Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 23 · Chapter 246

مساجد کا بیان

مساجد کو ناپسندیدہ بدبوؤں سے محفوظ رکھنا

6 hadiths in this chapter

1352

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1352

Sahih

۔ (۱۳۵۲) عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّہُ قَالَ فِیْ خُطْبَۃٍ لَہُ: ثُمَّ إِنَّکُمْ أَیُّہَا النَّاسُ تَأْکُلُوْنَ مِنْ شَجَرَتَیْنِ لَا أُرَاھُمَا إِلَّا خَبِیْثَتَیْنِ، ھٰذَا الثُّوْمُ وَالْبَصَلُ، وَاَیْمُ اللّٰہِ! لَقَدْکُنْتُ أَرَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَجِدُ رِیْحَہَا مِنَ الرَّجُلِ فَیَأْمُرُ بِہٖفَیُؤْخَذُ بِیَدِہِ فَیُخْرَجُ بِہِ مِنَ الْمَسْجِدِ حَتّٰییُؤْتٰی بِہِ الْبَقَیْعَ، فَمَنْ أَکَلَہَا لَابُدَّ، فَلْیُمِتْہَا طَبْخًا۔ (مسند احمد: ۱۸۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اپنے ایک خطبہ میں فرمایا: لوگو! تم دو درخت تھوم اور پیاز کھاتے ہو، میں تو انہیں خبیث (مکروہ) ہی سمجھتا ہوں، اللہ کی قسم! میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھتا تھا، جب آپ کسی آدمی سے ان کی بو محسوس کرتے تو اس کے متعلق ایسا حکم دیتے کہ اس کا ہاتھ پکڑ کراسے مسجدسے باہر نکال دیا جاتا تھا،یہاں تک کہ اسے بقیع مقام پر لایا جاتا۔ اگر کسی شخص نے ان کو کھانا ہی ہے تو پکا کر (ان کی بو کو) ختم کر لیا کرے۔

1353

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1353

Sahih

۔ (۱۳۵۳) عَنْ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ أَکَلَ مِنْ ھٰذِہِ الشَّجَرَۃِ فَـلَا یَأْتِیَنَّ الْمَسَاجِدَ۔)) (مسند احمد: ۴۷۱۵)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدناعبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شخص یہ درخت (پیازیا لہسن ) کھالے وہ اللہ تعالیٰ کے گھروں(یعنی مسجدوں) میں نہ آئے۔

1354

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1354

Sahih

۔ (۱۳۵۴) عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ أَکَلَ مِنْ ھٰذِہِ الشَّجَرَۃِیَعْنِی الثُّومَ فَـلَا یُؤْذِیَنَّا فِی مَسْجِدِنَا۔)) وَقَالَ فِی مَوْضِعٍ آخَرَ: ((فَـلَا یَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا وَلَا یُؤْذِیَنَّا ِبرِیِحِ الثُّومِ۔)) (مسند احمد: ۷۵۹۹)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس شخص نے اس درخت یعنی تھوم سے کچھ کھا لیا تو وہ ہماری مسجد میں آکر ہرگز ہمیں تکلیف نہ دے۔ ایک دوسرے مقام میں فرمایا: ایسا شخص نہ ہماری مسجدکے قریب آئے اور نہ تھوم کی بو سے ہمیں اذیت پہنچائے۔

1355

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1355

Sahih

۔ (۱۳۵۵) عَنْ أَبِیْ سَعِیدِ نِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ لَمْ نَعْدُ أَنْ فُتِحَتْ خَیْبِرُ وَقَعْنَا فِی تِلْکَ الْبَقَلَۃِ فَأَکَلْنَا مِنْہَا أَکْلاً شَدِیْدًا وَنَاسٌ جِیَاعٌ، ثُمَّ رُحْنَا إِلیَ الْمَسْجِدِ فَوَجَدَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الرِّیَحَ، فَقَالَ: ((مَنْ أَکَلَ مِنْ ھٰذِہِ الشَّجَرَۃِ الْخَبِیْثَۃِ شَیْئًا فَـلَا یَقْرَبَنَّا فِی الْمَسْجِدِ۔)) فَقَالَ النَّاسُ: حُرِّمَتْ حُرِّمَتْ! فَبَلَغَ ذَلِکَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((أَیّْہَا النَّاسُ، إِنَّہُ لَیْسَ لِیْ تَحْرِیْمُ مَا أَحَلَّ اللّٰہُ وَلَکِنَّھَا شَجَرَۃٌ أَکْرَہُ رِیْحَھَا۔)) (مسند احمد: ۱۱۶۰۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ہم خیبر کی فتح سے آگے نہیں بڑھے تھے کہ سبزی (کھیت) میں گھس گئے، لوگوں کو بھوک لگی ہوئی تھی، اس لیے ہم نے اسے خوب کھایا، پھر ہم مسجد میں چلے گئے ، جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بو محسوس کی تو فرمایا: جو شخص اس خبیث (مکروہ) درخت سے کچھ کھا لے تو وہ مسجد میں ہمارے قریب نہ آئے۔ لوگ کہنے لگے: یہ حرام ہو گیایہ حرام ہو گیا۔ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ خبر موصول ہوئی تو آپ نے فرمایا: لوگو! مجھے اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ اشیاء کوحرام کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے، دراصل یہ ایسا درخت ہے کہ جس کی بو مجھے ناپسند لگتی ہے۔

1356

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1356

Sahih

۔ (۱۳۵۶) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ أَکَلَ ثُوْمًا أَوْبَصَلًا فَلْیَعْتَزِلْنَا، أَوْقَالَ فَلْیَعْتَزِلْ مَسْجِدَنَا وَلْیَقْعُدْ فِی بَیْتِہِ۔)) (مسند احمد: ۱۵۳۷۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شخص تھوم یا پیاز کھا لے تو وہ ہم سے یا ہماری مسجد سے علیحدہ رہے اور اپنے گھر میں ہی بیٹھا رہے۔

1357

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1357

Sahih

۔ (۱۳۵۷) عَنِ الْمُغِیْرَۃِ بْنِ شُعْبَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: أَکَلْتُ ثُومًا ثُمَّ أَتَیْتُ مُصَلَّی النَّبیِِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَوَجَدْتُہُ قَدْ سَبَقَنِیْ بِرَکْعَۃٍ فَلَمَّا صَلّٰی قُمْتُ أَقْضِیْ فَوَجَدَ رِیَحَ الثُّوْمِ، فَقَالَ: ((مَنْ أَکَلَ ھٰذِہِ الْبَقْلَۃَ فَـلَا یَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا حَتّٰییَذْھَبَ رِیْحُہَا۔)) قَالَ: فَلَمَّا قَضَیْتُ الصَّلَاۃَ أَتَیْتُہُ، فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنَّ لِیْ عُذْراً، نَاِولْنِیْیَدَکَ، قَالَ فَوَجَدْتُہُ وَاللّٰہِ سَہْلاً، فَنَاوَلَنِیْیَدَہُ فَأَدْخَلَہَا فِی کُمِّیْإِلٰی صَدْرِیْ فَوَجَدَہُ مَعْصُوْبًا فَقَالَ: ((إِنَّ لَکَ عُذْرًا۔)) (مسند احمد: ۱۸۳۹۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا مغیرہ بن شعبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ میں تھوم کھا کرنبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مسجد میں آیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک رکعت پڑھ چکے تھے، اس لیے جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو میں ایک رکعت ادا کرنے کے لیے کھڑا ہو گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تھوم کی بو محسوس کی اور فرمایا: جو شخص یہ سبزی کھائے تو وہ اس کی بو ختم ہونے تک ہر گز ہماری مسجد کے قریب نہ آیا کرے۔ مغیرہ بن شعبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نماز پوری کر کے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میرا عذر ہے، اپنا ہاتھ مجھے دیجئے۔ وہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم میں نے آپ کو نرم پایا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے اپنا ہاتھ دے دیا، پھر اسے میری آستین میں سے داخل کر کے سینے تک پہنچایا اور میرے سینے پر بندھی ہوئی پٹی محسوس کر کے فرمایا: واقعی تیرا عذر ہے۔