Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 4 · Chapter 35

علم کے ابواب

علم سکھانے پر رغبت دلانے اور معلم کے آداب کا بیان

8 hadiths in this chapter

251

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #251

Sahih

۔ (۲۵۱)۔عَنْ عَیَاضٍ بْنِ حِمَارٍالْمُجَاشِعِیِّؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ خُطْبَۃٍ خَطَبَہَا: ((اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ أَمَرَنِیْ أَنْ أُعَلِّمَکُمْ مَا جَہِلْتُمْ مِمَّا عَلَّمَنِیْ یَوْمِیْ ہٰذَا، وَأَنَّہُ قَالَ: اِنَّ کُلَّ مَا نَحَلْتُہُ عِبَادِیْ فَہُوَ لَہُمْ حَلَالٌ۔)) (مسند أحمد: ۱۸۵۲۹)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عیاض بن حمار مجاشعی ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ایک خطبے میں ارشادفرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں ان امور کی تعلیم دے دوں، جن سے تم جاہل ہو، ان امور میں سے جو اس نے مجھے آج سکھائے ہیں، نیز اس نے یہ بھی فرمایا ہے کہ ہر وہ چیز جو میں نے اپنے بندوں کو عطا کی ہے، وہ ان کے لیے حلال ہے۔

252

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #252

Sahih

۔ (۲۵۲)۔عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ: ((عَلِّمُوْا وَ بَشِّرُوْا وَلَا تُعَسِّرُوْا، وَاِذَا غَضِبَ أَحَدُکُمْ فَلْیَسْکُتْ۔)) (مسند أحمد: ۲۱۳۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبد اللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تعلیم دو اور خوشخبریاں سناؤ اور مشکلات پیدا نہ کرو اور جب کسی کو غصہ آ جائے تو وہ خاموش ہو جائے۔

253

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #253

Sahih

۔ (۲۵۳) (وَعَنْہُ بِلَفْظٍ آخَرَ)۔ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((عَلِّمُوْا وَیَسِّرُوْا وَلَا تُعَسِّرُوْا، وَاِذَا غَضِبْتَ فَاسْکُتْ وَاِذَا غَضِبْتَ فَاسْکُتْ وَاِذَا غَضِبْتَ فَاسْکُتْ۔)) (مسند أحمد: ۲۵۵۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری روایت) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: لوگوں کو علم سکھاؤ اور آسانیاں پیدا کرو اور مشکلات پیدا نہ کرو، اور جب تجھے غصہ آ جائے تو خاموش ہو جا، اور جب تجھے غصہ آ جائے تو خاموش ہو جا، اور جب تجھے غصہ آ جائے تو خاموش ہو جا۔

254

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #254

Sahih

۔ (۲۵۴)۔عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍؓ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((بَشِّرُوْا وَلَا تُعَسِّرُوْا وَسَکِّنُوْا وَلَا تُنَفِّرُوْا۔)) (مسند أحمد: ۱۲۳۵۸)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: خوشخبریاں سناؤ اور مشکلات پیدا نہ کرو اور لوگوں کو سکون و آرام پہنچاؤ اور ان کو متنفر نہ کردو۔

255

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #255

Sahih

۔ (۲۵۵)۔عَنْ أَبِیْ ذَرٍّؓ قَالَ: لَقَدْ تَرَکَنَا مُحَمَّدٌ وَمَا یُحَرِّکُ طَائِرٌ جَنَاحَیْہِ فِی السَّمَائِ اِلَّا أَذْکَرَنَا مِنْہُ عِلْمًا۔ (مسند أحمد: ۲۱۶۸۸)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابوذرؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ہمیں اس حال میں چھوڑا کہ جو پرندہ بھی (اڑنے کے لیے) اپنے پروں کو حرکت دیتا، ہمیں اس سے کوئی نہ کوئی علم ہو جاتا تھا۔

256

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #256

Sahih

۔ (۲۵۶)۔عن أَبِیْ زَیْدٍ الْأَنْصَارِیِّؓ قَالَ: صَلّٰی بِنَارَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلَاۃَ الصُّبْحِ ثُمَّ صَعِدَ الْمِنْبَرَ فَخَطَبَنَا حَتّٰی حَضَرَتِ الظُّہْرُ، ثُمَّ نَزَلَ فَصَلَّی الظُّہْرَ ثُمَّ صَعِدَ الْمِنْبَرَ فَخَطَبَنَا حَتَّی حَضَرَ الْعَصْرُ، ثُمَّ نَزَلَ فَصَلَّی الْعَصْرَ فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ فَخَطَبَنَا حَتَّی غَابَتِ الشَّمْسُ، فَحَدَّثَنَا بِمَا کَانَ وَمَا ہُوَ کَائِنٌ، فَأَعْلَمُنَا أَحْفَظُنَا۔ (مسند أحمد: ۲۳۲۷۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو زید انصاری ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ہمیں نمازِ فجر پڑھائی اور پھر منبر پر تشریف لائے اور نمازِ ظہر تک خطاب کرتے رہے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اترے اور ظہر کی نماز پڑھائی، بعد ازاں پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ منبر پر چڑھ گئے اور پھر خطاب شروع کر دیا، یہاں تک کہ نمازِ عصر کا وقت ہو گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اترے اور عصر کی نماز پڑھا کر پھر منبر پر تشریف لائے اور غروبِ آفتاب تک خطاب جاری رکھا، پس جو کچھ ہو چکا تھا اور جو کچھ ہونے والا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ہمیں وہ سب کچھ بیان کر دیا، پس ہم میں سب سے بڑا عالم وہی تھا، جو زیادہ حفظ کرنے والا تھا۔

257

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #257

Sahih

۔ (۲۵۷)۔عَنْ حَنْظَلَۃَ الْکَاتِبِؓ قَالَ: کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَذَکَّرَنَا الْجَنَّۃَ وَالنَّارَ حَتَّی کَأَ نَّا رَأْیَ الْعَیْنِ، فَقُمْتُ اِلَی أَہْلِیْ فَضَحِکْتُ وَلَعِبْتُ مَعَ أَہْلِیْ وَوَلَدِیْ فَذَکَرْتُ مَا کُنْتُ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَخَرَجْتُ فَلَقِیْتُ أَبَابَکْرٍ(ؓ) فَقُلْتُ: یَا أَبَابَکْرٍ! نَافَقَ حَنْظَلَۃُ، قَالَ: وَمَا ذَاکَ؟ قُلْتُ: کُنَّا عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَذَکَّرَنَا الْجَنَّۃَ وَالنَّارَ حَتَّی کَأَ نَّا رَاْیَ عَیْنٍ، فَذَہَبْتُ اِلَی أَہْلِیْ فَضَحِکْتُ وَلَعِبْتُ مَعَ وَلَدِیْ وَأَہْلِیْ، فَقَالَ: اِنَّا لَنَفْعَلُ ذٰلِکَ، قَالَ: فَذَہَبْتُ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلمفَذَکَرْتُ ذٰلِکَ لَہُ فَقَالَ: ((یَا حَنْظَلَۃُ! لَوْ کُنْتُمْ تَکُوْنُوْنَ فِیْ بُیُوْتِکُمْ کَمَا تَکُوْنُوْنَ عِنْدِیْ لَصَافَحَتْکُمُ الْمَلَائِکَۃُ، (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: بِأَجْنِحَتِہَا) وَأَنْتُمْ عَلَی فُرُشِکُمْ وَبِالطَّرِیْقِ، یَا حَنْظَلَۃُ! سَاعَۃً وَ سَاعَۃً۔)) (مسند أحمد: ۱۹۲۵۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا حنظلہ کاتبؓ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے جنت اور جہنم کے موضوع پر ہمیں خطاب کیا، یوں لگ رہا تھا کہ وہ ہماری آنکھوں کے سامنے ہیں، پھر میں اٹھ کر اپنے اہل و عیال کے پاس چلا گیا اور اپنی بیوی بچوں کے ساتھ ہنستا کھیلتا رہا، پھر مجھے وہ کیفیت یاد آئی، جو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس مجھ پر طاری تھی، پس میں نکل پڑا اور سیدنا ابو بکرؓ کو ملا اور کہا: اے ابو بکر! حنظلہ تو منافق ہو گیا ہے، انھوں نے کہا: وہ کیسے؟ میں نے کہا: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس تھے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ہمیں جنت و جہنم کے موضوع پر وعظ کیا اور یوں لگا کہ وہ ہماری آنکھوں کے سامنے آ گئی ہیں، لیکن جب میں اپنے اہل و عیال کے پاس گیا تو (اس کیفیت کو بھول کر) اپنے بیوی بچوں سے ہنسنے کھیلنے لگا۔ سیدنا ابو بکر ؓ نے کہا: بیشک ہم بھی ایسے ہی کرتے ہیں، یہ سن کر میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس چلا گیا اور یہ ساری بات آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو بتلائی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: حنظلہ! اگر گھروں میں بھی تمہاری وہی کیفیت ہو، جو میرے پاس ہوتی ہے تو بستروں اور راستوں پر فرشتے اپنے پروں سے تمہارے ساتھ مصافحہ کریں، لیکن حنظلہ! کبھی اِس طرح اور کبھی اُس طرح۔

258

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #258

Sahih

۔ (۲۵۸)۔عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍؓ أَنَّ أَصْحَابَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلمقَالُوْا لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((اِنَّا اِذَا کُنَّا عِنْدَکَ فَحَدَّثْتَنَا رَقَّتْ قُلُوْبُنَا، فَاِذَا خَرَجْنَا مِنْ عِنْدِکَ عَافَسْنَا النِّسَائَ وَالصِّبْیَانَ وَفَعَلْنَا وَ فَعَلْنَا، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((اِنَّ تِلْکَ السَّاعَۃَ لَوْ تَدُوْمُوْنَ عَلَیْہَا لَصَافَحَتْکُمُ الْمَلَائِکَۃُ۔)) (مسند أحمد: ۱۲۸۲۷)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا انس بن مالکؓ سے مروی ہے کہ صحابہ کرام نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے فرمایا: بیشک جب ہم آپ کے پاس ہوتے ہیں اور آپ ہم سے گفتگو کرتے ہیں تو ہمارے دلوں پر رِقّت طاری ہو جاتی ہے، لیکن جب آپ کے پاس سے چلے جاتے ہیں تو اپنی بیوی بچوں کے کاموںمیں لگ جاتے ہیں اور ایسے ایسے کرتے ہیں (اور آپ کے پاس والی کیفیت زائل ہو جاتی ہے)۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: یہ میرے پاس والی گھڑی، اگر تم اسی پر برقرار رہو تو فرشتے تم سے مصافحہ کریں۔