Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 175 · Chapter 2703

قیامت ‘ احوالِ آخرت اور ان سے قبل برپا ہونے والے فتنوں اور علامتوں کا بیان

سورج کے مغرب کی طرف سے طلوع ہونے اور توبہ کے دروازے کے بند ہونے کا بیان

9 hadiths in this chapter

13029

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #13029

Sahih

۔ (۱۳۰۲۹)۔ عَنْ اَبِیِْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَا تَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰی تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِہَا، فَاِذَا طَلَعَتْ وَرَآھَا النَّاسُ آمَنَ مَنْ عَلَیْہَا فَذٰلِکَ حِیْنٌ لَایَنْفَعُ نَفْسًا اِیْمَانُہَا لَمْ تَکُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ اَوْ کَسَبَتْ فِیْ اِیْمَانِہَا خَیْرًا۔)) (مسند احمد: ۷۱۶۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے،رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک سورج مغرب کی طرف سے طلوع نہ ہوجائے اور جب یہ مغرب کی طرف سے طلوع ہوگا اور لوگ اسے دیکھ لیں گے تو سب لوگ ایمان لے آئیں گے، مگر یہ ایسا وقت ہوگا کہ کسی ایسے شخص کو اس کا ایما ن لانا فائدہ نہیں دے گا، جو اس سے پہلے ایمان نہیں لایا ہو گا یا اس نے اپنے ایمان میں کوئی اچھا عمل نہیں کیا ہو گا۔

13030

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #13030

Sahih

۔ (۱۳۰۳۰)۔ وَعَنِ ابْنِ السَّعْدِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا تَنْقَطِعُ الْھِجْرَۃُ مَادَامَ الْعَدُوُّ یُقَاتَلُ۔)) فَقَالَ مُعَاوِیَۃُ وَعَبْدُالرَّحْمٰنِ بْنُ عَوْفٍ وَعَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ : اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ الْھِجْرَۃ َخَصْلَتَانِ ، اِحْدَاھُمَا اَنْ تَہْجُرَ السَّیِّئَاتِ وَالْاُخْرٰی اَنْ تُہَاجِرَ اِلَی اللّٰہِ وَرَسُوْلِہِ، وَلَاتَنْقَطِعُ الْھِجْرَۃُ مَا تُقُبِّلَتِ التَّوْبَۃُ وَلَاتَزَالُ التَّوْبَۃُ مَقْبُوْلَۃً حَتّٰی تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنَ الْمَغْرِبِ فَاِذَا طَلَعَتْ، طُبِعَ عَلٰی کُلِّ قَلْبٍ بِمَا فِیْہِ وَکُفِیَ النَّاسُ الْعَمَلَ۔)) (مسند احمد: ۱۶۷۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابن سعدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تک دشمن سے لڑائی جاری رہے گی، اس وقت تک ہجرت منقطع نہیں ہو سکتی۔ اور سیدنامعاویہ، سیدنا عبدالرحمن بن عوف اور سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص نے بیان کیا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہجرت کی دو قسمیں ہیں، ایک یہ کہ تم برائیوں کو ترک کر دو۔ اور دوسری یہ کہ تم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی طرف ہجرت کرو، جب تک اللہ تعالیٰ کے ہاں توبہ قبول ہوتی رہے گی، تب تک ہجرت کا سلسلہ منقطع نہیں ہوگا اور تو بہ اس وقت تک قبول ہوتی رہے گی، جب تک مغرب کی طرف سے سورج طلوع نہیں ہو جاتا اور جب سورج مغرب کی طرف سے طلوع ہوجائے گا، تب ہر دل میں (کفر یا ایمان اور عمل کی صورت میں) جو کچھ ہو گا، اس پر مہر لگا دی جائے گی اور اس وقت لوگوں کو عمل سے بے نیاز کر دیا جائے گا۔

13031

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #13031

Sahih

۔ (۱۳۰۳۱)۔ وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ تَابَ قَبْلَ اَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِہَا تَابَ اللّٰہُ عَلَیْہِ۔)) (مسند احمد: ۹۱۱۹)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے سورج کے مغرب کی طرف سے طلوع ہونے سے پہلے پہلے توبہ کر لی، اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرے گا۔

13032

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #13032

Sahih

۔ (۱۳۰۳۲)۔ وَعَنْ اَبِیْ ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کُنْتُ مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی حِمَارٍ وَعَلَیْہِ بَرْذَعَۃٌ اَوْ قَطِیْفَۃٌ قَالَ: فَذٰلِکَ عِنْدَ غُرُوْبِ الشَّمْسِ فَقَالَ لِیْ: ((یَا اَبَا ذَرٍّ! ھَلْ تَدْرِیْ اَیْنَ تَغِیْبُ ہٰذِہٖ؟)) قَالَ: قُلْتُ: اَللّٰہُ وَرَسُوْلُہُ اَعْلَمُ، قَالَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((فَاِنَّہَا تَغْرُبُ فِیْ عَیْنٍ حَامِئَۃٍ، تَنْطَلِقُ حَتّٰی تَخِرَّ لِرَبِّہَا عَزَّوَجَلَّ سَاجِدَۃً تَحْتَ الْعَرْشِ، فَاِذَا حَانَ خُرُوْجُہَا اَذِنَ اللّٰہُ لَھَا فَتَخْرُجُ فَتَطْلُعُ، فَاِذَا اَرَادَ اَنْ یُّطْلِعَہَا مِنْ حَیْثُ تَغْرُبُ، حَبَسَہَا، فَتَقُوْلُ: یَارَبِّ اِنَّ مَسِیْرِیْ بَعِیْدٌ فَیَقُوْلُ لَھَا: اُطْلُعِیْ مِنْ حَیْثُ غِبْتِ ، فَذٰلِکَ حِیْنٌ لَا یَنْفَعُ نَفْسًا اِیْمَانُہَا۔)) (مسند احمد: ۲۱۷۹۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ گدھے پر سوار تھا، اور اس گدھے پر ایک کمبل چادر تھی (جو جانور کے پالان کے نیچے رکھی جاتی ہے) یہ غروب آفتاب کا وقت تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے فرمایا: ابوذر ! کیا تم جانتے ہو کہ یہ سورج کہاں غروب ہوتا ہے؟ میں نے کہا: جی اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ دلدل والے ایک چشمہ میں غروب ہوتا ہے، پھر یہ چلتے چلتے اللہ تعالیٰ کے عرش کے نیچے جا کر سجدہ ریز ہوتا ہے، جب اس کے طلوع کا وقت ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے طلوع ہونے کی اجازت دیتا ہے اور یہ جا کر طلوع ہوجاتا ہے، لیکن جب اللہ تعالیٰ چاہے گا کہ یہ مغرب ہی کی طرف سے طلوع ہو تو اللہ تعالیٰ اسے روک لے گا، سورج کہے گا: اے رب! میرا سفر بہت طویل ہے، تو اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا: جو جہاں غروب ہوا ہے، وہیں سے طلوع ہو جا، یہ ایسا وقت ہوگا کہ اس وقت ایمان لانا کسی کے لیے مفید نہیں ہوگا۔

13033

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #13033

Sahih

۔ (۱۳۰۳۳)۔ وَعَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((تَطْلُعُ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِھَا وَتَخْرُجُ الدَّابَّۃُ عَلٰی النَّاسِ ضُحًی فَاَیُّہُمَا خَرَجَ قَبْلَ صَاحِبِہٖفَالْاُخْرٰی مِنْہَا قَرِیْبٌ۔)) وَلَااَحْسِبُہُ اِلَّا طُلُوْعَ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِہَا، ھِیَ الَّتِیْ اَوَّلًا۔(مسند احمد: ۶۵۳۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سورج غروب ہونے والے اپنے مقام سے طلوع ہوگا اورچاشت کے وقت ایک جانور ظاہر ہوگا، ان میں سے جو علامت بھی پہلے ظاہر ہو گئی تو دوسری اس کے بعد جلد نمایاں ہوجائے گی۔ سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میرا خیال ہے کہ سورج کا مغرب کی طرف سے طلوع ہونا پہلے ہو گا، یہی پہلی علامت ہو گی۔

13034

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #13034

Sahih

۔ (۱۳۰۳۴)۔ وَعَنْ اَبِیْ زُرْعَۃَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِیْرٍ قَالَ: جَلَسَ ثَلَاثَۃُ نَفَرٍ مِّنَ الْمُسْلِمِیْنَ اِلٰی مَرْوَانَ بِالْمَدِیْنَۃِ فَسَمِعُوْہُ وَھُوَ یُحَدِّثُ فِی الْآیَاتِ، اِنَّ اَوَّلَھَا خُرُوْجُ الدَّجَّالِ قَالَ: فَانْصَرَفَ النَّفَرُ اِلٰی عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَحَدَّثُوْہُ بِالَّذِیْ سَمِعُوْہُ مِنْ مَرْوَانَ فِی الآْیَاتِ فَقَالَ عَبْدُاللّٰہِ: لَمْ یَقُلْ مَرْوَانُ شَیْئًا قَدْ حَفِظْتُ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ مِثْلِ ذٰلِکَ حَدِیْثًا لَمْ اَنْسَہُ بَعْدُ، سَمِعْتُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّ اَوَّلَ الْآیَاتِ خُرُوْجًا طُلُوْعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِہَا وَخُرُوْجُ الدَّابَّۃِ ضُحًی، فَاَیَّتُہُمَا مَا کَانَتْ قَبْلَ صَاحِبَتِہَا فَالْاُخْرٰی عَلٰی اَثَرِھَا۔)) ثُمَّ قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: وَکَانَ یَقْرَاُ الْکِتٰبَ وَاَظُنُّ اُوْلَاھَا خُرُوْجًا طُلُوْعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِہَا وَذٰلِکَ اَنَّہَا کَمَا غَرَبَتْ اَتَتْ تَحْتَ الْعَرْشِ فَسَجَدَتْ وَاسْتَاْذَنَتْ فِی الرُّجُوْعِ فَاِذَنَ لَھَا فِی الرُّجُوْعِ حَتّٰی اِذَا بَدَاَ لِلّٰہِ اَنْ تَطْلُعَ مِنْ مَغْرِبِھَا فَعَلَتْ کَمَا کَانَتْ تَفْعَلُ، اَتَتْ تَحْتَ الْعَرْشِ فَسَجَدَتْ فَاسْتَاْذَنَتْ فِی الرُّجُوْعِ، فَلَمْ یُرَدَّعَلَیْہَا شَیْئٌ، ثُمَّ تَسْتَاْذِنُ فِی الرُّجُوْعِ فَلَا یُرَدُّ عَلَیْہَا شَیْئٌ ثُمَّ تَسْتَاْذِنُ فَلاَ یُرَدُّ عَلَیْہَا شَیْئٌ حَتّٰی اِذَا ذَھَبَ مِنَ اللَّیْلِ مَاشَائَ اللّٰہُ اَنْ یَّذْھَبَ وَعَرَفَتْ اَنَّہُ اِنْ اَذِنَ لَھَا فِی الرُّجُوْعِ لَمْ تُدْرِکِ الْمَشْرِقَ، قَالَتْ: رَبِّ مَا اَبْعَدَ الْمَشْرِقَ، مَنْ لِیْ بِالنَّاسِ حَتّٰی اِذَا صَارَ الْاُفُقُ کَاَنَّہُ طُوِّقَ، اِسْتَاْذَنَتْ فِی الرُّجُوْعِ، فَیُقَالُ لَھَا: مِنْ مَکَانِکَ فَاطْلُعِیْ فَطَلَعَتْ عَلٰی النَّاسِ مِنْ مَغْرِبِہَا ثُمَّ تَلَا عَبْدُاللّٰہِ ہٰذِہِ الْآیَۃَ {یَوْمَیَاْتِیْ بَعْضُ آیَاتِ رَبِّکَ لَا یَنْفَعُ نَفْسًا اِیْمَانُہَا لَمْ تَکُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ اَوْ کَسَبَتْ فِیْ اِیْمَانِہَا خَیْرًا۔}[الأنعام: ۱۵۸] (مسند احمد: ۶۸۸۱)

اردو ترجمہ · Urdu

ابوذرعہ بن عمرو کہتے ہیں: مدینہ منورہ میں تین مسلمان مروان کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، انہوں نے مروان کو سنا وہ علاماتِ قیامت بیان کر رہا تھا، اس نے کہا کہ قیامت کی پہلی علامت دجال کا خروج ہے۔ پھر یہ لوگ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ہاں گئے اور مروان سے سنی ہوئی علامات ِ قیامت کا ذکر ان سے کیا، سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: مروان نے کوئی علمی بات نہیں کہی، ا س بارے میں مجھے اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ایک حدیث یاد ہے، جو مجھے ابھی تک بھولی نہیں ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سب سے پہلی علامتیں جو ظاہر ہوں گی، وہ سورج کا مغرب سے طلوع ہونا اور چاشت کے وقت چوپائے کا نکلنا ہے، ان میں سے جو علامت پہلے ظاہر ہوگی، دوسری اس کے بعد جلد ہی ظاہر ہوجائے گی۔ چونکہ سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آسمانی کتابیں پڑھتے رہتے تھے۔ اس لیے انھوں نے کہا: میرا خیال ہے کہ سب سے پہلی علامت سورج کا مغرب سے طلوع ہونا ہی ہو گا، اس کی وجہ یہ ہے کہ سورج جب غروب ہوتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کے عرش کے نیچے جا کر سجدہ کرتاہے، پھر واپس جانے کی اجازت طلب کرتا ہے اور اسے واپس جانے کی اجازت مل جاتی ہے، جب اللہ تعالیٰ کو یہ منظور ہوگا کہ یہ مغرب کی طرف سے طلوع ہو، تو یہ معمول کے مطابق سارے امور سرانجام دے گا، عرش کے نیچے جا کر سجدہ ریز ہونے کے بعد حسب سابق واپس جانے کی اجازت طلب کرے گا، لیکن اللہ تعالیٰ اسے کوئی جواب نہیں دے گا، یہ دوبارہ اجازت مانگے گا، پھر بھی اسے کوئی جواب نہیں دیا جائے گا، وہ تیسری مرتبہ اجازت مانگے گا ، پھر بھی اسے کوئی جواب نہیں دیا جائے گا، یہاں تک کہ رات کا کچھ حصہ گزر جائے گا اور سورج کو یقین ہوجائے گا کہ اب اگر اسے واپسی کی اجازت مل بھی جائے تو وہ اپنے مقرر وقت پر مشرق تک نہیں پہنچ سکے گا، تو وہ کہے گا: اے میرے رب ! مشرق کس قدر بعید ہے! اب میرا اور لوگوں کا معاملہ، اس کا کیا بنے گا؟ یہاں تک کہ افق جب ایک گول حلقہ کی طرح ہوجائے گا تو وہ پھر ایک دفعہ واپسی کی اجازت طلب کرے گا، اب کی بار اسے کہا جائے گا: آج تم یہیں سے طلوع ہوجاؤ، چنانچہ وہ لوگوں پر مغرب کی طرف سے طلوع ہو جائے گا۔ اس کے بعد سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے یہ آیت تلاوت کی: {یَوْمَ یَاْتِیْ بَعْضُ آیَاتِ رَبِّکَ لَا یَنْفَعُ نَفْسًا اِیْمَانُہَا لَمْ تَکُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ اَوْ کَسَبَتْ فِیْ اِیْمَانِہَا خَیْرًا۔} (سورۂ انعام: ۱۵۸) (جس دن آپ کے رب کی بعض نشانیاں آجائیں گی تو اس وقت کسی ایسے شخص کا ایمان لانا اسے فائدہ نہیں دے گا، جو اس سے پہلے ایمان نہیں لایا ہو گا یا اس نے اپنے ایمان میں کوئی اچھا عمل نہیں کیا ہو گا۔)

13035

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #13035

Sahih

۔ (۱۳۰۳۵)۔ وَعَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالِ نِ الْمُرَادِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّ بِالْمَغْرِبِ بَابًا مَفْتُوْحًا لِلتَّوْبَۃِ مَسِیْرَتُہُ سَبْعُوْنَ سَنَۃً، لَایُغْلَقُ حَتّٰی تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ نَحْوِہٖ۔)) (مسنداحمد: ۱۸۲۶۵)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا صفوان بن عسال مرادی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مغرب کی سمت میں توبہ کے لیے ستر سال کی مسافت پر مشتمل ایک بڑا دروازہ کھلا ہوا ہے، وہ دروازہ سورج کے مغرب کی طرف سے طلوع ہونے تک بند نہیں کیا جائے گا۔

13036

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #13036

Sahih

۔ (۱۳۰۳۶)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ) یَرْفَعُہُ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ جَعَلَ بِالْمَغْرِبِ بَابًا مَسِیْرَۃُ عَرْضِہٖسَبْعُوْنَعَامًالِلتَّوْبَۃِ، لَایُغْلَقُ مَالَمْ تَطْلُعِ الشَّمْسُ قِبَلَہُ وَذٰالِکَ قَوْلُ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ: { یَوْمَیَاْتِیْ بَعْضُ آیَاتِ رَبِّکَ لَایَنْفَعُ نَفْسًا اِیْمَانُہَا} (الانعام: ۱۵۸) (مسند احمد: ۱۸۲۷۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مغرب کی جہت میں توبہ کے لیے ایک دروازہ بنایا ہے، اس کی مسافت ستر سال ہے، وہ اس وقت تک بند نہیں کیا جائے گا، جب تک مغرب کی طرف سے سورج طلوع نہیں ہوجاتا، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا یہی مفہوم ہے: {یَوْمَ یَاْتِیْ بَعْضُ آیَاتِ رَبِّکَ لَایَنْفَعُ نَفْسًا اِیْمَانُہَا} (جس دن تمہارے رب کی بعض نشانیاں آجائیں گی، تو اس وقت کسی ایسے شخص کا ایمان لانا اس کے لیے مفید نہیں ہوگا، جو اس سے پہلے ایمان نہیں لایا ہو گا۔) (الانعام: ۱۵۸)۔

13037

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #13037

Sahih

۔ (۱۳۰۳۷)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ) بِنَحْوِہٖوَفِیْہِ: ((فَتَحَہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ لِلتَّوْبَۃِیَوْمَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَلَا یُغْلِقُہُ حَتّٰی تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْہُ۔)) (مسند احمد: ۱۸۲۷۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (تیسری سند) اسی طرح کی حدیث ہے، البتہ اس میں ہے: اللہ تعالیٰ نے جس دن زمین و آسمان پیدا کیے تھے، اسی دن توبہ کے لیے یہ دروازہ کھولا تھا، اب وہ اس کو اس وقت تک بند نہیں کرے گا، جب تک سورج اس کی طرف سے یعنی مغرب سے طلوع نہیں ہو جاتا۔