Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 21 · Chapter 213

نمازوں کے اوقات کے ابواب

نمازِ مغرب کو جلدی ادا کر لینے اور اس کو عشاء کا نام دینے کی کراہت کا بیان

4 hadiths in this chapter

1153

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1153

Sahih

۔ (۱۱۵۳)۔ عَنِ السَّائِبِ بْنِ یَزِیْدَؓ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَاتَزَالُ أُمَّتِیْ عَلَی الْفِطْرَۃِ مَا صَلَّوْا الْمَغْرِبَ قَبْلَ طُلُوْعِ النُّجُوْمِ۔)) (مسند أحمد: ۱۵۸۰۸)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا سائب بن یزیدؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: میری امت ہمیشہ فطرت پر رہے گی، جب تک نمازِ مغرب کو ستاروں کے ظاہر ہونے سے پہلے ادا کرتی رہے گی۔

1154

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1154

Zaeef

۔ (۱۱۵۴)۔ عَنْ أَبِیْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ الصُّنَابِحِیِّؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((لَنْ تَزَالَ أُمَّتِیْ فِیْ مُسْکَۃٍ مَا لَمْ یَعْمَلُوْا بِثَلَاثٍ، مَا لَمْ یُؤَخِّرُوْا الْمَغْرِبَ بِاِنْتِظَارِ الْإِظْلَامِ مُضَاہَاۃَ الْیَہُوْدِ، وَمَا لَمْ یُؤَخِّرُوْا الْفَجْرَ اِمْحَاقَ النُّجُوْمِ مُضَاہَاۃَ النَّصْرَانِیَّۃِ، وَمَا لَمْ یَکِلُوْا الْجَنَائِزَ اِلَی أَہْلِہَا۔)) (مسند أحمد: ۱۹۲۷۷)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو عبد الرحمن صنابحی ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: میری امت اس وقت تک ہمیشہ خیر پر برقرار رہے گی، جب تک یہ تین کام نہیں کرے گی: یہودیوں کی مشابہت کرتے ہوئے اندھیرے کے انتظار میں مغرب کو لیٹ کرنا، عیسائیوں کی مشابہت کرتے ہوئے ستاروں کے چھپ جانے تک فجر کو مؤخر کرنا اور جنازے کو اس کے اہل کے سپرد کر دینا۔

1155

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1155

Sahih

۔ (۱۱۵۵)۔ عَنْ یَزِیْدَ بْنِ أَبِیْ حَبِیْبٍ الْمِصْرِیِّ عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ الْیَزَنِیِّ، وَیَزَنُ بَطْنٌ مِنْ حِمْیَرَ، قَالَ: قَدِمَ عَلَیْنَا أَ بُوْ أَ یُّوْبَ خَالِدُ بْنُ زَیْدٍ الْأَنْصَارِیُّؓ صَاحِبُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِصْرَ غَازِیًا وَکَانَ عُقْبَۃُ بْنُ عَامِرِ بْنِ عَبَسٍ الْجُہَنِیُّ أَمَّرَہُ عَلَیْنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ أَبِیْ سَفْیَانَ، قَالَ: فَحَبَسَ عُقْبَۃُ بْنُ عَامِرٍ بِالْمَغْرِبِ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: فَأَخَّرَ الْمَغْرِبَ) فَلَمَّا صَلّٰی قَامَ اِلَیْہِ أَبُوْأَیُّوْبَ الْاَنْصَارِیُّ فَقَالَ لَہُ: یَا عُقْبَۃُ! أَہٰکَذَا رَأَیْتَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم؟ أَمَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَا تَزَالُ أُمَّتِیْ بِخَیْرٍ أَوْ عَلَی الْفِطْرَۃِ مَا لَمْ یُؤَخِّرُوْا الْمَغْرِبَ حَتّٰی تَشْتَبِکَ النُّجُوْمُ۔)) قَالَ: فَقَالَ: بَلٰی، قَالَ: فَمَا حَمَلَکَ عَلٰی مَا صَنَعْتَ؟ قَالَ: شُغِلْتُ، قَالَ: فَقَالَ أَبُوْ أَیُّوْبَ: أَمَا وَاللّٰہِ! مَا بِیْ اِلَّا أَنْ یَظُنَّ النَّاسُ أَنَّکَ رَأَیْتَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَصْنَعُ ہٰذَا۔ (مسند أحمد: ۱۷۴۶۲)

اردو ترجمہ · Urdu

مرثد بن عبد اللہ یزنی کہتے ہیں: صحابیِ رسول سیدنا ابو ایوب خالد بن زید انصاری ؓ جہاد کرنے کے لیے مصر تشریف لائے، سیدنا معاویہ بن ابی سفیانؓ نے سیدنا عقبہ بن عامر جہنی ؓ کو ہمارا امیر بنایا ہوا تھا، ایک دن سیدنا عقبہؓ نمازِ مغرب سے مصروف ہو گئے اور اس نماز کو لیٹ کر دیا، پس جب انھوں نے نماز پڑھائی تو سیدنا ابو ایوب انصاریؓ ان کی طرف گئے اور ان سے کہا: عقبہ! کیا تو نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو اسی طرح دیکھا ہے؟ کیا تو نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا تھا کہ میری امت اس وقت تک خیر یا فطرت پر رہے گی، جب تک نماز مغرب کو ستاروں کے خلط ملط ہونے تک لیٹ نہیں کریں گے۔ انھوں نے کہا؛ جی کیوں نہیں، انھوں نے کہا: تو پھر کس چیز نے تجھے ایسا کرنے پر آمادہ کیا ہے؟ انھوں نے کہا: میں مشغول ہو گیا تھا۔ سیدنا ابو ایوبؓ نے کہا: خبردار! اللہ کی قسم! مجھے اس میں کوئی حرج محسوس نہیں ہو رہی، لیکن یہ خوف ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ لوگ یہ سمجھنے لگیں کہ تم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو ایسا کرتے ہوئے دیکھا ہے۔

1156

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1156

Sahih

۔ (۱۱۵۶)۔عَنْ عَبْدِاللّٰہِ الْمُزَنِیِّ (یَعْنِیْ ابْنَ مُغَفَّلٍ)ؓ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَاتَغْلِبَنَّکُمُ الْأَعْرَابُ عَلَی اِسْمِ صَلَاۃِ الْمَغْرِبِ۔)) قَالَ: وَتَقُوْلُ الْأَعْرَابُ: ہِیَ الْعِشَائُ۔ (مسند أحمد: ۲۰۸۲۷)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبد اللہ بن مغفل مزنی ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: ہر گز ایسا نہ ہو کہ کہ بدّو لوگ نمازِ مغرب کے نام کے سلسلے میں تم پر غالب آ جائیں۔ بدّو اِس نماز کو عشاء کہتے تھے۔