Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 24 · Chapter 254

شرمگاہ کو ڈھانپنے کے بارے میں ابواب

جو ران اور ناف کو چھپائے جانے والے حصوں میں شامل نہیں سمجھتا، اس کی دلیل

3 hadiths in this chapter

1393

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1393

Sahih

۔ (۱۳۹۳) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غَزَا خَیْبَرَ فَصَلَّیْنَا عِنْدَھَا صَلَاۃَ الْغَدَاۃِ بغَلَسٍ فَرَکِبَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَرَکِبَ أَبُوْ طَلْحَۃَ وَأَنَا رَدِیْفُ أَبِیْ طَلْحَۃَ فَأَجْرَی النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ زُقَاقِ خَیْبَرَ وَإِنَّ رُکْبَتِیْ لَتَمَسُّ فَخِذَیْ نَبِیِّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَانْحَسَرَ الإِْزَارُ عَنْ فَخِذَیْ نَبِیِّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَإِنِّیْ لَأَرَی بَیَاضَ فَخِذَیْ نَبِیِّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ ((الحدیث)) (مسند احمد: ۱۲۰۱۵)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خیبر کی جنگ لڑی، ہم نے خیبر کے پاس اندھیرے میں صبح کی نماز پڑھی، پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سوار ہوئے اور سیّدنا ابو طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی سوار ہوئے ، جبکہ میں ابو طلحہ کا ردیف تھا،نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خبیر کے بازاروں میں اپنا گھوڑا دوڑایا اور میرے گھٹنے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رانوں کو لگ رہے تھے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا تہبندرانوں سے ہٹا ہوا تھا اورمیں اللہ کے نبی کی رانوں کی سفیدی دیکھ رہا تھا۔

1394

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1394

Sahih

۔ (۱۳۹۴) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ جَالِسًا کَاشِفًا عَنْ فَخِذِہِ فَاسْتَأْذَنَ أَبُوْبَکْرٍ فَأَذِنَ لَہُ وَھُوَ عَلٰی حَالِہِ، ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عُمَرُ فَأَذِنَ لَہُ وَھُوَ عَلٰی حَالِہِ، ثُمَّ اسْتَأَذَنَ عُثْمَانُ فَأَرْخٰی عَلَیْہِ ثِیَابَہُ، فَلَمَّا قَامُوْا قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہ! اِسْتَاْذَنَ أَبُوبَکْرِ وَ عُمَرُ فَأَذِنْتَ لَھُمَا وَأَنْتَ عَلٰی حَالِکَ، فَلَمَّا اسْتَأْذَنَ عُثْمَانُ أَرْخَیْتَ عَلَیْکَ ثِیَابَکَ؟ فَقَالَ: ((یَاعَائِشَۃُ! اَ لَا اَسْتَحْیِیْ مِنْ رَجُلٍ وَاللّٰہِ إِنَّ الْمَلَائِکَۃَ تَسْتَحِیِیْ مِنْہُ۔)) (مسند احمد: ۲۴۸۳۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی ران سے کپڑا ہٹا کر بیٹھے ہوئے تھے،اسی اثنا میں سیّدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اجازت چاہی، آپ نے انہیں اجازت دے دی، جبکہ آپ اسی طرح رہے، پھر سیّدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اجازت طلب کی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں بھی اجازت دے دی اور آپ اسی طرح ہی رہے۔ پھر سیّدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اجازت طلب کی تو آپ نے اپنی ران پر کپڑا ڈال لیا۔ جب یہ سارے لوگ چلے گئے تو میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے پوچھا: اے اللہ کے رسول! جب ابوبکر و عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے اجازت طلب کی تو آپ نے انہیں اجازت دے دی اور آپ (اپنی ران ننگی رکھے ہوئے) اسی حالت پر بیٹھے رہے،لیکن جب عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اجازت چاہی تو آپ نے (ران پر)کپڑا ڈال لیا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جواب دیا: عائشہ: میں اس آدمی سے حیا کیوں نہ کروں کہ اللہ کی قسم فرشتے بھی جس سے حیا کرتے ہیں۔

1395

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1395

Zaeef

۔ (۱۳۹۵) عَنْ عُمَیْرِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ کُنْتُ مَعَ الْحَسَنِ بْنِ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَلَقِیَنَا أَبُوْھُرَیْرَۃَ فَقَالَ أَرِنِیْ أُقَبِّلُ مِنْکَ حَیْثُ رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُقَبِِّلُ فَقَالَ بِقَمِیْصِہِ قَالَ فَقَبَّلَ سُرَّتَہُ۔ (مسند احمد: ۷۴۵۵)

اردو ترجمہ · Urdu

عمیر بن اسحاق کہتے ہیں کہ میں حسن بن علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ تھا، سیّدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہمیں ملے اور کہنے لگے: ادھر آؤ میں تمہیں اس مقام پر بوسہ دوں جہاں میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بو سہ دیتے ہوئے دیکھا تھا، پھر انھوں نے قمیص اٹھا کر ان کی ناف پر بوسہ دیا۔