Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 27 · Chapter 270

نمازی کے آگے سترہ رکھنے او راس کے پیچھے سے گزرنے کا حکم

امام کا سترہ ہی مقتدی کا سترہ ہے او ر کسی چیز کے گزر جانے سے نماز منقطع نہیں ہوتی

6 hadiths in this chapter

1500

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1500

Sahih

۔ (۱۵۰۰) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: جِئْتُ أَنَا وَالْفَضْلُ وَنَحْنُ عَلٰی أَتَانٍ وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّیْ بِالنَّاسِ بِعَرَفَۃَ فَمَرَرْنَا عَلٰی بَعْضِ الصَّفِّ فَنَزَلْنَا عَنْہَا وَتَرَکْنَاھَا تَرْتَعُ وَدَخَلْنَا فِی الصَّفِّ فَلَمْ یَقُلْ لِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شَیْئًا۔ (مسند احمد: ۱۸۹۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:میں اور فضل گدھی پر سوار ہو کر آئے، جبکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عرفہ میں لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے، ہم صف کے کچھ حصے کے سامنے سے گزر کر اس سے اترے، اسے چرنے کے لیے چھوڑ دیا اور ہم صف میں داخل ہوگئے۔ اس پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں کچھ نہ کہا۔

1501

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1501

Sahih

۔ (۱۵۰۱) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) قَالَ: أَقْبَلْتُ وَقَدْ نَاھَزْتُ الْحُلْمَ أَسِیْرُ عَلٰی أَتَانٍ وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَائِمٌ یُصَلِّیْ لِلنَّاسِ یَعْنِیْ حَتّٰی صِرْتُ بَیْنَیَدَیْ بَعْضِ الصَّفِّ الْأَوَّلِ ثُمَّ نَزَلْتُ عَنْہَا فَرَتَعَتْ فَصَفَفْتُ مَعَ النَّاسِ وَرَائَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۲۳۷۶)

اردو ترجمہ · Urdu

(دوسری سند) سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں گدھی پر سوار ہو کر آیا، اس وقت میں بلوغت کے قریب تھا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے، میں اسی حالت میں پہلی صف کے بعض حصے کے سامنے آ پہنچا، وہاں اس سے اترا، وہ چرنے لگی اور میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اقتدا میں لوگوں کے ساتھ صف میں کھڑا ہو گیا۔

1502

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1502

Sahih

۔

1503

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1503

Sahih

۔ (۱۵۰۳) وَعَنْہُ أَیْضًا أَنَّہُ کَانَ عَلٰی حِمَارٍ ھُوَ وَغُلَامٌ مِنْ بَنِی ھَاشِمٍ فَمَرَّ بَیْنَیَدَیِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ یُصَلِّیْ فَلَمْ یَنْصَرِفْ، وَجَائَ تْ جَارِیَتَانِ مِنْ بَنِی عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَأَخَذَتَا بِرُ کْبَتَیِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَفَرَّعَ بَیْنَہُمَا أَوْفَرَّقَ بَیْنَہُمَا وَلَمْ یَنْصَرِفْ۔ (مسند احمد: ۳۱۶۷)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے، وہ کہتے ہیں: وہ اور بنوہاشم کا ایک لڑکا گدھے پر تھے، وہ گدھا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے سے گزر گیا، جبکہ آپ نماز پڑھ رہے تھے، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز سے نہ نکلے، اتنے میں بنو عبد المطلب کی دو لڑکیوں نے آکر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے گھٹنوں کو پکڑ لیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو علیحدہ علیحدہ کر دیا اورنماز سے نہ نکلے۔

1504

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1504

Sahih

۔

1505

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1505

Sahih

۔ (۱۵۰۵) عَنِ الْحَسَنِ الْعُرَنِیِّ قَالَ ذُکِرَ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما یَقْطَعُ الصَّلَاۃَ الْکَلْبُ وَالْحِمَارُ وَالْمَرْأَۃُ، قَالَ: بِئْسَمَا عَدَلْتُمْ بِامْرَأَۃٍ مُسْلِمَۃٍ کَلْباًوَحِمَارًا، لَقَدْ رَأَیْتُنِیْ أَقْبَلْتُ عَلٰی حِمَارٍ وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّیْ بِالنَّاسِ حَتّٰی إِذَا کُنْتُ قَرِیْبًا مِنْہُ مُسْتَقْبِلَہُ نَزَلْتُ عَنْہُ وَخَلَّیْتُ عَنْہُ وَدَخَلْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی صَلَاتِہِ فَمَا أَعَادَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلَاتَہُ وَلَا نَہَانِیْ عَمَّا صَنَعْتُ، وَلَقَدْ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّیْ بِالنَّاسِ فَجَائَ تْ وَلِیْدَۃٌ تَخَلَّلُ الصُّفُوفَ حَتّٰی عَاذَتْ بِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَمَا أَعَاَدَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلَاتَہُ وَلَا نَہَاھَا عَمَّا صَنَعَتْ، وَلَقَدْ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّیْ فِیْ مَسْجِدٍ فَخَرَجَ جَدْیٌ مِنْ بَعْضِ حُجُرَاتِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَذَھَبَ یَجَتْازُ بَیْنَیَدَیْہِ فَمَنَعَہُ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسِ: أَفَـلَا تَقُوْلُوْنَ: الْجَدْیُیَقْطَعُ الصَّلَاۃَ؟ (مسند احمد: ۲۲۲۲)

اردو ترجمہ · Urdu

حسن عرنی ‌رحمہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ کہتے ہیں: سیّدنا عبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس یہ بات ذکر کی گئی کہ کتا، گدھا اور عورت نماز کو قطع کر دیتی ہیں، وہ کہنے لگے: بری بات ہے کہ تم نے مسلمان عورت کو کتے اور گدھے کے برابر کردیا ہے، میں نے اپنے آپ کو دیکھا ہے کہ میں گدھے پر آیا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے، جب میں آپ کے سامنے قریب ہوگیا تو میں اس سے اترا اور اسے چھوڑ دیا اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نماز میں داخل ہوگیا۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نہ اپنی نماز دہرائی اور نہ مجھے ایسا کرنے سے منع کیا اور ایک دفعہ یوں ہوا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے کہ ایک بچی صفوں کے بیچ سے گزرتے ہوئے آئی اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی پناہ لی، اس سے بھی نہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز دہرائی اور نہ اسے ایسا کرنے سے منع کیا۔ ایک اور واقعہ یہ ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسجد میں نماز پڑھ رہے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے کسی حجرے سے ایک بکری کا بچہ نکل آیا اور آپ کے سامنے سے گزر نے لگا، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے روک دیا۔ سیّدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: اب تم یہ کیوں نہیں کہتے کہ بکری کا بچہ نماز توڑ دیتا ہے؟