Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 28 · Chapter 298

رکوع و سجود اور ان کے متعلقات کے ابواب

جس نے رکوع وسجود پورا نہ کیا، اس کی نماز کے باطل ہونے کا بیان

2 hadiths in this chapter

1688

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1688

Zaeef

۔ (۱۶۸۸) عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عُثْمَانَ الْأَ نْصَارِیِّ عَنْ ھَانِیئِ بْنِ مَعَاوِیَۃَ الصَّدَفِیِّ حَدَّثَہُ قَالَ: حَجَجْتُ زَمَانَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ فَجَلَسْتُ فِی مَسْجِدِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَإِذَا رَجُلٌ یُحَدِّثُہُمْ، قَالَ: کُنَّا عَنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمًا فَأَقْبَلَ رَجُلٌ فَصَلّٰی فِی ھٰذَا الْعَمُودِ فَعَجَّلَ قَبْلَ أَنْ یُتِمَّ صَلاَتَہُ ثُمَّ خَرَجَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِنَّ ھٰذَا لَوْ مَاتَ لَمَاتَ وَلَیْسَ مِنَ الدِّیْنِ عَلٰی شَیْئٍ، إِنَّ الرَّجُلَ لَیُخَفِّفُ صَلاَتَہُ وَیُتِمُّہَا، قَالَ فَسَأَلْتُ عَنِ الرَّجُلِ مَنْ ھُوَ؟ فَقِیْلَ عُثْمَانُ بْنُ حَنِیْفٍ الْأَ نْصَارِیُّ۔ (مسند احمد: ۱۷۳۷۵)

اردو ترجمہ · Urdu

ہانی بن معاویہ صدفی کہتے ہیں: میں نے سیدنا عثمان بن عفان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے زمانے میں حج کیا، میں مسجد نبوی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میں بیٹھا ہوا تھا، وہاں ایک آدمی لوگوں کو حدیث بیان کررہا تھا، اس نے کہا: ہم ایک دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس موجود تھے کہ ایک آدمی نے آکر اس ستون کے پاس نماز پڑھی اور اس نے اپنی نماز پور ی کرنے میں جلدی کی اور پھر وہ چلا گیا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر یہ شخص مر جائے تو اس حالت میں مرے گا کہ دین کی کسی چیز سے یہ متصف نہیں ہو گا۔ آدمی اپنی نماز مکمل کرتے ہوئے بھی تخفیف کر سکتا ہے۔ میں نے اس (حدیث بیان کرنے والے) آدمی کے بارے میں پوچھا کہ یہ کون ہے؟ مجھے بتایا گیا کہ یہ سیدنا عثمان بن حنیف انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہیں۔

1689

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1689

Sahih

۔ (۱۶۸۹) عَنْ زَیْدِ بْنِ وَھْبٍ قَالَ: دَخَلَ حُذَیْفَۃُ بْنُ الْیَمَانِ الْمَسْجِدَ فَإِذَا رَجُلٌ یُصَلِّیْ مِمَّا یَلِیْ أَبْوَابَ کِنْدَۃَ فَجَعَلَ لَایُتِمُّ الرُّکُوْعَ وَلاَ السُّجُودَ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ لَہُ حُذَیْفَۃُ: مُنْذُ کَمْ ھٰذِہِ صَلاَتُکَ؟ قَالَ: مُنْذُ أَرْبَعَیْنَ سَنَۃً، قَالَ: فَقَالَ لَہُ حَذَیْفَۃُ: مَاصَلَّیْتَ مُنْذُ أَرْبَعِیْنَ سَنَۃً، وَلَوْ مُتَّ وَھٰذِہِ صَلاَتُکَ لَمُتَّ عَلٰی غَیْرِ الْفِطَرَۃِ الَّتِیْ فُطِرَ عَلَیْہَا مُحَمَّدٌ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَیْہِیُعَلِّمُہُ، فَقَالَ إِنَّ الرَّجُلَ لَیُخَفِّفُ فِیْ صَلاَتِہِ وَإِنَّہُ لَیُتِمُّ الرُّکُوعَ وَالسُّجُودَ۔ (مسند احمد: ۲۳۶۴۷)

اردو ترجمہ · Urdu

زید بن وہب کہتے ہیں: سیدنا حذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ مسجد میں داخل ہوئے تو کندہ سے قریبی علاقے کا ایک آدمی نماز پڑھ رہا تھا،وہ رکوع پورا کر رہا تھا نہ سجدہ، جب وہ فارغ ہوا تو سیدنا حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اسے کہا: کب سے تو اس طرح نماز پڑھ رہا ہے؟ اس نے کہا: چالیس سال سے۔ سیدناحذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اسے کہا: (حقیقت یہ ہے کہ) تو نے چالیس سال سے نماز پڑھی ہی نہیں ہے اور اگر تو اس حالت میں فوت ہوجاتا کہ تیری نماز یہی ہوتی تو تو اس دین پر نہ مرتا جو حضرت محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو عطا کیا گیا۔ پھر وہ اس پر متوجہ ہوئے اور اسے نماز کی تعلیم دیتے ہوئے کہا: آدمی رکوع و سجود پورا کرکے بھی نماز میں تخفیف کرلیتا ہے، (ضروری نہیں کہ جلدی ہی کی جائے)۔