Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 176 · Chapter 2732

قیامت کے برپا ہونے، صور میں پھونکے جانے اور لوگوں کے قبروں سے اٹھائے جانے کا بیان

محاسبہ کی سختی ، اہل ایمان کا مزید نیکیاں نہ کر لانے پر ندامت اور کفار کی ڈانٹ ڈپٹ کا بیان

8 hadiths in this chapter

13151

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #13151

Sahih

۔ (۱۳۱۵۱)۔ عَنْ عَدِیِّ بْنِ حَاتِمِ نِ الطَّائِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا مِنْکُمْ مِنْ اَحَدٍ اِلَّاسَیُکَلِّمُہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ وَلَیْسَ بَیْنَہُ وَبَیْنَہُ تَرْجُمَانٌ ثُمَّ یَنْظُرُ اَیْمَنَ مِنْہُ فَلَا یَرٰی اِلَّا شَیْئًا قَدَّمَہُ ثُمَّ یَنْظُرُ اَشْاَمَ مِنْہُ فَلَایَرٰی اِلَّا شَیْئًا قَدَّمَہُ ثُمَّ یَنْظُرُ تِلْقَائَ وَجْہِہٖ، فَتَسْتَقْبِلُہُ النَّارُ۔)) قَالَ: فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْکُمْ اَنْ یَّقِیَ وَجْہَہُ النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَۃٍ فَلْیَفْعَلْ۔)) (مسند احمد: ۱۹۵۹۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عدی بن حاتم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عنقریب اللہ تعالیٰ تم میں سے ہر ایک کے ساتھ براہ راست گفتگو کرے گا اور دونوں کے درمیان کوئی ترجمان بھی نہیں ہوگا، اُس دن انسان اپنی دائیں جانب دیکھے گا تو اسے صرف اپنے آگے بھیجے ہوئے اعمال ہی دکھائی دیں گے، پھر وہ اپنی بائیں جانب دیکھے گا، اُدھر بھی اسے صرف اپنے آگے بھیجے ہوئے اعمال ہی نظر آئیں گے، پھر وہ اپنے سامنے دیکھے گا تو آگ اس کا سامنا کر رہی ہوگی۔ پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تم میں سے جوکوئی اپنے آپ کو جہنم سے بچانے کا سامان کر سکتا ہے، تو وہ کرے، خواہ وہ کھجور کے ایک حصے کو صدقہ کرنے کی صورت میں ہو۔

13152

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #13152

Sahih

۔ (۱۳۱۵۲)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا مِنْ حَدِیْثٍ طَوِیْلٍ ذُکِرَ بِتَمَامِہٖفِیْ تَرْجَمَۃِ عَدِیِّ بْنِ حَاتِمٍ مِنْ کِتَابِ الْفَضَائِلِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ اَحَدَکُمْ لَاقِی اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ فَقَائِلٌ: مَا اَقُوْلُ، اَلَمْ اَجْعَلْکَ سَمِیْعًا بَصِیْرًا، اَلَمْ اَجْعَلْ لَّکَ مَالًا وَوَلَدًا، فَمَاذَا قَدَّمْتَ؟ فَیَنْظُرُ مِنْ بَیْنِیَدَیْہِ وَمِنْ خَلْفِہٖوَعَنْیَّمِیْنِہٖ وَعَنْ شِمَالِہٖفَلَایَجِدُ شَیْئًا، فَمَا یَتَّقِی النَّارَ اِلَّا بِوَجْہِہٖ،فَاتَّقُوْاالنَّارَوَلَوْبِشِقِّ تَمْرَۃٍ فَاِنْ لَمْ تَجِدُوْہُ فَبِکَلِمَۃٍ طَیِّبَۃٍ۔)) (مسند احمد: ۱۹۶۰۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عدی بن حاتم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، یہ ایک طویل حدیث ہے، جو کتاب الفضائل میں سیدنا عدی بن حاتم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے حالات کے ضمن میں گزر چکی ہے، اس میں ہے: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میں سے ہر ایک کی اللہ تعالیٰ سے ملاقات ہونے والی ہے، اللہ تعالیٰ کہے گا: کیا میں نے تمہیں سننے والا اور دیکھنے والا نہیں بنایا تھا؟ کیا میں نے تمہیں مال و اولاد سے نہیں نوازا تھا؟ سو تو نے کون سا عمل آگے بھیجا ہے؟ وہ اپنے آگے پیچھے اور دائیں بائیں میں دیکھے گا، لیکن کوئی اچھا عمل اسے دکھائی نہیں دے گا، پھر جب اسے جہنم میں بھیجا جائے گا تو وہ اپنے چہرے سے جہنم سے بچنے کی کوشش کرے گا، لہذا تم جہنم سے بچنے کا سامان کرتے رہو، خواہ وہ کھجور کے ایک حصہ کو صدقہ کرنے کی صورت میں ہو اور اگر تم اتنی چیز کے بھی مالک نہ ہو تو اچھی بات کر لیا کرو۔

13153

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #13153

Sahih

۔ (۱۳۱۵۳)۔ وَعَنْ جُبَیْرِ بْنِ نُفَیْلٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ اَبِیْ عَمِیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ وَکَانَ مِنْ اَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: لَوْ اَنَّ عَبْدًا خَرَّ عَلٰی وَجْہِہٖمِنْیَوْمِ وُلِدَ اِلٰی اَنْ یَّمُوْتَ ھَرَمًا فِیْ طَاعَۃِ اللّٰہِ لَحَقَّرَہُ ذٰلِکَ الْیَوْمَ وَلَوَدَّ اَنَّہُ یُرَدُّ اِلَی الدُّنْیَا کَیْمَایَزْدَادُ مِنَ الْاَجْرِ وَالثَّوَابِ۔ (مسند احمد: ۱۷۸۰۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا محمد بن ابی عمیرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، جو کہ صحابی ٔ رسول تھے، سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: اگر کوئی آدمی اپنے یوم پیدائش سے لے کر بوڑھا ہو کر مرنے تک ساری زندگی اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں چہرے کے بل پڑا رہے، تب بھی وہ قیامت کے دن اس اطاعت کو کم تر سمجھتے ہوئے تمنا کرے گا کہ کاش اسے دنیا میں واپس بھیج دیا جائے تاکہ وہ مزید نیکیاں کر کے زیادہ اجر و ثواب حاصل کر سکے۔

13154

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #13154

Zaeef

۔ (۱۳۱۵۴)۔ وَعَنْ عُتْبَۃَ بْنِ عَبْدٍ السُّلَمِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَوْ اَنَّ رَجُلًا یُجَرُّ عَلٰی وَجْہِہٖمِنْیَوْمِ وُلِدَ اِلٰییَوْمِیَمُوْتُ ھَرَمًا فِیْ مَرْضَاۃِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ لَحَقَّرَہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۷۹۹)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عتبہ بن عبد سلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر کوئی آدمی اپنے یوم پیدائش سے بوڑھا ہو کر مرنے تک ساری زندگی اللہ تعالیٰ کی رضامندی میں چہرے کے بل گھسیٹا جاتا رہے تو وہ اس عمل کو بھی قیامت کے دن معمولی اور کم تر سمجھے گا۔

13155

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #13155

Sahih

۔ (۱۳۱۵۵)۔ وَعَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((یُقَالُ لِلرَّجُلِ مِنْ اَھْلِ النَّارِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ: اَرَاَیْتَ لَوْ کَانَ مَا عَلٰی الْاَرْضِ مِنْ شَیْئٍ، اَنْتَ مُفْتَدِیًا بِہٖ؟قَالَ: فَیَقُوْلُ: نَعَمْ: قَالَ: فَیَقُوْلُ: قَدْ اَرَدْتُّ مِنْکَ اَھْوَنَ مِنْ ذٰلِکَ، قَدْ اَخَذْتُ عَلَیْکَ فِی ظَہْرِ آدَمَ اَنْ لَّا تُشْرِکْ بِیْ شَیْئًا فَاَبَیْتَ اِلَّا اَنْ تُشْرِکَ بِیْ۔)) (مسند احمد: ۱۲۳۱۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کر یم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن ایک جہنمی سے کہا جائے گا: کیا تیرایہ خیال ہے کہ اگر تیرے پاس زمین پر پائے جانے والے سارے خزانے ہوتے تو کیا تو جہنم سے آزاد ہونے کے لیے وہ اس فدیے میں دے دیتا؟ وہ کہے گا: جی ہاں، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میں نے تو تجھ سے اس سے بھی آسان چیز کا مطالبہ کیا تھا، جب تو آدم علیہ السلام کی پشت میں تھا تو میں نے تجھ سے یہ عہد لیا تھا کہ میرے ساتھ شرک نہ کرنا، مگر تو تو میرے ساتھ شرک کرنے پر ہی مصر رہا۔

13156

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #13156

Sahih

۔ (۱۳۱۵۶)۔ وَعَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: سَمِعْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ فِیْ بَعْضِ صَلاَتِہٖ: ((اَللّٰہُمَّ حَاسِبْنِیْ حِسَابًا یَسِیْرًا۔)) فَلَمَّا انْصَرَفَ قُلْتُ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! مَا الْحِسَابُ الْیَسِیْرُ؟ قَالَ: ((اَنْ یَنْظُرَ فِیْ کِتَابِہٖفَیَتَجَاوَزَعَنْہُ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: قَالَ: الرَّجُلُ تُعْرَضُ عَلَیْہِ ذُنُوْبُہُ ثُمَّ یُتَجَاوَزُ لَہُ عَنْہَا) اِنَّ مَنْ نُّوْقِشَ الْحِسَابَ یَوْمَئِذٍیَاعَائِشَۃُ! ھَلَکَ وَکُلُّ مَا یُصِیْبُ الْمُوْمِنَ یُکَفِّرُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ بِہٖعَنْہُحَتّٰی الشَّوْکَۃَ تَشُوْکُہُ۔)) (مسند احمد: ۲۴۷۱۹)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں:میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ایک نماز میں یہ دعا کرتے ہوئے سنا: اَللّٰہُمَّ حَاسِبْنِیْ حِسَابًا یَسِیْرًا۔ (اے اللہ! میراحساب آسان لینا۔ جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو میں نے کہا: اے اللہ کے نبی! آسان حساب سے کیا مراد ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ اس کا نامہ اعمال دیکھے اور درگزر فرمائے (ایک روایت کے مطابق) بندے پر اس کے گناہ پیش کیے جائیں اور پھر ان کو فوراً معاف بھی کر دیا جائے، اے عائشہ! قیامت کے دن جس آدمی سے تفصیلی حساب لیا گیا، وہ تو ہلاک ہو جائے گا، اور (یہ بھی یاد رکھو کہ) مومن کو جوبھی تکلیف یا پریشانی لاحق ہوتی ہے، یہاں تک کہ جب اسے کوئی کانٹا چبھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں اس کے گناہ معاف کر دیتا ہے۔

13157

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #13157

Zaeef

۔ (۱۳۱۵۷)۔ وَعَنْہَا اَیْضًا اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : قَالَ: ((لَا یُحَاسَبُیَوْمَ الْقِیَامَۃِ اَحَدٌ فَیُغْفَرَ لَہُ، یَرَی الْمُسْلِمُ عَمَلَہُ فِیْ قَبْرِہٖوَیَقُوْلُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ: {فَیَوْمَئِذٍ لَایُسْئَلُ عَنْ ذَنْبِہٖاِنْسٌوَلَاجَآنٌّ۔} {فَیُعْرَفُ الْمُجْرِمُوْنَ بِسِیْمَاھُم}۔ [سورۃ الرحمن: ۳۹، ۴۱])) (مسند احمد: ۲۵۲۲۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے راویت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن جس آدمی کا تفصیل سے حساب لیا گیا، اس کی مغفرت نہیں ہوسکے گی، مسلمان اپنی قبر میں اپنے اعمال کو اپنی آنکھوں سے دیکھے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {فَیَوْمَئِذٍ لّاَ یُسْاَلُ عَنْ ذَنْبِہِ اِِنسٌ وَلاَ جَآنٌّ } {اس روز نہ تو کسی انسان سے اس کے گناہوں کے بارے میں پوچھا جائے گا اور نہ کسی جن سے۔) (سورۂ رحمن: ۳۹)نیز فرمایا: {یُعْرَفُ الْمُجْرِمُوْنَ بِسِیمَاہُمْ} (گنہگاروں کو ان کی علامتوں سے ہی پہچان لیا جائے گا۔ (سورۂ رحمن: ۴۱)

13158

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #13158

Sahih

۔ (۱۳۱۵۸)۔ وَعَنْ اَبِیْ مُوْسٰی الْاَشْعَرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((وَالَّذِیْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہٖ! اِنَّ الْمَعْرُوْفَ وَالْمُنْکَرَ خَلِیْقَتَانِیُنْصَبَانِ لِلنَّاسِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ، فَاَمَّا الْمَعْرُوْفُ فَیُبَشِّرُ اَصْحَابَہُ وَیُوْعِدُھُمُ الْخَیْرَ وَاَمَّا الْمُنْکَرُ فَیَقُوْلُ: اِلَیْکُمْ اِلَیْکُمْ وَمَا یَسْتَطِیْعُوْنَ لَہُ اِلَّا لُزُوْمًا۔)) (مسند احمد: ۱۹۷۱۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! بے شک نیکیوں اور گناہوں کو مجسم شکل میں پیدا کر کے قیامت کے دن لوگوں کے سامنے لایا جائے گا۔ نیکی، نیکیاں کرنے والوں کو خوش خبریاں دے گی اور ان سے اچھے انجام کا وعدہ کرے گی اور گناہ ، گنہگاروں سے کہے گا: ہٹ جاؤ، ہٹ جاؤ، مگر وہ اس کے ساتھ ہی چمٹے رہیں گے۔