Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 176 · Chapter 2728

قیامت کے برپا ہونے، صور میں پھونکے جانے اور لوگوں کے قبروں سے اٹھائے جانے کا بیان

عبیداللہ بن زیاد کا پہلے حوض کو تسلیم نہ کرنا، لیکن بعد میں اس کا اپنے اس موقف سے رجوع کر لینا اور حوض کے وجود کی تصدیق کرنا

5 hadiths in this chapter

13131

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #13131

Sahih

۔ (۱۳۱۳۱)۔ عَنْ یَزِیْدَ بْنِ حَیَّانَ عَنْ زَیْدِ بْنِ اَرْقَمَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: بَعَثَ اِلَیَّ عُبَیْدُ اللّٰہِ بْنُ زِیَادٍ فَاَتَیْتُہُ فَقَالَ: مَا اَحَادِیْثُ تُحَدِّثُہَا اَوْ تَرْوِیْہَا عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَانَجِدُھَا فِیْ کِتَابِ اللّٰہِ، تُحَدِّثُ اَنَّ لَہُ حَوْضًا فِی الْجَنَّۃِ،قَالَ: قَدْ حَدَّثَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَوَعَدَنَاہُ قَالَ: کَذَبْتَ وَلٰکِنَّکَ شَیْخٌ، قَدْ خَرَفْتَ قَالَ: اِنِّی قَدْسَمِعَتْہُ اُذُنَایَ وَوَعَاہُ قَلْبِیْ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ کَذَبَ عَلَیَّ مُتَعَمِّدًا فَلْیَتَبَوَّأْ مَقْعَدَہُ مِنْ جَہَنَّمَ۔)) وَمَا کَذَبْتُ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۱۹۴۸۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا زید بن ارقم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: عبیدا للہ بن زیاد نے مجھے بلوایا اور جب میں اس کے پاس گیا تو اس نے کہا: تم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے یہ کیسی کیسی احادیث روایت کرتے ہو، جن کی اصل کا کتاب اللہ میں کوئی ذکر نہیں ہے، تم بیان کرتے ہو کہ جنت میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ایک حوض ہوگا۔ سیدنا زید بن ارقم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں اس کے متعلق بیان کیا اور ہم سے اس کا وعدہ بھی کیا ہے، عبیداللہ نے کہا: تم غلط کہتے ہو، تم بوڑھے ہوگئے ہو اور تمہاری عقل چلی گئی ہے۔ سیدنا زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: یہ بات رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے میرے کانوں نے سنی اور میرے دل نے اسے یاد رکھا ہے، جبکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اس فرمان کا بھی مجھے علم ہے: جس نے جان بوجھ کر میری طرف جھوٹی بات کو منسوب کیا، تو وہ اپنا ٹھکانہ جہنم سے تیار کر لے اور میں اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر جھوٹ نہیں باندھتا۔

13132

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #13132

Sahih

۔ (۱۳۱۳۲)۔ وَعَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ بُرَیْدَۃَ الْاَسْلَمِیِّ قَالَ: شَکَّ عُبَیْدُ اللّٰہِ بْنُ زِیَادٍ فِی الْحَوْضِ، فَاَرْسَلَ اِلٰی اَبِیْ بَرْزَۃَ الْاَسْلَمِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَاَتَاہُ، فَقَالَ لَہُ جُلَسَائُ عُبَیْدِ اللّٰہِ: اِنَّمَا اَرْسَلَ اِلَیْکَ الْاَمِیْرُ لِنَسْاَلَکَ عَنِ الْحَوْضِ، ھَلْ سَمِعْتَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْہِ شَیْئًا؟ قَالَ: نَعَمْ، سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَذْکُرُہُ، فَمَنْ کَذَّبَ بِہٖفَلَاسَقَاہُاللّٰہُمِنْہُ۔ (مسنداحمد: ۲۰۰۰۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبد اللہ بن بریدہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ عبیداللہ بن زیاد کو حوض کے بارے میں شک ہونے لگا، اس لیے اس نے سیدنا ابو برزہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو بلوایا، جب یہ اس کے ہاں گئے تو اس کے ہم نشینوں نے ان سے کہا: امیر نے آپ کو اس لیے بلوایا ہے کہ ہم آپ رضی اللہ عنہ سے حوض کے متعلق دریافت کرنا چاہتے ہیں کہ آیا آپ نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے حوض کے بارے میں کچھ سنا ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس کا ذکر کرتے ہوئے سنا ہے، اور جو اس کوجھٹلائے گا، اللہ تعالیٰ اس کو اس سے نہ پلائے۔

13133

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #13133

Sahih

۔ (۱۳۱۳۳)۔ وَعَنْ اَبِیْ طَالُوْتَ الْعَنَزِیِّ قَالَ: سَمِعْتُ اَبَا بَرْزَۃَ الْاَسْلَمِیَّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ وَخَرَجَ مِنْ عِنْدِ عُبَیْدِ اللّٰہِ بْنِ زِیَادٍ وَھُوَ مُغْضَبٌ فَقَالَ: مَاکُنْتُ اَظُنُّ اَنِّیْ اَعِیْشُ حَتّٰی اَخْلُفَ فِیْ قَوْمٍ یُعَیِّرُوْنِیْ بِصُحْبَۃِ مُحَمَّدٍ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالُوْا: اِنَّ مُحَمَّدِیَّکُمْ ہٰذَا لَدَحْدَاحٌ، سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ فِی الْحَوْضِ، فَمَنْ کَذَّبَ فَلَاسَقَاہُ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی مِنْہُ۔ (مسند احمد: ۲۰۰۱۷)

اردو ترجمہ · Urdu

ابو طالوت عنزی سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:میں نے سیدنا ابو برزہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو غصے کی حالت میں دیکھا، جبکہ وہ اس وقت عبید اللہ بن زیاد کے پاس سے نکل رہے تھے اور کہہ رہے تھے: یہ تو میرا خیال نہیں تھا کہ مجھے اپنی زندگی میں یہ دن بھی دیکھنے پڑیں گے کہ لوگ مجھے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی صحبت کی عار دلائیں گے، یہ میرے بارے میں کہتے ہیں: یہ تمہارا محمدی پست قد والا موٹوہے، جبکہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو حوض کر ذکر کرتے ہوئے سنا تھا، اب جو اس حوض کی تکذیب کرے گا، اللہ تعالیٰ اسے اس سے نہ پلائے۔

13134

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #13134

Sahih

۔ (۱۳۱۳۴)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ اَبِیْ ثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ اَنَا مَعْمَرٌ عَنْ مَطَرٍ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ بُرَیْدَۃَ قَالَ شَکَّ عُبَیْدُاللّٰہِ بْنِ زِیَادٍ فِی الْحَوْضِ فَقَالَ لَہُ اَبُوْ سَبِرَۃ رَجُلٌ مِنْ صَحَابَۃِ عُبَیْدِ اللّٰہِ بْنِ زِیَادٍ: فَاِنَّ اَبَاکَ حِیْنَ انْطَلَقَ وَافِدًا اِلٰی مُعَاوِیَۃَ، اِنْطَلَقْتُ مَعَہُ فَلَقِیْتُ عَبْدَاللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَحَدَّثَنِیْ مِنْ فِیْہِ اِلٰی فِیَّ حَدِیْثًا سَمِعَہُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاَمْلَاَہُ عَلَیَّ وَکَتَبْتُہُ، قَالَ: فَاِنِّیْ اَقْسَمْتُ عَلَیْکَ لَمَا اَعْرَقْتَ ہٰذَا الْبِرْذَوْنَ حَتّٰی تَاْتِیَنِیْ بِالْکِتَابِ، قَالَ: فَرَکِبْتُ الْبِرْذَوْنَ فَرَکَضْتُہُ حَتّٰی عَرَقَ، فَاَتَیْتُہُ بِالْکِتَابِ فَاِذَا فِیْہِ حَدَّثَنِیْ عَبْدُ اللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ اَنَّہُ سَمِعَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ اللّٰہَ یُبْغِضُ الْفُحْشَ وَالتَّفَحُّشَ، وَالَّذِیْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہٖ! لَاتَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰییُخَوَّنَ الْاَمِیْنُ وَیُوْتَمَنُ الْخَائِنُ حَتّٰییَظْہَرَ الْفُحْشُ وَقَطِیْعَۃُ الْاَرْحَامِ وَسُوْئُ الْجِوَارِ، وَالَّذِیْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہٖ! اِنَّ مَثَلَ الْمُوْمِنِ کَمَثَلِ الْقِطْعَۃِ مِنَ الذَّھَبِ نَفَخَ عَلَیْہَا صَاحِبُہَا فَلَمْ تَغَیَّرْ وَلَمْ تَنْقُصْ، وَالَّذِیْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہٖ! اِنَّ مَثَلَ الْمُوْمِنِ لَکَمَثَلِ النَّحْلَۃِ اَکَلَتْ طَیِّبًا وَوَضَعَتْ طَیِّبًا وَوَقَعَتْ فَلَمْ تَکْسِرْ وَلَمْ تَفْسُدْ۔)) قَالَ: ((اَلَا اِنَّ لِیْ حَوْضًا مَا بَیْنَ نَاحِیَتَیْہِ کَمَا بَیْنَ اَیْلَۃَ اِلٰی مَکَّۃَ اَوْ قَالَ صَنْعَائَ اِلَی الْمَدِیْنَۃِ وَاِنَّ فِیْہِ مِنَ الْاَبَارِیْقِ مِلْئَ الْکَوَاکِبِ، ھُوَ اَشَدُّ بَیَاضًا مِنَ اللَّبَنِ، وَاَحْلٰی مِنَ الْعَسَلِ، مَنْ شَرِبَ مِنْہُ لَمْ یَظْمَاْ بَعْدَھَا اَبَدًا۔)) قَالَ اَبُوْ سَبِرَۃَ: فَاَخَذَ عُبَیْدُ اللّٰہِ بْنُ زِیَادٍ اَلْکِتَابَ فَجَزِعْتُ عَلَیْہِ فَلَقِیَنِیْیَحْیٰی بْنُ یَعْمُرَ فَشَکَوْتُ ذٰلِکَ اِلَیْہِ فَقَالَ: وَاللّٰہِ! لَاَنَا اَحْفَظُ لَہُ مِنِّیْ لِسُوْرَۃٍ مِنَ الْقُرْآنِ فَحَدَّثَنِیْ بِہٖکَمَاکَانَفِی الْکِتَابِ سَوَائً۔ (مسند احمد: ۶۸۷۲)

اردو ترجمہ · Urdu

عبد اللہ بن بریدہ کہتے ہیں کہ عبیداللہ بن زیاد کو حوض کو ثر کے بارے میں شک ہوا،اس کے ہم نشینو ں میں سے ابو سبرہ نامی ایک شخص نے اس سے کہا: تمہارا والد جب وفد کی صورت میں سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس گیا تو میں بھی اس کے ساتھ تھا،سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے میری ملاقات ہوئی، انھوں نے براہ راست مجھے ایک حدیث بیان کی، جو انہوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی تھی، انھوں نے مجھے باقاعدہ املا کرائی اور میں نے اسے لکھ لیا۔ عبید اللہ نے کہا:میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر کہتا ہوں کہ تم اس خچر کو اس قدر تیز دوڑاؤ کہ اسے پسینہ آجائے اور اس طرح تم وہ تحریر میرے پاس لے کر آؤ، ابو سبرہ کہتے ہیں: میں خچر پر سوار ہوا اوراسے ایڑی لگائی، یہاں تک کہ اسے خوب پسینہ آگیا اور میں وہ تحریرلے کر اس کے پاس واپس پہنچ گیا، اس میں تحریر تھا کہ مجھے سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فحش کلامی اور تکلف کے ساتھ فحش باتیں کرنے کو انتہائی نا پسند کرتا ہے، اس ذا ت کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک اس طرح نہیں ہو جاتا کہ دیانت دار کو خائن اور خائن کو دیانت دار قرار دیا جائے، فحش کلامی اور تکلف کے ساتھ فحش کلامی عام ہوجائے گی اور قطع رحمی اور ہمسایوں کے ساتھ بدسلوکی بھی عام ہوجائے گی۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! مومن کی مثال سونے کے ایک ٹکڑے کی طرح ہے کہ اگراس کا مالک اس پر پھونک مارے تو وہ نہ تبدیل ہوتا ہے اور نہ اس میں کوئی کمی آتی ہے۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! مومن کی مثال شہد کی مکھی کی سی ہے، جو پاکیزہ چیز کھاتی اور پاکیزہ چیز نکالتی ہے، وہ جہاں بھی بیٹھتی ہے، نہ تو کسی چیز کو توڑتی ہے اور نہ اسے خراب کرتی ہے۔ پھر آپ نے فرمایا: خبردار ! آخر ت میں میرا ایک حوض ہوگا، جس کے دونوں کناروں کے درمیان اتنا فاصلہ ہو گا کہ جتنی مسافت ایلہ اور مکہ مکرمہ کے درمیان یاصنعاء سے مدینہ منورہ کے درمیان ہے اور وہاں پانی پینے کے لیے برتنوں کی تعداد ستاروں سے بھی زیادہ ہوگی، حوض کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ شریں ہوگا، جس نے ایک دفعہ وہ پی لیا، اس کے بعد وہ کبھی بھی پیاس محسو س نہیں کرے گا۔ ابو سبرہ کہتے ہیں: عبیداللہ بن زیاد نے وہ تحریر لے لی اور میں گھبرا گیا، اس کے بعد یحییٰ بن یعمرسے میری ملاقات ہوئی، میں نے ان سے اس چیز کا اظہار کیا، انھوں نے کہا: اللہ کی قسم مجھے یہ حدیث قرآنی سورت کی بہ نسبت بھی زیادہ یاد ہے، پھر انہوں نے مجھے وہ حدیث بعینہٖ اسی طرح بیان کر دی، جیسے وہ اس کتاب میں لکھی ہوئی تھی۔

13135

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #13135

Sahih

۔ (۱۳۱۳۵)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ اَبِیْ ثَنَا یَحْیٰی ثَنَا حُسَیْنُ نِ الْمُعَلِّمُ ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ بُرَیْدَۃَ عَنْ اَبِیْ سَبِرَۃَ قَالَ کَانَ عُبَیْدُ اللّٰہ بْنُ زِیَادٍیَسْاَلُ عَنِ الْحَوْضِ حَوْضِ مُحَمَّدٍ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَکَانَ یُکَذِّبُ بِہٖبَعْدَمَاسَاَلَاَبَابَرْزَۃَ وَالْبَرَائَ بْنَ عَازِبٍ وَعَائِذَ بْنَ عَمْرٍو وَرَجُلًا آخَرَ وَکَانَ یُکَذِّبُ بِہٖ،فَقَالَاَبُوْسَبِرَۃَ: اَنَا اُحَدِّثُکَ بِحَدِیْثٍ فِیْہِ شِفَائُ ہٰذَا، اِنَّ اَبَاکَ بَعَثَ مَعَیَ بِمَالٍ اِلٰی مُعَاوِیَۃَ فَلَقِیْتُ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عَمْرٍو، فَحَدَّثَنِیْ بِمَا سَمِعَ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَاَمْلٰی عَلَیَّ فَکَتَبْتُ بِیَدِیْ فَلَمْ اَزِدْ حَرْفًا وَلَمْ اَنْقُصْ حَرْفًا، حَدَّثَنِیْ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ اللّٰہَ لَایُحِبُّ الْفُحْشَ، فَذَکَرَ نَحْوَہُ وَفِیْہِ: اَلَا اِنَّ مَوْعِدَکُمْ حَوْضِیْ، عَرْضُہُ وَطُوْلُہُ وَاحِدٌ، ھُوَ کَمَا بَیْنَ اَیْلَۃَ وَمَکَّۃَ وَھُوَ مَسِیْرَۃُ شَہْرٍ، فِیْہِ مَثَلُ النُّجُوْمِ أَبَارِیْقُ، شَرَابُہُ اَشَدُّ بَیَاضًامِنَ الْفِضَّۃِ، مَنْ شَرِبَ مِنْہُ مَشْرَبًا لَمْ یَظْمَاْ بَعْدَہُ اَبَدًا۔)) فَقَالَ عُبَیْدُ اللّٰہِ: مَا سَمِعْتُ فِی الْحَوْضِ حَدِیْثًا اَثَبْتَ مِنْ ہٰذَا فَصَدَّقَ بِہٖوَاَخَذَالصَّحِیْفَۃَ فَحَبَسَہَا عِنْدَہُ۔ (مسند احمد: ۶۵۱۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) ابو سبرہ کہتے ہیں: عبیدا للہ بن زیاد، جناب محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے حوض کے بارے میں دریافت کرتا رہتا تھا، وہ اس بارے میں سیدنا ابو برزہ ، سیدنا براء بن عازب ، سیدنا عائذبن عمرو اور ایک اور صحابی سے پوچھ چکا تھا، پھر بھی وہ اس کی تکذیب کیا کرتا تھا۔ ایک دن ابو سبرہ نے اس سے کہا: میں آپ کو ایک حدیث بیان کرتا ہوں، اس میں آپ کے اشکال کا حل موجود ہے، تمہارے والد نے مال دے کر مجھے سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس روانہ کیا تھا، وہاں سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے میری ملاقات ہوگئی تھی، انہوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی ہوئی احادیث مجھے بیان کیں اور ان کی املا بھی کرائی تھیں، میں نے ان احادیث کو اپنے ہاتھ سے لکھ لیا تھا، میں نے ان میں ایک حرف کی بھی کمی بیشی نہیں کی، انھوں نے مجھے بیان کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا ہے: اللہ تعالیٰ فحش کلامی کو پسند نہیں کرتا، …اس سے آگے حدیث پہلی حدیث کی طرح ہے، البتہ اس میں یہ اضافہ ہے: خبردار! میرے ساتھ تمہاری ملاقات میرے حوض پر ہوگی، اس کا طول اور عرض برابر ہے، وہ ایلہ سے مکہ مکرمہ تک کی مسافت جتنا وسیع ہے، یہ ایک مہینے کی مسافت ہے، وہاں آسمان کے تاروں کی تعداد کے برابر پانی پینے کے برتن ہوں گے، اس حوض کا پانی چاندی سے زیادہ سفید ہوگا، جس نے ایک دفعہ وہ پی لیا، اس کے بعد اسے کبھی بھی پیاس محسوس نہیں ہوگی۔ یہ حدیث سن کر عبیداللہ بن زیاد نے کہا: میں نے حوض کوثر کے بارے میں اس سے زیادہ صحیح اور مضبوط حدیث نہیں سنی، پھر اس نے اس کی تصدیق کی اور اس صحیفہ (کتاب) کو لے کر اپنے پاس رکھ لیا۔