Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 21 · Chapter 222

نمازوں کے اوقات کے ابواب

عصر کے بعد مزید دو رکعت نماز پڑھنے کا بیان

7 hadiths in this chapter

1206

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1206

Sahih

۔ (۱۲۰۶)۔عَنْ عَلِیٍّؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ: ((لَاتُصَلُّوْا بَعْدَ الْعَصْرِ اِلَّا أَنْ تُصَلُّوْا وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَۃٌ)) (مسند أحمد: ۱۰۷۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا علی ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: عصر کے بعد نماز نہ پڑھا کرو، ہاں جب تک سورج بلند ہو، اس وقت تک پڑھ سکتے ہو۔

1207

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1207

Sahih

۔ (۱۲۰۷)۔عَنْ مُعَاوِیَۃَ (بْنِ أَبِیْ سُفْیَانَ)ؓ قَالَ: اِنَّکُمْ لَتُصَلُّوْنَ صَلَاۃً، لَقَدْ صَحِبْنَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَمَا رَأَیْنَاہُ یُصَلِّیْہَا، وَلَقَدْ نَہٰی عَنْہَا یَعْنِی الرَّکْعَتَیْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ۔ (مسند أحمد: ۱۷۰۳۸)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا معاویہ ؓ سے مروی ہے، انھوں نے کہا: بیشک تم لوگ ایک نماز پڑھتے ہو، یقینا ہم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی صحبت کو پایا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو یہ نماز پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا، بلکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے تو اس نماز سے منع بھی کیا تھا، ان کی مراد عصر کے بعد والی دو رکعتیں تھیں۔

1208

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1208

Zaeef

۔ (۱۲۰۸)۔عَنْ رَبِیْعَۃَ بْنِ دَرَّاجٍ أَنَّ عَلِیَّ بْنَ أَبِیْ طَالِبٍؓ سَبَّحَ بَعْدَ الْعَصْرِ رَکْعَتَیْنِ فِیْ طَرِیْقِ مَکَّۃَ فَرَآہُ عُمَرُ فَتَغَیَّظَ عَلَیْہِ ثُمَّ قَالَ: أَمَا وَاللّٰہِ! لَقَدْ عَلِمْتَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَہٰی عَنْہَا۔ (مسند أحمد: ۱۰۱)

اردو ترجمہ · Urdu

ربیعہ بن درّاج کہتے ہیں: سیدنا علی بن ابو طالب ؓ نے مکہ مکرمہ کے راستے میں عصر کی بعد دو رکعتیں ادا کیں، پس جب سیدنا عمر ؓ نے ان کو دیکھا تو ان کو غصے ہوئے اور کہا: خبردار! اللہ کی قسم! تحقیق تم جانتے ہو کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اس نماز سے منع کیا تھا۔

1209

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1209

Zaeef

۔ (۱۲۰۹)۔حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ وَابْنُ بَکْرٍ قَالَا: أَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِیْدٍ الْأَعْمٰی یُخْبِرُ عَنْ رَجُلٍ یُقَالُ لَہُ السَّائِبُ مَوْلَی الْفَارِسِیِّیْنَ وَقَالَ ابْنُ بَکْرٍ: مَوْلًی لِفَارِسَ، وَقَالَ حَجَّاجٌ: مَوْلَی الْفَارِسِیِّیْنَ عَنْ زَیْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُہَنِیِّؓ أَنَّہُ رَآہُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَھُوَ خَلِیْفَۃٌ رَکَعَ بَعْدَ الْعَصْرِ رَکْعَتَیْنِ فَمَشٰی اِلَیْہِ فَضَرَبَہُ بِالدِّرَّۃِ وَھُوَ یُصَلِّیْ کَمَا ہُوَ، فَلَمَّا اِنْصَرَفَ قَالَ زَیْدٌ: یَا أَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ! فَوَاللّٰہِ! لَا أَدَعُہُمَا أَبَدًا بَعْدَ أَنْ رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّیْہِمَا، قَالَ: فَجَلَسَ اِلَیْہِ عُمَرُ وَقَالَ: یَا زَیْدُ بْنَ خَالِدٍ! لَوْلَا أَنْ أَخْشٰی أَنْ یَتَّخِذَہَا النَّاسُ سُلَّمًا اِلَی الصَّلَاۃِ حَتَّی اللَّیْلِ لَمْ أَضْرِبْ فِیْہِمَا۔ (مسند أحمد: ۱۷۱۶۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا زید بن خالد جہنیؓ سے مروی ہے کہ خلیفۂ رسول سیدنا عمر ؓ نے اس کو عصر کی بعد دو رکعتیں ادا کرتے ہوئے دیکھا، پس وہ اس کی طرف گئے اور اس کو نماز کی حالت میں دُرّہ لگا دیا، لیکن جب سیدنا زید ؓفارغ ہوئے تو انھوں نے کہا: اے امیر المؤمنین! چونکہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو یہ دو رکعتیں پڑھتے ہوئے دیکھا، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو دیکھنے کے بعد تو میں یہ عمل ترک نہیں کروں گا۔ یہ سن کر سیدنا عمر ؓان کے پاس بیٹھے اور کہا: اے زید بن خالد! اگر مجھے یہ ڈر نہ ہوتا کہ لوگ اس نماز کو رات تک نماز پڑھتے رہنے کا ذریعہ بنا لیں گے تو میں ان کی وجہ سے نہ مارتا۔

1210

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1210

Sahih

۔ (۱۲۱۰)۔عَنْ قَبِیْصَۃَ بْنِ ذُؤَیْبٍ قَالَ: اِنَّ عَائِشَۃَ أَخْبَرَتْ آلَ الزُّبَیْرِ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلّٰی عِنْدَہَا رَکْعَتَیْنِ بعد الْعَصْرِ فَکَانُوْا یُصَلُّوْنَہَا، قَالَ قَبِیْصَۃُ: فقَالَ زَیْدُ بْنُ ثَابِتٍ: یَغْفِرُاللّٰہُ لِعَائِشَۃَ نَحْنُ أَعْلَمُ بِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ عَائِشَۃَ، اِنَّمَا کَانَ ذٰلِکَ لِأَنَّ أُنَاسًا مِنَ الْأَعْرَابِ أَتَوْارَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِہَجِیْرٍ فَقَعَدُوْا یَسْأَلُوْنَہُ وَیُفْتِیْہِمْ حَتّٰی صَلَّی الظُّہْرَ وَلَمْ یُصَلِّ رَکْعَتَیْنِ ثُمَّ قَعَدَ یُفْتِیْہِمْ حَتّٰی صَلَّی الْعَصْرَ فَانْصَرَفَ اِلٰی بَیْتِہِ فَذَکَرَ أَنَّہُ لَمْ یُصَلِّ بَعْدَ الظُّہْرِ شَیْئًا فَصَلَّاہُمَا بَعْدَ الْعَصْرِ، یَغْفِرُ اللّٰہُ لِعَائِشَۃَ نَحْنُ أَعْلَمُ بِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ عَائِشَۃَ، نَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ الصَّلَاۃِ بَعْدَ الْعَصْرِ۔ (مسند أحمد: ۲۱۹۴۸)

اردو ترجمہ · Urdu

قبیصہ بن ذؤیب کہتے ہیں: سیدہ عائشہ ؓ نے آلِ زبیر کو بتایا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اُن کے پاس عصر کے بعد دو رکعتیں ادا کی تھیں، پس آل زبیر کے لوگ یہ دو رکعتیں پڑھا کرتے تھے، لیکن سیدنا زید بن ثابتؓ نے کہا: اللہ تعالیٰ سیدہ عائشہؓ کو معاف کرے، ہم سیدہ کی بہ نسبت رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو زیادہ جاننے والے ہیں، ان دو رکعتوں کی وجہ یہ تھی کہ کچھ بدّو لوگ دوپہر کے وقت رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آ کر بیٹھ گئے اور سوال کرنے لگے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ان کے جوابات دینے لگے، یہاں تک کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے نمازِ ظہر ادا کی اور پھر بعد والی دو سنتیں ادا کیے بغیر ان کے ساتھ بیٹھ کر ان کے سوالات کے جوابات دینے لگ گئے، یہاں تک کہ نماز عصر ادا کر لی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ جب گھر تشریف لے گئے تو آپ کو یاد آیا کہ ظہر کے بعد والی نماز نہیں پڑھی تھی، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے وہ دو رکعتیں عصر کے بعد ادا کیں، اللہ تعالیٰ سیدہ عائشہؓ کو معاف کرے، ہم سیدہ کی بہ نسبت رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو زیادہ جاننے والے ہیں، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے عصر کے بعد نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔

1211

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1211

Zaeef

۔ (۱۲۱۱)۔عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ قَالَ: کُنْتُ جَالِسًا مَعَ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مُغَفَّلٍ الْمُزَنِیِّ فَدَخَلَ شَابَّانِ مِنْ وَلَدِ عُمَرَ فَصَلَّیَا رَکْعَتَیْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ، فَأَرْسَلَ اِلَیْہِمَا فَدَعَاہُمَا فَقَالَ: مَا ہٰذِہِ الصَّلَاۃُ الَّتِیْ صَلَّیْتُمَاہَا وَقَدْ کَانَ أَبُوْکُمَا یَنْہٰی عَنْہَا، قَالَا: حَدَّثَتْنَا عَائِشَۃُ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلَّاہُمَا عِنْدَہَا، فَسَکَتَ فَلَمْ یَرُدَّ عَلَیْہِمَا شَیْئًا۔ (مسند أحمد: ۲۲۶۹۳)

اردو ترجمہ · Urdu

عطاء بن سائب کہتے ہیں: میں سیدنا عبد اللہ بن مغفل مزنی ؓ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، سیدنا عمر ؓکی اولاد میں سے دونوجوان داخل ہوئے اور عصر کے بعد دو رکعتیں ادا کیں، انھوں نے اُن کی طرف پیغام بھیجا اور ان کو بلا کر کہا: یہ کون سی نماز ہے، جو تم نے پڑھی ہے، تمہارا باپ تو اس سے منع کرتا تھا؟ انھوں نے کہا: سیدہ عائشہ ؓ نے ہمیں بیان کیا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ان کے پاس دو رکعتیں ادا کی تھیں، یہ سن کر سیدنا ابن مغفل ؓخاموش ہو گئے اور ان کو کوئی جواب نہ دیا۔

1212

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1212

Sahih

۔ (۱۲۱۲)۔عَنْ عَائِشَۃَؓ أَنَّہَا قَالَتْ: وَہِمَ عُمَرُ اِنَّمَا نَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ الصَّلَاۃِ أَنْ یُتَحَرَّی طَلُوْعُ الشَّمْسِ وَغُرُوْبُہَا۔ (مسند أحمد: ۲۵۴۴۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: سیدنا عمر ؓ کو غلطی ہوئی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے تو طلوع آفتاب اور غروبِ آفتاب کے وقت اہتمام کے ساتھ نماز پڑھنے سے منع فرمایا تھا۔