Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 20 · Chapter 193

نماز کی کتاب

پانچ نمازوں کی فضیلت کا بیان اور اس چیز کا بیان کہ یہ گناہوں کا کفارہ بنتی ہیں

14 hadiths in this chapter

1009

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1009

Sahih

۔ (۱۰۰۹)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((اَلصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ وَالْجُمُعَۃُ اِلَی الْجُمُعَۃِ وَرَمْضَانُ اِلٰی رَمْضَانَ مُکَفِّرَاتٌ لِمَا بَیْنَہُنَّ، مَا اجْتُنِبَتِ الْکَبَائِرُ۔)) (مسند أحمد: ۹۱۸۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: پانچ نمازیں، جمعہ دوسرے جمعہ تک اور رمضان دوسرے رمضان تک اپنے درمیان والے گناہوں کا کفارہ بنتے ہیں، جب تک بڑے گناہوں سے اجتناب کیا جائے۔

1010

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1010

Sahih

۔ (۱۰۱۰)۔ وَعَنْہُ أَیْضًا عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَلصَّلَاۃُ اِلَی الصَّلَاۃِ الَّتِیْ قَبْلَہَا کَفَّارَۃٌ، وَالْجُمْعَۃُ اِلَی الْجُمُعَۃِ الَّتِیْ قَبْلَہَا کَفَّارَۃٌ، وَالشَّہْرُ اِلَی الشَّہْرِ الَّذِیْ قَبْلَہُ کَفَّارَۃٌ اِلَّامِنْ ثَـلَاثٍ۔)) قَالَ: فَعَرَفْنَا أَ نَّہُ أَمْرٌ حَدَثَ، ((اِلَّا مِنَ الشِّرْکِ بِاللّٰہِ وَنَکْثِ الصَّفْقَۃِ وَ تَرْکِ السُّنَّۃِ۔)) قَالَ: ((أَمَّا نَکْثُ الصَّفْقَۃِ فَاَنْ تُعْطِیَ رَجُلًا بَیْعَتَکَ ثُمَّ تُقَاتِلَہُ بِسَیْفِکَ، وَأَمَّا تَرْکُ السُّنَّۃِ فَالْخُرُوْجُ مِنَ الْجَمَاعَۃِ۔)) (مسند أحمد: ۱۰۵۸۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: نماز پچھلی نماز تک کفارہ ہے، جمعہ پچھلے جمعہ تک کفارہ ہے اور ماہِ رمضان پچھلے مہینے تک کفارہ ہے، مگر تین گناہوں سے۔ ہم نے پہچان لیا کہ کوئی نئی صورتِ حال واقع ہوئی ہے، مگر اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا، معاہدے کو توڑنا اور سنت کو ترک کرنا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: معاہدے کو توڑنا یہ ہے کہ تو کسی آدمی سے عہد و پیمان کرے، لیکن پھر تو تلوار کے ساتھ اس کے ساتھ لڑنا شروع کر دے، اور سنت کو ترک کرنے سے مراد جماعت سے خارج ہونا ہے۔

1011

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1011

Sahih

۔ (۱۰۱۱)۔ عَنْ أَبِیْ عُثْمَانَ قَالَ: کُنْتُ مَعَ سَلْمَانَ الْفَارِسِیِّؓ تَحْتَ شَجَرَۃٍ وَأَخَذَ مِنْہَا غُصْنًا یَابِسًا فَہَزَّہُ حَتّٰی تَحَاتَّ وَرَقُہُ، ثُمَّ قَالَ: یَا أَبَا عُثْمَانَ! أَلَا تَسْأَلُنِیْ لِمَ أَفْعَلُ ہٰذَا؟ قُلْتُ: وَلِمَ تَفْعَلُہُ؟ قَالَ: ہٰکَذَا فَعَلَ بِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَنَا مَعَہُ تَحْتَ شَجَرَۃٍ فَأَخَذَ مِنْہَا غُصْنًا یَابِسًا فَہَزَّہُ حَتّٰی تَحَاتَّ وَرَقُہُ، فَقَالَ: یَا سَلْمَانُ! أَلَا تَسْأَلُنِیْ لِمَ أَفْعَلُ ہٰذَا؟ قُلْتُ: وَلِمَ تَفْعَلُہُ؟ قَالَ: ((اِنَّ الْمُسْلِمَ اِذَا تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوْئَ ثُمَّ صَلَّی الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ تَحَاتَتْ خَطَایَاہُ کَمَا یَتَحَاتُّ ھٰذَا الْوَرَقُ، وَقَالَ:{وَأَقِمِ الصَّلَاۃَ طَرَفَیِ النَّہَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّیْلِ، اِنَّ الْحَسَنَاتِ یُذْہِبْنَ السَّیِّئَاتِ، ذٰلِکَ ذِکْرٰی لِلذَّاکِرِیْنَ}۔ (مسند أحمد: ۲۴۱۰۸)

اردو ترجمہ · Urdu

ابو عثمان کہتے ہیں: میں سیدنا سلمان فارسی ؓ کے ساتھ ایک درخت کے نیچے تھا، انھوں نے اس کی خشک ٹہنی کو پکڑا اور اس کو ہلایا، یہاں تک کہ اس کے پتے گر گئے، پھر کہا: اے ابو عثمان! کیا تم مجھ سے یہ سوال نہیں کرتے کہ میں نے ایسے کیوں کیاہے؟ میں نے کہا: جی آپ نے ایسے کیوں کیا ہے؟ انھوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ہمارے ساتھ ایسے کیا تھا، جبکہ میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ ایک درخت کے نیچے تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے خشک شاخ کو پکڑ کر ہلایا، یہاں تک کہ اس کے پتے گرگئے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے مجھے فرمایا: سلمان! کیا تم مجھ سے سوال نہیں کرو گے کہ میں نے ایسے کیوں کیا ہے؟ میں نے کہا: جی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ایسے کیوں کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بیشک مسلمان جب وضو کرتا ہے اور اچھا وضو کرتا ہے، پھر پانچ نمازیں ادا کرتا ہے تو اس کے گناہ اس طرح گر جاتے ہیں، جیسے یہ پتے گر جاتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: دن کے دونوں کناروں میں نماز قائم کر اور رات کی کئی ساعتوں میں بھی، یقینا نیکیاں برائیوں کو دور کر دیتی ہیں، یہ نصیحت ہے نصیحت پکڑنے والوں کے لیے۔ (سورۂ ہود: ۱۱۴)

1012

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1012

Sahih

۔ (۱۰۱۲)۔ عَنْ أَبِیْ ذَرٍّؓ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَرَجَ زَمَنَ الشِّتَائِ وَالْوَرَقُ یَتَہَافَتُ فَأَخَذَ بِغُصْنَیْنِ مِنْ شَجَرَۃٍ، قَالَ: فَجَعَلَ ذٰلِکَ الْوَرَقُ یَتَہَافَتُ، قَالَ: فَقَالَ: ((یَا أَبَا ذَرٍّ!)) قُلْتُ: لَبَّیْکَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((اِنَّ الْعَبْدَ الْمُسْلِمَ لَیُصَلِّی الصَّلَاۃَ یُرِیْدُ بِہَا وَجْہَ اللّٰہِ تَعَالٰی فَتَہَافَتُ عَنْہُ ذُنُوْبُہُ کَمَا یَتَہَافَتُ ھٰذَا الْوَرَقُ عَنْ ہٰذِہِ الشَّجَرَۃِ)) (مسند أحمد: ۲۱۸۸۹)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابوذرؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سردیوں کے موسم میں نکلے، جبکہ پتے گر رہے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ایک درخت کی دو شاخیں پکڑیں اور ان سے پتے جھڑنا شروع ہو گئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اے ابو ذر!)) میں نے کہا: جی اے اللہ کے رسول! میں حاضر ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بیشک مسلمان بندہ جب نماز ادا کرتا ہے، جبکہ اس کا مقصد اللہ تعالیٰ کا چہرہ ہو تو اس سے اس کے گناہ اس طرح گرتے ہیں، جیسے اس درخت سے یہ پتے گر رہے ہیں۔

1013

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1013

Sahih

۔ (۱۰۱۳)۔عَنِ الْحَارِثِ مَوْلٰی عُثْمَانَ (بْنِ عَفَّانَ)ؓ قَالَ: جَلَسَ عُثْمَانُ یَوْمًا وَجَلَسْنَا مَعَہُ فجَائَہُ الْمُؤَذِّنُ فَدَعَا بِمَائٍ فِیْ اِنَائٍ أَظُنُّہُ سَیَکُوْنُ فِیْہِ مُدٌّ فتَوَضَّأَ ثُمَّ قَالَ: رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَتَوَضَّأُ وُضُوْئِیْ ہٰذَا، ثُمَّ قَالَ: ((وَمَنْ تَوَضَّأَ وُضُوْئِیْ ثُمَّ قَامَ فَصَلّٰی صَلَاۃَ الظُّہْرِ غُفِرَ لَہُ مَا کَانَ بَیْنَہَا وَبَیْنَ الصُّبْحِ، ثُمَّ صَلَّی الْعَصْرَ غُفِرَ لَہُ مَا بَیْنَہَا وَبَیْنَ صَلَاِۃ الظُّہِْر، ثُمَّ صَلَّی الْمَغْرِبَ غُفِرَ لَہُ مَا بَیْنَہَا وَبَیْنَ صَلَاۃِ الْعَصْرِ، ثُمَّ صَلَّی الْعِشَائَ غُفِرَ لَہُ مَا بَیْنَہَا وَبَیْنَ صلاۃ الْمَغْرِبَ ثُمَّ لَعَلَّہُ أَنْ یَبِیْتَ یَتَمَرَّغُ لَیْلَتَہُ ثُمَّ اِنْ قَامَ فَتَوَضَّأَ وَصَلَّی الصُّبْحَ غُفِرَ لَہُ مَا بَیْنَہَا وَبَیْنَ صَلَاۃِ الْعِشَائِ، وَہُنَّ الْحَسَنَاتُ یُذْہِبْنَ السَّیِّئَاتِ۔)) قَالُوْا: ہٰذِہِ الْحَسَنَاتُ فَمَا الْبَاقِیَاتُ یَا عُثْمَانُ؟ قَالَ: ہُنَّ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَسُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ وَاللّٰہُ أَکْبَرُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ۔ (مسند أحمد: ۵۱۳)

اردو ترجمہ · Urdu

مولائے عثمان حارث کہتے ہیں: ایک دن سیدنا عثمان ؓبیٹھے ہوئے تھے، ہم بھی اُن کے ارد گرد بیٹھ گئے، جب مؤذن آیا تو انھوں نے ایک برتن میں پانی منگوایا، میرا خیال ہے کہ وہ ایک مُدّ پانی ہو گا، پس انھوں نے وضو کیا اور کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے میرے وضو کی طرح وضو کیا اور فرمایا: جس نے میرے وضو کی طرح وضو کیا اور پھر کھڑا ہوا اور نمازِ ظہر ادا کی، اس کے وہ گناہ بخش دیئے جائیں گے جو اِس ظہر اور فجر کے درمیان ہوں گے، پھر جب وہ عصر کی نماز پڑھے گا تو عصر اور ظہر کے درمیان والے گناہ معاف کر دیئے جائیں گے، جب وہ مغرب پڑھے گا تو اِس نماز اور عصر کی نماز کے درمیان والے گناہ بخش دیئے جائیں گے، جب وہ عشا پڑھے گا تو عشا اور مغرب کے درمیان والے گناہ بخش دیئے جائیں گے، پھر ممکن ہے کہ وہ رات گزارے اور الٹ پلٹ ہوتا رہے، پھر جب اٹھے گا اور وضو کر کے نمازِ فجر ادا کرے گا تو اِس نماز اور عشا کی نماز کے درمیان کے گناہ بخش دیئے جائیں، یہ نیکیاں ہیں، جو برائیوں کو مٹا دیتی ہیں۔ لوگوں نے کہا: یہ تو نیکیاں ہیں، باقی رہنے والی چیزیں کون سی ہیں، اے عثمان!؟ انھوں نے کیا: وہ یہ اذکار ہیں: لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، سُبْحَانَ اللّٰہِ، اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ،لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ۔

1014

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1014

Sahih

۔ (۱۰۱۴)۔ عَنْ حُمْرَانَ قَالَ: کَانَ عُثْمَانُؓ یَغْتَسِلُ کُلَّ یَوْمٍ مَرَّۃً مِنْ مُنْذُ أَسْلَمَ فَوَضَعْتُ وَضُوْئً ا لَہُ ذَاتَ یَوْمٍ لِلصَّلٰوۃِ، فَلَمَّا تَوَضَّأَ قَالَ: اِنِّیْ أَرَدتُّ أَنْ أُحَدِّثَکُمْ بِحَدِیْثٍ سَمِعْتُہُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثُمَّ قَالَ: بَدَا لِیْ أَنْ لَا أُحَدِّثُکُمُوْہُ، فَقَالَ الْحَکْمُ بْنُ الْعَاصِ: یَا أَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ! اِنْ کَانَ خَیْرًا فَنَأْخُذُ بِہِ أَوْ شَرًّا فَنَتَّقِیْہِ، قَالَ: فَقَالَ: فَاِنِّیْ مُحَدِّثُکُمْ بِہِ، تَوَضَّأَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ھٰذَا الْوُضُوْئَ ثُمَّ قَالَ: ((مَنْ تَوَضَّأَ ھٰذَا الْوُضُوْئَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوْئَ ثُمَّ قَامَ اِلَی الصَّلٰوۃِ فَأَتَمَّ رُکُوْعَہَا وَسُجُوْدَہَا کَفَرَّت عَنْہُ مَا بَیْنَہَا وَبَیْنَ الْصَلوۃِ الْأُخْرٰی مَالَمْ یُصِبْ مَقْتَلَۃً۔)) یَعْنِیْ کَبِیْرِۃً۔ (مسند أحمد: ۴۸۴)

اردو ترجمہ · Urdu

حمران کہتے ہیں: سیدنا عثمان ؓقبولیت ِ اسلام کے بعد ہر روز غسل کرتے تھے، ایک دن میں نے ان کے لیے نماز کے لیے وضو کا پانی رکھا، پس جب انھوں نے وضو کیا تو کہا: میں نے تم کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے سنی ہوئی ایک حدیث بیان کرنے کا ارادہ کیا تھا، لیکن پھر مجھے خیال آیا کہ میں وہ تم کو بیان نہیں کروں گا۔ حکم بن عاص نے کہا: اے امیر المؤمنین! اگر وہ بھلائی پر مشتمل ہو گی تو ہم اس پر عمل کریں گے اور اگر اس میں کسی شرّ کا تعین کیا گیا تو ہم اس سے بچیں گے، یہ سن کر سیدنا عثمان ؓ نے کہا: ٹھیک ہے، میں تم لوگوں کو بیان کر دیتا ہوں، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اس وضو کی طرف وضو کیا اور پھر فرمایا: جس نے اس وضو کے مطابق وضو کیا اور اچھا وضو کیا، پھر نماز کے لیے کھڑا ہوا اور رکوع و سجود کو مکمل کیا، تو یہ نماز اپنے اور سابقہ نماز کے درمیان والے گناہوں کا کفارہ بن جائے گی، جب تک تباہ کرنے والے (یعنی کبیرہ) گناہ سے بچا جائے گا۔

1015

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1015

Sahih

۔ (۱۰۱۵)۔عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((مَنْ أَتَمَّ الْوُضُوْئَ کَمَا أَمَرَہُ اللّٰہُ فَالصَّلَوَاتُ الْمَکْتُوْبَاتُ کَفَّارَاتٌ لِمَا بَیْنَہُنَّ)) (مسند أحمد: ۴۰۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عثمان بن عفانؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جس نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق وضو مکمل کیا تو فرضی نمازیں اپنے مابین ہونے والے گناہوں کا کفارہ بننے والی ہیں۔

1016

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1016

Sahih

۔ (۱۰۱۶)۔وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: (أرَأَیْتَ لَوْ کَانَ بِفِنَائِ أَحَدِکُمْ نَہْرٌ یَجْرِیْ یغْتَسِلُ مِنْہُ کُلَّ یَوْمٍ خَمْسَ مَرَّاتٍ مَا کَانَ یَبْقٰی مِنْ دَرَنِہِ۔)) قَالُوْا: لَا شَیْئَ، قَالَ: ((اِنَّ الصَّلٰوۃَ تُذْہِبُ الذُّنُوْبَ کَمَا یُذْہِبُ الْمَائُ الدَّرَنَ۔)) (مسند أحمد: ۵۱۸)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عثمان بن عفان ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے کہ اگر تم میں سے کسی کے گھر کے صحن میں جاری نہر ہو اور وہ اس میں ہر روز پانچ دفعہ غسل کرتا ہو، کیا اس کی میل کچیل باقی رہے گی؟ انھوں نے کہا: جی کچھ بھی باقی نہیں رہے گی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: نماز بھی گناہوں کو اس طرح ختم کر دیتی ہے، جیسے پانی میل کو ختم کر دیتا ہے۔

1017

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1017

Sahih

۔ (۱۰۱۷)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَؓ أَنَّہُ سَمِعَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: (أَرَأَیْتُمْ لَوْ أَنَّ نَہْرًا بِبَابِ أَحَدِکُمْ یَغْتَسِلُ مِنْہُ کُلَّ یَوْمٍ خَمْسَ مرَّاتٍ ما تَقُوْلُوْنَ ھَلْ یَبْقٰی مِنْ دَرَنِہِ؟) قَالُوْا: لَا یَبْقٰی مِنْ دَرَنِہِ شَیْئٌ، قَالَ: ((ذَاکَ مِثْلُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ یَمْحُوْ اللّٰہُ بِہَا اَلخْطایا)۔ (مسند أحمد: ۸۹۱۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے کہ اگر کسی کے دروازے کے پاس نہر ہو اور وہ اس میں روزانہ پانچ بار غسل کرتا ہو، کیا اس کی میل باقی رہے گی؟ لوگوں نے کہا: اس کی میل میں سے کچھ بھی باقی نہیں رہے گی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: پانچ نمازوں کی بھی یہی مثال ہے، اللہ تعالیٰ ان کے ذریعے گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔

1018

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1018

Sahih

۔ (۱۰۱۸)۔عَنْ عَامِرِبْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِیْ وَقَّاصٍ قَالَ: سَمِعْتُ سَعْدًا وَنَاسًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُوْنَ: کَانَ رَجُلَانِ أَخَوَانِ مِنْ عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَکَانَ أَحَدُہُمَا أَفْضَلَ مِنَ الْآخَرِ، فَتُوُفِّیَ الَّذِیْ ہُوَ أَفْضَلُہُمَا ثُمَّ عُمِّرَ الْآخَرُ بَعْدَہُ أَرْبَعِیْنَ لَیْلَۃً ثُمَّ تُوُفِّیَ فَذُکِرَ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَضْلُ الْأَوَّلِ عَلَی الْآخَرِ، فَقَالَ: ((أَلَمْ یَکُنْ یُصَلِّیْ؟)) فَقَالُوْا: بَلٰی یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! فَکَانَ لَا بَأْسَ بِہِ، فَقَالَ: ((مَا یُدْرِیْکُمْ مَاذَا بَلَغَتْ بِہِ صَلَاتُہُ۔)) ثُمَّ قَالَ عِنْدَ ذٰلِکَ: ((اِنَّمَا مَثَلُ الصَّلَاۃِ کَمَثَلِ نَہْرٍ جَارٍ غَمْرٍ عَذْبٍ بِبَابِ أَحَدِکُمْ یَقْتَحِمُ فِیْہِ کُلَّ یَوْمٍ خَمْسَ مَرَّاتٍ فَمَا تُرَوْنَ یُبْقِیْ مِنْ دَرَنِہِ۔)) (مسند أحمد: ۱۵۳۴)

اردو ترجمہ · Urdu

عامر بن سعد بن ابی وقاص سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا سعد ؓاور صحابۂ کرام میں کچھ مزید لوگوں سے بھی سنا، وہ کہتے تھے: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے زمانے میں دو آدمی بھائی تھے اور ان میں سے ایک دوسرے سے افضل تھا اور وہ فوت ہو گیا، جو زیادہ فضیلت والا تھا، اس کے بعد دوسرا بھائی مزید چالیس دنوں تک زندہ رہا اور پھر فوت ہو گیا، لیکن جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے لیے پہلے فوت ہونے والی کی دوسرے پر فضیلت کو ذکر کیا گیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: کیا دوسرے نے (چالیس روز) نمازیں نہیں پڑھیں؟ صحابہ نے کہا: جی کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! اس پر کوئی اعتراض نہیں (یعنی وہ بھی آدمی اچھا ہی تھا)، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تمہیں کیا علم کہ اس کی ان نمازوں نے اس کو کہاں تک پہنچا دیا ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: نماز کی مثال اس جاری نہر کی سی ہے، جو ڈوبنے کے بقدر گہری ہو، میٹھے پانی کی ہو اور تم میں سے کسی کے دروازے کے پاس ہو اور وہ روزانہ اس میں پانچ دفعہ گھستا ہو (یعنی اس میں داخل ہو کر نہاتا ہو)، تمہارا کیا خیال ہے کہ وہ اس کی کوئی میل کچیل باقی چھوڑے گی؟

1019

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1019

Sahih

۔ (۱۰۱۹)۔عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((مَثَلُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ کَمَثَلِ نَہْرٍ جَارٍ غَمْرٍ عَلَی بَابِ أَحَدِکُمْ یَغْتَسِلُ مِنْہُ کُلَّ یَوْمٍ خَمْسَ مَرَّاتٍ۔)) (مسند أحمد: ۱۴۴۶۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا جابر بن عبد اللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: پانچ نمازوں کی مثال اس نہر کی سی ہے، جو چل رہی ہو، ڈوبنے کے بقدر گہری ہو اور تم میں سے کسی کے دروازے پر ہو اور وہ اس میں روزانہ پانچ بار نہاتا ہو۔

1020

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1020

Sahih

۔ (۱۰۲۰)۔ عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍؓ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ جَعَلَ لِلّٰہِ نِدًّا جَعَلَہُ اللّٰہُ فِی النَّارِ۔)) وَقَالَ: وَأُخْرٰی أَقُوْلُہَا لَمْ أَسْمَعْہَا مِنْہُ، مَنْ مَاتَ لَا یَجْعَلُ لِلّٰہِ نِدًّا أَدْخَلَہُ الْجَنَّۃَ، وَاِنَّ ہٰذِہِ الصَّلَوَاتِ کَفَّارَاتٌ لِمَا بَیْنَہُنَّ مَا اجْتُنِبَ الْمَقْتَلُ۔ (مسند أحمد: ۳۸۱۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبد اللہ بن مسعود ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سنا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جس نے اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک بنایا، اللہ تعالیٰ اس کو جہنم میں ڈال دے گا۔ پھر سیدنا ابن مسعود ؓ نے کہا: دوسری بات میں خود کہہ رہا ہوں، میں نے یہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے نہیں سنی ہے: جو آدمی اس حال میں مرتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک نہیں بناتا تو وہ اِس کو جنت میں داخل کرے گا اور یقینا یہ نمازیں اپنے درمیان والے گناہوں کا کفارہ بنتی ہیں، جب تک تباہ کرنے والے (یعنی کبیرہ) گناہ سے بچا جائے گا۔

1021

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1021

Sahih

۔ (۱۰۲۱)۔ عَنْ أَبِیْ أُمَامَۃَؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((مَا مِنْ اِمْرَیئٍ مُسْلِمٍ تَحْضُرُہُ صَلَاۃٌ مَکْتُوْبَۃٌ فَیَقُوْمُ فَیَتَوَضَّأُ فَیُحْسِنُ الْوُضُوْئَ وَیُصَلِّیْ فَیُحْسِنُ الصَّلَاۃَ اِلَّا غَفَرَ اللّٰہُ لَہُ بِہَا مَاکَانَ بَیْنَہَا وَبَیْنَ الصَّلَاۃِ الَّتِیْ کَانَتْ قَبْلَہَا مِنْ ذُنُوْبِہِ، ثُمَّ یَحْضُرُ صَلَاۃً مَکْتُوْبَۃً فَیُصَلِّیْ فَیُحْسِنُ الصَّلٰوَۃَ اِلَّا غُفِرَ لَہُ مَا بَیْنَہَا وَبَیْنَ الصَّلٰوۃِ الَّتِیْ کَانَتْ قَبْلَہَا مِنْ ذُنُوْبِہِ، ثُمَّ یَحْضُرُ صَلَاۃً مَکْتُوْبَۃً فَیُصَلِّیْ فَیُحْسِنُ الصَّلٰوۃَ اِلَّا غُفِرَ لَہُ مَا بَیْنَہَا وَبَیْنَ الصَّلٰوۃِ الَّتِیْ کَانَتْ قَبْلَہَا مِنْ ذُنُوْبِہِ)) (مسند أحمد: ۲۲۵۹۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو امامہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جس مسلمان کے پاس فرض نماز کا وقت ہو جاتا ہے، پس وہ کھڑا ہوتا ہے، وضو کرتا ہے اور اچھا وضو کرتا ہے، پھر وہ نماز پڑھتا ہے اور اچھی نماز پڑھتا ہے، اللہ تعالیٰ اس نماز کی وجہ سے اِس نماز اور اس سے پہلے والی نماز کے درمیان والے اس کے گناہ معاف کر دیتاہے، پھر اگلی فرض نماز کا وقت ہو جاتا ہے، پس وہ نماز ادا کرتا ہے اور اچھی طرح نماز ادا کرتا ہے، اِس سے اُس کے اِس نماز اور اِس سے پہلے والی نماز کے درمیان کے گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں، بعد ازاں اگلی فرض نماز کا وقت ہو جاتا ہے اور وہ نماز پڑھتا ہے اور اچھی نماز پڑھتا ہے، اِس سے اُس کے اِس نماز سے اِس سے پہلی والی نماز کے درمیان والے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔

1022

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1022

Sahih

۔ (۱۰۲۲)۔ عَنْ أَبِیْ أَیُّوْبَ الْأَنْصَارِیِّؓ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَقُوْلُ: ((اِنَّ کُلَّ صَلَاۃٍ تَحُطُّ مَا بَیْنَ یَدَیْہَا مِنْ خَطِیْئَۃٍ۔)) (مسند أحمد: ۲۳۸۹۹)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو ایوب انصاریؓ سے مروی ہے کہ نبیِ کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بیشک ہر نماز اپنے سے پہلے والے گناہوں کو مٹا دیتی ہے۔