Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 23 · Chapter 244

مساجد کا بیان

مسجد میں داخل ہوتے اور نکلتے وقت دعائیں پڑھنے اور مسجد میں بیٹھنے اور وہاں سے گزرنے کے آداب کا بیان

9 hadiths in this chapter

1331

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1331

Sahih

۔ (۱۳۳۱) عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ سَعِیْدٍ بْنِ سُوَیْدٍ أَلْأَنْصَارِیِّ قَالَ سَمِعْتُ أَبَاحُمَیْدٍ وَأَبَا أُسَیْدٍیَقُوْلَانِ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِذَا دَخَلَ اَحَدُکُمُ الْمَسْجِدَ فَلْیَقُلْ اللّٰہُمَّ افْتَحْ لَنَا اَبْوَابَ رَحْمَتِکَ وَ إِذَا خَرَجَ فَلْیَقُلْ اللّٰہُمَّ إِنَّیْ أَسْأَلُکَ مِنْ فَضْلِکَ (مسند احمد: ۱۶۱۵۴)

اردو ترجمہ · Urdu

عبدالملک بن سعید بن سوید انصاری کہتے ہیں کہ میں نے سیّدنا ابو حمید اور سیّدناابو اسید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما دونوں سے سنا ، وہ یہ بیان کر رہے تھے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آدمی مسجد میں داخل ہو تو یہ دعا پڑھے: اللّٰہُمَّ افْتَحْ لَنَا اَبْوَابَ رَحْمَتِکَ، اے اللہ! تو اپنی رحمت اور جب مسجد سے نکلے تو یہ پڑھے: أَللّٰھُمّ إِنِّیْ أَسْأَلُکَ مِنْ فَضْلِکَ (اے اللہ! میں تجھ سے تیرے فضل کا سوال کرتا ہوں)۔

1332

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1332

Sahih

۔ (۱۳۳۲) عَنْ فَاطِمَۃَ بِنْتِ رَسُوْلِ اللّٰہِ رَضِیَ اللَّہٗعَنْھَاوَأَرْضَاھَاقَالَتْ: کَانَرَسُوْلُاللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ صَلّٰی عَلٰی مُحَمَّدٍ وَسَلَّمَ (وَفِی رِوَایَۃٍ: قَالَ: ((بِسْمِ اللّٰہِ وَالسَّلَامُ عَلَی رَسُوْلِ اللّٰہِ))) وَقَالَ: ((اللَّہُمَّ اغْفِرْلِیْ ذُنُوبِیْ وَافْتَحْ لِیْ أَبْوَابَ رَحْمَتِکَ۔)) وَإِذَا خَرَجَ صَلَّی عَلَی مُحَمَّدٍ وَسَلَّمَ (وَفِی رِوَایَۃٍ قَالَ: ((بِسْمِ اللّٰہِ وَالسَّلَامُ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ)) ثُمَّ قَالَ: ((اللَّہُمَّ اغْفِرْلِیْ ذُنُوْبِیْ وَافْتَحْ لِیْ أَبْوَابَ فَضْلِکَ۔)) (مسند احمد: ۲۶۹۵۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدۃ فاطمہ بنت رسول اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا وارضاھا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب مسجد میں داخل ہوتے تو محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر درود وسلام بھیجتے، اور ایک روایت میں ہے: یہ دعا پڑھتے: بِسْمِ اللّٰہِ وَالسَّلَامُ عَلٰی رَسُوْلِ اللَّہِ (اللہ کے نام کے ساتھ، اور رسول اللہ پر سلامتی ہو) اور پھر یہ پڑھتے: اَ للّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ ذُنُوْبِیْ وَافْتَحْ لِیْ اَبْوَابَ رَحْمَتِکَ۔ (اے اللہ! میرے لیے میرے گناہ بخش دے اور میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے) اور جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نکلتے تو محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر درود وسلام بھیجتے، اور ایک روایت میں ہے کہ بِسْمِ اللّٰہِ وَالسَّلَامُ عَلٰی رَسُوْلِ اللَّہِ کہتے اور پھر یہ دعا پڑھتے: اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ ذُنُوْبِیْ وَافْتَحْ لِیْ اَبْوَابَ فَضْلِکَ (اے اللہ! میرے لیے میرے گناہ بخش دے اور میرے لیے اپنے فضل کے دروازے کھول دے)۔

1333

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1333

Zaeef

۔ (۱۳۳۳) عَنْ عُبَیْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ مَوْھِبٍ عَنْ مَوْلًی لِأَبِیْ سَعْیِدٍ نِ الْخُدْرِیِّ قَالَ: بَیْنَمَا أَنَامَعَ أَبِی سَعَیْدٍٍ نِ الْخُدْرِیِّ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذْ َدخَلْنَا الْمَسْجِدَ فَإِذَا رَجُلٌ جَالِسٌ فِیْ وَسْطِ الْمَسْجِدِ مُحْتَبِیًا مُشَبِّکاً أَصَابِعَہُ بَعْضَہَا فِی بِعْضٍ، فَأَشَارَ إِلَیْہِ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَلَمْ یَفْطِنِ الرَّجُلُ لإِ شَارَۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَالْتَفَتَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلٰی أَبِیْ سَعَیِدٍ فَقَالَ: ((إِذَا کَانَ أَحَدُ کُمْ فِی الْمَسْجِدِ فَـلَا یُشَبِّکُنَّ فَإِنَّ الْتَشَّبِیْکَ مِنَ الشَّیْطَانِ، وَإِنَّ أَحَدَکُمْ لَا یَزَالُ فِیْ صَلَاۃٍ مَادَامَ فِی الْمَسْجِدِ حَتّٰییَخْرُجَ مِنْہُ۔)) (مسند احمد: ۱۱۴۰۵)

اردو ترجمہ · Urdu

عبید اللہ بن عبدالرحمن بن موہب، سیّدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ایک غلام سے بیان کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: میں سیّدنا ابو سعید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی صحبت میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھا، ہم مسجد میں داخل ہوئے، کیا دیکھتے ہیں کہ ایک آدمی مسجد کے درمیان میں ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسرے میں ڈال کرگوٹھ مارے ہوئے بیٹھا ہوا تھا۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے اشارہ فرمایا، مگر وہ آدمی نہ سمجھ پایا، پھرآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیّدنا ابوسعیدخدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف مڑ کر فرمایا: جب تم میں سے کوئی مسجد میں ہو تو وہ انگلیوں میں تشبیک نہ ڈالے، کیونکہ تشبیک شیطان کی طرف سے ہے اور یقینا جب تک کوئی آدمی مسجد میں رہتا ہے تو وہ نماز میں ہی رہتا ہے حتی کہ وہ مسجد سے نکل جائے۔

1334

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1334

Sahih

۔ (۱۳۳۴) عَنْ کَعْبِ بْنِ عُجْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: دَخَلَ عَلَیَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْمَسْجِدَ وَقَدْ شَبَّکْتُ بَیْنَ أَصَا بِعِیِْ، فَقَالَ لِیْ: ((یَاکَعْبُ! إِذَا کُنْتَ فِی الْمَسْجِدِ فَـلَا تُشَبِّکْ بَیْنَ أَصَابِعِکَ، فَأَنْتَ فِیْ صَلَاۃٍ ماَ انْتَظَرْتَ الصَّلَاۃَ۔)) (مسند احمد: ۱۸۳۱۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا کعب بن عجرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسجد میں میرے پاس اس حالت میں آئے کہ میں نے انگلیوں کے درمیان تشبیک ڈالی ہوئی تھی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے فرمایا: اے کعب! جب تم مسجد میں ہو تو اپنی انگلیوں کے درمیان تشبیک نہ ڈالا کرو ،کیونکہ جب تک تم نماز کے انتظار میں رہتے ہو تب تک نماز میں ہی ہوتے ہو۔

1335

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1335

Sahih

۔ (۱۳۳۵) عَنْ أَبِیْ مُوْسَی الْأَ شْعَرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِذَا مَرَرْتُمْ بِالسِّہَاِم فِی أَسْوَاقِ الْمُسْلِمِیْنَ أَوْمَسَاجِدِھِمْ فَأَمْسِکُوْا بِالْأَنْصَالِ لَاتَجْرَحُوْا بِہَا أَحَداً۔)) (مسند احمد: ۱۹۷۲۹)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا ابو موسی اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم مسلمانوں کے بازاروں یا ان کی مسجدوں سے تیروں سمیت گزرو تو ان کے پھلوں (تیز دھار حصے) سے پکڑا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ ان سے کسی کو زخمی کر بیٹھو۔

1336

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1336

Sahih

۔ (۱۳۳۶) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إَِذا مَرَّ أَحَدُ کُمْ بِسُوقٍ أَوْ مَجْلِسٍ أَوْ مَسْجِدٍ وَمَعَہُ نَبْلٌ فَلْیَقْبِضْ عَلَی نِصَالَھَا فَلْیَقْبِضْ عَلَی نِصَا لِھَا۔)) ثَـلَاثًا قَالَ أَبُو مُوسی: فَمَا زَالَ بِنَا الْبَلَائُ حَتّٰی سَدَّدَ بِہَا بَعْضُنَا فِی وُجُوہِ بَعْضٍ۔ (مسند احمد: ۱۹۹۹۲

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا ابو موسی اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ایک دوسری سند کے ساتھ مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تین دفعہ فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص بازار یا کسی مجلس یا کسی مسجد سے اس حالت میں گزرے کہ اس کے پاس تیر ہوں تو وہ ان کے پھلوں سے پکڑ لیا کرے۔ ابو موسی فرماتے ہیں: ہم پر ہمیشہ آزمائش آتی رہی یہاں تک کہ ہم میں سے بعض نے یہ تیر بعض کے چہروں میں سیدھے کردیے۔

1337

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1337

Sahih

۔ (۱۳۳۷) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا سَفُیْانُ قَالَ: قُلْتُ لِعَمْرٍو أَسَمِعْتَ جَابِراً یَقُولُ: مَرَّ رَجُلٌ فِی الْمَسْجِدِ مَعَہُ سِھاَمٌ فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَمْسِکْ بِنِصَالِھَا۔))؟ فَقَالَ نَعَمْ۔ (مسند احمد: ۱۴۳۶۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سفیان بن عیینہ کہتے ہیں کہ میں نے عمروبن دینارسے پوچھا کہ کیا آپ نے سیّدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کویہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ ایک آدمی مسجد سے تیر سمیت گزرا تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے فرمایا: ان کے پھلوں سے پکڑ۔ ؟ تو عمر و کہنے لگے: جی ہاں! میں نے سنا ہے ۔

1338

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1338

Sahih

۔ (۱۳۳۸) (وَمِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا مُوْسٰی ثَنَا ابْنُ لَھِیْعَۃَ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ بَنَّۃَ الْجُہَنِیَّ أَخْبَرَہُ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَرَّ عَلَی قَوْمٍ فِی الْمَسْجِدِ أَوْ فِی الْمَجْلِسِ یَسُلُّوْنَ سَیْفًا بَیْنَہُمْیَتَعَا طَوْنَہُ بَیْنَہُمْ غَیْرَ مَغْمُوْدٍ، فَقَالَ: ((لَعَنَ اللّٰہُ مَنْ یَفْعَلُ ذٰلِکَ، أَوَ لَمْ أَزْجُرْکُمْ عَنْ ھٰذَا؟ فَإِذَا سَلَلْتُمُ السَّیْفَ فَلْیَغْمِدْہُ الرَّجُلُ ثُمَّ لِیُعْطِہِ کَذٰلِکَ۔)) (مسند احمد: ۱۴۸۰۱)

اردو ترجمہ · Urdu

دوسری سند سے مروی ہے کہ جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو سیّدنا بنّہ جہنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بتایا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسجد میں یا کسی مجلس میں ایسے لوگوں کے پاس سے گزرے جو بغیر نیام کے تلوار سونت کر ایک دوسرے کو پکڑا رہے تھے، یہ دیکھ کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا : جو شخص ایسا کرتا ہے اللہ اس پر لعنت کرے ، کیا میں نے تمہیں اس طرح کرنے سے منع نہیں کیا؟ جب تم تلوار نکالو توآدمی اسے نیام میں رکھے، پھر وہ اسی طرح آگے دے دے۔

1339

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1339

Sahih

۔ (۱۳۳۹) عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَال: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ أَحَدَکُمْ إِذَا کَانَ فِی الْمَسْجِدِ جَائَ الشَّیْطَانُ فأَبَسَّ بِہِ کَمَا یُبِسُّ الرَّجُلُ بِدَابَّتِہِ فَإِذَا سَکَنَ لَہُ زَنَقَہُ أَوْ أَلْجَمَہُ۔)) قَالَ أَبُوھُرَیْرَۃَ: فَأَنْتُمْ تَرَوْنَ ذَلِکَ، أَمَّا الْمَزْنُوقُ فَتَرَاہُ مَائِلًا کَذَا لَایَذْکُرُ اللّٰہَ، وَأَمَّا الْمَلْجُومُ فَفَاتِحٌ فَاہُ لَایَذْکُرُ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ۔ (مسند احمد: ۸۳۵۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم سے کوئی مسجد میں ہوتا ہے تو شیطان اس سے کوئی بہانہ بناتا ہے، جیسے آدمی اپنے جانور سے کوئی بہانہ بناتا ہے، جب وہ اس کے لیے ٹھہر جاتا ہے تو وہ اسے جھکا لیتا ہے یا لگام ڈال لیتا ہے ۔ سیّدناابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: تم یہ سب کچھ دیکھ رہے ہو، جسے جھکا لیا جاتا ہے تو تم اسے ایسے جھکا ہوا ہی دیکھتے ہو کہ وہ اللہ کا ذکر نہیں کرتا، اور جسے لگام ڈال لی جاتی ہے، تو وہ اپنا منہ کھول لیتا ہے اور اس طرح اللہ کا ذکر نہیں کرتا۔