Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 23 · Chapter 248

مساجد کا بیان

مساجد میں جو کام کرنے جائز ہیں

6 hadiths in this chapter

1369

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1369

Sahih

۔ (۱۳۶۹) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: کُنَّا فِیْ زَمَنِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَنَامُ فِی الْمَسْجِدِ نَـقِیْلُ فِیْہِ وَنَحْنُ شَبَابٌ۔ (مسند احمد: ۴۶۰۷)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانہ میں ہم مسجد میں سوتے تھے، قیلولہ کر لیا کرتے تھے، حالانکہ ہم نوجوان تھے۔

1370

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1370

Sahih

۔ (۱۳۷۰)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: مَاکَانَ لِیِْ مَبِیْتٌ وَلَا مَأْوًی عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلَّا فِی الْمَسْجِدِ۔ (مسند احمد: ۵۸۳۹)

اردو ترجمہ · Urdu

دوسری سند کے ساتھ مروی حدیث کے الفاظ یہ ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانے میں میرے لیے مسجد کے علاوہ نہ کوئی رات گزارنے کی جگہ ہوتی تھی اور نہ کوئی اور پناہ گاہ۔

1371

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1371

Sahih

۔ (۱۳۷۱) عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِیْمٍ عَنْ عَمِّہِ أَ نَّہُ أَبْصَرَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَسْتَلْقِیًا فِی الْمَسْجِدِ عَلٰی ظَہْرِہِ وَاضِعًا إِحْدٰی رِجْلَیْہِ عَلَی الْأُخْرٰی۔ (مسند احمد: ۱۶۵۵۸)

اردو ترجمہ · Urdu

عباد بن تمیم اپنے چچا سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا کہ آپ ایک ٹانگ پر دوسری ٹانگ رکھ کر مسجد میں پیٹھ کے بل چت لیٹے ہوئے تھے۔

1372

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1372

Sahih

۔ (۱۳۷۲) حَدَّثْنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِیْسٰی ثَنَا ابْنُ لَہِیْعَۃَ قَالَ: کَتَبَ إِلیَّ مُوسَی بْنُ عُقْبَۃَیُخْبِرُنِیْ عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم احْتَجَمَ فِیْ الْمَسْجِدِ، قُلْتُ لِأِبْنِ لَھِیْعَۃَ فِی مَسْجِدِ بَیْتِہِ؟ قَالَ لَا، فِی مَسْجِِدِ الرَّسُوْلِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۲۱۹۴۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا زید بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مسجد میں سینگی لگوائی۔ روای کہتے ہیں: میں نے ابن لہیعہ سے پوچھا: اپنے گھر کی مسجد میں؟ انہوں نے کہا: نہیں، بلکہ مسجد نبوی میں۔

1373

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1373

Sahih

۔ (۱۳۷۳) عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ دَخَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْمَسْجِدَ وَالْحَبَشَۃُیَلْعَبُوْنَ فَزَجَرَھُمْ عُمَرُ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((دَعْہُمْ یَا عُمَرُ، فإِنَّہُمْ بَنُو أَرْفِدَۃَ۔)) (مسند احمد: ۱۰۹۸۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسجد میں داخل ہوئے اور حبشی لوگ کھیل رہے تھے، سیّدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے انہیں منع کیا، لیکن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عمر! ان کو چھوڑ دو، کیونکہ یہ بنو ارفدہ ہیں۔

1374

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1374

Sahih

۔ (۱۳۷۴) عَنْ سَعِیْدِ (بْنِ الْمُسَیَّبِ) قَالَ: مَرَّ عُمَرُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ بِحَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ وَھُوَ یَنْشُدُ (وَفِی رَوِایَۃٍ وَھُوَ یَنْشُدُ الشِّعْرَ) فِی الْمَسْجِدِ فَلَحَظَ إِلَیْہِ، وَفِی رَوِایَۃٍ: فَقَالَ: فِی مَسْجِدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تَنْشُدُ الشِّعْرَ؟ قَالَ: کُنْتُ أَنْشُدُ وَفِیْہِ مَنْ ھُوَ خَیْرٌ مِنْکَ۔ ثُمَّ الْتَفَتَ إِلٰی أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ فَقَالَ: سَمِعْتَ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((أَجِبْ عَنِّیْ اَللَّہُمَّ أَیِّدْہُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ؟)) قَالَ: نَعَمْ (زَادَ فِیْ رَوِایَۃٍ قَالَ فَانْصَرَفَ عُمَرُ وَھُوَ یَعْرِفُ أَنَّہُ یُرِیْدُ رَسُوْلَ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم )۔ (مسند احمد: ۲۲۲۸۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سعید بن مسیّب کہتے ہیں: سیّدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا سیّدنا حسان بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس سے گزر ہوا اور وہ مسجد میں اشعار پڑھ رہے تھے۔ سیّدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان کی طرف غصے کی نظر سے دیکھا اور کہا: کیا تم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مسجد میں شعر پڑھ رہے ہو ؟ آگے سے سیّدناحسان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے جواب دیا: آپ سے بہتر ہستی کی موجودگی میں میں شعر پڑھاکرتا تھا، پھر وہ سیّدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا: کیا تم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا : (حسان!) میری طرف سے جواب دے۔ اے اللہ! روح القدس کے ذریعے اس کی تائید فرما۔ سیّدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے جواب دیا: جی ہاں۔ (یہ سن کر)سیّدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ واپس چلے گئے اور سمجھ گئے کہ حسان کی مراد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہیں۔