Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 4 · Chapter 41

علم کے ابواب

رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی حدیث کی تبلیغ اور اس کو جیسے سنا، ایسے ہی نقل کر دینے کی فضیلت کا بیان

4 hadiths in this chapter

279

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #279

Sahih

۔ (۲۷۹)۔عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ عَنْ أَبِیْہِ أَنَّ زَیْدَ بْنَ ثَابِتٍؓ خَرَجَ مِنْ عِنْدِ مَرْوَانَ نَحْوًا مِنْ نِصْفِ النَّہَارِ فَقُلْنَا: مَا بَعَثَ اِلَیْہِ السَّاعَۃَ اِلَّا لِشَیْئٍ سَأَلَہُ عَنْہُ، فَقُمْتُ اِلَیْہِ فَسَأَلْتُہُ فَقَالَ: أَجَلْ، سَأَلَنَا عَنْ أَشْیَائٍ سَمِعْتُہَا مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((نَضَّرَ اللّٰہُ اِمْرَئً سَمِعَ مِنَّا حَدِیْثًا فَحَفِظَہُ حَتَّی یُبَلِّغَہُ غَیْرَہُ، فَاِنَّہُ رُبَّ حَامِلِ فِقْہٍ لَیْسَ بِفَقِیْہٍ وَرُبَّ حَامِلِ فِقْہٍ اِلٰی مَنْ ہُوَ أَفْقَہُ مِنْہُ، ثَلَاثٌ لَا یُغِلُّ عَلَیْہِنَّ قَلْبُ مُسْلِمٍ أَبَدًا، اِخْلَاصُ الْعَمَلِ لِلّٰہِ وَمُنَاصَحَۃُ وُلَاۃِ الْأَمْرِ وَلْزُوْمُ الْجَمَاعَۃِ، فَاِنَّ دَعْوَتَہُمْ تُحِیْطُ مَنْ وَرَائَ ہُمْ۔)) وَقَالَ: ((مَنْ کَانَ ہَمُّہُ الْآخِرَۃَ، جَمَعَ اللّٰہُ شَمْلَہُ وَجَعَلَ غِنَاہُ فِیْ قَلْبِہِ وَأَتَتْہُ الدُّنْیَا وَہِیَ رَاغِمَۃٌ، وَمَنْ کَانَتْ نِیَّتُہُ الدُّنْیَا فَرَّقَ اللّٰہُ عَلَیْہِ ضَیْعَتَہُ وَجَعَلَ فَقْرَہُ بَیْنَ عَیْنَیْہِ وَلَمْ یَأْتِہِ مِنَ الدُّنْیَا اِلَّا مَا کُتِبَ لَہُ۔)) وَسَأَلَنَا عَنِ الصَّلٰوۃِ الْوُسْطٰی وَہِیَ الظُّہْرُ۔ (مسند أحمد: ۲۱۹۲۳)

اردو ترجمہ · Urdu

ابان بن عثمان کہتے ہیں: سیدنا زید بن ثابت ؓ تقریباً نصف النہار کے وقت مروان کے پاس سے نکلے، ہم نے کہا: اس نے اس وقت کسی چیز کے بارے میں سوال کرنے کے لیے اِن کو بلایا ہو گا، چنانچہ میں اٹھ کر ان کے پاس گیا اور ان سے اس بارے میں پوچھا، سیدنا زیدؓ نے کہا: جی ہاں، اُس نے مجھ سے ایسی چیزوں کے بارے میں پوچھا، جو میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے سنی تھیں، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا تھا: اللہ تعالیٰ اس بندے کو تروتازہ رکھے، جس نے ہم سے کوئی حدیث سنی، پھر اس کو یاد کیا، یہاں تک کہ اس کو آگے پہنچا دیا، کوئی حاملینِ فقہ فقیہ نہیں ہوتے اور کئی حاملینِ فقہ اپنے سے زیادہ فقیہ تک یہ فقہ پہنچا دیتے ہیں۔ اگر تین چیزیں ہوں تو مسلمان کا دل خیانت نہیں کرتا، ایک اللہ تعالیٰ کے لیے خلوص کے ساتھ عمل کرنا، دوسرا امراء کی ہمدردی کرنا اور تیسرا جماعت کو لازم پکڑنا، کیونکہ مؤمنوں کی دعا ان کو پیچھے سے گھیر کر رکھتی ہے۔ نیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جس کی فکر اور غم آخرت ہو، اللہ تعالیٰ اس کا شیرازہ مجتمع کر دیتا ہے اور اس کے دل میں غِنٰی رکھ دیتا ہے اور دنیا ذلیل ہو کر اس کے پاس آتی ہے، لیکن جس کی نیت اور عزم دنیا ہی ہو تو اللہ تعالیٰ اس کے مشاغل بڑھا دیتا ہے اور اس کی فقیری اس کی پیشانی پر رکھ دیتا ہے اور دنیا بھی اس کو اتنی ہی ملتی ہے، جتنی اس کے مقدر میں لکھی ہوتی ہے۔ اس نے ہم سے نمازِ وسطٰی کے بارے میں سوال کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: یہ ظہر ہے۔

280

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #280

Sahih

۔ (۲۸۰)۔عَنْ جُبَیْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ؓ قَالَ: قَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِالْخَیْفِ مِنْ مِنًی فَقَالَ: ((نَضَّرَ اللّٰہُ اِمْرَئً ا سَمِعَ مَقَالَتِیْ فَوَعَاہَا ثُمَّ أَدَّاہَا اِلَی مَنْ لَمْ یَسْمَعْہَا، فَرُبَّ حَامِلِ فِقْہٍ لَا فِقَہَ لَہُ وَرُبَّ حَامِلِ فِقْہٍ اِلَی مَنْ ہُوَ أَفْقَہُ مِنْہُ، ثَلَاثٌ لَا یُغِلُّ عَلَیْہِنَّ قَلْبُ الْمُؤْمِنِ، اِخْلَاصُ الْعَمَلِ، وَالنَّصِیْحَۃُ لِوَلِیِّ الْأَمْرِ، وَلُزُوْمُ الْجَمَاعَۃِ، فَاِنَّ دَعَوْتَہُمْ تَکُوْنُ مِنْ وَرَائِہِ۔)) (مسند أحمد: ۱۶۸۵۹)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا جبیر بن مطعم ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ مِنٰی کی خیف وادی میں کھڑے ہوئے اور فرمایا: اللہ تعالیٰ اس بندے کو تروتازہ رکھے، جس نے میری بات سنی، پھر اس کو یاد کیا اور اس تک پہنچا دیا،جس نے اِس کو نہیں سنا تھا، پس کئی حاملینِ فقہ ایسے ہیں کہ ان کے پاس فقہ نہیں ہوتی اور کئی حاملین فقہ اپنے سے زیادہ فقیہ تک یہ فقہ پہنچا دیتے ہیں، اگر یہ تین چیزیں ہوں تو مؤمن کا دل خیانت نہیں کرتا: عمل کو خالص کرنا، امراء کی خیرخواہی کرنا اور جماعت کو لازم پکڑنا، پس بیشک ان کی دعا اس کے پیچھے ہوتی ہے۔

281

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #281

Sahih

۔ (۲۸۱)۔عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍؓ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((نَضَّرَ اللّٰہُ اِمْرَئً ا سَمِعَ مِنَّا حَدِیْثًا فَحَفِظَہُ حَتَّی یُبَلِّغَہُ، فَرُبَّ مُبَلَّغٍ أَحْفَظُ لَہُ مِنْ سَامِعٍ۔)) (مسند أحمد: ۴۱۵۷)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبداللہ بن مسعودؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس شخص کو تروتازہ رکھے جس نے ہم سے کوئی حدیث سنی، پھر اس کو یاد کیا، یہاں تک کہ اس کو آگے پہنچا دیا، کئی ایسے لوگ ہیں کہ جن کو حدیث پہنچائی جاتی ہے، وہ سننے والوں سے زیادہ یاد رکھنے والے ہوتے ہیں۔

282

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #282

Sahih

۔ (۲۸۲)۔عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((تَسْمَعُوْنَ وَ یُسْمَعُ مِنْکُمْ، یُسْمَعُ مِمَّنْ یَسْمَعُ مِنْکُمْ۔)) (مسند أحمد: ۲۹۴۵)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبد اللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تم سنتے ہو اور تم سے بھی سنا جائے گا اور جو تم سے سنیں گے، ان کو بھی سنا جائے گا۔