Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 177 · Chapter 2749

جہنم اور جنت کے متعلقہ مسائل

اہل جہنم کے کھانے پینے اوران کے عذاب کی کیفیت اور اس معاملے میں ان کے مابین تفاوت کا بیان

8 hadiths in this chapter

13229

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #13229

Sahih

۔ (۱۳۲۲۹)۔ عَنْ مُجَاہِدٍ اَنَّ النَّاسَ کَانُوْا یَطُوْفُوْنَ بِالْبَیْتِ وَابْنُ عَبَّاسٍ جَالِسٌ مَعَہُ مِحْجَنٌ، فَقَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : (({یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ حَقَّ تُقٰتِہٖوَلَاتَمُوْتُنَّاِلَّاوَاَنْتُمْمُّسْلِمُوْنَ} لَوْاَنَّقَطْرَۃً مِّنَ الزَّقُّوْمِ قُطِرَتْ لَاَمَرَّتْ عَلٰی اَھْلِ الْاَرْضِ عَیْشَہُمْ، کَیْفَ مَنْ لَیْسَ لَھُمْ طَعَامٌ اِلَّا الزَّقُّوْمُ۔)) (مسند احمد: ۲۷۳۵)

اردو ترجمہ · Urdu

مجاہد سے روایت ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ خمد دار چھڑی لیے بیٹھے تھے، جبکہ لوگ بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے، انھوں نے کہا: کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: {یٰـــٓـــاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ حَقَّ تُقٰتِہٖ وَلَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَاَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ} (اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے ڈر جاؤ جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے اور تمہیں موت نہ آئے مگر اس حالت میں کہ تم اسلام پر قائم دائم ہو۔) (سورۂ آل عمران:۱۰۲) اور اگر جہنم کے زقوم کا ایک قطرہ زمین پر ٹپکا دیا جائے تو وہ روئے زمین پر بسنے والوں کی زندگی کو کڑوا کر دے گا، (ذرا سوچو کہ) ان لوگوں کا کیا حال ہوگا جن کی خوراک ہی زقوم ہوگا۔

13230

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #13230

Sahih

۔ (۱۳۲۳۰)۔ وَعَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَوْ اَنَّ دَلْوًا مِنْ غَسَّاقٍ یُہْرَاقُ فِی الدُّنْیَا لَاَنْتَنَ اَھْلَ الدُّنْیَا۔)) (مسند احمد: ۱۱۲۴۹)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر جہنم میں سے پیپ کا ایک ڈول دنیا میں بہا دیا جائے تو تمام دنیا والوں کو اپنی بد بو سے بے چین اور بدبودار کر دے گا۔

13231

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #13231

Zaeef

۔ (۱۳۲۳۱)۔ وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ الْحَمِیْمَ لَیُصَبُّ عَلٰی رُؤُوْ سِہِمْ فَیَنْفُذُ الْجُمْجُمَۃَ حَتّٰییَخْلُصَ اِلٰی جَوْفِہٖفَیَسْلُتُ مَا فِیْ جَوْفِہٖحَتّٰییَمْرُقَ مِنْ قَدَمَیْہِ۔)) (مسند احمد: ۸۸۵۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جہنم کا کھولتا ہوا پانی جہنمیوں کے سروں پر ڈالا جائے گا، وہ کھوپڑی کے اندر سے ہوتا ہوا ان کے پیٹ میں جا پہنچے گا، پھر ان کے پیٹ کے اندر والے اعضاء کو کاٹ اور جلا کر ان کے قدموں کے نیچے سے جا نکلے گا۔

13232

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #13232

Sahih

۔ (۱۳۲۳۲)۔ وَعَنْ اَبِیْ اِسْحٰقَ قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِیْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌یَخْطُبُ وَھُوَ یَقُوْلُ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّ اَھْوَنَ اَھْلِ النَّارِ عَذَابًا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ رَجُلٌ یُجْعَلُ فِی اَخْمَصِ قَدَمَیْہِ نَعْلَانِ مِنْ نَّارٍ یَغْلِیْ مِنْہُمَا دِمَاغُہُ۔)) (مسند احمد: ۱۸۶۰۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا نعمان بن بشیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ایک خطبے میں کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جہنم میں سب سے کم عذاب والا آدمی وہ ہے کہ جس کے پاؤں میں آگ کے دو جوتے پہنا دیئے جائیں گے، جن کی حرارت سے اس کا دماغ کھولنے لگے گا۔

13233

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #13233

Sahih

۔ (۱۳۲۳۳)۔ وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَھْوَنُ اَھْلِ النَّارِ عَذَابًا رَجُلٌ عَلَیْہِ نَعْلَانِ یَغْلِیْ مِنْہُمَا دِمَاغُہُ۔)) (مسند احمد: ۹۵۷۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے فرمایا: جہنم میں سب سے کم اور ہلکے عذاب والا آدمی وہ ہوگا جسے آگ کے جوتے پہنائے جائیں گے اور ان کی وجہ سے اس کا دماغ کھولنے لگے گا۔

13234

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #13234

Sahih

۔ (۱۳۲۳۴)۔ وَعَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ: ((اَھْوَنُ اَھْلِ النَّارِ عَذَابًا رَجُلٌ فِیْ رِجْلَیْہِ نَعْلَانِ یَغْلِیْ مِنْہُمَا دِمَاغُہُ، وَمِنْہُمْ فِی النَّارِ اِلٰی کَعْبَیْہِ مَعَ اِجْرَائِ الْعَذَابِ، وَمِنْہُمْ مَنْ فِی النَّارِ اِلٰی رُکْبَتَیْہِ مَعَ اِجْرَائِ الْعَذَابِ وَمِنْہُمْ مَنْ ھُوَ فِی النَّارِ اِلٰی صَدْرِہٖمَعَاِجْرَائِالْعَذَابِ،وَمِنْہُمْمَنْقَدِاغْتُمِرَفِی النَّارِ۔)) قَالَ عَفَّانٌ: (اَحَدُ الرُّوَاۃِ) ((مَعَ اِجْرَا ئِ الْعَذَابِ قَدِ اغْتُمِرَ۔)) (مسند احمد: ۱۱۱۱۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جہنمیوں میں سب سے کم عذاب والا آدمی وہ ہوگا، جسے آگ کے جوتے پہنائے جائیں گے، ان کی وجہ سے اس کا دماغ کھولنے لگے گا، بعض جہنمی ایسے ہوں گے کہ ان کے ٹخنوں تک آگ ہوگی اور اس کے ساتھ ان کو مزید عذاب بھی دیا جائے گا، بعض کے گھٹنوں تک آگ ہو گی اور اس کے ساتھ اور عذاب بھی دیا جائے گا، بعض کے سینہ تک آگ ہوگی اور اس کے سا تھ ان کو مزید عذاب بھی دیا جائے گا اور بعض تو ایسے ہوں گے کہ مکمل طور پر آگ میں ڈوبے ہوئے ہوں گے اور اس کے ساتھ ساتھ ان کو مزید عذاب بھی دیا جائے گا۔

13235

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #13235

Sahih

۔ (۱۳۲۳۵)۔ وَعَنْ سَمُرَۃَ بْنِ جُنْدُبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّہٗسَمِعَنَبِیَّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّ مِنْہُمْ مَنْ تَاْخُذُہُ النَّارُ اِلٰی کَعْبَیْہِ، وَمِنْہُمْ مَنْ تَاْخُذُہُ النَّارُ اِلٰی رُکْبَتَیْہِ، وَمِنْہُمْ مَنْ تَاْخُذُہُ النَّارُ اِلٰی حُجْزَتِہٖ، وَمِنْہُمْمَنْتَاْخُذُہُالنَّارُاِلٰی تَرْقُوْتِہٖ۔)) (مسنداحمد: ۲۰۳۶۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا سمرہ بن جندب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے،نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بعض جہنمیوں کے ٹخنوں تک ، بعض کے گھٹنوں تک، بعض کی کمر تک اور بعض کے سینہ تک آگ ہوگی۔

13236

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #13236

Sahih

۔ (۱۳۲۳۶)۔ وَعَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((یُنْصَبُ لِلْکَافِرِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مِقْدَارُ خَمْسِیْنَ اَلْفَ سَنَۃٍ کَمَا لَمْ یَعْمَلْ فِی الدُّنْیَا، وَاِنَّ الْکَافِرَ یَرٰی جَہَنَّمَ وَیَظُنُّ اَنَّہَا مُوَاقِعَتُہُ مِنْ مَسِیْرَۃِ اَرْبَعِیْنَ سَنَۃً۔)) (مسند احمد: ۱۱۷۳۷)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کافر کے لیے قیامت کے دن پچاس ہزار سال کی مدت مقرر کی جائے گی، جیسا کہ اس نے دنیا میں عمل نہیں کیا تھا اور کافر جہنم کو دیکھ رہا ہوگا اور اسے یہ خیال آ رہا ہو گا کہ جہنم اسے چالیس برس کی مسافت سے بھی اپنی طرف کھینچ لے گی۔