Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 27 · Chapter 292

نمازی کے آگے سترہ رکھنے او راس کے پیچھے سے گزرنے کا حکم

قراء ت کے سری اورجہری ہونے کا اور ترتیل وغیرہ کا بیان

7 hadiths in this chapter

1649

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1649

Zaeef

۔ (۱۶۴۹) عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ أَبُوْبَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌یُخَافِتُ بِصَوْتِہِ إِذَا قَرَأَ، وَکَانَ عُمَرُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌یَجْہَرُ بِقِرَائَ تِہِ، وَکَانَ عَمَّارٌ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ إِذَا قَرَأَ یَأْ خُذُمِنْ ھٰذِہِ السُّورَۃِ وَھٰذِہِ، فَذُکِرَ ذَاکَ لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ لِأَبِیْ بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: ((لِمَ تُخَافِتُ؟)) قَالَ: إِنِّی لَأُسْمِعُ مَنْ أُنَاجِیْ، وَقَالَ لِعُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: ((لِمَ تَجْہَرُ بِقِرَائَ تِکَ؟)) قَالَ: أُفْزِعُ الشَّیْطَانَ وَأُوقِظُ الْوَسْنَانَ، وَقَالَ لِعَمَّارٍ: ((لِمَ تَأْخُذُ مِنْ ھٰذِہِ السُّورَۃِ وَھٰذِہِ؟)) قَالَ: أَتَسْمَعُنِیْ أَخْلِطُ بِہِ مَالَیْسَ مِنْہُ؟ قَالَ: ((لَا۔)) قَالَ: فَکُلُّہُ طَیِّبٌ۔ (مسند احمد: ۸۶۵)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:جب سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ قراءت کرتے تو اپنی آواز کو آہستہ رکھتے تھے، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بآواز بلند قراءت کرتے تھے اور سیدنا عمار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ جب قراءت کرتے تو کچھ اس سورت سے پڑھ لیتے تھے اور کچھ اُس سورت سے۔ جب یہ بات نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بتلائی گئی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے پوچھا: آپ آہستہ کیوں پڑھتے ہیں؟ انہوں نے کہا: جی میں جس ہستی سے سرگوشی کر رہا ہوتا ہوں، اس کو سناتا ہوں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے پوچھا: آپ بلند آواز سے تلاوت کیوں کرتے ہیں؟ انہوں نے کہا: میں شیطان کو ڈراتا ہوں اور ہلکی نیندسونے والے کو جگاتا ہوں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا عمار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے پوچھا: کچھ اس سورت سے پڑھتے ہواورکچھ اُس سورت سے، ایسے کیوں کرتے ہو؟ انہوں نے کہا: بھلا کیا آپ نے مجھے سنا ہے کہ میں نے اس قرآن میں ایسا کلام ملا دیا ہو جو اس میں سے نہ ہو؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں۔ انہوں نے کہا: توپھر سارا کلام ہی اچھا ہے، (اس لیے میں جہاں سے چاہتا ہوں، ضرورت کے مطابق پڑھ لیتا ہوں)۔

1650

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1650

Sahih

۔ (۱۶۵۰) عَنْ قَتَادَۃَ قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالَکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنْ قِرَائَ ۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: کَانَ یَمُدُّ بِہَا صَوْتَہُ مَدًّا۔ (مسند احمد: ۱۲۲۲۲)

اردو ترجمہ · Urdu

قتادہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی قراءت کے بارے میں دریافت کیا، انہوں نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قراءت کرتے ہوئے اپنی آواز کو کافی لمبا کرتے تھے۔

1651

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1651

Sahih

۔ (۱۶۵۱) عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَتْ قِرَائَ ۃُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِاللَّیْلِ قَدْرَ مَایَسْمَعُہُ مَنْ فِی الْحُجْرَۃِ وَھُوَ فِی الْبَیْتِ۔ (مسند احمد: ۲۴۴۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی قراءت اس قدر (بلند)ہوتی کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کمرے میں ہوتے اور صحن والے اس کو سن لیتے۔

1652

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1652

Sahih

۔ (۱۶۵۲) حَدَّثَنَاعَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ حَدَّثَنَا وَکِیْعٌ عَنْ نَافِعِ بِنْ عُمَرَ (ح) ابن عبد اللہ بن جمیل وأبو عامر، حدثنا نافع عَنِ ابْنِ أَبِیْ مُلَیْکَۃَ عَنْ بَعْضِ أَزْوَاجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ نَافِعٌ: أُرَاھَا حَفْصَۃَ أَنَّہَا سُئِلَتْ عَنْ قِرَائَ ۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَتْ: إِنَّکُمْ لاَتَسْتَطِیْعُوْنَہَا، قَالَ: فَقِیْلَ لَھَا: أَخْبِرِیْنَا بِہَا، قَالَ: فَقَرَأَتْ قِرَائَ ۃً تَرَسَّلَتْ فِیْہَا، قَالَ أَبُوْعَامِرٍ: قَالَ نَافِعٌ: فَحَکَی لَنَا اِبْنُ أَبِیْ مُلَیْکَۃَ {اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ} ثُمَّ قَطَعَ، {اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ}، ثُمَّ قَطَعَ، {مَالِکِ یَوْمِ الدَّیِْن}۔ (مسند احمد: ۲۷۰۰۳)

اردو ترجمہ · Urdu

ایک زوجۂ رسول، غالبا وہ سیدہ حفصہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ہیں، بیان کرتی ہیں کہ ان سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی قراءت کے بارے میں سوال کیا گیا، انھوں نے کہا: تم تو اس کی استطاعت ہی نہیں رکھتے۔ کسی نے ان سے کہا: آپ ہمیں بتلا تو دیں۔ جوابا ً انہوں نے قراءت کی اور اس میں ٹھہر ٹھہر کر پڑھا۔ابن ابی ملیکہ نے اس کو یوں بیان کیا: {اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ} پڑھا، پھر ٹھہر گئے، پھر {اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ} پڑھا اور اس پر وقف کیا، پھر {مَالِکِ یَوْمِ الدَّیِْن} پڑھا۔

1653

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1653

Sahih

۔ (۱۶۵۳) عَنْ أُمِّ ھَانِیئٍ بِنْتِ أَبِیْ طَالِبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَتْ: أَنَا أَسْمَعُ قِرَائَ ۃَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ جَوْفِ اللَّیْلِ وَأَنَا عَلٰی عَرِیْشِیْ ھٰذَا وَھُوَ عِنْدَ الْکَعْبَۃِ۔ (مسند احمد: ۲۷۴۳۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ ام ہانی بنت ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: میں رات کے آخری ایک تہائی حصے میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی قراءت کی آواز سنتی تھی، جبکہ میں اپنے اس چھپر کی چھت پر ہوتی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کعبہ کے پاس ہوتے۔

1654

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1654

Zaeef

۔ (۱۶۵۴) عَنْ أَبِیْ لَیْلٰی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقْرَأُ فِیْ صَلاَۃٍ لَیْسَتْ بِفَرِیْضَۃٍ فَمَرَّ بِذِکْرِ الْجَنَّۃِ وَالنَّارِ، فَقَالَ: ((أَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ النَّارِ، وَیْحٌ أَوْ وَیْلٌ لِأَ ھْلِ النَّارِ۔)) (مسند احمد: ۱۹۲۶۵)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو لیلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو نماز میں قراءت کرتے ہوئے سنا، جبکہ وہ نماز فرضی نہیں تھی، پس جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جنت اور آگ کے ذکر سے گزرے تو فرمایا: أَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ النَّارِ وَیْحٌ أَوْ وَیْلٌ لِأَھْلِ النَّارِ (میں آگ سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں، آگ والوں کے لئے تباہی ہے۔)

1655

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1655

Sahih

۔ (۱۶۵۵) عَنْ حُذَیْفَۃَ بْنِ الْیَمَانِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ إِذَا مَرَّ بِآیَۃِ رَحْمَۃٍ سَأَلَ وَإِذَا مَرَّ بِآیَۃٍ فِیْہَا عَذَابٌ تَعَوَّذَ، وَإِذَا مَرَّبِآیَۃٍ فِیْہَا تَنْزِیْہُ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ سَبَّحَ۔ (مسند احمد: ۲۳۶۵۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا حذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب رحمت والی آیت کے پاس سے گزرتے تو سوال کرتے، جب ایسی آیت سے گزرتے جس میں عذاب کا ذکر ہوتا تو پناہ مانگتے اور جب ایسی آیت تلاوت کرتے، جس میں اللہ تعالیٰ کی تنزیہ بیان کی جاتی تو اس کی تسبیح بیان کرتے۔