Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #975
۔ (۹۷۵)۔عَنْ عَائِشَۃَؓ قَالَتْ: اِنَّ سَلَمَۃَ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: سُہَیْلَۃَ) بِنْتَ سُہَیْلِ بْنِ عَمْروٍ اُسْتُحِیْضَتْ فَأَتَتْ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَسَأَلَتْہُ عَنْ ذٰلِکَ، فَأَمَرَہَا بِالْغُسْلِ عِنْدَ کُلِّ صَلَاۃٍ، فَلَمَّا جَہَدَہَا ذٰلِکَ أَمَرَہَا أَنْ تَجْمَعَ بَیْنَ الظُّہْرِ وَالْعَصْرِ بِغُسْلٍ وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَائَ بِغُسْلٍ وَالصُّبْحَ بِغُسْلٍ۔)) (مسند أحمد: ۲۵۳۹۱)
اردو ترجمہ · Urdu
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے کہ سیدہ سلمہ یا سہیلہ بنت سہیلؓ استحاضہ کے خون میں مبتلا ہو گئیں، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئیں اور اس بارے میں سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو ہر نماز کے ساتھ غسل کرنے کا حکم دیا، لیکن جب یہ عمل ان پر گراں گزرا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو حکم دیا کہ وہ ایک غسل کے ساتھ ظہر و عصر کو اور ایک غسل کے ساتھ مغرب و عشا کو ادا کر لیں اور نماز فجر کیلئے الگ سے غسل کریں۔