Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 177 · Chapter 2769

جہنم اور جنت کے متعلقہ مسائل

موت کو ذبح کر دینے اور جہنمیوں کا ہمیشہ جہنم میں رہنے اور جنتیوں کا ہمیشہ جنت میں رہنے کا بیان

5 hadiths in this chapter

13331

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #13331

Sahih

۔ (۱۳۳۳۱)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یُوْتٰی بِالْمَوْتِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فَیُوْقَفُ عَلٰی الصِّرَاطِ، فَیُقَالُ: یَا اَھْلَ الْجَنَّۃِ! فَیَطَّلِعُوْنَ خَائِفِیْنَ وَجِلِیْنَ اَنْ یُّخْرَجُوْا مِنْ مَکَانِہِمُ الَّذِیْ ھُمْ فِیْہِ، فَیُقَالُ: ھَلْ تَعْرِفُوْنَ ہٰذَا؟ قَالُوْا: نَعَمْ رَبَّنَا ھٰذَا الْمَوْتُ، ثُمَّ یُقَالُ: یَا اَھْلَ النَّارِ! فَیَطَّلِعُوْنَ فَرِحِیْنَ مُسْتَبْشِرِیْنَ اَنْ یُّخْرَجُوْا مِنْ مَکَانِہِمُ الَّذِیْ ھُمْ فِیْہِ، فَیُقَالُ: ھَلْ تَعْرِفُوْنَ ہٰذَا؟ قَالُوْا: نَعَمْ ہٰذَا الْمَوْتُ، فَیَاْمُرُ بِہٖفَیُذْبَحُ عَلٰی الصِّرَاطِ، ثُمَّ یُقَالُ لِلْفَرِیْقَیْنِ کِلَاھُمَا: خُلُوْدٌ فِیْمَا تَجِدُوْنَ لَا مَوْتَ فِیْہِ اَبَدًا۔)) (مسند احمد: ۷۵۳۷)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن موت کو لا کر صراط کے اوپر کھڑا کر دیا جائے گا، پھر کہا جائے گا: اے جنت والو! وہ خوف زدہ ہو کر اور گھبرا کر ادھر دیکھیں گے، کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کو ان کے مقام سے نکال دیا جائے، ان سے پوچھا جائے گا: کیا تم اس چیز کو پہچانتے ہو؟ وہ کہیں گے: جی ہاں اے ہمارے رب! یہ موت ہے، پھر کہا جائے گا: اے جہنم والو! وہ خوش ہو کر اُدھر دیکھیں گے کہ شاید ان کو ان کی اس جگہ سے نکلنے کا حکم دیا جانے والا ہے، ان سے بھی دریافت کیاجائے گا کہ کیا تم اس چیز کو پہچانتے ہو؟ وہ بھی کہیں گے: جی ہاں اے ہمارے ربّ! یہ موت ہے۔ تب اللہ تعالیٰ اس موت کے بارے میں حکم دے گا اور اس کو صراط پر ذبح کردیا جائے اور پھر دونوں فریقوں سے کہا جائے گا:تم جہاں بھی ہو، یہاں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے رہو گے، اب کسی کو کبھی بھی موت نہیں آئے گی۔

13332

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #13332

Sahih

۔ (۱۳۳۳۲)۔ وَعَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِذَا دَخَلَ اَھْلُ الْجَنَّۃِ الْجَنَّۃَ وَاَھْلُ النَّارِ النَّارَ یُجَائُ بِالْمَوْتِ کَاَنَّہُ کَبْشٌ اَمْلَحُ فَیُوْقَفُ بَیْنَ الْجَنَّۃِ وَالنَّارِ، فَیُقَالُ: یَا اَھْلَ الْجَنَّۃِ! فَذَکَرَ نَحْوَہُ وَفِیْہِ فَیُوْمَرُ بِہٖفَیُذْبَحُ، قَالَ: وَیُقَالُ: یَا اَھْلَ الْجَنَّۃِ! خُلُوْدٌ لَامَوْتَ، وَیَا اَھْلَ النَّارِ! خُلُوْدٌ لَامَوْتَ۔)) قَالَ: ثُمَّ قَرَاَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : {وَاَنْذِرْھُمْ یَوْمَ الْحَسْرَۃِ اِذْ قُضِیَ الْاَمْرُ وَھُمْ فِیْ غَفْلَۃٍ} [مریم: ۳۹] قَالَ: وَاَشَارَ بِیَدِہٖ۔ (مسند احمد: ۱۱۰۸۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب اہل ِ جنت، جنت میں اور اہل ِ جہنم، جہنم میں چلے جائیں گے تو موت کو ایک سیاہ مینڈھے کی شکل میں جنت اور دوزخ کے درمیا ن کھڑا کر دیا جائے گا، پھر آواز دی جائے گی: اے جنت والو! … سابقہ حدیث کی مانند ہے …، مزید اس میں ہے: پھر موت کو ذبح کرنے کا حکم دیا جائے گا اور کہا جائے گا: اے جنت والو! اب تم ہمیشہ ہمیشہ کے لیے یہیں رہو گے اور کبھی موت نہیں آئے گی اور اے جہنم والو! اب تم ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اس میں رہو گے، کبھی موت نہیں آئے گی۔ اس کے بعد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: {وَ اَنْذِرْھُمْ یَوْمَ الْحَسْرَۃِ اِذْ قُضِیَ الْاَمْرُ وَ ھُمْ فِیْ غَفْلَۃٍ} (اور آپ ان کو حسرت والے دن سے ڈرائیں، جب سارے امور چکا دیئے جائیں گے اور یہ اس وقت غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔ ساتھ ہی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہاتھ سے اشارہ کیا۔

13333

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #13333

Sahih

۔ (۱۳۳۳۳)۔ وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِذَا صَارَ اَھْلُ الْجَنَّۃِ فِی الْجَنَّۃِ وَاَھْلُ النَّارِ فِی النَّارِ، جِیْئَ بِالْمَوْتِ حَتّٰییُوْقَفَ بَیْنَ الْجَنَّۃِ وَالنَّارِ ثُمَّ یُذْبَحُ ثُمَّ یُنَادِیْ مُنَادٍ: یَا اَھْلَ الْجَنَّۃِ! خُلُوْدٌ لَامَوْتَ، یَا اَھْلَ النَّارِ! خُلُوْدٌ لَامَوْتَ، فَازْدَادَ اَھْلُ الْجَنَّۃِ فَرَحًا اِلٰی فَرَحِھِمْ وَازْدَادَ اَھْلُ النَّارِ حُزْنًا اِلٰی حُزْنِہِمْ۔)) (مسند احمد: ۵۹۹۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب اہل ِجنت جنت میں اور اہل ِ جہنم جہنم میں پہنچ جائیں گے تو موت کو لا کر جنت اور دوزخ کے درمیان کھڑا کر کے ذبح کر دیا جائے گا اور ایک اعلان کرنے والا اعلان کرے گا: اے جنت والو! اب تم ہمیشہ کے لیے یہیں رہو گے، کبھی موت نہیں آئے گی۔ اور اے جہنم والو! اب تم بھی ہمیشہ کے لیے یہیں رہو گے اور کبھی موت نہیں آئے گی، یہ اعلان سن کر اہل ِ جنت کی خوشی میں اضافہ ہو جائے گا اور اہل جہنم کا غم اور افسوس بڑھ جائے گا۔

13334

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #13334

Sahih

۔ (۱۳۳۳۴)۔ وَعَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((اِذَا دَخَلَ اَھْلُ الْجَنَّۃِ الْجَنَّۃَ وَاَھْلُ النَّارِ النَّارَ نَادٰی مُنَادٍ: یَا اَھْلَ الْجَنَّۃِ! خُلُوْدٌ فَلَامَوْتَ فِیْہِ، وَیَا اَھْلَ النَّارِ! خُلُوْدٌ فَلَا مَوْتَ فِیْہِ۔)) قَالَ: وَذَکَرَ بِیْ خَالِدُ بْنُ زَیْدٍ اَنَّہُ سَمِعَ اَبَا الزُّبَیْرِیَذْکُرُ مِثْلَہُ عَنْ جَابِرٍ وَعُبَیْدِ بْنِ عُمَیْرٍ اِلَّا اَنَّہُ یُحَدِّثُ عَنْہُمَا اَنَّ ذٰلِکَ بَعْدَ الشَّفَاعَاتِ وَمَنْ یَّخْرُجُ مِنَ النَّارِ۔(مسند احمد: ۸۵۱۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرمایا: جب اہل ِ جنت بہشت میں اور اہل ِ جہنم دوزخ میں پہنچ جائیں گے تو ایک اعلان کرنے والا اعلان کرے گا: اے جنت والو! اب تم ہمیشہ ہمیشہ کے لیے یہیں رہو گے، یہاں کسی کو موت نہیں آئے گی۔ اور اے جہنم والو! اب تم بھی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے یہیں رہو گے، اس میں کسی کو موت نہیں آئے گی۔ ابوزبیر بھی جابر اور عبید بن عمیر سے اس قسم کی روایت بیان کرتے ہیں، لیکن وہ بھی بیان کرتے ہیں کہ موت کے ذبح ہونے کا یہ وقوعہ اس وقت پیش آئے گا، جب سفارشیں ہو چکی ہوں گی اور عارضی طور پر جہنم میں جانے والے جہنم سے باہر آ چکے ہوں گے۔

13335

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #13335

Sahih

۔ (۱۳۳۳۵)۔ وَعَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ وَاَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((یُنَادِیْ مُنَادٍ: اَنَّ لَکُمْ اَنْ تَحْیَوْا فَلَاتَمُوْتُوْا اَبَدًا وَاِنَّ لَکُمْ اَنْ تَصِحُّوْا فَلَاتَسْقَمُوْا اَبَدًا وَاَنَّ لَکُمْ اَنْ تَشِبُّوْا وَلَاتَہْرَمُوْا وَاِنَّ لَکُمْ اَنْ تَنَعَّمُوْا وَلَاتَبْأَسُوْا اَبَدًا، فَذٰلِکَ قَوْلُ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ { وَنُوْدُوْا اَنْ تِلْکُمُ الْجَنَّۃُ اُوْرِثْتُمُوْھَا بِمَاکُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۔} [الاعراف: ۴۳]۔)) (مسند احمد: ۱۱۹۲۷)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک اعلان کرنے والا اعلان کرے گا: اے جنت والو! اب تم ہمیشہ زندہ رہو گے، کبھی مرو گے نہیں،تم تندرست رہو گے، کبھی بیمار نہیں ہو گے، تم ہمیشہ جوان رہو گے کبھی بوڑھے نہیں ہو گے، تم ہمیشہ خوشحال رہو گے، کبھی بدحال نہیں ہو گے، اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کا یہی مفہوم ہے: { وَنُوْدُوْا اَنْ تِلْکُمُ الْجَنَّۃُ اُوْرِثْتُمُوْھَا بِمَاکُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۔} (اور اعلان کر کے ان سے کہاجائے گا کہ تمہیں تمہارے اعمال کے نتیجے میں اس جنت کا وارث بنایا گیا)۔