Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 177 · Chapter 2763

جہنم اور جنت کے متعلقہ مسائل

جنت میں سب سے پہلے داخل ہونے والے لوگوں اور ان کی صفات کا تذکرہ

8 hadiths in this chapter

13297

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #13297

Sahih

۔ (۱۳۲۹۷)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((آتِیْ بَابَ الْجَنَّۃِیَوْمَ الْقِیَامَۃِ، فَاَسْتَفْتِحُ فَیَقُوْلُ الْخَازِنُ: مَنْ اَنْتَ؟ قَالَ: فَاَقُوْلُ: مُحَمَّدٌ، قَالَ: یَقُوْلُ: بِکَ اُمِرْتُ اَنْ لَّااَفْتَحَ لِاَحَدٍ قَبْلَکَ۔)) (مسند احمد: ۱۲۴۲۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں قیامت کے دن جنت کے دروازے پر جا کر دروازہ کھولنے کا مطالبہ کروں گا، دروازے کا نگہبان پوچھے گا:تم کون ہو؟میں کہوں گا: جی میں محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہوں، وہ کہے گا: آپ کے بارے میں ہی مجھے حکم دیا گیا تھا کہ میں آپ سے پہلے کسی کے لیے دروازہ نہ کھولوں۔

13298

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #13298

Sahih

۔ (۱۳۲۹۸)۔ وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((نَحْنُ الْآخِرُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ،نَحْنُ اَوَّلُ النَّاسِ دُخُوْلًا الْجَنَّۃَ، بَیْدَ اَنَّہُمْ اُوْتُوا الْکِتَابَ مِنْ قَبْلِنَا وَاُوْتِیْنَاہُ مِنْ بَعْدِھِمْ، فَہَدَانَا اللّٰہُ لِمَا اخْتَلَفُوْا فِیْہِ مِنَ الْحَقِّ بِاِذْنِہٖ،فَہٰذَاالْیَوْمُ الَّذِیْ ہَدَانَا اللّٰہُ لَہُ وَالنَّاسُ لَنَا فِیْہِ تَبَعٌ، غَدًا لِلْیَہُوْدِ وَبَعْدَ غَدٍ لِلنَّصَارٰی۔)) (مسند احمد: ۷۶۹۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہم زمانہ کے لحاظ سے سب سے آخر میں آئے ہیں، تاہم قیامت کے دن ہم سب سے پہلے جنت میں داخل ہوں گے، بس فرق یہ ہے کہ ان لوگوں کو ہم سے پہلے کتاب دی گئی تھی اور ہمیں بعد میں دی گئی، ان لوگوں نے جس دن کے بارے میں آپس میں اختلاف کیا تھا، اللہ تعالیٰ نے اس معاملے میں ہماری رہنمائی فرما دی اور لوگ اس سلسلے میں ہمارے تابع ہیں، (پہلا دن جمعہ ہے، جو کہ ہمارا ہے)، اس سے اگلا دن (ہفتہ) یہودیوں کا ہے اور اس سے اگلا دن (اتوار) عیسائیوں کا ہے۔

13299

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #13299

Sahih

۔

13300

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #13300

Sahih

۔ (۱۳۳۰۰)۔ وَعَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرِ و بْنِ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((ھَلْ تَدْرُوْنَ اَوَّلَ مَنْ یَّدْخُلُ الْجَنَّۃَ مِنْ خَلْقِ اللّٰہِ؟ قَالُوْا: اَللّٰہُ وَرَسُوْلُہُ اَعْلَمُ، قَالَ: ((اَوَّلُ مَنْ یَّدْخُلُ الْجَنَّۃَ مِنْ خَلْقِ اللّٰہِ الْفُقَرَائُ وَالْمُہَاجِرُوْنَ الَّذِیْنَ تُسَدُّ بِہِمُ الثُّغُوْرُ وَیُتَّقٰی بِہِمُ الْمَکَارِہُ وَیَمُوْتُ اَحَدُھُمْ وَحَاجَتُہُ فِیْ صَدْرِہٖلَایَسْتَطِیْعُ لَھَا قَضَائً، فَیَقُوْلُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ لِمَنْ یَّشَائُ مِنْ مَلَائِکَتِہٖ: اِئْتُوْھُمْ فَحَیُّوْھُمْ، فَتَقُوْلُ الْمَلَائِکَۃُ: نَحْنُ سُکَّانُ سَمَائِکَ وَخِیَرَتُکَ مِنْ خَلْقِکَ، اَفَتَاْمُرُنَا اَنْ نَّاْتِیَ ھٰؤُلَائِ فَنُسَلِّمُ عَلَیْہِمْ؟ قَالَ: اِنَّہُمْ کَانُوْا عِبَادًا یَعْبُدُوْنِیِّ، لَایُشْرِکُوْنَبِیْ شَیْئًا وَتُسَدُّ بِہِمُ الثُّغُوْرُ وَیُتَّقٰی بِہِمُ الْمَکَارِہُ وَیَمُوْتُ اَحَدُھُمْ وَحَاجَتُہُ فِیْ صَدْرِہٖلَایَسْتَطِیْعُ لَھَا قَضَائً، قَالَ: فَتَاْتِیْہِمُ الْمَلَائِکَۃُ عِنْدَ ذٰلِکَ فَیَدْخُلُوْنَ عَلَیْہِمْ مِنْ کُلِّ بَابٍ: {سَلَامٌ عَلَیْکُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَی الدَّارِ} [الرعد: ۲۴]۔)) (مسند احمد: ۶۵۷۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے سب سے پہلے جنت میں کون جائے گا؟ صحابہ کرام نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سب سے پہلے وہ فقراء اور مہاجرین جنت میں جائیں گے، جن کے ذریعے سرحدات کو تحفظ دیا جاتا ہے اور جن کے واسطے سے (دشمنوں کے) ناپسندیدہ امور سے بچا جاتا ہے، جبکہ وہ خود اس حال میں دنیا سے رخصت ہوجاتے ہیں کہ ان کی خواہشات ان کے دلوں میں ہی رہ جاتی ہیں اور وہ اپنی خواہشات کو پورا کرنے کی طاقت ہی نہیں رکھتے، اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں کو حکم دے گا کہ جا کر ان لوگوں کو سلام کہو، فرشتے کہیں گے: اے اللہ!ہم تیرے آسمان کے رہنے والے ہیں اور تیری بہترین مخلوق ہیں، کیا تو ہمیں اس بات کا حکم دیتا ہے کہ ہم ان لوگوں کے پاس جا کر انہیں سلام کریں؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: یہ وہ لوگ ہیں، جو میری عبادت کیا کرتے تھے، میرے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتے تھے، ان کے ذریعے سرحدات کو تحفظ دیا جاتا تھا اور ان کے واسطے سے ناپسندیدہ امور سے بچا جاتا تھا، جبکہ یہ خود اس حال میں وفات پا گئے تھے کہ ان کی خواہشات ان کے دلوں میں ہی رہ گئی تھیں اور وہ اپنی خواہشات کو پورا کرنے کی طاقت ہی نہیں رکھتے تھے، اس کے بعد یہ فرشتے ان کے پاس آئیں گے اور ہر دروازے سے داخل ہو کر یوں سلام پیش کریں گے: {سَلٰمٌ عَلَیْکُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَی الدَّارِ} (تم دنیا میں جو صبر کرتے رہے، اس کی وجہ سے تم پر سلام ہو، یہ تمہارا بہترین ٹھکانہ اور منزل ہے۔) (سورۂ رعد: ۲۲،۲۳)

13301

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #13301

Sahih

۔ (۱۳۳۰۱)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ) قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّ اَوَّلَ ثُلَّۃٍ تَدْخُلُ الْجَنَّۃَ لَفُقَرَائُ الْمُہَاجِرِیْنَ الَّذِیْنَیُتَّقٰی بِہِمُ الْمَکَارِہُ وَاِذَا اُمِرُوْا سَمِعُوْا وَاَطَاعُوْا وَاِذَا کَانَتْ لِرَجُلٍ مِّنْہُمْ حَاجَۃٌ اِلَی السُّلْطَانِ لَمْ تُقْضَ لَہُ حَتّٰییَمُوْتَ وَھِیَ فِیْ صَدْرِہٖوَاِنَّاللّٰہَعَزَّوَجَلَّیَدْْعُوْیَوْمَ الْقِیَامَۃِ الْجَنَّۃَ فَتَاْتِیْ بِزُخْرُفِہَا وَزِیْنَتِہَا، فَیَقُوْلُ: اَیْ عِبَادِیَ الَّذِیْنَ قَاتَلُوْا فِیْ سَبِیْلِیْ وَقُتِلُوْا وَاُوْذُوْا فِیْ سَبِیْلِیْ وَجَاھَدُوْا فِیْ سَبِیْلِیْ، اُدْخُلُوْا الْجَنَّۃَ فَیَدْخُلُوْنَہَا بِغَیْرِ حِسَابٍوَلَاعَذَابٍ ، …۔)) وَذَکَرَالْحَدِیْثَ۔ (مسند احمد: ۶۵۷۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جنت میں سب سے پہلے داخل ہونے والا گروہ ان فقراء مہاجرین کا ہوگا کہ جن کے ذریعے ناپسندیدہ امور سے بچا جاتا تھا،ان کو جب کوئی حکم دیا جاتا تھا تو یہ سنتے اور اس کی اطاعت کرتے، لیکن اگر ان میں سے کسی کو کسی بادشاہ سے کام پڑ جاتا تو مرتے دم تک اس کا کام نہیں کیا جاتا تھا، اور وہ اپنی خواہش دل میں ہی دبائے فوت ہو جاتا تھا، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ جنت کو بلائے گا، چنانچہ وہ اپنی تمام آرائشوں اور زینتوں کے ساتھ آئے گی، پھر اللہ تعالیٰ کہے گا: اے میرے وہ بندو! جنہوں نے میری راہ میں قتال کیا اور مارے گئے اور میری راہ میں جن کو ایذائیں دی گئیں اور جنہوں نے میری راہ میں جہاد کیا، جنت میں داخل ہو جاؤ، چنانچہ وہ حساب اور عذاب کے بغیر جنت میں داخل ہو جائیں گے، …۔

13302

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #13302

Sahih

۔ (۱۳۳۰۲)۔ وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَوَّلُ زُمْرَۃٍ تَلِجُ الْجَنَّۃَ صُوْرَتُہُمْ عَلٰی صُوْرَۃِ الْقَمَرِ لَیْلَۃَ الْبَدْرِ لَایَبْصُقُوْنَ وَلَایَتْفِلُوْنَ فِیْہَا وَلَایَتَخَمَّطُوْنَ فِیْہَا وَلَایَتَغَوَّطُوْنَ فِیْہَا، آنِیَتُہُمْ وَاَمْشَاطُہُمُ الذَّھَبُ وَالْفِضَّۃُ وَمَجَامِرُھُمُ الْاُلُوَّۃُ وَرَشْحُہُمُ الْمِسْکُ، وَلِکُلِّ وَاحِدٍ مِّنْہُمْ زَوْجَتَانِ یُرٰی مُخُّ سَاقَیْہِمَا مِنْ وَّرَائِ اللَّحْمِ مِنَ الْحُسْنِ لَااخْتِلَافَ بَیْنَہُمْ وَلَاتَبَاغُضَ، قُلُوْبُہُمْ عَلٰی قَلْبٍ وَاحِدٍ یُسَبِّحُوْنَ اللّٰہَ بُکْرَۃً وَعَشِیًّا۔)) (مسند احمد: ۸۱۸۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جنت میں داخل ہونے والے سب سے پہلے گروہ کی صورتیں چودھویں شب کے چاند کی طرح روشن ہوں گی، ان کو جنت میں نہ لعاب آئے گا، نہ وہ وہاں تھوکیں گے، نہ ان کے ناکوں میں کوئی فضلہ ہوگا اور نہ وہ قضائے حاجت کریں گے، ان کے استعمال کے برتن اور کنگھیاں سونے اور چاندی کی ہوں گی، ان کی انگیٹھیوں میں (جلانے کے لئے) خوشبودار لکڑی ہو گی، ان کا پسینہ کستوری ہو گا، ہر جنتی کی دو دو بیویاں ہوں گی، ان کے حسن و لطافت کی بناء پر ان کی پنڈلیوں کا گودا گوشت میں سے نظر آ رہا ہوگا، اہل جنت کا آپس میں کسی قسم کا اختلاف یا جھگڑا نہیں ہوگا۔ ان کے دل ایک دوسرے کے بغض سے یکسر پاک صاف ہوں گے گویا ان سب کا دل ایک ہوگا۔ وہ صبح شام اللہ تعالیٰ کی تسبیحات کریں گے۔

13303

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #13303

Sahih

۔ (۱۳۳۰۳)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیًْقٍ آخَرَ) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ اَوَّلَ زُمْرَۃٍ تَدْخُلُ الْجَنَّۃَ عَلٰی صُوْرَۃِ الْقَمَرِ لَیْلَۃَ الْبَدْرِ ثُمَّ الَّذِیْنَیَلُوْنَہُمْ عَلٰی اَشَدِّ ضَوْئِ کَوْکَبٍ دُرِّیٍّ فِی السَّمَائِ اِضَائَ ۃً لَایَبُوْلُوْنَ وَلَایَتَغَوَّطُوْنَ وَلَایَتْفُلُوْنَ وَلَایَتَخَمَّطُوْنَ اَمْشَاطُہُمُ اَلذَّھَبُ وَرَشْحُہُمُ الْمِسْکُ وَمَجَامِرُھُمُ الْاُلُوَّۃُ وَاَزْوَاجُہُمُ الْحُوْرُ الْعِیْنُ، اَخْلَاقُہُمْ عَلٰی خَلْقِ رَجُلٍ وَاحِدٍ عَلٰی صُوْرَۃِ اَبِیْہِمْ آدَمَ فِیْ طُوْلِ سِتِّیْنَ ذِرَاعًا۔)) (مسند احمد: ۷۱۶۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جنت میں سب سے پہلے داخل ہونے والے گروہ کے چہرے چودھویں رات کے چاند کی مانند روشن اور صاف ہوں گے، ان سے کم مرتبہ والوں کے چہرے آسمان پر سب سے زیادہ دمکتے ستارے جیسے ہوں گے، وہ جنت میں نہ پیشاب کریں گے،نہ تھوکیں گے، نہ ان کے ناکوں میں کوئی فضلہ ہو گا، ان کی کنگھیاں سونے کی ہوں گی، ان کا پسینہ کستوری ہو گا، ان کی انگیٹھیوں میں (جلانے کے لئے) خوشبودار لکڑی ہو گی اور کی بیویاں موٹی آنکھوں والی حوریں ہوں گی،ان کے اخلاق ایک آدمی کے اخلاق کی مانند ہوں گے ( یعنی ان کا آپس میں کسی قسم کا اختلاف، ناراضگی اور بغض و حسد نہیں ہو گا)، ان سب کے قد ان کے باپ آدم علیہ السلام کے قد جتنا ہو گا، یعنی ساٹھ ہاتھ لمبے ہوں گے۔

13304

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #13304

Sahih

۔ (۱۳۳۰۴)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ) بِنَحْوِہٖوَفِیْہِ ((لِکُلِّ امْرِیئٍ مِّنْہُمْ زَوْجَتَانِ ثِنْتَانِ، یُرٰی مُخُّ سَاقِہِمَا مِنْ وَّرَائِ اللَّحْمِ وَمَا فِی الْجَنَّۃِ اَعْزَبُ۔)) (مسند احمد: ۷۱۵۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (تیسری سند) اس میں ہے: ہرجنتی کی دو دو بیویاں ہوں گی، ان کے گوشت سے ان کی پنڈلیوں کا گودا نظر آ رہا ہو گا اور جنت میں کوئی آدمی بھی بیوی کے بغیر نہیں ہوگا۔