Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 30 · Chapter 315

تشہد کے ابواب

نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر درود بھیجنے کے بعد تعوذ اور دعا کا بیان

9 hadiths in this chapter

1812

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1812

Sahih

۔ (۱۸۱۲) عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِذَا فَرَغَ أَحَدُکُمْ مِنَ التَّشَہُّدِ الْآخِرِ فَلْیَتَعَوَّذْ مِنْ أَرْبَعٍ: مِنْ عَذَابِ جَہَنَّمَ، وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَمِنْ فِتْنَۃِ الْمَحْیَا وَالْمَمَاتِ، وَمِنْ شَرِّ الْمَسِیْحِ الدَّجَّالِ۔)) (مسند احمد: ۷۲۳۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آخری تشہد سے فارغ ہو تووہ ان چار چیزوں سے پناہ مانگا کرے: جہنم کے عذاب سے، قبر کے عذاب سے، زندگی اور موت کے فتنہ سے اورمسیح دجال کے شر سے۔

1813

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1813

Sahih

۔ (۱۸۱۳) عَنِ ابْنِ طَاؤُوْسٍ عَنْ أَبِیْہِ أَنَّہُ کَانَ یَقُوْلُ بَعْدَ التَّشَہُّدِ فِی الْعِشَائِ الْآخِرَۃِ کَلِمَاتٍ کَانَ یُعَظِّمُھُنَّ جِدَّا، یَقُولُ: أَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ عَذَابِ جَہَنَّمَ، وَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ شَرِّ الْمَسِیْحِ الدَّجَّالِ، وَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ فِتْنَۃِ الْمَحْیَاوَ الْمَمَاتِ، قَالَ: کَانَ یُعَظِّمُہُنَّ وَیَذْکُرُھُنَّ عَنْ عَائِشَۃَ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۲۶۱۶۷)

اردو ترجمہ · Urdu

جناب طاؤوس نمازِ عشاء میں آخری تشہد کے بعد یہ کلمات پڑھتے تھے اور ان کو بہت عظیم سمجھتے تھے: أَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ عَذَابِ جَہَنَّمَ، وَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ شَرِّ الْمَسِیْحِ الدَّجَّالِ، وَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ فِتْنَۃِ الْمَحْیَاوَ الْمَمَاتِ۔ (میں جہنم کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں اور میں مسیح دجال کے شر سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں اور میں قبر کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں اور میں زندگی و موت کے فتنے سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔) وہ ان کو عظیم سمجھتے تھے اور ان کو سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے حوالے سے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ذکر کرتے تھے۔

1814

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1814

Sahih

۔ (۱۸۱۴) عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ أَنَّ عَائِشَۃَ زَوْجَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَخْبَرَتْہُ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَدْعُوْ فِی الصَّلاَۃِ: ((اَللّٰہُمَّ إِنِّیْ أَعُوْذُبِکَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَأَعُوْذُ بِکَ مِنْ فِتْنَۃِ الْمَسِیْحِ الدَّجَّالِ وَأَعُوْذُبِکَ مِنْ فِتْنَۃِ الْمَحْیَا وَفِتْنَۃِ الْمَمَاتَ، اَللّٰہُمَّ إِنِّیْ أَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ۔)) قَالَتْ: فَقَالَ لَہُ قَائِلٌ: مَا أَکْثَرَمَا تَسْتَعِیْذُ مِنَ الْمَغْرَمِ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ؟ فَقَالَ: ((إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا غَرِمَ حَدَّثَ فَکَذَبَ وَوَعَدَ فَأَخْلَفَ۔)) (مسند احمد: ۲۵۰۸۵)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ زوجۂ رسول سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے ان کو بتایا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز میں یہ دعا کرتے تھے: اَللّٰہُمَّ إِنِّیْ أَعُوْذُبِکَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَأَعُوْذُ بِکَ مِنْ فِتْنَۃِ الْمَسِیْحِ الدَّجَّالِ وَأَعُوْذُبِکَ مِنْ فِتْنَۃِ الْمَحْیَا وَفِتْنَۃِ الْمَمَاتَ، اَللّٰہُمَّ إِنِّیْ أَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ۔ (اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں قبر کے عذاب سے اور میں تیری پناہ طلب کرتا ہوں مسیح دجال کے فتنے سے اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں زندگی اور موت کے فتنے سے، اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں گناہ اور قرض سے)۔ کسی آدمی نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا وجہ ہے کہ آپ قرض سے بہت زیادہ پناہ مانگتے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب آدمی مقروض ہوتا ہے تو بات کرتا ہے لیکن جھوٹ بولتا ہے اور وعدہ کرتا ہے لیکن اس کی خلاف ورزی کرتا ہے۔

1815

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1815

Sahih

۔ (۱۸۱۵) عَنْ أَبِیْ صَالِحٍ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: قَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِرَجُلٍ: ((کَیْفَ تَقُوْلُ فِی الصَّلاَۃِ؟)) قَالَ: أَتَشَہَّدُ ثُمَّ أَقُوْلُ: اَللّٰہُمَّ إِنِّیْ أَسْأَلُکَ الْجَنَّۃَ وَأَعُوْذُ بِکَ مِنَ النَّاِر، أَمَا إِنِّیْ لَا أُحْسِنُ دَنْدَنَتَکَ وَلاَ دَنْدَنَۃَ مُعَاذٍ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((حَوْ لَھُمَا نْدَنْدِنُ۔)) (مسند احمد: ۱۵۹۹۳)

اردو ترجمہ · Urdu

ایک صحابی ٔ رسول ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک آدمی سے پوچھا: تو نماز میں کیا کہتا ہے؟ اس نے کہا: میں پہلے تشہد پڑھتا ہوں پھر اس طرح دعا کرتا ہوں کہ اے اللہ میں تجھ سے جنت کا سوال کرتا ہوں اور آگ سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ مجھ سے آپ اور معاذ کے گنگنانے کی طرح نہیں گنگنایا جا سکتا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہم بھی ان کے گرد ہی گنگناتے ہیں۔

1816

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1816

Sahih

۔ (۱۸۱۶) عَنْ مِحْجِنِ بْنِ الْأَدْرَعِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَإِذَا ھُوَ بِرَجُلٍ قَدْ قَضٰی صَلَاتَہُ وَھُوَ یَتَشَہَّدُ وَھُوَ یَقُوْلُ: اَللّٰہُمَّ إِنِّیْ أَسْأَلُکَ یَا اللَّہُ الْوَاحِدُ الْأَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِیْ لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُوْلَدْ وَلَمْ یَکُنْ لَّہُ کُفُوًا أَحَدٌ أَنْ تَغْفِرَلِیْ ذُنُوْبِیْ إِنَّکَ أَنْتَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ۔ قَالَ: فَقَالَ نَبِیُّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((قَدْغُفِرَ لَہُ، قَدْغُفِرَلَہُ، قَدْغُفِرَلَہُ۔)) ثَلاَثَ مَرَّاتٍ۔ (مسند احمد: ۱۹۱۸۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا محجن بن ادرع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسجد میں داخل ہوئے اور دیکھا کہ ایک آدمی اپنی نماز پوری کر کے تشہد میں یہ دعا کر رہا ہے: اَللّٰہُمَّ إِنِّیْ أَسْأَلُکَ یَا اللَّہُ الْوَاحِدُ الْأَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِی لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُوْلَدْ وَلَمْیَکُنْ لَّہُ کُفُوًا أَحَدٌ أَنْ تَغْفِرَلِیْ ذُنُوْبِیْ إِنَّکَ أَنْتَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ۔ (اے اللہ! بیشک میں تجھ سے سوال کرتا ہوں، اے اللہ! جو یکتا و یگانہ ہے، بے نیاز ہے، جس نے نہ کسی کو جنا اور نہ وہ جنا گیا اور کوئی بھی اس کا ہم سر نہیں ہے، یہ کہ تو میرے لیے میرے گناہ بخش دے، بیشک تو بخشنے والا رحم کرنے والا ہے۔) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بلاشبہ اسے بخش دیا گیا ہے ، بلاشبہ اسے بخش دیا گیا ہے۔ بلاشبہ اسے بخش دیا گیا ہے۔ یعنی تین مرتبہ فرمایا۔

1817

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1817

Sahih

۔ (۱۸۱۷) عَنْ سَعِیْدِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ أَبْزٰی عَنْ أَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا جَلَسَ فِی الصَّلاَۃِ فَدَعَا وَضَعَ یَدَہُ الْیُمْنٰی عَلٰی فِخَذِہِ ثُمَّ کَانَ یُشِیْرُ بِإِصْبَعِہِ۔ (مسند احمد: ۱۵۴۴۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبد الرحمن بن ابزی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب نماز میں بیٹھ کر دعا کرتے تو اپنا دایاں ہاتھ اپنی ران پر رکھتے پھر انگلی کے ساتھ اشارہ کرتے۔

1818

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1818

Sahih

۔ (۱۸۱۸) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یُشِیْرُ بِإِصْبَعِہِ السَّبَّاحَۃِ فِی الصَّلاَۃِ۔ (مسند احمد: ۱۵۴۴۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند)رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز میں انگشت ِ شہادت کے ساتھ اشارہ کرتے تھے۔

1819

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1819

Sahih

۔ (۱۸۱۹) عَنْ مَالِکِ بِنْ نُمَیْرٍ الْخُزَاعِیِّ عَنْ أَبِیْہِ قَالَ: رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ قَاعِدٌ فِی الصَّلاَۃِ قَدْ وَضَعَ ذِرَاعَہُ الْیُمْنٰی عَلٰی فَخِذِہِ الْیُمْنٰی رَافِعًا بِاِصْبَعِہِ السَّبَّابَۃِ قَدْ حَنَأَھَا شَیْئًا وَھُوَ یَدْعُوْ۔ (مسند احمد: ۱۵۹۶۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا نمیر خزاعی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا کہ آپ نماز میں بیٹھے ہوئے تھے اور دایاں بازو دائیں ران پر رکھا ہوا تھا اور انگشت ِ شہادت کو اٹھا کر دعا کر رہے تھے، جبکہ اس انگلی کو کچھ جھکایا ہوا تھا۔

1820

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1820

Sahih

۔ (۱۸۲۰) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: مَرَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِسَعْدٍ وَھُوَ یَدْعُوْ بِاِصْبَعَیْنِ فَقَالَ: ((أَحِّدْ یَاسَعْدُ!)) (مسند احمد: ۱۲۹۳۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس سے گزرے اور وہ دو انگلیوں کے ساتھ دعا کر رہے تھے توآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے سعد! ایک کے ساتھ دعا کرو۔