Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 176 · Chapter 2710

قیامت کے برپا ہونے، صور میں پھونکے جانے اور لوگوں کے قبروں سے اٹھائے جانے کا بیان

لوگوں کو ان کی قبروں سے اٹھائے جانے ، میدان ِ حشر میں جمع کیے جانے اور ان کی اس وقت کی شدید گھبراہٹ کا بیان لوگوں کو اٹھائے جانے کا اور سب سے پہلے اٹھائے جانے والے بشر کا بیان

8 hadiths in this chapter

13068

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #13068

Sahih

۔ (۱۳۰۶۸)۔ وَعَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((یَاْکُلُ التُّرَابُ کُلَّ شَیْئٍ مِنَ الْاِنْسَانِ اِلَّاعَجْبَ ذَنَبِہِ۔)) قِیْلَ: وَمِثْلُ مَا ھُوَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ!؟ قَالَ: ((مِثْلُ حَبَّۃِ خَرْدَلٍ مِّنْہُ تَنْبُتُوْنَ۔)) (مسند احمد: ۱۱۲۵۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مٹی دم کی جڑ کے آخری حصے کے علاوہ انسان کے پورے جسم کو کھا جاتی ہے۔ کسی نے کہا: اس کی مقدار کیا ہوتی ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: رائی کے دانے کے برابر، تم اسی سے دوبارہ اگو گے۔

13069

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #13069

Sahih

۔ (۱۳۰۶۹)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَنَا سَیِّدُ وُلْدِ آدَمَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَلَافَخْرَ، وَاَنَا اَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْہُ الْاَرْضُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَلَافَخْرَ، وَاَنَا اَوَّلُ شَافِعٍ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَلَافَخْرَ۔)) (مسند احمد: ۱۱۰۰۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن میں اولادِ آدم کا سردار ہوں گا اور مجھے اس پر فخر نہیں ہے، قیامت کے دن سب سے پہلے میری قبر سے زمین پھٹے گی اورمجھے اس پر بھی فخر نہیں ہے اور قیامت کے دن میں ہی سب سے پہلے سفارش کرنے والا ہوں گا اور میں اس پر بھی فخر نہیں کرتا۔

13070

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #13070

Sahih

۔ (۱۳۰۷۰)۔ وَعَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یُبْعَثُ النَّاسُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَالسَّمَائُ تَطِشُّ عَلَیْہِمْ۔)) (مسند احمد: ۱۳۸۵۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن جب لوگوں کو قبروں سے اٹھایا جائے گا تو آسمان ان پر ہلکی ہلکی بارش برسا رہا ہوگا۔

13071

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #13071

Zaeef

۔ (۱۳۰۷۱)۔ وَعَنْ اَبِیْ رَزِیْنٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! کَیْفَیُحْیِی اللّٰہُ الْمَوْتٰی؟ فَقَالَ: ((اَمَا مَرَرْتَ بِوَادٍ مُمَحَّلٍ ثُمَّ مَرَرْتَ بِہٖخَصِیْبًا۔)) قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ: ((ثُمَّ تَمُرُّ بِہِ خَضِرًا۔)) قَالَ: قُلْتُ: بَلٰی، قَالَ: ((کَذٰلِکَ یُحْیِی اللّٰہُ الْمَوْتٰی۔)) (مسند احمد: ۱۶۲۹۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابورزین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ مردوں کو کیسے زندہ کرے گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم کبھی ایسی بے آباد وادی سے گزرے ہو کہ وہاں سے جب دوبارہ گزرے ہو تو وہ سر سبز ہوچکی ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اسی طرح مردوں کو زندہ کرے گا۔

13072

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #13072

Zaeef

۔ (۱۳۰۷۲)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ بِنَحْوِہِ) وَفِیْہِ قَالَ: ((فَکَذٰلِکَ یُحْیِی اللّٰہُ الْمَوْتٰی وَذٰلِکَ آیَتُہُ فِیْ خَلْقِہِ۔)) (مسند احمد: ۱۶۲۹۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) اسی طرح ہی ہے، البتہ اس میں ہے: اسی طرح اللہ تعالیٰ مردوں کو زندہ کرے گا اور یہ مخلوق میں اس کی نشانی ہے۔

13073

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #13073

Sahih

۔ (۱۳۰۷۳)۔ وَعَنْ حَکِیْمِ بْنِ مُعَاوِیَۃَ الْبَہْزِیِّ عَنْ اَبِیْہِ (مُعَاوِیَۃَ بْنِ حَیْدَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ: ((ھٰہُنَا تُحْشَرُوْنَ ثَلَاثًا رُکْبَانًا وَمُشَاۃً وَعَلٰی وُجُوْھِکُمْ تُوْفُوْنَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ سَبْعُوْنَ اُمَّۃً،اَنْتُمْ آخِرُ الْاُمَمِ وَاَکْرَمُہَا عَلَی اللّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی، تَاْتُوْنَ فِی الْقِیَامَۃِ وَعَلٰی اَفْوَاھِکُمْ الْفِدَامُ، اَوَّلُ مَایُعْرِبُ عَنْ اَحَدِکُمْ فَخِذُہُ۔)) قَالَ ابْنُ اَبِیْ بُکَیْرٍ: فَاَشَارَ بِیَدِہٖ اِلَی الشَّامِ فَقَالَ: ((اِلٰی ھٰہُنَا تُحْشَرُوْنَ۔)) (مسند احمد: ۲۰۲۵۸، ۲۰۲۵۹، ۲۰۲۶۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا معاویہ بن حیدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہیں تین طرح سے اٹھایا جائے گا، بعض لوگ سوار ہوں گے، بعض پیدل چلنے والے ہوں گے اور بعض چہروں کے بل چلتے ہوں گے، تم قیامت کے دن ستر کے عدد کو پورا کرو گے، جبکہ تم آخری امت ہو اور تم اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے زیادہ معزز ہو، تمہارے چہروں پرمہریں لگی ہوں گی، سب سے پہلے تمہاری رانیں بولیں گی۔ ابن ابی بکیر نے بیان کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ارضِ شام کی طرف اشارہ کرکے فرمایا: تمہیں وہاں اکٹھا کیا جائے گا۔

13074

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #13074

Sahih

۔ (۱۳۰۷۴)۔ وَعَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قِیْلَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! کَیْفَیُحْشَرُالنَّاسُ عَلٰی وُجُوْھِہِمْ قَالَ: ((اِنَّ الَّذِیْ اَمْشَاھُمْ عَلٰی اَرْجُلِہِمْ قَادِرٌ عَلٰی اَنْ یُمْشِیَہُمْ عَلٰی وُجُوْھِھِمْ۔)) (مسند احمد: ۱۲۷۳۸)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، صحابہ کرام نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! لوگوں کو چہروں کے بل کیسے چلایا جائے گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس ذات نے انہیں پاؤں کے بل چلنے کی طاقت دی ہے، وہ انہیں چہروں کے بل چلانے پر بھی قادر ہے۔

13075

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #13075

Sahih

۔ (۱۳۰۷۵)۔ وَعَنْ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((یُبْعَثُ النَّاسُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فَاَکُوْنُ اَنَا وَاُمَّتِیْ عَلٰی تَلٍّ وَیَکْسُوْنِیْ رَبِّیْ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی حُلَّۃً خَضْرَائَ، ثُمَّ یُوْذَنُ لِیْ فَاَقُوْلُ مَاشَائَ اللّٰہُ اَنْ اَقُوْلَ: فَذٰلِکَ الْمَقَامُ الْمَحْمُوْدُ۔)) (مسند احمد: ۱۵۸۷۵)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا کعب بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب قیامت کے دن لوگوں کو اٹھایا جائے گا تو میں اور میری امت ایک بلند ٹیلے پر ہوں گے، میرا ربّ مجھے سبز رنگ کا لباس پہنائے گا، پھرمجھے اجازت دی جائے گی اور جیسے اللہ تعالیٰ کو منظور ہوگا، میں اس کی تعریف کروں گا، یہی مقامِ محمودہوگا۔