Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 176 · Chapter 2714

قیامت کے برپا ہونے، صور میں پھونکے جانے اور لوگوں کے قبروں سے اٹھائے جانے کا بیان

قیامت کے دن گنہگاروں کے حق میں شفاعت کا بیان قیامت کے دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا اپنی امت کے حق میں شفاعت کرنے کاحریص ہونا

7 hadiths in this chapter

13091

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #13091

Sahih

۔ (۱۳۰۹۱)۔ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ قَالَ: اِجْتَمَعَ اَبُوْ ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ وَکَعْبٌ، فَجَعَلَ اَبُوْھُرَیْرَۃَیَحَدِّثُ کَعْبًا عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَکَعْبٌ یُحَدِّثُ اَبَاھُرَیْرَۃَ عَنِ الْکُتُبِ، قَالَ اَبُوْھُرَیْرَۃَ: قَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لِکُلِّ نَبِیٍّ دَعْوَۃٌ مُسْتَجَابَۃٌ وَاِنِّیْ اخْتَبَاْتُ دَعْوَتِیْ شَفَاعَۃً لِاُمَّتِیْیَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند احمد: ۷۷۰۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدناکعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اکٹھے ہوئے سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، سیدنا کعب کو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی احادیث بیان کرنے لگے اور وہ اِن کو سابقہ کتب کی باتیں سنانے لگے، سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر نبی کے لیے ایک دعا قبول شدہ ہوتی ہے اور میں نے اس دعا کو چھپا رکھا ہے، تاکہ قیامت کے دن اپنی امت کے لیے سفارش کر سکوں۔

13092

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #13092

Sahih

۔ (۱۳۰۹۲)۔ وَعَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((قَدْ اُعْطِیَ کُلُّ نَبِیٍّ عَطِیَّۃً، فَکُلٌّ قَدْ تَعَجَّلَہَا وَاِنِّیْ اَخَّرْتُ عَطِیَّتِیْ شَفَاعَۃً لِاُمَّتِیْ۔)) (مسند احمد: ۱۱۱۶۵)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہر نبی کو ایک قبول شدہ دعا دی گئی ہے، ہر نبی نے اس کے معاملے میں جلدی کی (اور دنیا میں ہی اس کو وصول کر لیا ہے)، البتہ میں نے اپنی امت کے حق میں سفارش کرنے کے لیے اس کو مؤخر کر دیا ہے۔

13093

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #13093

Sahih

۔ (۱۳۰۹۳)۔ وَعَنْ اَبِیْ نَضْرٍ قَالَ: خَطَبَ بِنَا ابْنُ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَلٰی مِنْبَرِ الْبَصْرَۃِ فَقَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّہُ لَمْ یَکُنْ نَبِیٌّ اِلَّا لَہُ دَعْوَۃٌ قَدْ تَنَجَّزَھَا فِی الدُّنْیَا وَاِنِّیْ قَدِ اخْتَبَاْتُ دَعْوَتِیْ شَفَاعَۃًلِاُمَّتِیْ۔)) (مسند احمد: ۲۵۴۶)

اردو ترجمہ · Urdu

ابو نضرہ کہتے ہیں: سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بصرہ کے منبر پر ہم سے خطاب کیا اورکہا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر نبی کو ایک ایک قبول شدہ دعا کرنے کا اختیار دیا گیا، اور ہر ایک نے دنیا ہی میں وہ دعا کرلی، البتہ میں نے اپنی دعا کو امت کے حق میں سفارش کر نے کے لیے چھپا رکھا ہے۔

13094

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #13094

Sahih

۔ (۱۳۰۹۴)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَاَلْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : مَاذَا رَدَّ اِلَیْکَ رَبُّکَ فِی الشَّفَاعَۃِ فَقَالَ: ((وَالَّذِیْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہٖ! لَقَدْ ظَنَنْتُ اَنَّکَ اَوَّلُ مَنْ یَسْاَلُنِیْ عَنْ ذٰلِکَ مِنْ اُمَّتِیْ لِمَا رَاَیْتُ مِنْ حِرْصِکَ عَلٰی الْعِلْمِ، وَالَّذِیْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہٖ! مَا یَہُمُّنِیْ مِنَ انْقِصَافِہِمْ عَلٰی اَبْوَابِ الْجَنَّۃِ اَھَمُّ عِنْدِیْ مِنْ تَمَامِ شَفَاعَتِیْ، وَشَفَاعَتِیْ لِمَنْ شَہِدَ اَنْ لَا اِلَہَ اِلَّا اللّٰہَ مُخْلِصًا یُصَدِّقُ قَلْبُہُ لِسَانَہُ، وَلِسَانُہُ قَلْبَہُ۔)) (مسند احمد: ۸۰۵۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے پوچھا کہ شفاعت کے بارے میں آپ کی درخواست پر آپ کے رب نے آپ کو کیا جواب دیا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم )کی جان ہے! میرا خیال تھا کہ میری امت میں سے تم ہی اس کے بارے میں مجھ سے سب سے پہلے سوال کرو گے، کیونکہ میں نے تم کو علم پر حریص پایا ہے، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھوں میں محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) کی جان ہے! میرے نزدیک جنت کے دروازوں پر لوگوں کے ہجوم کی بہ نسبت اپنی شفاعت کی تکمیل زیادہ اہم ہے اور میری یہ سفارش ہر اس آدمی کے حق میں ہو گی، جو اخلاص سے اللہ تعالیٰ کے معبودِ برحق ہونے کی شہادت اس طرح دیتا ہے کہ اس کا دل، اس کی زبان کی تصدیق کرتا ہے اور اس کی زبان اس کے دل کی۔

13095

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #13095

Zaeef

۔ (۱۳۰۹۵)۔ وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((خُیِّرْتُ بَیْنَ الشَّفَاعَۃِ اَوْ یَدْخُلُ نِصْفُ اُمَّتِیَ الْجَنَّۃَ، فَاخْتَرْتُ الشَّفَاعَۃَ لِاَنَّہَا اَعَمُّ وَاَکْفٰی، اَتَرَوْنَہَا لِلْمُتَّقِیْنَ؟ لَا وَلٰکِنَّہَا لِلْمُتَلَوِّثِیْنَ الْخَطَّاؤُوْنَ۔)) قَالَ زِیَادٌ: اَمَا اِنَّہَا لَحْنٌ وَلٰکِنْ ہٰکَذَا حَدَّثَنَا الَّذِیْ حَدَّثَنَا۔ (مسند احمد: ۵۴۵۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے اِن دو باتوں میں سے ایک کا اختیار دیا گیا، یا تو میں سفارش کرلوں یا پھر میری نصف امت جنت میں چلی جائے، میں نے سفارش کو اختیار کیا، کیونکہ اس میں زیادہ وسعت اور عموم ہے اور یہ زیادہ لوگوں کو کفایت کرنے والی ہے۔ کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ میری یہ سفارش متقی لوگوں کے لیے ہے؟ نہیں نہیں، یہ تو گناہوں میں ملوّث ہو جانے والوں کے لیے ہے، جو خطا کار ہوتے ہیں۔ زیاد نے کہا: اس متن میں الْخَطَّاؤُوْنَ پڑھنا خطا ہے، بہرحال ہمیں بیان کرنے والوں نے ایسے ہی بیان کیا۔

13096

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #13096

Sahih

۔ (۱۳۰۹۶)۔ وَعَنْ اُمِّ حَبِیْبَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((رَاَیْتُ مَا تَلْقٰی اُمَّتِیْ بَعْدِیْ وَسَفْکَ بَعْضِہِمْ دِمَائَ بَعْضٍ وَسَبَقَ ذٰلِکَ مِنَ اللّٰہِ تَعَالٰی کَمَا سَبَقَ لِاُمَمٍ قَبْلَہُمْ، فَسَاَلْتُہُ اَنْ یُّوَلِّیَنِیْ شَفَاعَۃًیَوْمَ الْقِیَامَۃِ فِیْہِمْ فَفَعَلَ۔)) (مسند احمد: ۲۷۹۵۵)

اردو ترجمہ · Urdu

زوجۂ رسول سیدہ ام حبیبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے دیکھا کہ میری امت میرے بعد کیسے کیسے گناہوں میں پڑ جائے گی، یہ ایک دوسرے کا خون بھی بہا دیں گے، اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ فیصلہ اسی طرح ہو چکا ہے، جیسے سابقہ امتوں کے حق میں ہوا تھا، اس لیے میں نے اللہ تعالیٰ سے درخواست کی کہ وہ مجھے قیامت کے دن ان کے حق میں شفاعت کی اجازت دے، سو اس نے میری دعا قبول فرمالی۔

13097

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #13097

Zaeef

۔ (۱۳۰۹۷)۔ وَعَنِ ابْنِ بُرَیْدَۃَ عَنْ اَبِیْہِ بُرَیْدَۃَ الْاَسْلِمِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: دَخَلَ عَلٰی مُعَاوِیَۃَ فَاِذَا رَجُلٌ یَتَکَلَّمُ، فَقَالَ بُرَیْدَۃُ: یَامُعَاوِیَۃُ! فَأْذَنْ لِیْ فِی الْکَلَامِ، فَقَالَ: نَعَمْ وَھُوَ یَرٰی اَنَّہُ سَیَتَکَلَّمُ بِمِثْلِ مَا قَالَ الْآخَرُ، فَقَالَ بُرَیْدَۃُ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنِّیْ لَاَرْجُوْ اَنْ اَشْفَعَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ عَدَدَ مَا عَلٰی الْاَرْضِ مِنْ شَجَرَۃٍ وَمَدَرَۃٍ۔)) قَالَ: اَفَتَرْجُوْھَا اَنْتَ یَا مُعَاوِیَۃُ! وَلَایَرْجُوْھَا عَلِیُّ بْنُ اَبِیْ طَالِبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌؟ (مسند احمد: ۲۳۳۳۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا بریدہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس گئے اور وہاں ایک آدمی (سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بارے میں ناروا گفتگو) کر رہا تھا، سیدنا بریدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: معاویہ! مجھے بات کرنے کی اجازت دو۔ سیدنامعاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: جی کرو بات، جبکہ ان کا خیال یہ تھا کہ یہ بھی اسی آدمی کی طرح بات کریں گے، لیکن سیدہ بریدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا:میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: مجھے امید ہے کہ میں قیامت کے دن روئے زمین پر موجود درختوں اور اینٹوں کے برابر لوگوں کے حق میں شفاعت کروں گا۔ معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ! اب آپ مجھے یہ بتائیں کہ تم اس سفارش کے امیدوار ہوسکتے ہیں اور سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نہیں ہوسکتے؟