Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 20 · Chapter 195

نماز کی کتاب

نماز کے انتظار اور مسجدوں کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان

15 hadiths in this chapter

1035

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1035

Sahih

۔ (۱۰۳۵)۔عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْروِ (بْنِ الْعَاصِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا) صَلَّیْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْمَغْرِبَ فَعَقَّبَ مَنْ عَقَّبَ وَرَجَعَ مَنْ رَجَعَ فَجَائَ رَسُوْلُ اللّٰہِ وَقَدْ کَادَ یَحْسِرُ ثِیَابَہُ عَنْ رُکْبَتَیْہِ، فَقَالَ: ((أَبْشِرُوْا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِیْنَ، ھٰذَا رَبُّکُمْ قَدْ فَتَحَ بَابًا مِنْ أَبْوَابِ السَّمَائِ یُبَاہِیْ بِکُمُ الْمَلَائِکَۃَ، یَقُوْلُ: ہٰؤُلَائِ عِبَادِیْ قَضَوْا فَرِیْضَۃً وَہُمْ یَنْتَظِرُوْنَ أُخْرٰی)) (مسند أحمد: ۶۷۵۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاصؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ نمازِ مغرب ادا کی، پس بیٹھنے والے بیٹھ گئے اور واپس جانے والے واپس چلے گئے، پس اچانک رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ تشریف لائے، جبکہ قریب تھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اپنے گھٹنوں سے کپڑے اٹھا دیں اور فرمایا: مسلمانوں کی جماعت! خوش ہو جاؤ، یہ تمہارا ربّ، اس نے آسمان کے دروازوں میں سے ایک دروازہ کھولا اور تمہاری وجہ سے فرشتوں پر فخر کرتے ہوئے کہا: یہ میرے بندے ہیں، ایک فرض ادا کر چکے ہیں اور دوسرے فرض کا انتظار کر رہے ہیں۔

1036

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1036

Sahih

۔ (۱۰۳۶)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخربِنَحْوِہِ وفِیْہِ قَالَ) فَجَائَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَبْلَ أَنْ یَثُوْرَالنَّاسُ لِصَلَاۃِ الْعِشَائِ فَجَائَ وَقَدْ حَفَزَہُ النَّفَسُ رَافِعًا اِصْبَعَہُ ہٰکَذَا وَعَقَدَ تِسْعًاوَ عِشْرِیْنَ وَأَشَارَ بِاِصْبَعِہِ السَّبَّابَۃِ اِلَی السَّمَائِ وَھُوَ یَقُوْلُ: ((أَبْشِرُوْا، (فَذَکَرَ نَحْوَ مَا تَقَدَّمَ وَفِیْہِ) یَقُوْلُ: مَلَائِکَتِیْ! اُنْظُرُوْا اِلَی عِبَادِیْ أَدَّوْا فَرِیْضَۃً وَہُمْ یَنْتَظِرُوْنَ أُخْرٰی۔)) (مسند أحمد: ۶۷۵۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) اسی طرح کی روایت ہے، البتہ اس میں ہے: قبل اس کے کہ لوگ نمازِ عشا کے لیے جلدی جلدی جمع ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ تشریف لائے، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کا سانس پھولا ہوا تھا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اپنی انگلی کو اس طرح اٹھایا ہوا تھا، پھر انھوں نے انتیس کی گرہ لگا کر کیفیت کو واضح کیا، اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اپنے انگشت ِ شہادت کے ذریعے آسمان کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا: خوش ہو جاؤ، … سابق حدیث کی طرح بات ذکر کی… اللہ تعالیٰ کہتا ہے: میرے فرشتو! تم میرے بندوں کی طرف دیکھو، ایک فریضہ ادا کر چکے ہیں اور دوسرے کا انتظار کر رہے ہیں۔

1037

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1037

Sahih

۔ (۱۰۳۷)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَؓ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مُنْتَظِرُالصَّلَاۃِ بَعْدَ الصَّلَاۃِ کَفَارِسٍ اشْتَدَّ بِہِ فَرَسُہُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ عَلَی کَشْحِہِ تُصَلِّیْ عَلَیْہِ مَلَائِکَۃُ اللّٰہِ مَالَمْ یُحْدِثْ أَوْ یَقُوْمُ وَھُوَ فِی الرِّبَاطِ الْأَکْبَرِ۔)) (مسند أحمد: ۸۶۱۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنے والے کی مثال اس گھوڑ سوار کی ہے، جس کو اس کا گھوڑا اسے اپنی پشت پر سوار کر کے اللہ کے راستے میں اپنے دشمن کی طرف گھوڑے پر تیزی سے دوڑا جا رہا ہو، جب تک انتظار کرنے والایہ شخص بے وضو نہیں ہو جاتا، اس وقت تک فرشتے اس کے لیے دعائے رحمت کرتے رہتے ہیں، جبکہ وہ آدمی رباطِ اکبر میں ہوتا ہے۔

1038

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1038

Sahih

۔ (۱۰۳۸)۔وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((أَلَا أَدُلُّکُمْ عَلَی مَا یَرْفَعُ اللّٰہُ بِہِ الدَّرَجَاتِ وَیُکَفِّرُ بِہِ الْخَطَایَا، اِسْبَاغُ الْوُضُوْئِ فِیْ المْکَارِہِ وَکَثْرَۃُ الْخُطَا اِلَی الْمَسَاجِدِ وَاِنْتِظَارُ الصَّلَاۃِ بَعْدَ الصَّّلَاۃِ۔)) (مسند أحمد: ۷۲۰۸)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: کیا میں ایسے اعمال پر تمہاری رہنمائی نہ کر دوں کہ جن کی وجہ سے اللہ تعالیٰ درجات کو بلند کرتا ہے اور گناہوں کو مٹاتا ہے، (وہ اعمال یہ ہیں:) ناپسند حالتوں کے باوجود وضو مکمل کرنا، مسجدوں کی طرف زیادہ چل کر جانا اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا۔

1039

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1039

Sahih

۔ (۱۰۳۹)۔وَعَنْہُ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((کُلُّ خُطْوَۃٍ یَخْطُوْہَا اِلَی الصَّلَاۃِ یُکْتَبُ لَہُ بِہَا حَسَنَۃٌ وَیُمْحٰی بِہَا عَنْہُ سَیِّئَۃٌ۔)) (مسند أحمد: ۷۷۸۸)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو ہریرہؓ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: ہر قدم، جو بندہ نماز کے لیے اٹھاتا ہے، اس کی وجہ سے ایک نیکی لکھی جاتی ہے اور ایک برائی معاف کر دی جاتی ہے۔

1040

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1040

Sahih

۔ (۱۰۴۰)۔(وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍِ)۔ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مِنْ حِیْنَ یَخْرُجُ أَحَدُکُمْ مِنْ بَیْتِہِ اِلٰی مَسْجِدِہِ فَرِجْلٌ تَکْتَبُ حَسَنَۃً وَالْأُخْرٰی تَمْحُوْ سَیِّئَۃً)) (مسند أحمد:۸۲۴۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب سے تم میں سے کوئی آدمی اپنے گھر سے مسجد کی طرف نکلتا ہے تو ایک قدم کے بدلے نیکی لکھی جاتی ہے اور دوسرے قدم کے عوض برائی مٹا دی جاتی ہے۔

1041

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1041

Sahih

۔ (۱۰۴۱)۔وَعَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((لَا یَزَالُ أَحَدُکُمْ فِیْ صَلَاۃِ مَادَامَ یَنْتَظِرُ الَّتِیْ بَعْدَہَا وَلَا تَزَالُ الْمَلَائِکَۃُ تُصَلِّیْ عَلٰی أَحَدِکُمْ مَادَامَ فِیْ مَسْجِدِہِ، تَقُوْلُ: اَللّٰہُمَّ اغْفِرْلَہُ اَللّٰہُمَّ ارْحَمْہُ مَا لَمْ یُحْدِثْ۔))، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ حَضَرَمَوْتَ: وَمَا ذٰلِکَ الْحَدَثُ یَا أَبَاہُرَیْرَۃَ؟ قَالَ: اِنَّ اللّٰہَ لَا یَسْتَحْیِیْ مِنَ الْحَقِّ، اِنْ فَسَا أَوْ ضَرَطَ۔ (مسند أحمد: ۷۸۷۹)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابوہریرہؓ سے یہ بھی مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تم میں سے وہ آدمی اس وقت تک نماز میں رہتا ہے، جب تک بعد والی نماز کا انتظار کرتا رہتا ہے اور جب تک آدمی (نماز کی ادائیگی کے بعد) اپنی جائے نماز میں رہتا ہے، فرشتے اس کے لیے دعائے رحمت کرتے ہوئے کہتے ہیں: اے اللہ! اس کو بخش دے اور اس پر رحم فرما، جب تک بے وضو نہیں ہو جاتا۔ حضرموت کے ایک آدمی نے کہا: ابو ہریرہ! حَدَث (یعنی بے وضو ہو جانے) سے کیا مراد ہے؟ انھوں نے کہا: بیشک اللہ تعالیٰ حق سے نہیں شرماتا، اس سے مراد پھسکی چھوڑنا یا گوز مارنا ہے۔

1042

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1042

Sahih

۔ (۱۰۴۲)۔ عَنْ أَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلَہُ۔ (مسند أحمد: ۱۱۰۲۸)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو سعید خدری ؓ نے بھی اسی قسم کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے۔

1043

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1043

Sahih

۔ (۱۰۴۳)۔وَعَنْہُ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَا مِنْکُمْ مِنْ رَجُلٍ یَخْرُجُ مِنْ بَیْتِہِ مُتَطَہِّرًا فَیُصَلِّیْ مَعَ الْمُسْلِمِیْنَ الصَّلَاۃَ ثُمَّ یَجْلِسُ فِی الْمَجْلِسِ یَنْتَظِرُ الصَّلَاۃَ الْأُخْرٰی اِلَّا قَالَتِ الْمَلَائِکَۃُ: اَللّٰہُمَّ اغْفِرْ لَہُ اَللّٰہُمَّ ارْحَمْہُ۔)) (مسند أحمد: ۱۱۰۰۷)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو سعید خدریؓ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تم میں سے جو آدمی باوضو ہو کر گھر سے نکلتا ہے اور مسلمانوں کے ساتھ نماز ادا کر کے اسی جائے نماز میں اگلی نماز کے انتظار میں بیٹھ جاتا ہے تو فرشتے اس کے حق میں یوں دعا کرتے ہیں: اے اللہ! اس کو بخش دے، اے اللہ! اس پر رحم فرما۔

1044

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1044

Sahih

۔ (۱۰۴۴)۔عَنْ سَھْلِ بْنِ سَعْدِ (السَّاعَدِیِّ ؓ) قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ جَلَسَ فِی الْمَجْلِسِ یَنْتَظِرُ الصَّلَاۃَ فَہُوَ فِی الصَّلَاۃِ)) (مسند أحمد: ۲۳۲۰۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا سہل بن سعد ساعدی ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جو آدمی (ایک نماز ادا کرنے کے بعد اسی مجلس میں) دوسری نماز کا انتظار کرتا ہے، وہ نماز میں ہی ہوتا ہے۔

1045

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1045

Sahih

۔ (۱۰۴۵)۔عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِؓ قَالَ: جَہَّزَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جَیْشًا لَیْلَۃً حَتّٰی ذَہَبَ نِصْفُ اللَّیْلِ أَوْ بَلَغَ ذٰلِکَ ثُمَّ خَرَجَ فَقَالَ: ((قَدْ صَلَّی النَّاسُ وَرَقَدُوْا وَأَنْتُمْ تَنْتَظِرُوْنَ ہٰذِہِ الصَّلَاۃَ، أَمَا اِنَّکُمْ فِیْ صَلَاۃِ مَا انْتَظَرْتُمُوْہَا۔)) (مسند أحمد: ۱۵۰۱۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا جابر بن عبد اللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ایک رات کو ایک لشکر تیار کیا، یہاں تک کہ نصف رات گزر گئی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ باہر تشریف لائے اور فرمایا: تحقیق دوسرے لوگ نماز پڑھ کر سو گئے ہیں اور تم اِس نمازِ عشا کا انتظار کر رہے ہو، خبردار! بیشک تم جب سے اس نماز کا انتظار کر رہے ہو، نماز میں ہی ہو۔

1046

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1046

Sahih

۔ (۱۰۴۶)۔عَنْ حُمَیْدٍ قَالَ: سُئِلَ أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ: ھَلِ اتَّخَذَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَاتَمًا؟ قَالَ: نَعَمْ، أَخَّرَ لَیْلَۃً صَلَاۃَ الْعِشَائِ الْآخِرَۃِ اِلَی شَطْرِ اللَّیْلِ، فَلَمَّا صَلّٰی أَقْبَلَ عَلَیْنَا بِوَجْہِہِ فَقَالَ: ((النَّاسُ قَدْ صَلَّوْا وَقَامُوْا وَلَمْ تَزَالُوْا فِیْ صَلَاۃٍ مَا انْتَظَرْتُمُوْہَا۔)) قَالَ أَنَسٌ: کَأَنِّیْ أَنْظُرُ الْآنَ اِلَی وَبِیْصِ خَاتَمِہِ۔ (مسند أحمد: ۱۲۹۱۱)

اردو ترجمہ · Urdu

حُمَید کہتے ہیں: سیدنا انس بن مالک ؓ سے یہ سوال کیا گیا کہ کیا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے انگوٹھی پہنی تھی؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ایک رات کو نمازِ عشا کو نصف رات تک مؤخر کر دیا، پھر جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نماز پڑھا چکے تو ہم صحابہ پر متوجہ ہوئے اور فرمایا: (دوسری مسجدوں والے) لوگ یہ نماز پڑھ کر سو چکے ہیں، لیکن تم جب تک اس نماز کے انتظار میں رہے، نماز میں ہی رہے۔ سیدنا انس ؓ نے کہا: گویا کہ میں اب بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی انگوٹھی کی چمک کی طرف دیکھ رہا ہوں۔

1047

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1047

Sahih

۔ (۱۰۴۷)۔عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍؓ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اَنَّہُ قَالَ: ((اِذَا تَطَہَّرَ الرَّجُلُ ثُمَّ أَتَی الْمَسْجِدَ یَرْعَی الصَّلَاۃَ کَتَبَ لَہُ کَاتِبَاہُ أَوْ کَاتِبُہُ بِکُلِّ خُطْوَۃٍ یَخْطُوْہَا اِلَی الْمَسْجِدِ عَشْرَ حَسَنَاتٍ، وَالْقَاعِدُ یَرْعَی الصَّلَاۃَ کَالْقَانِتِ وَیُکْتَبُ مِنَ الْمُصَلِّیْنَ مِنْ حِیْنَ یَخْرُجُ مِنْ بَیْتِہِ حَتّٰی یَرْجِعَ اِلَیْہِ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۵۷۷)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عقبہ بن عامر ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب بندہ وضو کرکے مسجد کی طرف آتا ہے اور نماز کا انتظار کرتا ہے تو لکھنے والے دونوں یا ایک مسجد کی طرف اس کے اٹھنے والے ہر قدم کے عوض دس نیکیاں لکھتا ہے،اور جو آدمی بیٹھ کر انتظار کر رہا ہوتا ہے، وہ نماز میں قیام کرنے والے کی طرح ہے اور اس آدمی کو گھر سے نکلنے سے لے کر گھر کی طرف لوٹنے تک نمازیوں میں لکھا جاتا ہے۔

1048

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1048

Sahih

۔ (۱۰۴۸)۔ عَنْ أَبِیْ أُمَامَۃَؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ مَشٰی اِلٰی صَلَاۃٍ مَکْتُوْبَۃٍ وَھُوَ مُتَطَہِّرٌ کَانَ لَہُ کَأَجْرِ الْحَاجِّ الْمُحْرِمِ وَمَنْ مَشٰی اِلٰی سُبْحَۃِ الضُّحٰی کَانَ لَہُ کَأَجْرِ الْمُعْتَمِرِ، وَصَلَاۃٌ عَلَی اَثْرِ صَلَاۃٍ لَا لَغْوَ بَیْنَہُمَا کِتَابٌ فِیْ عِلِّیِّیْنَ۔)) وَقَالَ أَبُوْ أُمَامَۃَ: اَلْغُدُوُّ وَالرَّوَاحُ اِلٰی ہٰذِہِ الْمَسَاجِدِ مِنَ الْجِہَادِ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ۔ (مسند أحمد: ۲۲۶۶۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو امامہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جو آدمی باوضو ہو کر فرض نماز کی طرف چلا، اس کے لیے اس حاجی کا اجر ہو گا، جس نے احرام پہن رکھا ہو، اور جو چاشت کی نماز پڑھنے کے لیے جاتا ہے، اس کے لیے عمرہ کرنے والے کا اجر ہو گا اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز، جبکہ ان کے درمیان کوئی لغو کام بھی نہ ہو، یہ ایسا عمل ہے جس کو عِلِّیِّیْن میں لکھ دیا جاتا ہے۔ سیدنا ابو امامہ ؓ نے کہا: ان مسجدوں کی طرف صبح کو جانا اور شام کو جانا جہاد فی سبیل اللہ میں سے ہے۔

1049

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1049

Zaeef

۔ (۱۰۴۹)۔ عَنْ أَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّؓ قَالَ: مَنْ قَالَ حِیْنَ یَخْرُجُ اِلَی الصَّلَاۃِ اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ أَسْأَلُکَ بِحَقِّ السَّائِلِیْنَ عَلَیْکَ وَبِحَقِّ مَمْشَایَ فَاِنِّیْ لَمْ أَخْرُجْ أَشَرًا وَلَا بَطَرًا وَلَا رِیَائً وَلَا سُمْعَۃً، خَرَجْتُ اِتِّقَائَ سَخَطِکَ وَابْتِغَائَ مَرَضَاتِکَ أَسْأَلُکَ أَنْ تُنْقِذَنِیْ مِنَ النَّارِ، وَأَنْ تَغْفِرَلِیْ ذُنُوْبِیْ اِنَّہُ لَا یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا أَنْتَ، وَکَّلَ اللّٰہُ بِہِ سَبْعِیْنَ أَلْفَ مَلَکٍ یَسْتَغْفِرُوْنَ لَہُ، وَأَقْبَلَ اللّٰہُ عَلَیْہِ بِوَجْہِہِ حَتّٰی یَفْرُغَ مِنْ صَلَاتِہِ۔ (مسند أحمد: ۱۱۱۷۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو سعید خدری ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جو آدمی نماز کی طرف نکلتے ہوئے یہ کلمات کہتا ہے: اے اللہ! میں تجھ سے تجھ پر سوالیوں کے حق اور اپنے چلنے کے حق کے واسطے سے سوال کرتا ہوں کہ میں فخر، سرکشی، ریاکاری اور شہرت کے لیے نہیں نکلا، بلکہ میں تیرے غصے سے بچنے کے لیے اور تیری رضامندی کو تلاش کرنے کے لیے نکلا ہوں، میں تجھ سے سوال کرتا ہوں تو مجھے آگ سے بچا اور میرے گناہ بخش دے، بیشک گناہوں کو کوئی نہیں بخشتا مگر تو ہی، تو اللہ تعالیٰ ستر ہزار فرشتوں کو اس ڈیوٹی پر لگاتا ہے کہ وہ اس آدمی کے لیے بخشش طلب کریں اور اللہ تعالیٰ خود اپنے چہرے کے ساتھ ایسے آدمی پر متوجہ ہوتے ہیں، یہاں تک کہ وہ نماز سے فارغ ہو جاتا ہے۔