Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 4 · Chapter 38

علم کے ابواب

بغیر ضرورت کے علم کے بارے میں کثرت ِ سوال کی مذمت کا بیان

8 hadiths in this chapter

264

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #264

Sahih

۔ (۲۶۴)۔عن أَبِیْ ھُرَیْرَۃَؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((ذَرُوْنِیْ مَا تَرَکْتُکُمْ، فَاِنَّمَا ہَلَکَ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ بِکَثْرَۃِ سُؤَالِہِمْ وَاخْتِلَافِہِمْ عَلَی أَنْبِیَائِ ہِمْ، مَا نَہَیْتُکُمْ عَنْہُ فَانْتَہُوْا وَمَا أَمَرْتُکُمْ فَأْتُوْا مِنْہُ مَااسْتَطَعْتُمْ۔)) (مسند أحمد: ۷۳۶۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب تک میں تم کو چھوڑے رکھوں، تم بھی مجھے چھوڑے رکھو، تم سے پہلے والے لوگ کثرتِ سوال اور انبیاء پر اختلاف کرنے کی وجہ سے ہلاک ہو گئے، جس چیز سے میں تم کو منع کر دوں، اس سے باز آ جاؤ اور جس چیز کا حکم دے دوں، اس پر حسب ِ استطاعت عمل کرو۔

265

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #265

Sahih

۔ (۲۶۵)۔عَنْ سَعْدِ ابْنِ أَبِیْ وَقَّاصٍؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ مِنْ أَکْبَرِ الْمُسْلِمِیْنَ فِی الْمُسْلِمِیْنَ جُرْمًا رَجُلًا سَأَلَ عَنْ شَیْئٍ وَنَقَّرَ عَنْہُ حَتَّی أُنْزِلَ فِیْ ذٰلِکَ الشَّیْئِ تَحْرِیْمٌ مِنْ أَجْلِ مَسْأَلَتِہِ۔)) (مسند أحمد: ۱۵۲۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا سعد بن ابو وقاص ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جرم کے لحاظ سے مسلمانوں میں سب سے بڑا وہ آدمی ہے، جو ایک چیز کے بارے میں سوال کرتا ہے اور اس قدر چھان بین کرتا ہے کہ اس کے سوال کی وجہ سے اس چیز کے حرام ہونے کا حکم نازل ہو جاتا ہے۔

266

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #266

Sahih

۔ (۲۶۶) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخر)۔ یَرْفَعُہُ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((أَعْظَمُ الْمُسْلِمِیْنَ فِیْ الْمُسْلِمِیْنَ جُرْمًا مَنْ سَأَلَ عَنْ أَمْرٍ لَمْ یُحَرَّمْ فَحُرِّمَ عَلَی النَّاسِ مِنْ أَجْلِ مَسْأَلَتِہِ۔)) (مسند أحمد: ۱۵۴۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: مسلمانوں میں جرم کے لحاظ سے سب سے بڑا وہ آدمی ہے، جو ایسی چیز کے بارے میں سوال کرتا ہے، جو حرام نہیں تھی، لیکن اس کے سوال کی وجہ سے لوگوں پر اس کو حرام کر دیا گیا۔

267

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #267

Sahih

۔ (۲۶۷)۔عَنْ عَمْروٍ بْنِ أَبِیْ سَلَمَۃَ عن أَبِیْہِ عن أَبِیْ ھُرَیْرَۃَؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یَزَالُوْنَ یَسْأَلُوْنَ حَتَّی یُقَالَ: ھٰذَا اللّٰہُ خَلَقَنَا فَمَنْ خَلَقَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ۔)) قَالَ أَبُوْ ہُرَیْرَۃَ: فَوَاللّٰہِ! اِنِّیْ لَجَالِسٌ یَوْمًا اِذْ قَالَ لِیْ رَجُلٌ مِنْ أَھْلِ الْعَرَاقِ: ھٰذَا اللّٰہُ خَلَقَنَا فَمَنْ خَلَقَ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ؟ قَالَ أَبُوْ ہُرَیْرَۃَ: فَجَعَلْتُ اُصْبُعَیَّ فِیْ أُذُنَیَّ ثُمَّ صِحْتُ فَقُلْتُ: صَدَقَ اللّٰہُ وَ رَسُوْلُہُ، اَللّٰہُ الْوَاحِدُ الصَّمَدُ، لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُوْلَدْ وَلَمْ یَکُنْ لَہُ کُفُوًا أَحَدٌ۔ (مسند أحمد: ۹۰۱۵)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: لوگ سوالوں پر سوال کرتے رہیں گے، یہاں تک یہ بھی پوچھ لیا جائے گا کہ (یہ بات تو ٹھیک ہے کہ) اللہ تعالیٰ نے ہم کو پیدا کیا، لیکن اللہ تعالیٰ کو کس نے پیدا کیا۔ سیدنا ابو ہریرہ ؓ نے کہا: اللہ کی قسم! میں ایک دن بیٹھا ہوا تھا کہ ایک عراقی آدمی نے یہی سوال کر دیا اور کہا: یہ اللہ تعالی، اس نے ہم کو تو پیدا کیا، لیکن اللہ تعالیٰ کو کس نے پیدا کیا؟ میں نے اپنی دو انگلیاں اپنے کانوں میں ٹھونس لیں اور چِلّا کر کہا: اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے سچ کہا، اللہ تعالیٰ یکتا ہے، بے نیاز ہے، اس نے نہ کسی کو جنا اور نہ وہ جنا گیا اور کوئی بھی اس کا ہم سر نہیں ہے۔

268

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #268

Sahih

۔ (۲۶۸)۔عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِیْرِیْنَ قَالَ: کُنْتُ عِنْدَ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ فَسَأَلَہُ رَجُلٌ لَمْ أَدْرِ مَا ہُوَ، قَالَ: فَقَالَ أَبُوْ ہُرَیْرَۃَ: اَللّٰہُ أَکْبَرُ! سَأَلَ عَنْہَا اثْنَانِ وَہٰذَاالثَّالِثُ، سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّ رِجَالًا سَتَرْتَفِعُ بِھِمِ الْمَسْأَلَۃُ حَتَّی یَقُوْلُوْا: خَلَقَ الْخَلْقَ فَمَنْ خَلَقَہُ۔)) (مسند أحمد: ۷۷۷۷)

اردو ترجمہ · Urdu

محمد بن سیرین کہتے ہیں: میں سیدنا ابو ہریرہؓ کے پاس تھا کہ ایک آدمی نے ان سے ایک سوال کیا، مجھے علم نہیں کہ وہ سوال کیا تھا، جواباً سیدنا ابوہریرہ ؓ نے کہا: اَللّٰہُ أَکْبَرُ! اس کے بارے میں دو بندے سوال کر چکے ہیں اور یہ تیسرا ہے، میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: بیشک لوگوں کے ساتھ سوالات کا سلسلہ جاری رہے گا، یہاں تک کہ وہ یہ سوال بھی کر دیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا، لیکن اُس کو کس نے پیدا کیا۔

269

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #269

Sahih

۔ (۲۶۹)۔عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((اِنَّمَا ہَلَکَ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ بِکَثْرَۃِ سُؤَالِہِمْ وَاخْتِلَافِہِمْ عَلَی أَنْبِیَائِہِمْ، لَا تَسْأَلُوْنِیْ عَنْ شَیْئٍ اِلَّا أَخْبَرْتُکُمْ بِہِ۔)) فَقَالَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ حُذَافَۃَ: مَنْ أَبِیْ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ؟ قَالَ: ((أَبُوْکَ حُذَافَۃُ بْنُ قَیْسٍ۔)) فَرَجَعَ اِلٰی أُمِّہِ فَقَالَتْ: وَیْحَکَ مَا حَمَلَکَ عَلَی الَّذِیْ صَنَعْتَ، فَقَدْ کُنَّا أَھْلَ الْجَاہِلِیَّۃِ وَأَھْلَ أَعْمَالٍ قَبِیْحَۃٍ، فَقَالَ لَہَا: اِنْ کُنْتُ لَأُحِبُّ أَنْ أَعْلَمَ مَنْ أَبِیْ وَمَنْ کَانَ مِنَ النَّاسِ۔ (مسند أحمد: ۱۰۵۳۸)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تم سے پہلے والے لوگ صرف اور صرف کثرتِ سوال اور اپنے انبیاء پر اختلاف کرنے کی وجہ سے ہلاک ہوئے اور تم مجھ سے جس چیز کے بارے میں سوال کرو گے، میں تم کو اس کا جواب دے دوں گا۔ سیدنا عبد اللہ بن حذافہ ؓ نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرا باپ کون تھا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تیرا باپ حذافہ بن قیس تھا۔ پھر جب وہ اپنی ماں کے پاس گئے تو اس نے ان کو کہا: تو ہلاک ہو جائے، کس چیز نے یہ سوال کرنے پر آمادہ کیا، ہم جاہلیت والے اور قبیح اعمال کرنے والے تھے۔ انھوں نے اپنی ماں سے کہا: میں یہ جاننا پسند کرتا تھا کہ میرا باپ کون تھا اور کن لوگوں میں سے تھا۔

270

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #270

Sahih

۔ (۲۷۰)۔عَنْ حُمَیْدٍ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((لَا تَسْأَلُوْنِیْ عَنْ شَیْئٍ اِلَی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ اِلَّا حَدَّثْتُکُمْ بِہِ۔)) قَالَ: فَقَالَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ حُذَافََۃَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! مَنْ أَبِیْ؟ قَالَ: ((أَبُوْکَ حُذَافَۃُ۔)) فَقَالَتْ أُمُّہُ: مَا أَرَدْتَّ اِلٰی ہٰذَا؟ قَالَ: أَرَدْتُّ أَنْ أَسْتَرِیْحَ، قَالَ: وَکَانَ یُقَالُ فِیْہِ، (قَالَ حُمَیْدٌ: وَأَحْسِبُ ھٰذَا عَنْ أَنَسٍ) قَالَ: فَغَضِبَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، فَقَالَ عُمَرُ: رَضِیْنَا بِاللّٰہِ رَبًّاوَبِالْاِسْلَامِ دِیْنًا وَبِمُحَمَّدٍ نَبِیًّا، نَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ غَضِبِ اللّٰہِ وَغَضِبِ رَسُوْلِہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند أحمد: ۱۲۰۶۷)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: قیامت کے دن تک کی جس چیز کے بارے میں تم مجھ سے سوال کرو گے، میں تم کو اس کا جواب بیان کر دوں گا۔ یہ سن کر سیدنا عبداللہ بن حذافہؓ نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرا باپ کون ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تیرا باپ حذافہ ہے۔ ان کی ماں نے ان سے کہا: اس سوال سے تیرا کیا ارادہ تھا؟ انھوں نے کہا: میرا ارادہ راحت حاصل کرنے کا تھا، اس کے بارے میں کچھ کہا جاتا تھا، لیکن اُدھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو غصہ آگیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو دیکھ کر سیدنا عمر ؓ نے کہا: ہم اللہ تعالیٰ کے ربّ ہونے پر، اسلام کے دین ہونے پر اور محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے نبی ہونے پر راضی ہیں، ہم اللہ تعالیٰ کے غضب اور اس کے رسول کے غصے سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرتے ہیں۔

271

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #271

Zaeef

۔ (۲۷۱)۔عَنِ الْأَوْزَاعِیِّ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ سَعْدٍ عَنِ الصُّنَابِحِیِّ عَنْ رَجُلٍ مِن أَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: عَنِ الصُّنَابِحِیِّ عَنْ مُعَاوِیَۃَؓ) قَالَ: نَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ الْغُلُوْطَاتِ، قَالَ الْأُوْزَاعِیُّ: اَلْغُلُوْطَاتُ شِدَادُ الْمَسَائِلِ وَصِعَابُہَا۔ (مسند أحمد: ۲۴۰۸۷)

اردو ترجمہ · Urdu

ایک صحابی (اور ایک روایت کے مطابق سیدنا معاویہ ؓ) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے مغالطہ آمیز باتوں سے منع کیا ہے۔ امام اوزاعی نے کہا: غُلُوْطَات سے مراد مشکل اور پیچیدہ مسائل ہیں۔