Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 18 · Chapter 184

حیض، استحاضہ اور نفاس کے خونوں کے ابواب

ان لوگون کی دلیل کا بیان جو یہ کہتے ہیں کہ اگر مستحاضہ طاقت رکھتی ہو تو وہ ہر نماز کے لیے علیحدہ غسل کرے یا ایک غسل میں دو نمازیں جمع کر لے

2 hadiths in this chapter

975

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #975

Sahih

۔ (۹۷۵)۔عَنْ عَائِشَۃَؓ قَالَتْ: اِنَّ سَلَمَۃَ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: سُہَیْلَۃَ) بِنْتَ سُہَیْلِ بْنِ عَمْروٍ اُسْتُحِیْضَتْ فَأَتَتْ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَسَأَلَتْہُ عَنْ ذٰلِکَ، فَأَمَرَہَا بِالْغُسْلِ عِنْدَ کُلِّ صَلَاۃٍ، فَلَمَّا جَہَدَہَا ذٰلِکَ أَمَرَہَا أَنْ تَجْمَعَ بَیْنَ الظُّہْرِ وَالْعَصْرِ بِغُسْلٍ وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَائَ بِغُسْلٍ وَالصُّبْحَ بِغُسْلٍ۔)) (مسند أحمد: ۲۵۳۹۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے کہ سیدہ سلمہ یا سہیلہ بنت سہیلؓ استحاضہ کے خون میں مبتلا ہو گئیں، وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آئیں اور اس بارے میں سوال کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ان کو ہر نماز کے ساتھ غسل کرنے کا حکم دیا، لیکن جب یہ عمل ان پر گراں گزرا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ان کو حکم دیا کہ وہ ایک غسل کے ساتھ ظہر و عصر کو اور ایک غسل کے ساتھ مغرب و عشا کو ادا کر لیں اور نماز فجر کیلئے الگ سے غسل کریں۔

976

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #976

Sahih

۔ (۹۷۶)۔حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَحَجَّاجٌ قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ عَائِشَۃَ أَنَّ اِمْرَأَۃً مُسْتَحَاضَۃً سَأَلَتْ عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، فَقِیْلَ: اِنَّمَا ہُوَ عِرْقٌ عَائِذٌ وَأُمِرَتْ أَنْ تُؤَخِّرَ الظُّہْرَوَتُعَجِّلَ الْعَصْرَ وَتَغْتَسِلَ غُسْلًا وَاحِدًا وَتُؤَخِّرَ الْمَغْرِبَ وَتُعَجِّلَ الْعِشَائَ وَتَغْتَسِلَ لَہُمَا غُسْلًا وَاحِدًا وَتَغْتَسِلُ لِصلَاۃِ الصُّبْحِ غُسْلًَا، قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ غُسْلًا وَاحِدًا۔

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے کہ استحاضہ والی ایک خاتون نے عہد ِ نبوی میں اپنی کیفیت کے بارے میں سوال کیا، کسی نے اس کو کہا: یہ اعتدال کی کیفیت سے آگے بڑھ جانے والی ایک رگ ہے، پھر اس کو حکم دیا گیا کہ وہ ظہر کو مؤخر کر کے اور عصر کو معجل کر کے ایک غسل کر لے اور اسی طرح مغرب کو مؤخر کر کے اور عشا کو معجل کر کے ان کے لیے ایک غسل کر لے اور نماز فجر کے لیے الگ سے غسل کر لے۔ (مسند أحمد: ۲۵۹۰۵)