسائی ہیں، ان کے اندر ان کی کتابیں موجود ہیں،لیکن صورتحال یہ ہے کہ ان کے انبیاء جو کچھ لائے ہیں، یہ اس کی ایک شق پر بھی عمل پیرا نہیں ہیں، خبردار! علم کا اٹھ جانا یہ ہے کہ حاملینِ علم اٹھ جائیں گے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے یہ بات تین دفعہ ارشاد فرمائی۔