Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 21 · Chapter 206

نمازوں کے اوقات کے ابواب

جامع اوقات کا بیان

13 hadiths in this chapter

1098

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1098

Sahih

۔ (۱۰۹۸)۔عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((أَمَّنِیْ جِبْرِیْلُ عِنْدَ الْبَیْتِ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: مَرَّتَیْنِ عِنْدَ الْبَیْتِ) فَصَلّٰی بِیَ الظُّہْرَ حِیْنَ زَالَتِ الشَّمْسُ فَکَانَتْ بِقَدْرِ الشِّرَاکِ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: حِیْنَ کَانَ الْفَیْئُ بِقَدْرِ الشِّرَاکِ) ثُمَّ صَلّٰی بِیَ الْعَصْرَ حِیْنَ صَارَ ظِلُّ کُلِّ شَیْئٍ مِثْلَہُ، ثُمَّ صَلّٰی بِیَ الْمَغْرِبَ حِیْنَ أَفْطَرَ الصَّائِمُ ثُمَّ صَلّٰی بِیَ الْعِشَائَ حِیْنَ غَابَ الْشَفَقُ ثُمَّ صَلّٰی بِیَ الْفَجْرَ حِیْنَ حَرُمَ الطَّعَامُ وَالشَّرَابُ عَلَی الْصَائِمِ، ثُمَّ صَلّٰی الْغَدَ الظُّہْرَ حِیْنَ کَانَ ظِلُّ کُلِّ شَیْئٍ مِثْلَہُ ثُمَّ صَلّٰی بِیَ الْعَصْرَ حِیْنَ صَارَ ظِلُّ کُلِّ شَیْئٍ مِثْلَیْہِ، ثُمَّ صَلّٰی بِیَ الْمَغْرِبَ حِیْنَ أَفْطَرَ الصَّائِمُ ثُمَّ صَلَّی بِیَ الْعِشَائَ اِلٰی ثُلُثِ اللَّیْلِ الُأَوَّلِ، ثُمَّ صَلّٰی بِیَ الْفَجْرَ فَأَسْفَرَ ثُمَّ اِلْتَفَتَ اِلَیَّ فَقَالَ: یَا مُحَمَّدُ! ھٰذَا وَقْتُ الْأَنْبِیَائِ مِنْ قَبْلِکَ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: ھٰذَا وَقْتُکَ وَوَقْتُ النَّبِیِّیْنَ قَبْلَکَ) اَلْوَقْتُ فِیْمَا بَیْنَ ہٰذَیْنِ الْوَقْتَیْنِ۔)) (مسند أحمد: ۳۰۸۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبد اللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: حضرت جبریل ؑنے بیت اللہ کے پاس دو دفعہ میری امامت کروائی، پس مجھے نمازِ ظہر اس وقت پڑھائی کہ سورج ڈھل چکا تھا اور سایہ ایک تسمے کے برابر تھا، نمازِ عصر اس وقت پڑھائی، جب ہر چیز کا سایہ ایک مثل ہو گیا، نمازِ مغرب اس وقت پڑھائی، جب روزے دار افطاری کرتا ہے،نمازِ عشاء اس وقت پڑھائی جب شَفَق غائب ہو گئی، نمازِ فجر اس وقت پڑھائی جب روزے دار پر کھانا پینا حرام ہو جاتا ہے، پھر اگلے دن نمازِ ظہر اس وقت پڑھائی جب ہر چیز کا سایہ اس کے مثل ہو گیا، نمازِ عصر اس وقت پڑھائی جب ہر چیز کا سایہ دو مثل ہو گیا، نمازِ مغرب اس وقت پڑھائی جب روزے دار افطار کرتا ہے، نمازِ عشاء رات کے پہلے ایک تہائی حصے کے وقت میں پڑھائی اور نمازِ فجر اس وقت پڑھائی جب روشنی ہو چکی تھی اور پھر میری طرف متوجہ ہو کر کہا: اے محمد! یہ آپ سے پہلے والے انبیاء کا وقت ہے، ایک روایت میں ہے: یہ آپ کا اور آپ سے پہلے والے انبیاء کا وقت ہے، ان ہر دو وقتوں کے درمیان متعلقہ نماز کا وقت ہے

1099

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1099

Sahih

۔ (۱۰۹۹)۔ عَنْ أَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِمَعْنَاہُ وَفِیْہِ: ((وَصَلَّی الصُّبْحَ حِیْنَ کَادَتِ الشَّمْسُ تَطْلُعُ، ثُمَّ قَالَ: اَلصَّلَاۃُ فِیْمَا بَیْنَ ہٰذَیْنِ الْوَقْتَیْنِ۔)) (مسند أحمد: ۱۱۲۶۹)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو سعید خدری ؓ نے بھی اسی قسم کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے، البتہ اس میں ہے: اور (دوسرے دن) نمازِ فجر اس وقت پڑھائی کہ قریب تھا کہ سورج طلوع ہو جائے اور پھر کہا: اِن دو وقتوں کے درمیان نماز کا وقت ہے۔

1100

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1100

Sahih

۔ (۱۱۰۰)۔عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِؓ وَھُوَ الأنْصَارِیُّ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جَائَ ہٗ جِبْرِیْلُ فَقَالَ: قُمْ فَصَلِّہِ، فَصَلَّی الظُّہْرَ حِیْنَ زَالَتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ جَائَہُ الْعَصْرَ فَقَالَ: قُمْ فَصَلِّہُ، فَصَلَّی الْعَصْرَ حِیْنَ صَارَ ظِلُّ کُلِّ شَیْئٍ مِثْلَہُ، أَوْ قَالَ: صَارَ ظِلُّہُ مِثْلَہُ، ثُمَّ جَائَ الْمَغْرِبَ فَقَالَ: قُمْ فَصَلِّہْ، فَصَلّٰی حِیْنَ وَجَبَتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ جَائَہُ الْعِشَائَ فَقَالَ: قُمْ فَصَلِّہْ، فَصَلّٰی حِیْنَ غَابَ الشَّفَقُ، ثُمَّ جَائَہُ الْفَجْرَ فَقَالَ: قُمْ فَصَلِّہْ، فَصَلّٰی حِیْنَ بَرَقَ الْفَجَرُ أَوْ قَالَ: حِیْنَ سَطَعَ الْفَجْرُ، ثُمَّ جَائَہُ مِنَ الْغَدِ لِلظُّہْرِ فَقَالَ: قُمْ فَصَلِّہْ، فَصَلَّی الظُّہْرَ حِیْنَ صَارَ ظِلُّ کُلِّ شَیْئٍ مِثْلَہُ، ثُمَّ جَائَہُ لِلْعَصْرِفَقَالَ: قُمْ فَصَلِّہْ، فَصَلَّی الْعَصْرَ حِیْنَ صَارَ ظِلُّ کُلِّ شَیْئٍ مِثْلَیْہِ، ثُمَّ جَائَہُ لِلْمَغْرِبِ حِیْنَ غَابَتِ الشَّمْسُ وَقْتًا وَاحِدًا لَمْ یَزَلْ عَنْہُ، ثُمَّ جَائَہُ لِلْعِشَائِ حِیْنَ ذَہَبَ نِصْفُ اللَّیْلِ أَوْ قَالَ: ثُلُثُ اللَّیْلِ فَصَلَّی الْعِشَائَ، ثُمَّ جَائَہُ لِلْفَجْرِ حِیْنَ أَسْفَرَ جِدًّا فَقَالَ: قُمْ فَصَلِّہْ، فَصَلَّی الْفَجْرَ، ثُمَّ قَالَ: مَا بَیْنَ ہٰذَیْنِ وَقْتٌ۔)) (مسند أحمد: ۱۴۵۹۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا جابر بن عبد اللہ انصاریؓ سے مروی ہے کہ جبریلؑ، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آئے اور کہا: کھڑ ے ہو جاؤ اور نماز پڑھو، پس نمازِ ظہر پڑھائی، جب سورج ڈھل گیا تھا، پھر عصر کے وقت آئے اور کہا: کھڑے ہو جاؤ اور عصر کی نماز پڑھو، پس نماز عصر اس وقت پڑھی جب ہر چیز کا سایہ اس کے ایک مثل ہو گیا تھا، مغرب کے وقت آئے اور کہا: کھڑے ہو جاؤ اور نماز پڑھو، پس یہ نماز اس وقت پڑھی جب سورج غروب ہو گیا، عشا کے وقت آئے اور کہا: کھڑے ہو جاؤ اور نماز پڑھو، پس یہ اس وقت پڑھی جب شَفَق غروب ہو گئی، فجر کے وقت آئے اور کہا: کھڑے ہو جاؤ اور نماز پڑھو، پس یہ نماز اس وقت پڑھی جب فجر طلوع ہوئی، اگلے دن ظہر کے وقت آئے اور کہا: کھڑے ہو جاؤ اور نماز پڑھو، پس نمازِ ظہر اس وقت پڑھائی جب ہر چیز کا سایہ اس کے مثل ہو گیا، عصر کے وقت آئے اور کہا: کھڑے ہو جاؤ اور نماز پڑھو، پس نمازِ عصر اس وقت پڑھی جب ہر چیز کا سایہ اس کے دو مثل ہو گیا، پھر مغرب کے لیے آئے، جب سورج غروب ہوا، یہ (دو دنوں کا) ایک ہی وقت تھا، اس سے نہ ہٹے، پھر عشاء کی نماز کے لیے اس وقت آئے جب نصف یا ایک تہائی رات گزر چکی تھی، پس اس وقت نمازِ عشا پڑھائی، پھر فجر کے لیے اس وقت تشریف لائے جب بہت روشنی ہو چکی تھی اور کہا: کھڑے ہو جاؤ اور نماز پڑھو، پس اس وقت نمازِ فجر پڑھائی اور پھر فرمایا: اِن ہر دو وقتوں کے درمیان متعلقہ نماز کا وقت ہے۔

1101

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1101

Sahih

۔ (۱۱۰۱)۔عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْروِ (بْنِ الْعَاصِ)ؓ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((وَقْتُ الظُّہْرِ اِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ وَکَانَ ظِلُّ الرَّجُلِ کَطُوْلِہِ مَا لَمْ یَحْضُرِ الْعَصْرُ، وَوَقْتُ الْعَصْرِ مَا لَمْ تَصْفَرَّ الشَّمْسُ، وَوَقْتُ صَلَاۃِ الْمَغْرِبَ مَا لَمْ یَغْرُبِ الشَّفَقُ، وَوَقْتُ صَلَاۃِ الْعِشَائِ اِلَی نِصْفِ اللَّیْلِ الْأَوْسَطِ، وَوَقْتُ صَلَاۃِ الصُّبْحِِ مِنْ طُلُوْعِ الْفَجْرِ مَا لَمْ تَطْلُعِ الشَّمْسُ، فَاِذَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ فَأَمْسِکْ عَنِ الصَّلَاۃِ فَاِنَّہَا تَطْلُعُ بَیْنَ قَرَنَیِ الشَّیْطَانِ۔)) (مسند أحمد: ۶۹۶۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: ظہر کا وقت سورج ڈھلنے سے آدمی کا سایہ اس کے قد کے برابر ہونے تک ہے، یعنی عصر کا وقت شروع ہونے تک، نمازِ عصر کا وقت سورج کے زرد ہونے تک ہے، مغرب کی نماز کا وقت شَفَق کے غروب ہونے تک ہے،عشا کا وقت رات کے پہلے نصف تک ہے اور نماز فجر کا وقت طلوع فجر سے طلوع آفتاب تک ہے، جب سورج طلوع ہونے لگے تو نماز سے رک جا، کیونکہ وہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان سے طلوع ہوتا ہے۔

1102

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1102

Sahih

۔ (۱۱۰۲)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((اِنَّ لِلصَّلَاۃِ أَوَّلًا وَ آخِرًا، وَاِنَّ أَوَّلَ وَقْتِ الظُّہْرِ حِیْنَ تَزُوْلُ الشَّمْسُ وَاِنَّ آخِرَ وَقْتِہَا حِیْنَ یَدْخُلُ وَقْتُ الْعَصْرِ، وَاِنَّ أَوّلَ وَقْتِ الْعَصْرِ حِیْنَ یَدْخُلُ وَقْتُہَا وَاِنَّ آخِرَ وَقْتِہَا حِیْنَ تَصْفَرُّالشَّمْسُ، وَاِنَّ أَوَّلَ وَقْتِ الْمَغْرِبِ حِیْنَ تَغْرُبُ الشَّمْسُ وَاِنَّ آخِرَ وَقْتِہَا حِیْنَ یَغِیْبُ الْأُفُقُ، وَاِنَّ أَوَّلَ وَقْتِ الْعِشَائِ الْآخِرَۃِ حِیْنَ یَغِیْبُ الْأُفُقُ وَاِنَّ آخِرَ وَقْتِہَا حِیْنَ یَنْتَصِفُ اللَّیْلُ، وَاِنَّ أَوَّلَ وَقْتِ الْفَجْرِ حِیْنَ یَطْلُعُ الْفَجْرُ وَاِنَّ آخِرَ وَقْتِہَا حِیْنَ تَطْلُعُ الشَّمْسُ۔)) (مسند أحمد: ۷۱۷۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بیشک نماز کا ایک ابتدائی وقت ہے اور ایک آخری وقت ہے اور نمازِ ظہر کا ابتدائی وقت سورج کا ڈھلنا ہے اور آخری وقت عصر کے وقت کے داخل ہونے تک ہے، عصر کا ابتدائی وقت اس کے داخل ہونے سے شروع ہوتا ہے اور آخری سورج کے زرد ہونے تک ہے، مغرب کا ابتدائی وقت غروب ِ آفتاب سے شروع ہوتا ہے اور آخری وقت افق یعنی شَفَق کے غروب ہونے تک جاری رہتا ہے ، عشاء کا ابتدائی وقت غروبِ شفق سے شروع ہوتا ہے اور آخری وقت رات کے نصف ہونے تک جاری رہتا ہے اور نمازِ فجر کا ابتدائی وقت طلوعِ فجر سے شروع ہوتا ہے اور اس کا آخری وقت طلوع آفتاب تک جاری رہتا ہے۔

1103

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1103

Sahih

۔ (۱۱۰۳)۔ عَنْ أَبِیْ صَدَقَۃَ مَوْلٰی أَنَسِ بْنِ مَالِکٍؓ قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسًا عَنْ صَلَاۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: کَانَ یُصَلِّی الظُّہْرَ اِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ وَالْعَصْرَ بَیْنَ صَلَاتَیْکُمْ ہَاتَیْنِ وَالْمَغْرِبَ اِذَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ وَالْعِشَائَ اِذَا غَابَ الشَّفَقُ وَالصُّبْحَ اِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ اِلٰی أَنْ یَنْفَسِحَ الْبَصَرُ۔ (مسند أحمد: ۱۲۷۵۳)

اردو ترجمہ · Urdu

مولائے انس ابو صدقہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا انس ؓ سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی نماز کے بارے میں سوال کیا، انھوں نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نمازِ ظہر اس وقت پڑھتے تھے، جب سورج ڈھل جاتا تھا، عصر کی نماز کو اِن دو نمازوں کے درمیان پڑھتے تھے، مغرب کی نماز اس وقت ادا کرتے جب سورج غروب ہو جاتا تھا، نمازِ عشاء غروبِ شفق کے بعد پڑھتے تھے اور نمازِ فجر طلوعِ فجر سے اس وقت تک پڑھتے تھے، جب نظر وسیع ہو جاتی تھی۔

1104

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1104

Sahih

۔ (۱۱۰۴)۔عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِؓ قَالَ: اَلظُّہْرُ کَاِسْمِہَا وَالْعَصْرُ بَیْضَائُ حَیَّۃٌ والْمَغْرِبَ کَاِسْمِہَا وَکُنَّا ُنصَلِّیْ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْمَغْرِبَ ثُمَّ نَأْتِیْ مَنَازِلَنَا وَہِیَ عَلَی قَدْرِ مِیْلٍ فَنَرٰی مَوَاقِعَ النَّبْلِ وَکَانَ یُعَجِّلُ الْعِشَائَ وَیُؤَخِّرُ، اَلْفَجْرُ کَاِسْمِہَا وَکَانَ یُغَلِّسُ بِہَا۔ (مسند أحمد: ۱۴۲۹۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا جابر بن عبد اللہ ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ظہر اپنے نام کی طرح ہے، عصر اس وقت پڑھی جائے گی، جب سورج سفید اور زندہ ہو گا، مغرب اپنے نام کی طرح ہے اور جب ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ نمازِمغرب پڑھ کر اپنے گھروں کو آتے، جبکہ ہمارے گھر ایک ایک میل کے فاصلے پر ہوتے تھے، تو ہم تیر کے گرنے کی جگہ دیکھ لیتے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کبھی نمازِ عشا جلدی پڑھ لیتے تھے اور کبھی تاخیر کرتے تھے اور فجر بھی اپنے نام کی طرح ہے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اس کو روشنی ملے اندھیرے میں پڑھتے تھے۔

1105

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1105

Sahih

۔ (۱۱۰۵)۔وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّی الظُّہْرَ بِالْہَاجِرَۃِ وَالْعَصْرَ والشَّمْسُ نَقِیَّۃٌ وَالْمَغْرِبَ اِذَا وَجَبَتْ وَالْعِشَائَ أَحْیَانًا یُؤَخِّرُہَا وَأَحْیَانًا یُعَجِّلُ وَکَانَ اِذَا رَآہُمْ قَدِ اجْتَمَعُوْا عَجَّلَ وَاِذَا رَآہُمْ قَدْ أَبْطَئُوْا أَخَّرَ وَالصُّبْحَ کَانَ یُصَلِّیْہَا بِغَلَسٍ۔ (مسند أحمد: ۱۵۰۳۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا جابر بن عبد اللہ ؓ سے مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ظہر کی نماز نصف النہار کی سخت گرمی کے وقت ادا کرتے، نمازِ عصر اس وقت ادا کرتے جب سورج صاف ہوتا تھا، مغرب اس وقت پڑھتے جب سورج غروب ہو جاتا، نمازِ عشا کو کبھی تاخیر سے اور کبھی جلدی پڑھ لیتے تھے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ دیکھتے کہ لوگ جمع ہو گئے ہیں تو جلدی کر لیتے اور جب دیکھتے کہ لوگ لیٹ ہیں تو تاخیر کر دیتے تھے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نمازِ فجر روشنی ملے اندھیرے میں پڑھتے تھے۔

1106

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1106

Sahih

۔ (۱۱۰۶)۔ عَنْ أَبِی الْمِنْہَالِ (سَیَّارِ بْنِ سَلَامَۃَ) قَالَ: اِنْطَلَقْتُ مَعَ أَبِیْ اِلٰی أَبِیْ بَرْزَۃَ الْأَسْلَمِیِّؓ فَقَالَ لَہُ أَبِیْ: حَدِّثْنَا کَیْفَ کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّی الْمَکْتُوْبَۃَ، قَالَ: کَانَ یُصَلِّی الْہَجِیْرَ وَہِیَ الَّتِیْ تَدْعُوْنَہَا الْأُوْلٰی حِیْنَ تَدْحَضُ الشَّمْسُ، ویُصَلِّی الْعَصْرَ وَیَرْجِعُ أَحَدُنَا اِلَی رَحْلِہِ بِالْمَدِیْنَۃِ وَالشَّمْسُ حَیَّۃٌ، قَالَ: وَنَسِیْتُ مَا قَالَ فِی الْمَغْرِبِ، وَکَانَ یَسْتَحِبُّ أَنْ یُؤَخِّرَ الْعِشَائَ وَکَانَ یَکْرَہُ النَّوْمَ قَبْلَہَا وَالْحَدِیْثَ بَعْدَہَا وَکَانَ یَنْفَصِلُ مِنْ صَلَاۃِ الْغَدَاۃِ حِیْنَ یَعْرِفُ أَحَدُنَا جَلِیْسَہُ وَکَانَ یَقْرَأُ بِالسِّتِّیْنَ اِلَی الْمِائْۃِ۔ (مسند أحمد: ۲۰۰۰۵)

اردو ترجمہ · Urdu

ابو منہال سیار بن سلام کہتے ہیں: میں اپنے باپ کے ساتھ سیدنا ابو برزہ اسلمی ؓکی طرف گیا، میرے باپ نے ان سے کہا: ہمیں یہ بیان کرو کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ فرض نماز کس وقت پڑھتے تھے، انھوں نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نماز ظہر، جس کو تم اَلصَّلَاۃُ الْاُوْلٰی کہتے ہو، اس وقت پڑھتے تھے، جب سورج ڈھل جاتا تھا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ عصر کی نماز پڑھتے اور ہم میں سے ایک آدمی مدینہ میں اپنے گھر کی طرف لوٹتا، لیکن سورج ابھی تک زندہ ہوتا۔ سیار کہتے ہیں: مغرب کے بارے میں کہی ہوئی بات کو میں بھول گیا ہوں، اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ عشاء کو مؤخر کرناپسند کرتے تھے اور اِس نماز سے پہلے نیند کو اور اِس کے بعد باتوں کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ناپسند کرتے تھے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نمازِ فجر سے اس وقت فارغ ہوتے تھے، جب آدمی اپنے ساتھ بیٹھنے والے کو پہنچان لیتا تھا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اِس نماز میں ساٹھ سے سو آیتوں کی تلاوت کرتے تھے۔

1107

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1107

Sahih

۔ (۱۱۰۷)۔(وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍٍ)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا حَجَّاجٌ ثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ سَیَّارِ بْنِ سَلَامَۃَ قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وأَبِیْ عَلٰی أَبِیْ بَرْزَۃَ فَسَأَلْنَاہُ عَنْ وَقْتِ صَلَاۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: کَانَ یُصَلِّی الظُّہْرَ حِیْنَ تَزُوْلُ الشَّمْسُ وَالْعَصْرَ یَرْجِعُ الرَّجُلُ اِلَی أَقْصَی الْمَدِیْنَۃَ وَالشَّمْسُ حَیَّۃٌ، وَالْمَغْرِبَ قَالَ سَیَّارٌ: نَسِیْتُہَا، وَالْعِشَائَ لَا یُبَالِیْ بَعْضَ تَأْخِیْرِہَا اِلَی ثُلُثِ اللَّیْلِ وَکَانَ لَایُحِبُّ النَّوْمَ قَبْلَہَا وَلَا الْحَدِیْثَ بَعْدَہَا، وَکَانَ یُصَلِّیْ الصُّبْحَ فَیَنْصَرِفُ الرَّجُلُ فَیَعْرِفُ وَجْہَ جَلِیْسِہِ وَکَانَ یَقْرَأُ فِیْھَا مَابَیْنَ السِّتِّیْنَ اِلَی الْمِائْۃِ، قَالَ سَیَّارٌ: لَا أَدْرِیْ فِیْ اِحْدَی الرَّکْعَتَیْنِ أَوْ فِیْ کِلْتَیْہِمَا۔ (مسند أحمد: ۲۰۰۴۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند)سیار بن سلامہ کہتے ہیں: میں اور میرا باپ، سیدنا ابو برزہؓ کے پاس گئے اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی نماز کے وقت کے بارے میں سوال کیا، انھوں نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نمازِ ظہر اس وقت ادا کرتے، جب سورج ڈھل جاتا تھا، اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نماز عصر پڑھاتے، پھر ایک آدمی مدینہ سے دور واقع اپنے گھر میں جاتا، لیکن سورج ابھی تک زندہ ہوتا تھا، سیار کہتے ہیں: مغرب سے متعلقہ بات کو میں بھول گیا ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نمازِ عشا کو ایک تہائی رات تک مؤخر کرنے میں کوئی پرواہ نہ کرتے تھے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اِس نماز سے پہلے نیند اور اِس کے بعد گفتگو کو ناپسند کرتے تھے، اور آپ صبح کی نماز پڑھاتے پھر آدمی واپس پلٹتا تو وہ اپنے ساتھی کے چہرے کو پہچان لیتا جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اِس نماز میں ساٹھ سے سو آیات کی تلاوت کرتے تھے۔ سیار کہتے ہیں: میں نہیں جانتا کہ تلاوت کی یہ مقدار ایک رکعت میں ہوتی تھی یا دو میں۔

1108

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1108

Sahih

۔ (۱۱۰۸)۔عَنِ الزُّہْرِیِّ قَالَ: کُنَّا مَعَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِالْعَزِیْزِ فَأَخَّرَ صَلَاۃَ الْعَصْرِ مَرَّۃً فقَالَ لَہُ عُرْوَۃُ بْنُ الزُّبَیْرِ: حَدَّثَنِیْ بَشِیْرُ بْنُ أَبِیْ مَسْعُوْدٍ الْأَنْصَارِیِّ أَنَّ الْمُغِیْرَۃَ بْنَ شُعْبَۃَ أَخَّرَ الصَّلَاۃَ مَرَّۃً یَعْنِی الْعَصْرَ، فَقَالَ لَہُ أَبُوْ مَسْعُوْدٍ: أَمَا وَاللّٰہِ! یَا مُغِیْرَۃُ! لَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّ جِبْرِیْلَ عَلَیْہِ السَّلَامُ نَزَلَ فَصَلّٰی وصَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَصَلَّی النَّاسُ مَعَہُ ثُمَّ نَزَلَ فَصَلّٰی وَصَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَصَلَّی النَّاسُ مَعَہُ حَتَّی عَدَّ خَمْسَ صَلَوَاتٍ (زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ: ثُمَّ قَالَ: بِھٰذَا أُمِرْتَ۔)) فقَالَ لَہُ عُمَرُ: اُنْظُرْ مَا تَقُوْلُ یَا عُرْوَۃُ! أَوَ اِنَّ جِبْرِیْلَ ہُوَ الَّذِیْ سَنَّ الصَّلَاۃَ؟ قَالَ عُرْوَۃُ: کذٰلِکَ حَدَّثَنِیْ بَشِیْرُ بْنُ أَبِیْ مَسْعُوْدٍ، فَمَا زَالَ عُمَرُ یَتَعَلَّمُ وَقْتَ الصَّلَاۃِ بِعَلَامَۃٍ حَتّٰی فَارَقَ الدُّنْیَا۔ (مسند أحمد: ۱۷۲۱۷)

اردو ترجمہ · Urdu

امام زہری کہتے ہیں: ہم عمر بن عبد العزیز کے ساتھ تھے، انھوں نے ایک دفعہ نمازِ عصر کو لیٹ کیا، عروہ بن زبیر نے ان سے کہا: بشیر بن ابی مسعود انصاری نے مجھے بیان کیا کہ سیدنا مغیرہ بن شعبہؓ نے ایک دفعہ نمازِ عصر کو لیٹ کر دیا، سیدناابومسعودؓ نے ان سے کہا: خبردار! اللہ کی قسم! اے مغیرہ ! تحقیق تم جانتے ہو کہ حضرت جبریل ؑ نازل ہوئے اور نماز پڑھائی اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اس کے ساتھ اور لوگوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ نماز پڑھی، پھر وہ اترے اور نماز پڑھائی، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اس کے ساتھ اور لوگوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ نماز پڑھی، یہاں تک کہ انھوں نے پانچ نمازیں شمار کیں، ایک روایت میں ہے: اس نے کہا: اس طرح آپ کو حکم دیا گیا ہے، عمر بن عبد العزیز نے کہا: عروہ! اپنی کہی ہوئی باتوں پر غور کرو، کیا جبریلؑ ہیں، جنھوں نے (آپ کی امامت کرا کر) نماز کا آغاز کیا؟ عروہ نے کہا: بشیر بن ابی مسعود نے مجھے اسی طرح بیان کیا، اس کے بعد عمر نماز کے وقت کو کسی علامت سے پہنچان لیتے تھے، یہاں تک کہ وہ دنیا سے رخصت ہو گئے۔

1109

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1109

Sahih

۔ (۱۱۰۹)۔ عَنْ أَبِیْ بَکْرِ بْنِ أَبِیْ مُوْسَی الْأَشْعَرِیِّؓ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: وَأَتَاہُ سَائِلٌ یَسْأَلُہُ عَنْ مَوَاقِیْتِ الصَّلَاۃِ فَلَمْ یَرُدَّ عَلَیْہِ شَیْئًافَأَمَرَ بِلَالًا فَأَقَامَ بِالْفَجْرِ حِیْنَ اِنْشَقَّ الْفَجْرُ وَالنَّاسُ لَا یَکَادُ یَعْرِفُ بَعْضُہُمْ بَعْضًا، ثُمَّ أَمَرَہُ فأَقَامَ بِالظُّہْرِ حِیْنَ زَالَتِ الشَّمْسُ وَالْقَائِلُ یَقُوْلُ: اِنْتَصَفَ النَّہَارُ أَوْ لَمْ یَنْتَصِفْ، وَکَانَ أَعْلَمَ مِنْہُمْ، ثُمَّ أَمَرَہُ فَأَقَامَ بِالْعَصْرِ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَۃٌ ثُمَّ أَمَرَہُ فَأَقَامَ بِالْمَغْرِبِ حِیْنَ وَقَعَتِ الشَّمْسُ ثُمَّ أَمَرَہُ فَأَقَامَ بِالْعِشَائِ حِیْنَ غَابَ الشَّفَقُ، ثُمَّ أَخَّرَ الْفَجْرَ مِنَ الْغَدِ حَتّٰی اِنْصَرَفَ مِنْہَا وَالْقَائِلُ یَقُوْلُ: طَلَعَتِ الشَّمْسُ أَوْ کَادَتْ، وَأَخَّرَ الظُّہْرَ حَتّٰی کَانَ قَرِیْبًا مِنْ وَقْتِ الْعَصْرِ بِالْأَمْسِ، ثُمَّ أَخَّرَ الْعَصْرَ حَتّٰی اِنْصَرَفَ مِنْہَا وَالْقَائِلُ یَقُوْلُ: اِحْمَرَّتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ أَخَّرَ الْمَغْرِبَ حَتّٰی کَانَ عِنْدَ سُقُوْطِ الشَّفَقِ وَأَخَّرَ الْعِشَائَ حَتّٰی کَانَ ثُلُثُ اللَّیْلِ الْأَوَّلُ، فَدَعَا السَّائِلَ فَقَالَ: ((اَلْوَقْتُ فِیْمَا بَیْنَ ہٰذَیْنِ۔)) (مسند أحمد: ۱۹۹۷۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو موسی اشعری ؓ سے مروی ہے کہ ایک سائل، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آیا اور نمازوں کے اوقات کے بارے میں سوال کیا، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اسے کوئی جواب نہ دیا اور سیدنا بلال ؓ کو حکم دیا تو جب فجر پھوٹی تو اس وقت اس نے نماز فجر کو کھڑا کرا دیا، جبکہ قریب تھا کہ لوگ ایک دوسرے کو پہچان سکیں، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ان کو حکم دیا ، پس انھوں نے سورج ڈھلنے کے بعد ظہر کی اقامت کہہ دی، جبکہ کہنے والا یہ کہہ رہا تھا: کیا نصف النہار کا وقت بھی ہوا ہے یا نہیں، بہرحال رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ان سب لوگوں سے زیادہ جاننے والے تھے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ان کو حکم دیا اور انھوں نے عصر کو اس وقت کھڑا کروا دیا، جب سورج بلند تھا، پھر ان کو حکم دیا اور انھوں نے غروب ِ آفتاب کے وقت مغرب کی اقامت کہہ دی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ان کو حکم دیا اور غروبِ شفق کے وقت عشا کو کھڑا کرو ادیا، پھر دوسرے دن نمازِ فجر کو اتنا مؤخر کیا کہ جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اس سے فارغ ہوئے تو کہنے والا کہتا تھا: سورج طلوع ہو گیا ہے، یا طلوع ہونے کے قریب ہے، ظہر کو مؤخر کیا، یہاں تک کہ کل والی نماز عصر کے وقت کے قریب والا وقت ہو گیا، پھر عصر کو اس قدر مؤخر کر کے ادا کیا کہ جب اس سے فارغ ہوئے تو کہنے والا کہتا تھا: سورج زرد ہو گیا ہے، پھر نماز مغرب کو اس قدر لیٹ کر دیا کہ اس کا معاملہ غروب ِ شفق سے پہلے تک پہنچ گیا اور نمازِ عشا کو رات کے پہلے ایک تہائی تک مؤخر کیا، پھر سائل کو بلایا اور فرمایا: ان دو وقتوں کے درمیان وقت ہے۔

1110

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1110

Sahih

۔ (۱۱۱۰)۔عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ بُرَیْدَۃَ عَنْ أَبِیْہِ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہُ۔ (مسند أحمد: ۲۳۳۴۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا بریدہ ؓ نے بھی اسی طرح کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے۔