Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 176 · Chapter 2725

قیامت کے برپا ہونے، صور میں پھونکے جانے اور لوگوں کے قبروں سے اٹھائے جانے کا بیان

کوثر اور اس کی صفات کا بیان

4 hadiths in this chapter

13123

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #13123

Sahih

۔ (۱۳۱۲۳)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ لَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْکَوْثَرُ نَہْرٌ فِی الْجَنَّۃِ، حَافَتَاہُ مِنْ ذَھَبٍ وَالْمَائُ یَجْرِیْ عَلٰی الْلُّؤْلُؤِ وَمَاؤُہُ اَشَدُّ بَیَاضًا مِنَ اللَّبَنِ وَاَحْلٰی مِنَ الْعَسَلِ۔)) (مسند احمد: ۵۳۵۵)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہم سے فرمایا: جنت میں ایک نہر کا نام کوثر ہے، اس کے دونوں کنارے سونے کے ہیں، اس کا پانی موتیوں پر بہتا ہے، اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے۔

13124

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #13124

Sahih

۔ (۱۳۱۲۴)۔ وَعَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((دَخَلْتُ الْجَنَّۃَ فَاِذَا اَنَا بِنَہْرٍ حَافَتَاہُ خِیَامُ اللُّؤْلُوِ، فَضَرَبْتُ بِیَدِیْ اِلٰی مَایَجْرِیْ فِیْہِ الْمَائُ، فَاِذَا مِسْکٌ اَذْفَرُ، قُلْتُ: مَا ہٰذَا یَاجِبْرِیْلُ!؟ قَالَ: ہٰذَا الْکَوْثَرُ الَّذِیْ اَعْطَاکَہُ اللّٰہُ۔)) (مسند احمد: ۱۳۸۱۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے ، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں جنت میں داخل ہوا، میں نے وہاں ایک ایسی نہر دیکھی، اس کے کنارے خیموں والے موتیوں کے تھے، میں نے اس میں بہتے ہوئے پانی میں ہاتھ ڈالا تو اس میں سے انتہائی تیز مہکنے والی کستوری تھی، میں نے کہا: جبرائیل ! یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: یہ وہ کوثر ہے، جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا کی ہے۔

13125

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #13125

Sahih

۔ (۱۳۱۲۵)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَلْکَوْثَرُ نَہْرٌ فِی الْجَنَّۃِ وَعَدَنِیْہِ رَبِّیْ عَزَّوَجَلَّ۔)) (مسند احمد: ۱۲۰۱۷)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے ، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جنت میں ایک نہر کا نام کوثر ہے اور میرے ربّ نے مجھ سے اس کا وعدہ کیا ہے۔

13126

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #13126

Sahih

۔ (۱۳۱۲۶)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سُئِلَ عَنِ الْکَوْثَرِ؟ فَقَالَ: ((نَہْرٌ اَعْطَانِیْہِ رَبِّیْ، اَشَدُّ بَیَاضًا مِنَ اللَّبَنِ وَاَحْلٰی مِنَ الْعَسَلِ وَفِیْہِ طَیْرٌ کَاَعْنَاقِ الْجُزُرِ۔)) فَقَالَ عُمَرُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّ تِلْکَ لَطَیْرٌ نَاعِمَۃٌ فَقَالَ: ((اَکَلَتُہَا اَنْعَمُ مِنْہَا یَا عُمَرُ!)) (مسند احمد: ۱۳۳۳۹)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کوثر کے متعلق پوچھا گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ ایک نہر ہے، جو میرے ربّ نے مجھے عطا کی ہے، اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ شیریں ہے او راس میں اونٹ کی گردن جیسے بڑے بڑے پرندے ہوں گے۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ پرندے تو بڑے عمدہ ہوں گے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عمر! ان کو کھانے والے ان سے بھی بہتر اور افضل ہوں گے۔