Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 175 · Chapter 2707

قیامت ‘ احوالِ آخرت اور ان سے قبل برپا ہونے والے فتنوں اور علامتوں کا بیان

لوگوں کا زمین میں دھنسا یا جانا اور لوگوں کاکثرت سے بے ہوش ہونا

10 hadiths in this chapter

13049

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #13049

Zaeef

۔ (۱۳۰۴۹)۔ وَعَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ صَحَّارِنِ الْعَبْدِیِّ عَنْ اَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَاتَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰییُخْسَفَ بِقَبَائِلَ، فَیُقَالُ مَنْ بَقِیَ مِنْ بَنِیْ فُلَانٍ۔)) قَالَ: فَعَرَفْتُ حِیْنَ قَالَ قَبَائِلَ اَنَّہَا الْعَرَبُ لِاَنَّ الْعَجَمَ تُنْسَبُ اِلٰی قُرَاھَا۔ (مسند احمد: ۱۶۰۵۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا صحار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک کئی قبائل کو زمین میں دھنسا نہیں دیا جائے گا ، (جب ایک قبیلہ کو دھنسایا جائے گا تو) پوچھا جائے گا کہ بنو فلاں میں سے کون کون بچا ہے؟ سیدنا صحار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے قبائل کا ذکر کیا تو میں پہچان گیا کہ یہ عرب لوگ ہوں گے، کیونکہ عجمی لوگوں کو تو بستیوں کاطرف منسوب کیا جاتا ہے۔

13050

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #13050

Zaeef

۔ (۱۳۰۵۰)۔ وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ اِبْرَاہِیْمَ التَّیْمِیِّ قَالَ: سَمِعْتُ بُقَیْرَۃَ امْرَاَۃَ الْقَعْقَاعِ بْنِ اَبِیْ حَدْرَدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا تَقُوْلُ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلَی الْمِنْبَرِ وَھُوَ یَقُوْلُ: ((اِذَا سَمِعْتُمْ بِجَیْشٍ قَدْ خُسِف بِٖہٖ قَرِیْبًا فَقَدْ اَظَلَّتِ السَّاعَۃُ۔)) (مسند احمد: ۲۷۶۷۰)

اردو ترجمہ · Urdu

قعقاع بن ابی حدرد کی اہلیہ سیدہ بقیرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں:میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو منبر پر یہ فرماتے ہوئے سنا کہ: تم جب سنو کہ تمہارے قریب کسی لشکر کو زمین میں دھنسا دیا گیا ہے، تو سمجھ لینا کہ قیامت تمہارے سروں پر آچکی ہے۔

13051

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #13051

Zaeef

۔ (۱۳۰۵۱)۔ (وَعَنْہَا مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ) اِنِّیْ لَجَالِسَۃٌ فِیْ صُفَّۃِ النِّسَائِ فَسَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَخْطُبُ وَھُوَ یُشِیْرُ بِیَدِہٖ الْیُسْرٰی فَقَالَ: ((یَا اَیُّہَا النَّاسُ! اِذَا سَمِعْتُمْ یُخْسَفُ ہٰہُنَا قَرِیْبًا فَقَدْ اَظَلَّتِ السَّاعَۃُ۔)) (مسند احمد: ۲۷۶۷۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) سیدہ بقیرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: میں عورتوں والے حصے میں بیٹھی ہوئی تھی کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو خطبہ ارشاد فرماتے سنا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بائیں ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے فرما رہے تھے: لوگو ! تم جب سنو کہ یہاں قریب ہی کسی لشکر کو زمین میں دھنسا دیا گیا ہے تو سمجھ لینا کہ قیامت تمہارے سروں پر آچکی ہے۔

13052

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #13052

Sahih

۔ (۱۳۰۵۲)۔ وَعَنْ حُذَیْفَۃَ بْنِ اُسَیْدِ نِ الْغِفَارِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ مَرْفُوْعًا: ((اِنَّ السَّاعَۃَ لَنْ تَقُوْمَ حَتّٰی تَرَوْنَ عَشْرَ آیَاتٍ: خَسْفٌ بِالْمَشْرِقِ وَخَسْفٌ بِالْمَغْرِبِ وَخَسْفٌ فِی جَزِیْرَۃِ الْعَرَبِ وَالدُّخَانُ وَالدَّجَّالُ وَالدَّابَّۃُ وَطُلُوْعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِہَا وَیَاْجُوْجُ وَمَاْجُوْجُ وَنَارٌ تَخْرُجُ مِنْ قَعْرِ عَدَنٍ تُرْحِلُ النَّاسَ۔))اَلْحَدِیْثَ۔ (مسند احمد: ۱۶۲۴۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا حذیفہ بن اسید غفاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک تم یہ دس علامتیں نہیں دیکھ لو گے:مشرق میں دھنسنا، مغرب میں دھنسنا، جریرۂ عرب میں دھنسنا، دھواں، دجال ، چوپایہ، آفتاب کا مغرب کی طرف سے طلوع ہونا، یا جوج و ماجوج اور عدن کے انتہائی مقام سے نکلنے والی آگ، جو لوگوں کو اپنے آگے آگے ہانک کر لے جائے گی، ……۔

13053

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #13053

Sahih

۔ (۱۳۰۵۳)۔ وَعَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((تَکْثُرُ الصَّوَاعِقُ عِنْدَ اقْتِرَابِ السَّاعَۃِ حَتّٰییَاْتِی الرَّجُلُ الْقَوْمَ فَیَقُوْلُ: مَنْ صَعِقَ مِنْکُمُ الْغَدَاۃَ، فَیَقُوْلُوْنَ: صَعِقَ فُلَانٌ وَفُلَانٌ۔)) (مسند احمد: ۱۱۶۴۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت کے قریب بے ہوشیاں بہت زیادہ ہوں گی، یہاں تک کہ ایک آدمی لوگوں کے پاس آکر پوچھے گا: آج صبح تم میں سے کون کون بے ہوش ہوا ہے؟ وہ بتائیں گے کہ فلاں فلاں بیہوش ہوئے ہیں۔

13054

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #13054

Sahih

۔ (۱۳۰۵۴)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((سَتَخْرُجُ نَارٌ مِنْ حَضْرَ مُوْتَ اَوْ مِنْ بَحْرِحَضْرَ مُوْتَ قَبْلَ یَوْمِ الْقِیَامَۃِ تَحْشُرُ النَّاسَ۔)) قَالَ: قُلْنَا: یَارَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَمَاذَا تَاْمُرُنَا؟ قَالَ: ((عَلَیْکُمْبِالشَّامِ۔)) (مسند احمد: ۵۳۷۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کابیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عنقریب قیامت سے پہلے حضر موت یا حضر موت کے سمندر سے ایک آگ نکلے گی، جو لوگوں کو جمع کرے گی۔ سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول ! ایسے وقت میں آپ ہمیں کیا حکم دیں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم اس وقت شام کے علاقے میں سکونت اختیار کرنا۔

13055

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #13055

Sahih

۔ (۱۳۰۵۵)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ) قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((تَخْرُجُ نَارٌ مِنْ حَضْرَمُوْتَ اَوْ بِحَضْرَ مُوْتَ فَتَسُوْقُ النَّاسَ۔)) قُلْنَا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! مَا تَاْمُرُنَا؟ قَالَ: ((عَلَیْکُمْ بِالشَّامِ۔)) (مسند احمد: ۴۵۳۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: حضر موت کے علاقے سے ایک آگ نکلے گی، وہ لوگوں کو ہانک کر لے جائے گی۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ ہمیں اس وقت کے بارے میں کیا حکم دیں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم شام کی سرزمین میں چلے جانا۔

13056

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #13056

Sahih

۔ (۱۳۰۵۶)۔ وَعَنْ حُذَیْفَۃَ بْنِ اُسَیْدٍ قَالَ: قَامَ اَبُوْ ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَقَالَ: یَابَنِیْ غِفَّارٍ! قُوْلُوْا وَلَاتَخْتَلِفُوْا فَاِنَّ الصَّادِقَ وَالْمَصْدُوْقَ حَدَّثَنِیْ: ((اَنَّ النَّاسَ یُحْشَرُوْنَ عَلٰی ثَلَاثَۃِ اَفْوَاجٍ، فَوْجٌ رَاکِبِیْنَ طَاعِمِیْنَ کَاسِیْنَ وَفَوْجٌ یَمْشُوْنَ وَیَسَعَوْنَ وَفَوْجٌ تَسْحَبُہُمُ الْمَلَائِکَۃُ عَلٰی وُجُوْھِہِمْ وَتَحْشُرُھُمْ اِلَی النَّارِ، فَقَالَ قَائِلٌ مِنْہُمْ: ہٰذَانِ قَدْ عَرَفْنَاھُمَا فَمَا بَالُ الَّذِیْنَیَمْشُوْنَ وَیَسَعَوْنَ قَالَ: یُلْقِی اللّٰہُ الْآفَۃَ عَلٰی الظَّہْرِ حَتّٰی لَایَبْقٰی ظَہْرٌ حَتّٰی اِنَّ الرَّجُلَ یَکُوْنُ لَہُ الْحَدِیْقَۃُ الْمُعْجِبَۃُ فَیُعْطِیْہَا بِالشَّارِفِ ذَاتِ الْقَتَبِ فَلَا یَقْدِرُعَلَیْہَا۔)) (مسند احمد: ۲۱۷۸۸)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا حذیفہ بن اسید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کھڑے ہوئے اور کہا: اے بنو غفار! تم درست بات کیا کرو اور آپس میں اختلاف نہ کیا کرو، بے شک صادق و مصدوق یعنی محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے بیان کیا تھا کہ: لوگوں کو تین حصوں میں تقسیم کر کے لایا جائے گا، ایک حصہ ان لوگوں کاہو گا، جو سوار ہوں گے، اللہ کی رحمت کے امیدوار ہوں گے اور لباس بھی پہنا ہوا ہو گا، ایک حصہ وہ لوگ ہوں گے، جو چلتے اور دوڑتے ہوئے آئیں گے اور تیسری قسم کے وہ لوگ ہوں گے۔ جنہیں فرشتے چہروں کے بل گھسیٹ کر جہنم کی طرف لے جائیں گے۔ کسی پوچھنے والے نے پوچھا: ہم ان پہلی اور تیسری قسم کے لوگوں کو تو جانتے ہیں، یہ چلنے والے اور دوڑنے والوں کیسے اور کیوں ہوں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ سواریوں پر آفتیں نازل کرے گا، یہاں سواریاں بہت کم رہ جائیں گے، ایک آدمی کے پاس ایک شاندار باغ ہوگا، وہ ایک پالان والی اونٹنی حاصل کرنے کے لیے وہ سارا باغ دینے کو تیار ہوگا، مگروہ ایسی اونٹنی نہیں پا سکے گا۔

13057

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #13057

Sahih

۔ (۱۳۰۵۷)۔ وَعَنْ رَافِعِ بْنِ بِشْرٍ اَوْ بِسْرِ نِ السُّلَمِیِّ عَنْ اَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((یُوْشِکُ اَنْ تَخْرُجَ نَارٌ مِنْ حُبْسِ سَیْلٍ، تَسِیْرُ سَیْرَ بَطِیْئَۃِ الْاِبِلِ، تَسِیْرُ النَّہَارَ وَتُقِیْمُ اللَّیْلَ، تَغْدُوْ وَتَرُوْحُ،یُقَالُ: غَدَتِ النَّارُ اَیُّہَا النَّاسُ! فَاغْدُوْا، قَالَتِ النَّارُ اَیُّہَا النَّاسُ! فَاَقِیْلُوْا، رَاحَتِ النَّارُ اَیُّہَا النَّاسُ! فَرُوْحُوْا، مَنْ اَدْرَکَتْہُ اََکَلَتْہُ۔)) (مسند احمد: ۱۵۷۴۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا بشر یا بسر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عنقریب ایک آگ حبسِ سیل سے نکلے گی، وہ سست رفتار اونٹ کی طرح چلے گی، وہ دن کو چلے گی اور رات کو ٹھہر جائے گی، وہ صبح و شام کرے گی، کہاجائے گا: لوگو! آگ صبح کو چل پڑی ہے، تم بھی چل پڑو۔ لوگو! اب آگ قیلولہ کرنے لگی ہے، تم بھی سستا لو، اب آگ چل پڑی ہے، تم بھی چل پڑو، جس آدمی کو وہ آگ پا لے گی، اسے جلا دے گی۔

13058

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #13058

Sahih

۔ (۱۳۰۵۸)۔ وَعَنْ حُذَیْفَۃَ بْنِ اُسَیْدِ نِ الْغِفَارِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: اَشْرَفَ عَلَیْنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ غُرْفَۃٍ وَنَحْنُ نَتَذَاکَرُ السَّاعَۃَ فَقَالَ: ((لَا تَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰی تَرَوْنَ عَشْرَ آیَاتٍ: طُلُوْعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِہَا وَالدُّخَانُ وَالدَّابَّۃُ وَخُرُوْجُ یَاْجُوْجَ وَمَاْجُوْجَ وَخُرُوْجُ عِیْسٰی بْنِ مَرْیَمَ وَالدَّجَّالُ وَثَلاَثُ خُسُوْفٍ: خَسْفٌ بِالْمَغْرِبِ، وَخَسْفٌ بِالْمَشْرِقِ وَخَسْفٌ بِجَزِیْرَۃِ الْعَرَبِ وَنَارٌ تَخْرُجُ مِنْ قَعْرِعَدْنٍ تَسُوْقُ اَوْ تَحْشُرُ النَّاسَ، تَبِیْتُ مَعَہُمْ حَیْثُ بَاتُوْا، وَتَقِیْلُ مَعَہُمْ حَیْثُ قَالُوْا۔)) (مسند احمد: ۱۶۲۴۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا حذیفہ بن اسید غفاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم قیامت کا تذکرہ کر رہے تھے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک بالاخانے سے ہماری طرف جھانکا اور پھر فرمایا: تم جب تک یہ دس نشانیاں نہیں دیکھ لیتے، قیامت قائم نہیں ہوگی: آفتاب کا مغرب کی طرف سے طلوع ہونا، دھواں، چوپایہ، یاجوج ماجوج کا خروج، عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا نزول، دجال، ان تین مقامات میں دھنسنے کے واقعات: مغرب میں دھنسنا، مشرق میں دھنسنا اور جزیرۂ عرب میں دھنسنا اور عدن کے انتہائی مقام سے ایک آگ کا نکلنا، جو لوگوں کو ہانک کر لے جائے گی، جہاں لوگ رات گزاریں گے وہ آگ بھی وہاں رات گزارے گی اور جہاں وہ قیلولہ کریں گے وہ بھی وہاں قیلولہ کر ے گی۔