Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 18 · Chapter 182

حیض، استحاضہ اور نفاس کے خونوں کے ابواب

اس مستحاضہ کا بیان جو خون میں فرق کر کے عمل کرتی ہے

2 hadiths in this chapter

972

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #972

Sahih

۔ (۹۷۲)۔عَنْ عَائِشَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَتْ: اُسْتُحِیْضَتْ أُمُّ حَبِیْبَۃَ بِنْتُ جَحْشٍ وَہِیَ تَحْتَ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ عَوْفٍ سَبْعَ سِنِیْنَ فَشَکَتْ ذٰلِکَ اِلَی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((اِنَّ ہٰذِہِ لَیْسَتْ بِالْحَیْضَۃِ، وَاِنَّمَا ہُوَ عِرْقٌ، فَاِذَا اَقْبَلَتِ الْحَیْضَۃُ فَدَعِی الصَّلوٰۃَ وَاِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْتَسِلِیْ ثُمَّ صَلِّی۔)) قَالَتْ عَائِشَۃُ: فکَانَتْ تَغْتَسِلُ لِکُلِّ صَلٰوۃٍ ثُمَّ تُصَلِّی، وَکَانَتْ تَقْعُدُ فِیْ مِرْکَنٍ لِأُخْتِہَا زَیْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ حَتَّی اَنَّ حُمْرَۃَ الدَّمِ لَتَعْلُوْ الْمَائَ۔ (مسند أحمد: ۲۵۰۴۵)

اردو ترجمہ · Urdu

زوجۂ رسول سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے کہ سیدہ ام حبیبہ ؓ، جو سیدنا عبد الرحمن بن عوف ؓکی بیوی تھیں، کو سات سال سے استحاضہ کا خون آ رہا تھا، جب انھوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے اس کی شکایت کی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: یہ حیض کا خون نہیں ہے، یہ تو کسی رگ کامسئلہ ہے، جب حیض آ جائے تو تو نماز چھوڑ دیا کر اور جب وہ ختم ہو جائے تو غسل کر کے نماز پڑھا کر۔ سیدہ عائشہ ؓ کہتی ہیں: یہ خاتون ہر نماز کے لیے غسل کر کے اس کو ادا کرتی تھیں اور اپنی بہن سیدہ زینب بنت جحش ؓ کے ٹب میں بیٹھتی تھیں، یہاں تک کہ خون کی سرخی پانی پر چڑھ آتی تھی۔

973

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #973

Sahih

۔ (۹۷۳)۔ (وَعَنْہَا مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ) اِنَّہَا قَالَتْ: اِسْتَفْتَتْ أُمُّ حَبِیْبَۃَ بِنْتُ جَحْشٍ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَتْ: اِنِّیْ اُسْتَحَاضُ، قَالَ: ((اِنَّمَا ذَاکِ عِرْقٌ فَاغْتَسِلِیْ ثُمَّ صَلِّیْ۔)) فَکَانَتْ تَغْتَسِلُ عِنْدَ کُلِّ صَلَاۃٍ، قَالَ ابْنُ شِہَابٍ: لَمْ یَأْمُرْہَا النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ تَغْتَسِلَ عِنْدَ کُلِّ صَلَاۃٍ، اِنَّمَا فَعَلَتْہُ ہِیَ۔ (مسند أحمد: ۲۵۰۲۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) وہ کہتی ہیں: سیدہ ام حبیبہ بنت جحش ؓ نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے فتوی پوچھا اور کہا: مجھے استحاضہ کا خون آتا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: یہ کسی رگ کا مسئلہ ہے، پس تو غسل کر اور نماز پڑھ۔ پس یہ خاتون ہر نماز کے لیے غسل کرتی تھیں، ابن شہاب نے کہا: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اس کو ہر نماز کے لیے غسل کرنے کا حکم نہیں دیا تھا، یہ خود ایسا کرتی تھیں۔