Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 39 · Chapter 396

نمازِ تراویح کے ابواب

وضو کے بعد نماز پڑھنے کا بیان

2 hadiths in this chapter

2278

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2278

Sahih

۔ (۲۲۷۸) عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَا بِلَالُ! حَدَّثَنِیْ بِأَرْجٰی عَمَلٍ عَمِلْتَہُ فِی الْاِسْلَامِ عِنْدکَ مَنْفَعَۃً، فَاِنِّی سَمِعْتُ اللَّیْلَۃَ خَشْفَ نَعْلَیْکَ بَیْنَ یَدَیَّ فِی الْجَنَّۃِ؟)) فَقَالَ بِلَالٌ: مَا عَمِلْتُ عَمَلًا فِی الْاِسْلَامِ أَرْجٰی عِنْدِی مَنْفَعَۃً اِلَّا أَنِّی لَمْ أَتَطَہَّرْ طُہُوراً تَامًّا فِی سَاعَۃٍ مِنْ لَیْلٍ أَوْ نَہَارٍ اِلَّا صَلَّیْتُ بِذٰلِکَ الطُّہُوْرِ مَا کَتَبَ اللّٰہُ لِی أَنْ أُصَلِّیَ۔ (مسند احمد: ۹۶۷۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے کہا: اے بلال! مجھے اپنے سب سے امید والے عمل کے بارے میں بتاؤ، جو تیرے خیال کے مطابق اسلام میں بڑا نفع مند ہے، کیونکہ میں نے رات کو اپنے آگے تیرے جوتوں کی آواز جنت میں سنی تھی؟ سیّدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں نے کوئی ایسا عمل نہیں کیا جو میرے نزدیک اسلام میں نفع کے لحاظ سے سب سے زیادہ امید والا ہو،البتہ (یہ عمل ہے کہ) میں رات اور دن کی جس گھڑی میں جب بھی وضو کرتا ہوں، تو اس وضو سے اتنی نماز پڑھتا ہوں جو اللہ تعالیٰ نے میرے مقدر میں لکھی ہوتی ہے۔

2279

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2279

Sahih

۔ (۲۲۷۹) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ بُرَیْدَۃَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبِی بُرَیْدَۃَ یَقُوْلُ: أَصْبَحَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَدَعَا بِلَالاً فَقَالَ: یَا بِلَالُ! بِمَ سَبَقْتَنِی اِلَی الْجَنَّۃَ؟ مَا دَخَلْتُ الْجَنَّۃَ قَطُّ اِلَّا سَمِعْتُ خَشْخَشَتَکَ أَمَامِی، اِنِّی دَخَلْتُ الْبَارِحَۃَ فَسَمِعْتُ خَشْخْشَتَکَ (فَذَکَرَ حَدِیثًا یَخْتَصُّ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ) وَقَالَ لِبِلَالٍ: ((بِمَ سَبَقْتَنِی اِلَی الْجَنَّۃِ؟)) قَالَ: مَا أَحْدَثْتُُ اِلَّا تَوَضَّأْتُ وَصَلَّیْتُ رَکْعَتَیْنِ۔ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((بِہٰذَا۔)) (مسند احمد: ۲۳۳۸۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا بریدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جب صبح کی توسیّدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو بلایااور پوچھا: اے بلال! کس عمل کی وجہ سے تو جنت میں مجھ سے سبقت لے گیا، کیونکہ میں جب بھی جنت میں داخل ہوا تو میں نے اپنے آگے آگے تیرے قدموں کی آواز سنی ہے، گذشتہ رات بھی جب میں جنت میں داخل ہوا تو تیر ے قدموں کی آواز سنی تھی( پس راوی نے وہ حدیث ذکر کی جو سیّدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ خاص تھی)۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیّدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے فرمایا: کون سے عمل کی وجہ سے تو مجھ سے جنت میں سبقت لے گیا ہے؟ سیّدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا:میں جب بھی بے وضو ہوتاہوں تو وضو کرتا ہوں اورپھردو رکعتیں ادا کرتا ہوں۔ یہ سن کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسی عمل کی وجہ سے (تو جنت میں مجھ سے بھی سبقت لے گیا)۔