Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 18 · Chapter 180

حیض، استحاضہ اور نفاس کے خونوں کے ابواب

حیض اور نفاس والی عورت کے غسل کی کیفیت

3 hadiths in this chapter

964

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #964

Sahih

۔ (۹۶۴)۔عَنْ عَائِشَۃَؓ أَنَّ امْرَأَۃً أَتَتِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! کَیْفَ أَغْتَسِلُ عِنْدَ الطُّہْرِ؟ فَقَالَ: ((خُذِیْ فِرْصَۃً مُمَسَّکَۃً فَتَوَضَّئِیْ بِہَا۔)) قَالَتْ: کَیْفَ أَتَوَضَّأُ بِہَا؟ قَالَ: ((تَوَضَّئِیْ بِہَا۔)) قَالَتْ: کَیْفَ أَتَوَضَّأُ بِہَا؟ ثُمَّ اِنَّ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَبَّحَ فَأَعْرَضَ عَنْہَا، ثُمَّ قَالَ: ((تَوَضَّئِیْ بِہَا۔)) قَالَتْ عَائِشَۃُ: فَفَطِنْتُ لِمَا یُرِیْدُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَخَذْتُہَا فَجَذَبْتُہَا اِلَیَّ فَأَخْبَرْتُہَا بِمَا یُرِیْدُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم۔ (مسند أحمد: ۲۵۴۱۹)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ عائشہؓ سے روایت ہے کہ ایک خاتون، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آئی اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں طہارت حاصل کرتے وقت کیسے غسل کروں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: کپڑے وغیرہ کا ایسا ٹکڑا لے، جس پر کستوری لگی ہوئی ہو اور اس کے ذریعے طہارت حاصل کر۔ اس نے کہا: اس کے ذریعے میں کیسے طہارت حاصل کروں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس کے ذریعے طہارت حاصل کر لے۔ وہ پھر کہنے لگی: میں اس کے ذریعے کیسے طہارت حاصل کروں؟ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے تعجب کا اظہار کرتے ہوئے سبحان اللہ کہا اور اس سے اعراض کیا اور پھر فرمایا: اس کے ذریعے طہارت حاصل کر لے۔ سیدہ عائشہ ؓ کہتی ہیں: میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کا مقصد سمجھ گئی، اس لیے میں نے اس خاتون کو اپنی طرف کھینچ لیا اور سمجھا دیا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اس کو کیا فرمانا چاہ رہے تھے۔

965

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #965

Sahih

۔ (۹۶۵)۔ (وَمِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ)۔عَنْ اِبْرَاہِیْمَ الْمُہَاجِرِ قَالَ: سَمِعْتُ صَفِیَّۃَ بِنْتَ شَیْبَۃَ تُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَۃَ أَنَّ أَسْمَائَ سَأَلَتِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ غُسْلِ الْمَحِیْضِ، قَالَ: تَأْخُذُ اِحْدَاکُنَّ مَائَ ہَا وَسِدْرَتَہَا فَتَطَہَّرُ فَتُحْسِنُ الطُّہُوْرَ ثُمَّ تَصُبُّ عَلَی رَأْسِہَا فَتَدْلُکُہٗ دَلْکًا شَدِیْدًا حَتّٰی یَبْلُغَ شُؤُوْنَ رَأْسِہَا، ثُمَّ تَصُبُّ عَلَیْہَا الْمَائَ ثُمَّ تَأْخُذُ فِرْصَۃً مُمَسَّکَۃً فَتَطَہَّرُ بِہَا۔)) قَالَتْ أَسْمَائُ: وَکَیْفَ تَطَہَّرُ بِہَا؟ قَالَ: ((سُبْحَان اللّٰہِ! تَطَہَّرِیْ بِہَا۔)) فَقَالَتْ عَائِشَۃُ: کَأَنَّہَا تُخْفِیْ ذٰلِکَ: تَتَبَّعِیْ أَثَرَ الدَّمِ، وَسَأَلْتُہُ عَنْ غُسْلِ الْجَنَابَۃِ، قَالَ: ((تَأْخُذِیْ مَائَ کِ فَتَطَہَّرِیْنَ فَتُحْسِنِیْنَ الطُّہُوْرَ أَوْ أَبْلِغِی الطُّہُوْرَ ثُمَّ تَصُبُّ عَلٰی رَأْسِہَا فَتَدْلُکُہٗ حَتّٰی یَبْلُغَ شُؤُوْنَ رَأْسِہَا ثُمَّ تُفِیْضُ عَلَیْہَا الْمَائَ۔)) فَقَالَتْ عَائِشَۃُ: نِعْمَ النِّسَائُ نِسَائُ الْأَنْصَارِ، لَمْ یَکُنْ یَمْنَعُہُنَّ الْحَیَائُ أَنْ یَتَفَقَّہْنَ فِی الدِّیْنِ۔ (مسند أحمد: ۲۵۶۶۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے کہ سیدہ اسماء ؓ نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے حیض کے غسل کے بارے میں سوال کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: خاتون پانی اور بیری کے پتے لے لے اور وضو کرے اور اچھی طرح وضو کرے، پھر سر پر پانی بہائے اور اس کو اچھی طرح مَلے، یہاں تک کہ پانی سر یعنی بالوں کی جڑوں تک پہنچ جائے، پھر اپنے وجود پر پانی بہا دے، پھر کپڑے وغیرہ کا ایسا ٹکڑا لے، جس پر کستوری لگی ہوئی ہو اور اس کے ذریعے طہارت حاصل کر لے۔ سیدہ اسماءؓ نے کہا: وہ اس کے ساتھ کیسے طہارت حاصل کرے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: سبحان اللہ! تو اس سے پاکیزگی حاصل کر۔ سیدہ عائشہؓ نے کہا: گویا کہ یہ بات اس کے لیے خفا والی تھی کہ وہ اس کو خون کے نشانات پر لگا دے۔ اور میں نے غسل جنابت کے بارے میں سوال کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تم پانی لو، وضو کرو اور اچھی طرح وضو کرو، پھر اپنے سر پر پانی بہاؤ اور اس کو خوب ملو، یہاں تک کہ پانی سر یعنی بالوں کی جڑوں تک پہنچ جائے، پھر اپنے جسم پر پانی بہادے۔ سیدہ عائشہؓ نے کہا: انصار کی عورتیں بہترین عورتیں ہیں، ان کے لیے دین کی فقاہت حاصل کرنے کے لیے حیا مانع نہیں ہوتا۔

966

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #966

Sahih

۔ (۹۶۶)۔عَنْ صَفِیَّۃَ بِنْتِ شَیْبَۃَ عَنْ عَائِشَۃَؓ أَ نَّہَا ذُکِرَتِ نِسَائُ الْأَنْصَارِ فَأثْنَتْ عَلَیْہِنَّ وَقَالَتْ لَہُنْ مَعْرُوْفًا وَقَالَتْ: لَمَّا نَزَلَتْ سُوْرَۃُ النُّوْرِ عَمَدْنَ اِلٰی حُجَزِ أَوْ حُجُوْزِ مَنَاطِقِہِنَّ فَشَقَقْنَہُ ثُمَّ اتَّخَذْنَ مِنْہُ خُمُرًا، وَاِنَّہَا دَخَلَتْ اِمْرَأَۃٌ مِنْہُنَّ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَتْ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ ! أَخْبِرْنِیْ عَنِ الطُّہُوْرِ مِنَ الْحَیْضِ، فَقَالَ: ((نَعَمْ، لِتَأْخُذَ اِحْدَاکُنَّ مَائَ ہَا وَسِدْرَتَہَا…)) فَذَکَرَتْ نَحْوَ الْحَدَیْثِ الْمُتَقَدِّمِ۔ (مسند أحمد: ۲۶۰۶۷)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے کہ انصار کی عورتوں کا ذکر کیا گیا، انھوں نے ان کی تعریف کی اور ان کے حق میں اچھی باتیں کہیں، نیز انھوں نے کہا: جب سورۂ نور نازل ہوئی تو اِن انصاری خواتین نے اپنے ازاروں کی طرف قصد کیا اور ان کو پھاڑ کر دو پٹے بنا لیے، نیز سیدہ نے یہ بات بھی ذکر کی کہ ایک دفعہ ایک انصاری خاتون رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آئی اور کہا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے حیض سے طہارت حاصل کرنے کے بارے میں بتائیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جی ہاں، خاتون کو چاہیے کہ پانی اور بیری کے پتوں کا اہتمام کرے، ……۔ پھر سابق حدیث کی طرح کی حدیث ذکر کی۔