Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 3 · Chapter 28

ہمارے دین اسلام کی عالی ظرفی اور اس پر فخر کرنے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کے سب سے محبوب دین ہونے کا بیان

انسان کی اس حالت کی تقدیر کا بیان، جبکہ وہ ماں کے پیٹ میں ہو

4 hadiths in this chapter

197

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #197

Sahih

۔ (۱۹۷)۔عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍؓ قَالَ: حَدَّثَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ الصَّادِقُ الْمُصَدَّقُ: ((اِنَّ أَحَدَکُمْ یُجْمَعُ خَلْقُہُ فِیْ بَطْنِ أُمِّہِ فِیْ أَرْبَعِیْنَ یَوْمًا ثُمَّ یَکُوْنُ عَلَقَۃً مِثْلَ ذٰلِکَ ثُمَّ یَکُوْنُ مُضْغَۃً مِثْلَ ذٰلِکَ ثُمَّ یُرْسَلُ اِلَیْہِ الْمَلَکُ فَیَنْفَخُ فِیْہِ الرُّوْحَ وَیُؤْمَرُ بِأَرْبَعِ کَلِمَاتٍ، رِزْقُہُ وَأَجَلُہُ وَعَمَلُہُ وَشَقِیٌّ أَمْ سَعِیْدٌ، فَوَالَّذِیْ لَا اِلٰہَ غَیْرُہُ اِنَّ أَحَدَکُمْ لَیَعْمَلُ بِعَمَلِ أَھْلِ الْجَنَّۃِ حَتّٰی مَا یَکُوْنُ بَیْنَہُ وَ بَیْنَہَا اِلَّا ذِرَاعٌ فَیَسْبِقُ عَلَیْہِ الْکِتَابُ فَیُخْتَمُ لَہُ بِعَمَلِ أَہْلِ النَّارِ فَیَدْخُلُہَا، وَ اِنَّ الرَّجُلَ لَیَعْمَلُ بِعَمَلِ أَہْلِ النَّارِ حَتّٰی مَا یَکُوْنُ بَیْنَہُ وَ بَیْنَہَا اِلَّا ذِرَاعٌ فَیَسْبِقُ عَلَیْہِ الْکِتَابُ فَیُخْتَمُ لَہُ بِعَمَلِ أَھْلِ الْجَنَّۃِ فَیَدْخُلُہَا۔)) (مسند أحمد: ۳۶۲۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبداللہ بن مسعودؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌، جوکہ صادق و مصدوق ہیں، نے ہم کو بیان کیا اور فرمایا: بیشک تمہاری تخلیق اس طرح ہوتی ہے کہ ماں کے پیٹ میں چالیس دنوں تک نطفہ ہی رکھا جاتا ہے، پھر چالیس دن تک خون کا لوتھڑا رکھا جاتا ہے، پھر چالیس دن تک گوشت کا ٹکڑا رکھا جاتا ہے، پھر اس کی طرف فرشتے کو بھیجا جاتا ہے اور وہ اس میں روح پھونکتا ہے اور چار کلمات کا حکم دیا جاتا ہے۔ اس کے رزق، موت اور عمل اور اس کے بدبخت یا خوش بخت ہونے کا، پس اس ذات کی قسم جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں! بیشک تم میں سے ایک آدمی جنتی لوگوں والے عمل کرتا رہتا ہے ، یہاں تک کہ اس کے اور جنت کے مابین صرف ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے، لیکن کتابِ تقدیر اس پر سبقت لے جاتی ہے اور اس کی زندگی کا خاتمہ جہنمی لوگوں کے اعمال پر ہوتا ہے، پس وہ جہنم میں داخل ہو جاتا ہے، اسی طرح ایک آدمی جہنمی لوگوں کے اعمال کرتا رہتا ہے، حتی کہ اس کے اور جہنم کے درمیان ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے، لیکن کتابِ تقدیر اس پر غالب آ جاتی ہے اور اس کی زندگی کا خاتمہ اہل جنت کے اعمال پر کر دیا جاتا ہے، سو وہ جنت میں داخل ہوجاتا ہے۔

198

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #198

Sahih

۔ (۱۹۸)۔عَنْ جَابِرِبْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((اِذَا اسْتَقَرَّتِ النُّطْفَۃُ فِی الرَّحِمِ أَرْبَعِیْنَ یَوْماً أَوْ أَرْبَعِیْنَ لَیْلَۃً بَعَثَ اللّٰہُ اِلَیْہِ مَلَکًا فَیَقُوْلُ: یَا رَبِّ! مَا رِزْقُہُ؟ فَیُقَالُ لَہُ، فَیَقُوْلُ: یَا رَبِّ! مَا أَجَلُہُ؟ فَیُقَالُ لَہُ، فَیَقُوْلُ: یَا رَبِّ! ذَکَرٌ أَمْ أُنْثٰی؟ فَیُعْلَمُ، فَیَقُوْلُ: یَا رَبِّ! شَقِیٌّ أَمْ سَعِیْدٌ؟ فَیُعْلَمُ۔)) (مسند أحمد: ۱۵۳۴۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا جابر بن عبد اللہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب نطفہ رحم میں چالیس دن یا راتیں ٹھہر جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی طرف ایک فرشتے کو بھیجتے ہیں، پس وہ پوچھتا ہے: اے میرے ربّ! اس کا رزق کیا ہے؟ پس اسے جواب دیا جاتا ہے، پھر وہ پوچھتا ہے: اے میرے ربّ! اس کی موت کب ہو گی؟ پس اس کو بتلا دیا جاتا ہے، پھر وہ سوال کرتاہے: اے میرے ربّ! یہ مذکر ہو گا یا مؤنث؟ سو اس کو بتلا دیا جاتا ہے، پھر وہ کہتا ہے: اے میرے ربّ! یہ بدبخت ہو گا یا خوش بخت؟ پھر یہ بھی اس کو بتلا دیا جاتا ہے۔

199

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #199

Sahih

۔ (۱۹۹)۔حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ أَبِیْ الطُّفَیْلِ عَنْ حُذَیْفَۃَ بْنِ أُسَیْدٍ الْغِفَارِیِّؓ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَوْ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((یَدْخُلُ الْمَلَکُ عَلَی النُّطْفَۃِ بَعْدَ مَا تَسْتَقِرُّ فِی الرَّحِمِ بِأَرْبَعِیْنَ لَیْلَۃً، (وَقَالَ سُفْیَان مَرَّۃً: أَوْ خَمْسَۃً وَ أَرْبَعِیْنَ لَیْلَۃً) فَیَقُوْلُ: یَا رَبِّ! مَاذَا، أَشَقِیٌّ أَمْ سَعِیْدٌ؟ أَذَکَرٌ أَمْ أُنْثٰی؟ فَیَقُوْلُ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی فَیُکْتَبَانِ، فَیَقُوْلُ: مَا ذَا؟أَذَکَرٌ أَمْ أُنْثٰی؟ فَیَقُوْلُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ فَیُکْتَبَانِ، فَیُکْتَبُ عَمَلُہُ وَ أَثَرُہُ وَمَصِیْبَتُہُ وَرِزْقُہُ، ثُمَّ تُطْوَی الصَّحِیْفَۃُ فَـلَا یُزَادُ عَلَی مَا فِیْہَا وَلَا یُنْقَصُ۔)) (مسند أحمد: ۱۶۲۴۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا حذیفہ بن اسید غفاریؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب نطفہ رحم میں چالیس یا پینتالیس راتیں ٹھہر جاتا ہے تو اس پر ایک فرشتہ داخل ہوتا ہے اور وہ سوال کرتا ہے: اے میرے ربّ! کیا حکم ہے، بدبخت ہے یا خوش بخت؟ مذکر ہے یا مؤنث؟ پس اللہ تعالیٰ اس کو بتلا دیتا ہے اور یہ دونوں چیزیں لکھ لی جاتی ہیں، پھر وہ کہتا ہے: کیا حکم ہے، مذکر ہے یا مؤنث؟ پس اللہ تعالیٰ اس کو بتلاتا ہے اور یہ چیزیں بھی لکھ دی جاتی ہیں، پھر اس کا عمل ، عمر، مصیبت اور رزق لکھا جاتا ہے اور صحیفے کو لپیٹ لیا جاتا ہے اور اس میں زیادتی کی جا سکتی ہے نہ کمی۔

200

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #200

Sahih

۔ (۲۰۰)۔عَنْ أَبِیْ الدَّرْدَائِؓ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((فَرَغَ اللّٰہُ اِلٰی کُلِّ عَبْدٍ مِنْ خَمْسٍ، مِنْ أَجَلِہِ وَ رِزْقِہِ وَأَثَرِہِ وَ شَقِیٍّ أَمْ سَعِیْدٍ۔)) (مسند أحمد: ۲۲۰۶۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو درداءؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ہر بندے سے پانچ چیزوں سے فارغ ہو گیا ہے، اس کی موت، رزق، عمر اور بدبختی یا خوش بختی۔