Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 21 · Chapter 227

نمازوں کے اوقات کے ابواب

کافروں کے ساتھ لڑائی کی مصروفیت کی وجہ سے نماز کو مؤخر کرنے، نمازِ خوف کی وجہ سے اس رخصت کے منسوخ ہو جانے، فوت شدہ نمازوں کو بالترتیب ادا کرنے، پہلی نماز کے لیے اذان اور اقامت کہنے اور باقی ہر فوت شدہ نماز کے لیے صرف اقامت کہنے کا بیان

3 hadiths in this chapter

1234

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1234

Sahih

۔ (۱۲۳۴)۔عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ أَبِیْ سَعَیْدٍ عَنْ أَبِیْہِ (أَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ)ؓ قَالَ: حُبِسْنَا یَوْمَ الْخَنْدَقِ عَنِ الصَّلَاۃِ حَتّٰی کَانَ بَعْدَ الْمَغْرِبَ ہَوِیًّا وَذٰلِکَ قَبْلَ أَنْ یَنْزِلَ فِی الْقِتَالِ مَا نَزَلَ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ) وَذٰلِکَ قَبْلَ أَنْ یَنْزِلَ صَلَاۃُ الْخَوْفِ {فَرِجَالًا أَوْ رُکْبَانًا} فَلَمَّا کُفِیْنَا الْقِتَالَ وَذٰلِکَ قَوْلُہُ: {وَکَفَی اللّٰہُ الْمُؤْمِنِیْنَ الْقِتَالَ وَکَانَ اللّٰہُ قَوِیًّا عَزِیْزًا} أَمَرَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِلَالًا فَأَقَامَ الظُّہْرَ فَصَلَّاہَا کَمَا یُصَلِّیْہَا فِیْ وَقْتِہَا، ثُمَّ أَقَامَ الْعَصْرَ فَصَلَّاہَا کَمَا یُصَلِّیْہَا فِیْ وَقْتِہَا ثُمَّ أَقَامَ الْمَغْرِبَ فَصَلَّاہَا کَمَا یُصَلِّیْہَا فِیْ وَقْتِہَا۔ (مسند أحمد: ۱۲۲۱۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو سعید خدریؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہمیں غزوۂ خندق والے دن نماز سے روک دیا گیا، یہاں تک کہ مغرب سے بھی کچھ بعد کا وقت ہو گیا، لیکن یہ چیز لڑائی کے بارے میں مخصوص حکم کے نازل ہونے سے پہلے کی ہے، ایک روایت میں ہے: یہ نمازِ خوف کا حکم نازل ہونے سے پہلے کی بات ہے، یہ حکم {فَرِجَالًا أَوْ رُکْبَانًا} میں بیان کیا گیا ہے، پس جب ہمیں قتال سے کفایت کیا گیا، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: اور اس جنگ میں اللہ تعالیٰ خود ہی مومنوں کو کافی ہو گیا، اللہ تعالیٰ بڑی قوتوں والا اور غالب ہے۔ بہرحال نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے غزوۂ خندق والے اُس دن سیدنا بلالؓ کو حکم دیا، انھوں نے ظہر کے لیے اقامت کہی، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے وہ نماز ایسے ہی پڑھائی، جیسے اپنے وقت پر پڑھاتے تھے، پھر عصر کی اقامت ہوئی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے یہ نماز اسی طرح پڑھائی، جیسے اس کے وقت میں پڑھاتے تھے، پھر مغرب کی اقامت ہوئی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے یہ نماز اسی طرح پڑھائی، جیسے اس کے وقت پر پڑھاتے تھے۔

1235

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1235

Sahih

۔ (۱۲۳۵)۔ عَنْ أَبِیْ عُبَیْدَۃَ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ عن أَبِیْہِ (عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ)ؓ أَنَّ الْمُشْرِکِیْنَ شَغَلُوْا النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَ الْخَنْدَقِ عَنْ أَرْبَعِ صَلَوَاتٍ حَتّٰی ذَھَبَ مِنَ اللَّیْلِ مَا شَائَ اللّٰہُ، قَالَ: فَأَمَرَ بِلَالًا فَأَذَّنَ ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّی الظُّہْرَ ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّی الْعَصْرَ ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّی الْمَغْرِبَ ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّی الْعِشَائَ۔ (مسند أحمد: ۳۵۵۵)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبد اللہ بن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ مشرکوں نے غزوہ ٔ خندق والے دن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو چار نمازوں سے مشغول کر دیا، یہاں تک کہ رات کا کچھ حصہ بھی، جتنا اللہ کو منظور تھا، گزر گیا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے سیدنا بلالؓ کو حکم دیا، پس انھوں نے اذان کہی اور پھر اقامت کہی، پس آپ نے نمازِ ظہر پڑھائی، پھر انھوں نے اقامت کہی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے نمازِ عصر پڑھائی، پھر انھوں نے اقامت کہی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے نماز مغرب پڑھائی اور پھر انھوں نے اقامت کہی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے نمازِ عشا پڑھائی۔

1236

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1236

Zaeef

۔ (۱۲۳۶)۔عَنْ مُحَمَّدٍ بْنِ یَزِیْدَ أَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنِ عَوْفٍ حَدَّثَہُ أَنَّ أَبَا جُمُعَۃَ حَبِیْبَ بِْنَ سِبَاعٍٍ وَکَانَ قَدْ أَدْرَکَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَدَّثَہُ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَامَ الْأَحْزَابِ صَلَّی الْمَغْرِبَ فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ: ((ھَلْ عَلِمَ أَحَدٌ مِنْکُمْ أَنِّیْ صَلَّیْتُ الْعَصْرَ؟)) قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! مَا صَلَّیْتَہَا، فَأَمَرَ الْمُؤَذِّنَ فَأَقَامَ الصَّلَاۃَ فَصَلَّی الْعَصْرَ ثُمَّ أَعَادَ الْمَغْرِبَ۔ (مسند أحمد: ۱۷۱۰۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو جمعہ حبیب بن سباعؓ، جنھوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو پایا تھا، بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے غزوۂ احزاب والے سال نماز مغرب پڑھائی، پس جب اس سے فارغ ہوئے تو فرمایا: کیا تم میں سے کوئی جانتا ہے کہ میں نے عصر ادا کی تھی؟ صحابہ کرام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہم ‌نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے نماز نہیں پڑھی۔ پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے مؤذن کو حکم دیا، پس اس نے اقامت کہی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے نمازِ عصر پڑھائی اور پھر نمازِ مغرب کو دوبارہ ادا کیا۔