Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 27 · Chapter 268

نمازی کے آگے سترہ رکھنے او راس کے پیچھے سے گزرنے کا حکم

نمازی کے آگے گزرنے والے آدمی وغیرہ کو روکنے کا بیان

11 hadiths in this chapter

1483

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1483

Sahih

۔ (۱۴۸۳) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِذَا کَانَ أَحَدُ کُمْ یُصَلِّیْ فَـلَا یَدَعْ أَحَداً یَمُرُّ بَیْنَیَدَیْہِ، فَإِنْ أَبٰی فَلْیُقَاتِلْہُ فَإِنَّ مَعَہُ الْقَرِیْنَ۔)) (مسند احمد: ۵۵۸۵)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص نمازپڑھ رہا ہو تو کسی کو اپنے سامنے سے نہ گزرنے دے،اگر کوئی (رکنے سے) انکار کرتاہے تواس سے لڑے کیونکہ اس کے ساتھ شیطان ہوتا ہے۔

1484

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1484

Sahih

۔ (۱۴۸۴) عَنْ أَبِیْ سَعِیْدٍنِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِذَا کَانَ أَحَدُکُمْ یُصَلِّیْ فَـلَا یَدَعْ أَحَدًا یَمُرُّ بَیْنَیَدَیْہِ، وَلْیَدْرَأْہُ مَا اسْتَطَاعَ، فَإِنْ أَبٰی فَلْیُقَاتِلْہُ، فَإِنَّمَا ھُوَ شَیْطَانٌ۔)) (مسند احمد: ۱۱۳۱۹)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا ابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص نمازپڑھ رہا ہو تو کسی کو اپنے آگے سے نہ گزرنے دے اور اپنی طاقت کے مطابق اسے ہٹائے،اگر وہ (رکنے سے) انکار کرے تواس سے لڑے کیونکہ وہ شیطان ہے۔

1485

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1485

Sahih

۔ (۱۴۸۵) عَنْ أَبِیْ عُبَیْدٍ صَاحِبِ سُلَیْمَانَ قَالَ رَأَیْتُ عَطَائَ بْنَ یَزِیْدَ اللَّیْثِیَّ قَائِمًا یُصَلِّیْ مُعْتَمًّا بِعِمَامَۃٍ سَوْدَائَ مُرْخٍ طَرَفَہَا مِنْ خَلْفٍ مُصْفَرَّ اللَّحْیَۃِ، فَذْھَبْتُ أَمُرُّ بَیْنَیَدَیْہِ فَرَدَّنِیْ ثُمَّ قَالَ: حَدَّثَنِی أَبُو سَعْیِدٍنِ الْخُدْرِیُّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَامَ فَصَلّٰی صَلَاۃَ الصُّبْحِ وَھُوَ خَلْفَہٗفَقَرَأَفَالْتَبَسَتْعَلَیْہِ الْقِرَائَ ۃُ فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِہِ قَالَ: ((لَوْ رَأَیْتُمُوْنِیْ وَإِبْلیِسَ فَأَھْوَیْتُ بِیَدِیْ فَمَا زِلْتُ أَخْنُقُہٗحَتّٰی وَجَدْتُّ بَرْدَ لُعَابِہِ بَیْنَ إِصَبَعَیَّ ھَاتَیْنِ، الإِْ بِہْاَمِ وَالَّتِیْ تَلیِْہَا وَلَوْلَا دَعْوَۃُ أَخِیْ سُلَیْمَانَ لَأَصْبَحَ مَرْبُوطًا بِسَارِیَۃٍ مِنْ سَوَارِی الْمَسْجِدِ یَتَلَاعَبُ بِہِ صِبْیَانَ الْمَدِیْنَۃِ فَمَنِ اسْتَطَاعَ مِنْکُمْ أَنْ لَّایَحُولَ بَیْنَہُ وَبَیْنَ الْقِبْلَۃِ أَحَدٌ فَلْیَفْعَلْ۔ (مسند احمد: ۱۱۸۰۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سلیمان کے ساتھی ابو عبید کہتے ہیں: میں نے عطا بن یزید لیثی کودیکھا، وہ نماز پڑھ رہے تھے، انھوں نے سیاہ رنگ کی پگڑی باندھ کر اس کا کنارہ پیچھے لٹکایا ہوا تھا اور داڑھی کو زرد کر رکھا تھا، میں ان کے آگے سے گزرنے لگا لیکن انہوں نے مجھے روک دیا، پھر کہا: مجھے سیّدنا ابوسعید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بیان کیا کہ ر سول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صبح کی نماز پڑھ رہے تھے، وہ بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اقتدا میں تھے، آپ نے قراءت کی لیکن قراءت آپ پر خلط ملط ہونے لگی۔ جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: کاش تم مجھے اور ابلیس کو دیکھتے، میں نے اپنا ہاتھ جھکایا (اور اسے پکڑ لیا پھر) اس کا گلا گھونٹتا رہا حتی کہ مجھے اس کے لعاب کی ٹھنڈک ان دونوں انگلیوں یعنی انگوٹھے اور اس کے ساتھ والی کے درمیان محسوس ہوئی،اور اگر میر ے بھائی سلیمان علیہ السلام کی دعا نہ ہوتی تو وہ اس حال میں صبح کرتا کہ مسجد کے ستون کے ساتھ باندھا ہوا ہوتا اور مدینہ کے بچے اس کے ساتھ کھیل رہے ہوتے۔ اس لیے تم سے جوشخص یہ طاقت رکھتا ہے کہ (اس کی نماز کے دوران) کوئی اس کے اور قبلہ کے درمیان حائل نہ ہو تو ایسا ہی کرے۔

1486

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1486

Sahih

۔ (۱۴۸۶) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ زَیْدٍ وَأَبِیْ بَشِیْرٍ الْأَنْصَارِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلّٰی بِہِمْ ذَاتَ یَوْمٍ فَمَرَّتْ امْرَأَۃٌ بِالْبَطْحَائِ فَأَشَارَ إِلَیْہَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ تَأَخَّرِیْ، فَرَجَعَتْ حَتّٰی صَلّٰی ثُمَّ مَرَّتْ۔ (مسند احمد: ۲۲۲۳۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا عبد اللہ بن زید اور ابو بشر انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک دن ان کو بطحاء مقام پر نماز پڑھا رہے تھے، ایک عورت نے گزرنا چاہا، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے اشارہ کیا کہ وہ پیچھے ہوجائے، پس وہ وا پس لوٹ گئی، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز پڑھ لی تو پھر وہ گزری۔

1487

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1487

Zaeef

۔ (۱۴۸۷) عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَیْسٍ عَنْ أُمِّہِ عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَتْ کَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّیْ فِیْ حُجْرَۃِ أُمِّ سَلَمَۃَ فَمَرَّ بَیْنَیَدَیْہِ عَبْدُاللّٰہِ أَوْ عُمَرُ فَقَالَ بِیَدِہِ ھٰکَذَا قَالَ: فَرَجَعَ، قَالَ: فَمَرَّتْ اِبْنَۃُ أُمِّ سَلَمَۃَ فَقَالَ بِیَدِہِ ھٰکَذَا، قَالَ: فَمَضَتْ، فَلَمَّا صَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((ھُنَّ أَغْلَبُ۔)) (مسند احمد: ۲۷۰۵۸)

اردو ترجمہ · Urdu

محمد بن قیس اپنی ماں سے اور وہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت کرتی ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے حجرے میں نماز پڑھ رہے تھے، آپ کے آگے سے عبد اللہ یا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما گزرنے لگے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے ہاتھ سے (ان کو واپس ہو جانے کا) اشارہ کیا، پس وہ واپس چلے گئے، پھر سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی بیٹی گزرنے لگی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو روکنے کے لیے اپنے ہاتھ سے اسی طرح ا شارہ کیا، لیکن وہ گزر گئی’ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز پڑھ لی تو فرمایا: یہ عورتیں (مخالفت کرنے میں) زیادہ غالب ہیں۔

1488

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1488

Sahih

۔ (۱۴۸۸) عَنْ إِبَرَاھِیْمَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنِیْ أَبیِْ عَنْ أَبِیْہِ قَالَ کُنْتُ أُصَلِّیْ فَمَرَّ رَجُلٌ بَیْنَیَدَیَّ فَمَنَعْتُہُ فَأَبٰی، فَسَأَلْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَقَالَ: لَایَضُرُّکَیَا ابْنَ أَخِیْ۔ (مسند احمد: ۵۲۳)

اردو ترجمہ · Urdu

ابراہیم بن سعد اپنے باپ سے اور وہ اپنے والد سے بیان کرتے ہیں ، وہ کہتے ہیں: میں نماز پڑھ رہا تھا ، میرے سامنے سے ایک آدمی گزرا،میں نے اسے روکا، لیکن اس نے رکنے سے انکار کردیا۔ پھرمیں نے سیّدنا عثمان بن عفان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے پوچھا تو انہوں نے کہا: میرے بھتیجے! وہ تجھے نقصان نہیں دے گا۔

1489

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1489

Sahih

۔ (۱۴۸۹) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّیْ فَجَائَ تْ جَارِیَتَانِ حَتّٰی قَامَتَا بَیْنَیَدَیْہِ عِنْدَ رَأْسِہِ فَنَحَّاھُمَا وَأَوْمَأَ بِیَدَیْہِ عَنْ یَمِیْنِہِ وَعَنْ یَسَارِہِ۔ (مسند احمد: ۲۸۹۹)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز پڑھ رہے تھے کہ دو بچیاں آئیں اور آپ کے سامنے کھڑی ہو گئیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو ہٹایااور اپنے دائیں بائیں اشارہ کیا۔

1490

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1490

Zaeef

۔ (۱۴۹۰) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَا صِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ بَیْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِبَعْضِ أَعْلَی الْوَ ادِیْ نُرِیْدُ أَنْ نُصَلِّیَ، قَدْ قَامَ وَ قُمْنَا إِذْ خَرَجَ عَلَیْنَا حِمَارٌ مِنْ شَعْبِ أَبِیِْ دُبِّ شَعْبِ أَبِیْ مُوْسٰی فَأَ مْسَکَ النَّبِیُّ فَلَمْ یُکَبِّرْ وَ أَ جْرٰی إِ لَیْہِیَعْقُوْبَ بْنَ زَمْعَۃَ حَتَّی رَدَّہُ۔ (مسند احمد: ۶۸۹۸)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ایک دفعہ ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ کسی وادی کے بالائی حصے میں تھے، ہم چاہتے تھے کہ نماز پڑھیں، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھڑے ہوگئے اور ہم بھی کھڑے ہوگئے، لیکن اچانک شعبِ ابی دبّ یعنی شعبِ ابی موسیٰ سے ایک گدھا ہماری طرف نکل آیا، پس نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رک گئے اورتکبیر نہ کہی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یعقوب بن زمعہ کو اس کی طرف دوڑایا حتی کہ ا س نے اسے واپس لوٹا دیا۔

1491

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1491

Sahih

۔ (۱۴۹۱) عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلّٰی بِہِمْ إِلٰی جَدْرٍ اِتَّخَذَہُ قِبْلَۃً فَأَقْبَلَتْ بَہْمَۃٌ تَمَرُّ بَیْنَیَدَیِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَمَا زَالَ یُدَارِئُہَا وَیَدَ نُوْ مِنْ الْجَدَرِ حَتّٰی نَظَرْتُ إِلٰی بَطْنِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَدْلَصِقَ بِالْجِدَارِ وَ مَرَّتْ مِنْ خَلْفِہِ۔ (مسند احمد: ۶۸۵۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک دیوار کو قبلہ بنا کر انہیں نماز پڑھا رہے تھے، ایک بکر ی کا بچہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے آگے سے گزرنے لگا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اسے روکتے رہے اور دیوار کے قریب ہوتے گئے حتی کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا پیٹ دیوار کے ساتھ لگ گیا اور وہ بچہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے سے گزر گیا۔

1492

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1492

Sahih

۔ (۱۴۹۲) عَنْ مَیْمُرنَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا سَجَدَ وَثَمَّ بَہْمَۃٌ أَرَادَتْ أَنْ تَمُرَّ بَیْنَیَدَیْہِ تَجَافٰی۔ (مسند احمد: ۲۷۳۴۵)

اردو ترجمہ · Urdu

زوجہ ٔ رسول سیدہ میمونہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں کہ رسول للہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب سجدہ کرتے اور وہاں بکری کا کوئی بچہ ہوتا جو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے سے گزرنا چاہتا تو (وہ گزر جاتا)۔آپ (سجدہ میں اپنے ہاتھ اپنے پہلوؤں سے) دور کرلیتے۔

1493

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1493

Sahih

۔ (۱۴۹۳) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ثَنَا شُعْبَۃُ وَحَجَّاجٌ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ عَنْ یَحْیَی بْنِ الْجَزَّارِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یُصَلِّیْ فَجَعَلَ جَدْیٌیُرِیْدُ أَنْ یَمُرَّ بَیْنَیَدَیِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَجَعَلَ یَتَـقَدَّمُ وَیَتَأَخَّرُ، قَالَ حَجَّاجٌ: یَتَّقِیْہِ وَیَتَأَخَّرُ حَتّٰییُرٰی وَرَائَ الْجَدْیِ۔ (مسند احمد: ۳۱۷۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز پڑھ رہے تھے، بکری کا ایک بچہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے آگے سے گزرنے لگا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے بچنے کے لیے آگے پیچھے ہونا شروع کر دیا۔ حجاج نے کہا: اس سے بچ رہے تھے اور بچتے بچتے پیچھے ہو گئے، حتی کہ بکری کے بچے کے پیچھے نظر آ نے لگے۔