Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 23 · Chapter 252

مساجد کا بیان

گھروں میں مساجد بنانے کا بیان

5 hadiths in this chapter

1380

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1380

Sahih

۔ (۱۳۸۰) عَنْ سَمُرَۃَ بْنِ جُنْدُبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: أَمَرَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ نَتَّخِذَ الْمَسَاجِدَ فِی دِیَارِنَا وَ أَمَرَنَا أَنْ نُنَظِّفَہَا۔ (مسند احمد: ۲۰۴۴۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا سمرہ بن جندب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں اپنے محلوں میں مساجد بنانے کا اور انہیں صاف ستھرا رکھنے کا حکم دیا ہے۔‘ـ‘

1381

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1381

Sahih

۔ (۱۳۸۱) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَمَرَ بِبُنْیَانِ الْمَسَاجِدِ فِیْ الدُّوْرِ وَأَمَرَ بِہَا أَنْ تُنَظَّفَ وَتُطَیَّبَ۔ (مسند احمد: ۲۶۹۱۸)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے محلوں میں مساجد بنانے کا ،انہیں صاف ستھرا رکھنے کا اور ان میں خوشبو لگانے کا حکم دیا ہے۔

1382

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1382

Zaeef

۔ (۱۳۸۲) عَنْ عَلِیِّ بْنِ زَیْدِ بْنِ جُدْعَانَ قَالَ حَدَّثَنِیْ أَبُو بَکْرِ بْنُ أَنْسِ ابْنِ مَالِکٍ قَالَ قَدِمِ أَبِیْ مِنَ الشَّامِ وَافِدًا وَأَنَا مَعَہُ فَلَقِیَنَا مَحْمُودُ بْنُ الرَّبیِعِ فَحَدَّثَ أَبِیْ حَدِیثًا عَنْ عِتْبَانَ بْنِ مَالِکٍ قَالَ أَبِیْ: أَیْ بُنَیَّ اِحْفَظْ ھٰذَا الْحَدِیْثَ فَإِنَّہُ مِنْ کُنُوزِ الْحَدِیْثِ، فَلَمَّا قَفَلْنَا اِنْصَرَفْنَا إِلَی الْمَدِیْنَۃِ فَسَأَلْنَا عَنْہُ فَإِذَا ھُوَ حَیٌّ وَإِذَا شَیْخٌ أَعْمٰی مَعَہُ، قَالَ فَسَأَلْنَا ہُ عَنِ الْحَدِیْثِ فَقَالَ نَعَمْ، ذَھَبَ بَصَرِیْ عَلَی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! ذَھَبَ بَصَرِیْ وَلَا أَسْتَطِیعُ الصَّلَاۃَ خَلْفَکَ، فَلَوْ بَوَّأْتُ فِیْ دَاِریْ مَسْجِدًا فَصَلَّیْتَ فِیْہِ فَأَتَّخِذُہُ مُصَلیًّ قَالَ: ((نَعَمْ، فَإِنِّیْ غَادٍ عَلَیْکَ غَداً۔)) قَالَ: فَلَمَّا صَلّٰی مِنَ الْغَدِ اِلْتَفَتَ إِلَیْہِ فَقَامَ حَتّٰی أَتَاہُ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ فَجَائَ ھُوَ وَأَبُوْ بَکْرٍ وَعُمَرُ) فَقَالَ ((یَا عِتْبَانُ! أَیْنَ تُحِبُّ أَنْ أُبَوِّیئَ لَکَ؟)) فَوَصَفَ لَہُ مَکَانًا فََبَوَّأَ لَہُ وَصَلّٰی فِیْہِ، ثُمَّ حُبِسَ أَوْ جَلَسَ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ فَاحْتَبَسُوْا عَلٰی طَعَامٍ) وَبَلَغَ مَنْ حَوْلَنَا مِنَ الْأَنْصَاِر فَجَائُ وْا حَتّٰی مُلِئَتْ عَلَیْنَا الدَّارُ فَذَکَرُوْا الْمُنَافِقِیْنَ وَمَا یَلْقَوْنَ مِنْ أَذَاھُمْ وَشَرِّھِمْ حَتّٰی صَیَّرُوْا أَمْرَھُمْ إِلٰی رَجُلٍ مِنْہُمْ یُقَالُ لَہُ مَالِکُ بْنُ الدُّخْشُمَ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ الدُّخْشُنِ أَوِ الدُّخَیْشِنِ) وَقَالُوْا مِنْ حَالِہِ وَمِنْ حَالِہِ وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَاکِتٌ، فَلَمَّا اَکْثَرُوْا، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَلَیْسَیَشْہَدُ أَنْ لاَّ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ؟)) فَلَمَّا کَانَ فِی الثَّالِثَۃِ، قَالُوْا: إِنَّہُ لَیَقُولُہُ، قَالَ: ((وَالَّذِی بَعَثَنِیْ بِالْحَقِّ! لَئِنْ قَالَھَا صَادِقًا مِنْ قَلْبِہِ لَا تَأْ کُلُہٗالنَّارُأَبَدًا۔)) قَالُوْا: فَمَافَرِحُوْابِشَیْئٍ قَطُّ کَفَرَحِہِمْ بِمَا قَالَ۔ (مسند احمد: ۱۶۵۹۸)

اردو ترجمہ · Urdu

ابو بکر بن انس بن مالک کہتے ہیں کہ میرے والد وفد کی صورت میں شام سے آئے،میں بھی ان کے ساتھ تھا،ہمیں محمود بن ربیع ملے، انہوں نے میرے والد کو سیّدنا عتبان بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ایک حدیث بیان کی، میرے والد کہنے لگے: میرے پیارے بیٹے! یہ حدیث یاد کرلو کیونکہ یہ حدیث خزائنِ حدیث میں سے ہے۔ پھر جب ہم واپس گئے تومدینہ جا کر ان کے بارے میں پوچھا، وہ زندہ تھے اور ان کے پاس ایک نابینا بزرگ بھی تھے۔ ہم نے ان سے حدیث کے بارے میں پوچھا، وہ کہنے لگے: جی ہاں، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانہ میں میری نظر ختم ہو گئی، اس لیے میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کہا: اے اللہ کے رسول! میری نظر ختم ہو گئی ہے، میں آپ کے پیچھے نماز پڑھنے کی طاقت نہیں رکھتا، اگر آپ میرے گھر میں مسجد کے لیے کوئی جگہ پسند فرما کر اس میں نماز پڑھتے تو میں اسے جائے نماز بنا لیتا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ٹھیک ہے، کل صبح میں تیرے پاس آؤں گا۔ اگلے دن آپ نے (فجر کی) نماز پڑھی تو اس کی طرف چل پڑے حتی کہ اس کے پاس پہنچ گئے۔ ایک روایت میں ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، سیّدنا ابوبکر اور سیّدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما تشریف لائے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عتبان! تو کہاں پسندکرتاہے کہ میں تیرے لیے (نماز کی) جگہ متعین کروں؟ اس نے ایک جگہ کا تعین کیا، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس میں نماز پڑھی۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وہاں بیٹھ گئے۔ ایک روایت میں ہے کہ وہ کھانے کے لیے رک گئے۔ جب ارد گرد کے انصار کو (آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی آمد کا) پتہ چلا تو وہ بھی جمع ہونے لگ گئے حتی کہ ہمارا گھر بھر گیا۔لوگ وہاں منافقوں اور ان کی طرف سے آنے والی تکلیف اور شرّ کا ذکر کرنے لگے، حتی کہ مالک بن دخشم (یا دخشن یا دخیشن) نامی آدمی کا تذکرہ چل نکلا، لوگوں نے اس کے بارے میں کافی باتیں کیں کہ وہ ایسا ہے، وہ ویسا ہے، جبکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خاموشی کے ساتھ تشریف فرما تھے، جب بہت زیادہ باتیں ہونے لگیں تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیایہ شخص لاإلہ إلا اللہ کی گواہی نہیں دیتا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تین دفعہ یہ سوال کیا، جس کا جواب دیتے ہوئے لوگ کہنے لگے: یہ کلمہ تو وہ پڑھتا ہے۔ یہ سن کرآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس نے مجھے حق دے کر مبعوث کیا ہے! اگر وہ صدقِ دل سے یہ کلمہ پڑھتا ہے آگ کبھی بھی اس کو نہیں کھائے گی۔ لوگ کبھی بھی کسی چیز سے اتنے خوش نہیں ہوئے جتنا کہ ان کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اس فرمان سے خوشی ہوئی۔

1383

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1383

Sahih

۔ (۱۳۸۳) (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ (بِنْ مَالِکٍ) رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ أَنَّ عِتْبَانَ بْنَ مَالِکٍ ذَھَبَ بَصَرُہُ فَقَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! لَوْجِئْتَ صَلَّیْتَ فِی دَارِیِْ أَوْقَالَ: فِی بَیْتِیْ لَأَتَّخَذْتُ مُصَلَّاکَ مَسْجِدًا ، فَجَائَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَصَلّٰی فِی دَارِہِ أَوْ قَالَ فِیْ بَیْتِہِ، وَاجْتَمَعَ قَوْمُ عِتْبَانَ إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ فَذَ کَرُوْا مَالِکَ بْنَ الدُّخْشُمِ، فَقَالُوْا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنَّہُ وَإِنَّہُ یُعَرِّ ضُوْنَ بِالنِّفَاقَ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَلَیْسَیَشْہَدُ أَنْ لاَّ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ وَأَنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ؟)) قَالُوْا: بَلَی، قَالَ: ((وَالَّذِی نَـفْسِیْ بِیَدِہِ لَا یَقُوْلُھَا عَبْدٌ صَادِقٌ بِہَا إِلَّا حُرِّمَتْ عَلَیْہِ النَّارُ۔)) (مسند احمد: ۱۲۸۱۹)

اردو ترجمہ · Urdu

یہی روایت ایک دوسری سند کے ساتھ یوں ہے: سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیّدنا عتبان بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بینائی ختم ہو گئی، اس لیے انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول اللہ! اگر آپ تشریف لائیں اورمیرے گھر میں نماز پڑھیں، تاکہ میں آپ کی جائے نماز کو مسجد بنالوں۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لائے اور اس کے گھر میں نماز پڑھی۔ سیّدنا عتبان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی قوم کے لوگ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آ کر مالک بن دخشم کا ذکر کرنے لگے اور اس کے نفاق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہنے لگے کہ اے اللہ کے رسول! وہ ایسا ہے، وہ ویسا ہے۔نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا وہ یہ گواہی نہیں دیتا کہ اللہ ہی معبودِ برحق ہے اور میں اللہ کا رسول ہوں؟ لوگ کہنے لگے: کیوں نہیں (یہ شہادت تو وہ دیتا ہے)۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! جو بندہ بھی صدق و اخلاص کے ساتھ یہ کلمہ کہتا ہے، اس پر آگ حرام کر دی جاتی ہے۔

1384

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1384

Sahih

۔ (۱۳۸۴) عَنْ أَنَسِ بْنِ سِیْرِیْنَ قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ قَالَ: کَانَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ ضَخْمًا لَا یَسْتَطِیْعُ أَنْ یُصَلِّیَ مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَقَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہ! إِنِّیْ لَا أَسْتَطِیْعُ أَنْ أُصَلِّیَ مَعَکَ، فَصَنَعَ لَہُ طَعَامًا وَدَعَا النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلَیْہِ وَبَسَطُوْا لَہُ حَصِیْراً وَنَضَحُوْہٗفَصَلّٰی عَلَیْہِ رَکْعَتَیْنِ، فَقَالَ لَہُ رَجُلٌ مِنْ آلِ الْجَارُوْدِ، أَ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّیْ الضُّحٰی؟ قَالَ مَارَأَیْتُہُ صَلَّاھَا إِلاَّ یَوْمَئِذٍ۔ (مسند احمد: ۱۴۱۴۷)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک انصاری آدمی موٹا تھا، وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نماز پڑھنے کی طاقت نہیں رکھتا تھا، اس لیے اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! مجھ میں آپ کے ساتھ نماز پڑھنے کی سکت نہیں ہے۔ پھر اس نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے کھانا تیار کیا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دعوت دی اور آپ کے لیے ایک چٹائی بچھائی اور اس پر پانی چھڑکا۔ آپ نے اس پر دو رکعت نماز پڑھی۔ آل جارود کے ایک آدمی نے اس سے پوچھا: کیا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم چاشت کی نماز پڑھتے تھے؟ اس نے جواب دیاکہ میں نے تو اس دن کے علاوہ آپ کو نمازِ چاشت پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا۔