Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 21 · Chapter 215

نمازوں کے اوقات کے ابواب

نمازِ عشاء کو ایک تہائی یا نصف رات تک مؤخر کرنے کے مستحب ہونے کا بیان

11 hadiths in this chapter

1166

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1166

Sahih

۔ (۱۱۶۶)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَؓ یَبْلُغُ بِہِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلٰی أُمَّتِیْ لَأَمَرْتُہُمْ بِالسِّوَاکِ عِنْدَ کُلِّ صَلَاۃٍ وَتَأْخِیْرِ الْعِشَائِ (وَفِیْ لَفْظٍ) وَلَأَخَّرْتُ الْعِشَائَ اِلَی ثُلُثِ اللَّیْلِ أَوْ شَطْرِ اللَّیْلِ۔)) (مسند أحمد: ۷۴۰۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اگر مجھے اپنی امت پر مشقت ڈالنے کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں ان کو ہر نماز کے ساتھ مسواک کرنے کا اور عشاء کو ایک تہائی یا نصف رات تک لیٹ کرنے کا حکم دے دیتا۔ ایک روایت میں ہے: میں عشا کو ایک تہائی یا نصف رات تک مؤخر کر دیتا۔

1167

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1167

Zaeef

۔ (۱۱۶۷)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَؓ قَالَ: مَسّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِصَلَاۃِ الْعِشَائِ حَتّٰی صَلَّی الْمُصَلِّیْ وَاسْتَیْقَظَ الْمُسْتَیْقِظُ وَنَامَ النَّائِمُوْنَ وَتَہَجَّدَ الْمُتَہَجِّدُوْنَ ثُمَّ خَرَجَ فَقَالَ: ((لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلٰی أُمَّتِیْ أَمَرْتُہُمْ أَنْ یُصَلُّوْا ھٰذَا الْوَقْتَ أَوْ ہٰذِہِ الصَّلَاۃَ۔)) أَوْ نَحْوَ ذَا۔ (مسند أحمد: ۴۸۲۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبد اللہ بن عمرؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ایک رات نمازِعشاء کو اتنا مؤخر کر دیا کہ نماز پڑھنے والوں نے نماز پڑھ لی، جاگنے والے جاگتے رہے، سونے والے سو گئے اور تہجدگزاروں نے تہجد پڑھ لی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ تشریف لائے اور فرمایا: اگر مجھے اپنی امت پر مشقت ڈالنے کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں ان کو اس وقت میں یہ نماز پڑھنے کا حکم دے دیتا۔

1168

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1168

Sahih

۔ (۱۱۶۸)۔وَعَنْہُ أَیْضًا اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شُغِلَ عَنْہَا لَیْلَۃً فَأَخَّرَہَا حَتّٰی رَقَدْنَا فِی الْمَسْجِدِ ثُمَّ اسْتَیْقَظْنَا فخَرَجَ عَلَیْنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَیْسَ أَحَدٌ مِنْ أَھْلِ الْاََرْضِ یَنْتَظِرُ الصَّلٰوۃَ غَیْرَکُمْ۔)) (مسند أحمد: ۵۶۱۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابن عمرؓ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ایک رات نمازِ عشاء سے مشغول ہو گئے، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اس کو اتنا مؤخر کر دیا کہ ہم لوگ مسجد میں سو گئے، پھر ہم جاگے اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: تمہارے علاوہ اہل زمین میں کوئی ایسا فرد نہیں ہے، جو اس نماز کاانتظار کر رہا ہو۔

1169

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1169

Sahih

۔ (۱۱۶۹)۔عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَؓ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّی بِنَا الصَّلَاۃَ الْمَکْتُوْبَۃَ وَلَا یُطِیْلُ فِیْھَا وَلَا یُخَفِّفُ وَسَطًا مِنْ ذٰلِکَ وَکَانَ یُؤَخِّرُ الْعَتَمَۃَ (وَفِیْ لَفْظٍ: اَلْعِشَائَ الْآخِرَۃَ)۔ (مسند أحمد: ۲۱۳۱۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا جابر بن سمرہ ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ہمیں فرض نماز پڑھاتے تھے اور نہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ان کو اتنا زیادہ لمبا کرتے تھے اور نہ مختصر، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی نماز درمیانی ہوتی تھی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ عَتَمَۃ یعنی نماز عشا کو تاخیر سے ادا کرتے تھے۔

1170

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1170

Sahih

۔ (۱۱۷۰)۔عَنْ أَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّؓ قَالَ: اِنْتَظَرْنَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَیْلَۃً بِصَلَاۃِ الْعِشَائِ حَتّٰی ذَہَبَ نَحْوٌ مِنْ شَطْرِ اللَّیْلِ، قَالَ: فَجَائَ فَصَلّٰی بِنَا ثُمَّ قَالَ: ((خُذُوْا مَقَاعِدَکُمْ فَاِنَّ النَّاسَ قَدْ أَخَذُوْا مَضَاجِعَہُمْ وَاِنَّکُمْ لَنْ تَزَالُوْا فِیْ صَلَاۃٍ مُنْذُ اِنْتَظَرْتُمُوْہَا، وَلَوْلَا ضَعْفُ الضَّعِیْفِ وَسُقْمُ السَّقِیْمِ وَحَاجَۃُ ذِی الْحَاجَۃِ لَأَخَّرْتُ ہٰذِہِ الصَّلَاۃَ اِلٰی شَطْرِ اللَّیْلِ۔)) (مسند أحمد: ۱۱۰۲۸)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو سعید خدری ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم ایک رات کو نمازِ عشا کے لیے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کا انتظار کرتے رہے، یہاں تک کہ تقریباً نصف رات گزر گئی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ تشریف لائے اور ہمیں نماز پڑھائی اور فرمایا: اپنی جگہوں پر بیٹھے رہو، پس بیشک (دوسری مسجدوں کے) لوگ یہ نماز ادا کر کے سو چکے ہیں اور تم لوگ جب سے اس نماز کا انتظار کر رہے تھے، اس وقت سے نماز میں ہی تھے اور اگر کمزور کی کمزوری، بیمار کی بیماری اور محتاج کی حاجت نہ ہوتی تو میں اس نماز کو نصف رات تک مؤخر کر دیتا۔

1171

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1171

Zaeef

۔ (۱۱۷۱)۔حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا رَوْحٌ وَ أَبُوْدَاوُدَ قَالَا: ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ قَالَ أَبُوْدَاوُدَ: ثَنَا عَلِیُّ بْنُ زَیْدٍ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَبِیْ بَکْرَۃَ (ؓ) قَالَ: أَخَّرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْعِشَائَ تِسْعَ لَیَالٍ، قَالَ أَبُوْ دَاوُدَ: ثَمَانِ لَیَالٍ اِلٰی ثُلُثِ اللَّیْلِ، فَقَالَ أَبُوْبَکْرٍ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! لَوْ أَنَّکَ عَجَّلْتَ لَکَانَ أَمْثَلَ لِقِیَامِنَا مِنَ اللَّیْلِ، قَالَ: فَعَجَّلَ بَعْدَ ذٰلِکَ، قَالَ أَبِیْ: وَحَدَّثَنَا عَبْدُالصَّمَدِ فَقَالَ فِیْ حَدِیْثِہِ: سَبْعَ لَیَالٍ وَقَالَ عَفَّانُ: تِسْعَ لَیَالٍ۔ (مسند أحمد: ۲۰۷۵۷)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو بکرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ آٹھ یا نو راتوں تک نمازِ عشا کو ایک تہائی رات تک مؤخر کرتے رہے، ایک دن سیدنا ابو بکر ؓ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر آپ ہمیں یہ نماز جلدی پڑھا دیا کریں تو یہ عمل رات کے قیام کے لیے بہتر ہو گا، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اس کے بعد یہ نماز جلدی پڑھا دیا کرتے تھے۔ عبد الصمد نے سات اور عفان نے نو راتوں کا ذکر کیا۔

1172

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1172

Sahih

۔ (۱۱۷۲)۔ عَنْ عَاصِمِ بْنِ حُمَیْدٍ الشَّکُوْنِیِّ وَکَانَ مِنْ أَصْحَابِ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ عَنْ مُعَاذٍ قَالَ: رَقَبْنَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ صَلَاۃِ الْعِشَائِ فَاحْتَبَسَ حَتّٰی ظَنَنَّا أَنْ لَنْ یَخْرُجَ وَالْقَائِلُ مِنَّا یَقُوْلُ: قَدْ صَلّٰی وَلَنْ یَخْرُجَ، فَخَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، فَقُلْنَا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! ظَنَنَّا أَنَّکَ لَنْ تَخْرُجَ وَالْقَائِلُ مِنَّا یَقُوْلُ: قَدْ صَلّٰی وَلَنْ یَخْرُجَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((أَعْتِمُوْا بِہٰذِہِ الصَّلَاۃِ فَقَدْ فُضِّلْتُمْ بِہَا عَلٰی سَائِرِ الْأُمَمِ وَلَمْ یُصَلِّہَا أُمَّۃٌ قَبْلَکُمْ۔)) (مسند أحمد: ۲۲۴۱۶)

اردو ترجمہ · Urdu

عاصم بن حمید شکونی، جو کہ سیدنا معاذ بن جبل ؓ کے ساتھیوں میں سے تھے، بیان کرتے ہیں کہ سیدنا معاذ ؓ نے کہا: ایک دن نمازِ عشاء کے لیے ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کا انتظار کرتے رہے، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ رکے رہے، یہاں تک کہ ہم یہ خیال کرنے لگے کہ اب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ہر گز نہیں نکلیں گے اور ہم میں سے کوئی کہتا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے یہ نماز پڑھ لی ہے اور اب ہر گز نہیں نکلیں گے۔اتنے میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ تشریف لے آئے اور ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم تو یہ خیال کرنے لگے تھے کہ اب آپ ہر گز نہیں نکلیں گے اور ہم میں سے بعض افراد یہ کہنے لگے کہ آپ نے نماز پڑھ لی ہے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ باہر تشریف نہیں لائیں گے، یہ سن کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس نماز کو تاخیر سے ادا کیا کرو، پس بیشک اس کے ذریعے تم کو تمام امتوں پر فضیلت دی گئی ہے، تم سے پہلے کسی امت نے یہ نماز نہیں پڑھی۔

1173

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1173

Sahih

۔ (۱۱۷۳)۔حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ وَابْنُ بَکْرٍ قَالَا: أَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ قَالَ: قُلْتُ لِعَطَائٍ: أَیُّ حِیْنٍ أَحَبُّ اِلَیْکَ أَنْ أُصَلِّیَ الْعِشَائَ اِمَامًا أَوْ خِلْوًا؟ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ یَقُوْلُ: أَعْتَمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَیْلَۃً بِالْعِشَائِ حَتّٰی رَقَدَ النَّاسُ وَاسْتَیْقَظُوْا، فَقََامَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِؓ فَقَالَ: اَلصَّلَاۃَ، قَالَ عَطَائٌ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَخَرَجَ نَبِیُّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَأَنِّیْ أَنْظُرُ اِلَیْہِ الْآنَ یَقْطُرُ رَأْسُہُ مَائً وَاضِعًا یَدَہُ عَلَی شِقِّ رَأْسِہِ، فَقَالَ: ((لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلٰی أُمَّتِیْ لَأَمَرْتُہُمْ أَنْ یُصَلُّوْہَا کَذٰلِکَ)) (مسند أحمد: ۳۴۶۶)

اردو ترجمہ · Urdu

ابن جریج کہتے ہیں: میں نے عطا سے کہا: تم کو وہ کون سا وقت پسند ہے کہ جس میں میں نمازِ عشاء باجماعت یا منفرد ادا کروں؟ انھوں نے کہا: میں نے سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا: ایک رات رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے نمازِ عشاء کی ادائیگی میں تاخیر کی، یہاں تک کہ لوگ سو گئے اور پھر بیدار ہوئے، پس سیدنا عمر ؓکھڑے ہوئے اور کہا: (اے اللہ کے رسول!) نماز، پس اللہ کے نبی نکلے، گویا کہ میں اب بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو دیکھ رہا ہوں کہ آپ کے سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے سر کی ایک جانب ہاتھ رکھا ہوا تھا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اگر میں اپنی امت پر مشقت نہ سمجھتا تو ان کو حکم دیتا کہ وہ یہ نماز اس وقت میں نماز پڑھیں۔

1174

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1174

Sahih

۔ (۱۱۷۴)۔(ومِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ)۔ بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ: فَقَالَ عُمَرُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! نَامَ النِّسَائُ وَالْوِلْدَانُ، فَخَرَجَ فَقَالَ: ((لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلٰی أُمَّتِیْ لَأَمَرْتُہُمْ أَنْ یُصَلُّوْہَا ہٰذِہِ السَّاعَۃَ۔)) (مسند أحمد: ۱۹۲۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) اسی طرح کی روایت ہے، البتہ اس میں ہے: سیدنا عمر ؓ نے کہا: اے اللہ کے رسول! عورتیں اور بچے سو گئے ہیں، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ تشریف لائے اور کہا: اگر مجھے اپنی امت پر مشقت ڈالنے کا خطرہ نہ ہوتا تو میں ان کو حکم دیتا کہ وہ اس نماز کو اِس وقت میں ادا کیا کریں۔

1175

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1175

Sahih

۔ (۱۱۷۵)۔عَنْ عَائِشَۃَؓ قَالَتْ: أَعْتَمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِالْعِشَائِ حَتّٰی نَادَاہُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِؓ: قَدْ نَامَ النِّسَائُ وَالصِّبْیَانُ، فَخَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((اِنَّہُ لَیْسَ أَحَدٌ مِنْ أَھْلِ الْاََرْضِ یُصَلِّیْ ہٰذِہِ الصَّلَاۃَ غَیْرُکُمْ)) وَلَمْ یَکُنْ أَحَدٌ یُصَلِّیْ یَوْمَئِذٍ غَیْرُ أَھْلِ الْمَدِیْنَۃِ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: وَذٰلِکَ قَبْلَ أَنْ یَفْشُوَا الْاِسْلَامُ) (مسند أحمد: ۲۴۵۶۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ایک رات نمازِ عشاء میں تاخیر کر دی، یہاں تک کہ سیدنا عمر ؓ نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو یہ آواز دی: عورتیں اور بچے سو گئے ہیں، پس رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ تشریف لائے اور فرمایا: تمہارے علاوہ اہل زمین میں کوئی بھی ایسا نہیں ہے جو اِس نماز کو اِس وقت میں ادا کر رہا ہو۔ اس وقت نماز پڑھنے والے صرف مدینہ کے لوگ تھے، ایک روایت میں ہے: یہ بات اسلام کے پھیلنے سے پہلے کی ہے۔

1176

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1176

Sahih

۔ (۱۱۷۶)۔حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ وَمُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ قَالَا: أَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ أَخْبَرَنِی الْمُغِیْرَۃُ بْنُ حَکِیْمٍ عَنْ أُمِّ کَلْثُوْمٍ بِنْتِ أَبِیْ بَکْرٍ أَنَّہَا أَخْبَرَتْہُ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: أَعْتَمَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذَاتَ لَیْلَۃٍ حَتَّی ذَہَبَ عَامَۃُ اللَّیْلِ وَحَتّٰی نَاَم أَھْلُ الْمَسْجِدِ (وَقَالَ ابْنُ بَکْرٍ: رَقَدَ) ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّی فَقَالَ: ((اِنَّہُ لَوَقْتُہَا، لَوْ لَا أَنْ یَشُقَّ عَلَی أُمَّتِیْ، وَقَالَ ابْنُ بَکْرٍ: أَنْ أَشُقَّ۔)) (مسند أحمد: ۲۵۶۸۷)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے کہ ایک رات رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے نمازِ عشا کو مؤخر کیا، یہاں تک کہ رات کا عام حصہ گزر گیا اور اہل مسجد سو گئے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ تشریف لائے، نماز پڑھائی اور فرمایا: یہی اس نماز کا وقت ہوتا، اگر میری امت پر گراں نہ گزرتا۔