Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 175 · Chapter 2696

قیامت ‘ احوالِ آخرت اور ان سے قبل برپا ہونے والے فتنوں اور علامتوں کا بیان

نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے دجال کے ظہور کی خبر دینے اور اس کی جائے ظہور، اوصاف، پیروکار، فتنے اور اس سے ڈرانے وغیرہ کا بیان

24 hadiths in this chapter

12978

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12978

Sahih

۔ (۱۲۹۷۸)۔ وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: وَاللّٰہِ! لَقَدْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَیَکُوْنَنَّ قَبْلَ یَوْمِ الِقِیَامَۃِ الْمَسِیْحُ الدَّجَّالُ وَکَذَّابُوْنَ ثَلاَثُوْنَ اَوْ اَکْثَرُ۔)) (مسند احمد: ۵۶۹۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے،وہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: قیامت سے قبل مسیح دجال کا ظہور ہو گا اور اس کے علاوہ تیس یا اس سے زیادہ کذاب بھی آئیں گے۔

12979

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12979

Sahih

۔ (۱۲۹۷۹)۔ وَعَنْ اَبِیْ بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: حَدَّثَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَنَّ الدَّجَّالَ یَخْرُجُ مِنْ اَرْضٍ بِالْمَشْرِقِ یُقَالُ لَھَا خُرَاسَانَ، یَتْبَعُہُ اَقْوَامٌ کَأَنَّ وُجُوْھَہُمُ الْمَجَانُّ الْمُطْرَقَۃُ۔)) (مسند احمد: ۱۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مشرق کی جہت میں واقع خراسان نامی جگہ سے دجال نمودار ہوگا اور ایسے لوگ اس کی پیروی کریں گے جن کے چہرے ڈھالوں کی طرح چوڑے چپٹے ہوں گے۔

12980

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12980

Sahih

۔ (۱۲۹۸۰)۔ وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((یَاْتِی الْمَسِیْحُ الدَّجَّالُ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ وَھِمَّتُہُ الْمَدِیْنَۃُ حَتّٰی نَزَلَ دُبُرَ اُحُدٍ ثُمَّ تُصَرِّفُ الْمَلَائِکَۃُ وَجْہَہُ قِبَلَ الشَّامِ وَھُنَاکَ یَہْلِکُ۔)) (مسند احمد: ۹۸۹۷)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے،وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مسیح دجال مشرق کی طرف سے آئے گا اور اس کا ہدف مدینہ منورہ ہوگا، لیکن جب وہ احد پہاڑ کے پیچھے پہنچے گا تو فرشتے اس کا رخ شام کی سر زمین کی طرف موڑ دیں گے اور وہ وہیں ہلاک ہو جائے گا۔

12981

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12981

Zaeef

۔ (۱۲۹۸۱)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَیَنْزِلَنَّ الدَّجَّالُ خُوْزَ وَکِرْمَانَ فِی سَبْعِیْنَ اَلْفًا، وُجُوْھُہُمْ کَالْمَجَانِّ الْمُطْرَقَۃِ۔)) (مسند احمد: ۸۴۳۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے،وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دجال ستر ہزار افراد کے ساتھ خوز اور کرمان کے علاقوں میں جاکر ٹھہرے گا، اس کا ساتھ دینے والوں کے چہرے ڈھالوں کی طرح چوڑے چپٹے ہوں گے۔

12982

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12982

Zaeef

۔ (۱۲۹۸۲)۔ وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَنْزِلُ الدَّجَّالُ فِیْ ہٰذَہِ الْسَّبَخَۃِ بِمَرِّ قَنَاۃٍ، فَیَکُوْنُ اَکْثَرُ مَنْ یَّخْرُجُ اِلَیْہِ النِّسَائَ، حَتّٰی اَنَّ الرَّجُلَ لَیَرْجِعُ اِلٰی حَمِیْمِہِ وَاِلٰی اُمِّہِ وَاِبْنَتِہِ وَاُخْتِہِ وَعَمَّتِہِ فَیُوْثِقُہَا رِبَاطًا مَخَافَۃَ اَنْ تَخْرُجَ اِلَیْہِ، ثُمَّ یُسَلِّطُ اللّٰہُ الْمُسْلِمِیْنَ عَلَیْہِ، فَیَقْتُلُوْنَہُ وَیَقْتُلُوْنَ شِیْعَتَہُ، حَتّٰی اَنَّ الْیَہُوْدِیَّیَخْتَبِیئُ تَحْتَ الشَّجَرَۃِ اَوِ الْحَجَرِ فَیَقُوْلُ الْحَجَرُ اَوِ الشَّجَرَۃُ لِلْمُسْلِمِ: ہٰذَا یَہُوْدِیٌّ تَحْتِیْ فَاقْتُلْہُ۔)) (مسند احمد: ۵۳۵۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے ،وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دجال مدینہ منورہ کے قریب وادیٔ قناۃ کے بہاؤ والی جگہ میں شور زدہ جگہ میں آکر ٹھہرے گا، اس کی طرف جانے والوں میں اتنی زیادہ تعداد عورتوں کی ہوگی کہ ایک آدمی اپنے رشتہ داروں، ماں، بیٹی ، بہن، پھوپھی وغیرہ کی طرف جا کر ان کو مضبوطی سے باندھ دے گا، تاکہ ایسا نہ ہو کہ ان میں سے کوئی دجال کی طرف چلی جائے، پھراللہ تعالیٰ مسلمانوں کو اس پر غلبہ عطا کرے گا اور وہ اس کو اور اس کی حمایت کرنے والوں کو قتل کریں گے، یہاں تک کہ جب کوئی یہودی کسی درخت یا پتھر کے پیچھے جا کر چھپے گا تو وہ پتھر یادرخت بول کر مسلمان سے کہے گا: یہ یہودی میرے پیچھے چھپا ہوا ہے، تم اسے قتل کردو۔

12983

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12983

Sahih

۔ (۱۲۹۸۳)۔ وَعَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَخْرُجُ الدَّجَّالُ مِنْ یَہُوْدِیَّۃِ اَصْبَہَانَ مَعَہُ سَبْعُوْنَ اَلْفًا مِنَ الْیَہُوْدِ، عَلَیْہِمُ السِّیْجَانُ۔)) (مسند احمد: ۱۳۳۷۷)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دجال اصبہان کی یہودیوں کی بستی سے ظاہر ہوگا، اس کے ساتھ ستر ہزار یہودی ہوں گے، انھوں نے سبز رنگ کی شالیں کندھوں پر ڈال رکھی ہوں گی۔

12984

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12984

Sahih

۔ (۱۲۹۸۴)۔ وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ سَمِعَ بِالدَّجَّالِ فَلْیَنَأْ مِنْہُ، فَاِنَّ الرَّجُلَ یَاْتِیْہِ وَھُوَ یَحْسِبُ اَنَّہُ مُوْمِنٌ، فَلَا یَزَالُ بِہِ لِمَا مَعَہُ مِنَ الشُّبَہِ حَتّٰییَتَّبِعَہُ۔)) (مسند احمد: ۲۰۱۱۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو کوئی دجال کی آمد کے بارے میں سنے تو وہ اس سے دور دور رہے، کیونکہ اپنے آپ کو مومن سمجھنے والا جب اس کے پاس آئے گا تو اس کے شبہات کی وجہ سے اس کی پیروی کرنے لگ جائے گا۔

12985

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12985

Sahih

۔ (۱۲۹۸۵)۔ وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: اَشْرَفَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی فَلَقٍ مِنْ اَفْلَاقِ الْحَرَّۃِ وَنَحْنُ مَعَہُ فَقَالَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((نِعْمَتِ الْاَرْضُ الْمَدِیْنَۃُ اِذَا خَرَجَ الدَّجَّالُ، عَلٰی کُلِّ نْقَبٍ مِنْ اَنْقَابِہَا مَلَکٌ لَایَدْخُلَہَا، فَاِذَا کَانَ کَذٰلِکَ رَجَفَتِ الْمَدِیْنَۃُ بِاَھْلِہَا ثَلَاثَ رَجَفَاتٍ، لَایَبْقٰی مُنَافِقٌ وَلَامُنَافِقَۃٌ اِلَّاخَرَجَ اِلَیْہِ وَاََکْثَرُ یَعْنِیْ مَنْ یَخْرُجُ اِلَیْہِ النِّسَائُ وَذٰلِکَ یَوْمُ التَّخْلِیْصِ، وَذٰلِکَ یَوْمٌ تَنْفِی الْمَدِیْنَۃُ الْخَبَثَ کَمَا تَنْفِی الْکِیْرُ خَبَثَ الْحَدِیْدِ،یَکُوْنُ مَعَہُ سَبْعُوْنَ اَلْفًا مِنَ الْیَھُوْدِ عَلٰی کُلِّ رَجُلٍ مِنْھُمْ سَاجٌ وَسَیْفٌ مُحَلًّی فَتُضْرَبُ رَقَبَتُہُ بِہٰذَا الضَّرْبِ الَّذِیْ عِنْدَ مُجْتَمَعِ السُّیُوْلِ۔)) ثُمّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا کَانَتْ فِتْنَۃٌ وَلَا تَکُوْنُ حَتّٰی تَقُوْمَ السَّاَعَۃُ اَکْبَرَ مِنْ فِتْنَۃِ الدَّجَّالِ، وَلاَ مِنْ نَبِیٍّ اِلَّا وَقَدْ حَذَّرَ اُمَّتَہُ، وَلَاُخْبِرَنَّکُمْ بِشَیْئٍ مَا اَخْبَرَہُ نَبِیٌّ اُمَّتَہُ قَبْلِیْ۔)) ثُمَّ وَضَعَ یَدَہُ عَلٰی عَیْنِہِ ثُمَّ قَالَ: ((اَشْہَدُ اَنَّ اللَّہَ عَزَّوَجَلَّ لَیْسَ بِاَعْوَرَ۔)) (مسند احمد: ۱۴۱۵۸)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حرّہ کی ایک ہموار جگہ کی طرف جھانکا، ہم بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مدینہ منورہ کی سر زمین بہت اچھی ہے، جب دجال کا ظہور ہوگا تو اس کے ہر راستے پر ایک فرشتہ ہوگا، اس وجہ سے وہ اس میں داخل نہیں ہو سکے گا، جب وہ وقت آئے گا تو مدینہ منورہ اپنے اوپر موجودہ لوگوں کو تین مرتبہ جھٹکے دے گا، اس وجہ سے ہر منافق مرد او رعورت نکل کر دجال کی طرف چلا جائے گا، اس کی طرف جانے والوں میں عورتوں کی تعداد زیادہ ہوگی، وہ یَوْمُ التَّخْلِیْصِ ہوگا، اس دن مدینہ اپنے اندر موجود خبیث لوگوں کو اس طرح الگ کردے گا، جیسے آگ لوہے کی میل کچیل کو دور کر دیتی ہے، دجال کے ساتھ ستر ہزار یہودی ہوں گے، ہر ایک پر ایک مخصوص تاج اور ہر ایک کے پاس خوبصورت تلوار ہوگی، اس کو سیلابوں کے جمع ہونے والی وادی میں قتل کر دیا جائے گا۔ پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہ آج تک ایسا فتنہ برپا ہوا اور نہ قیامت تک ہو گا، جو دجال کے فتنے سے سنگین ہو، ہر نبی نے اپنی اپنی امت کو اس دجال سے ڈرایا ہے، لیکن میں تمہیں اس کی ایسی علامت بتلاتا ہوں کہ جو مجھ سے پہلے کسی نبی نے اپنی امت کو نہیں بتلائی۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا ہاتھ آنکھ پر رکھ کر فرمایا: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کانا نہیں ہے۔

12986

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12986

Zaeef

۔ (۱۲۹۸۶)۔ وَعَنْ مِحْجَنِ بْنِ الْاَدْرَعِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَطَبَ النَّاسَ فَقَالَ: ((یَوْمُ الخَلَاصِ، وَمَا یَوْمُ الخَلَاصِ؟ یَوْمُ الخَلاَصِ، وَمَا یَوْمُ الْخَلَاصِ؟ یَوْمُ الخَلاَصِ، وَمَا یَوْمُ الْخَلَاصِ؟)) ثَلَاثًا فَقِیْلَ لَہُ: وَمَا یَوْمُ الْخَلَاصِ؟ قَالَ: ((یَجِیْیئُ الدَّجَّالُ فَیَصْعَدُ اُحُدًا فَیَنْظُرُ الْمَدِیْنَۃَ فَیَقُوْلُ لِاَصْحَابِہِ مَا تَرَوْنَ ہٰذَا الْقَصْرَ الْاَبْیَضَ، ہٰذَا مَسْجِدُ اَحْمَدَ، ثُمَّ یَاْتِیْ الْمَدِیْنَۃَ، فَیَجِدُ بِکُلِّ نَقْبٍ مِنْہَا مَلَکًا مُصَلِّتًا فَیَاْتِیْ سَبْخَۃَ الْجُرْفِ فَیَضرِبُ رُوَاقَہُ، ثُمَّ تَرْجُفَ الْمَدِیْنَۃُ ثلَاَثَ رَجَفَاتٍ فَلَا یَبْقٰی مُنَافِقٌ وَلاَ مُنَافِقَۃٌ وَلَا فَاسِقٌ وَلَافَاسِقَۃٌ اِلَّا خَرَجَ اِلَیْہِ فَذٰلِکَ یَوْمُ الْخَلَاصِ۔)) (مسند احمد: ۱۹۱۸۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا محجن بن ادرع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لوگوں کو خطبہ دیا اور فرمایا: خلاصی کا دن، بھلا وہ خلاصی کا دن کیا ہے؟ خلاصی کا دن، بھلا وہ خلاصی کا دن کون سا ہے؟ خلاصی کا دن، وہ خلاصی کا دن کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تین مرتبہ یہ جملہ ارشاد فرمایا۔ پھر کسی نے پوچھا: خلاصی کے دن سے کیا مراد ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دجال آ کر احد پر چڑھ جائے گا اور مدینہ منورہ کی طرف دیکھ کر اپنے ساتھیوں سے کہے گا: تم اس سفید محل کو کیا سمجھتے ہو؟ یہ تو احمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مسجدہے، پھر وہ مدینہ کی طرف پیش قدمی کرے گا، لیکن وہ مدینہ کے ہر راستے پر تلوار سونتے ہوئے فرشتے کو دیکھ کر شور والی زمین کی طرف آ جائے گا اور اس کے سامنے والے حصے پر ضرب لگائے گا، پھر مدینہ منورہ (زلزلہ کی طرح) تین جھٹکے لے گا، اس طرح ہر منافق اور فاسق مردو زن، سب نکل کر اس کے پاس چلے جائیں گے، یہ خلاصی کا دن ہو گا۔

12987

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12987

Zaeef

۔ (۱۲۹۸۷)۔ وَعَنْ اَبِیْ الْوَدْکِ قَالَ: قَالَ لِیْ اَبُوْ سَعِیَدٍ (یَعْنِی الْخُدْرِیَّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌): ھَلْ یُقِّرُ الْخَوَارِجُ بِالدَّجَّالِ؟ فَقُلْتُ: لَا، فَقَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنِّیْ خَاتَمُ اَلْفِ نَبِیٍّ وَاَ کْثَرَ، مَا بُعِثَ نَبِیٌّیُتَّبَعُ اِلَّا قَدْ حَذَّرَ اُمَّتَہُ الدَّجَالَ وَاِنِّی قَدْ بُیِّنَ لِیْ مِنْ اَمْرِہِ مَا لَمْ یُبَیَّنْ لِاَحَدٍ وَاِنَّہُ اَعْوَرُ وَاِنَّ رَبَّکُمْ لَیْسَ بِاَعْوَرَ وَعَیْنُہُ الْیُمْنٰی عَوْرَائُ جَاحِظَۃٌ وَلَاتَخْفٰی کَاَنَّہَا نُخَامَۃٌ فِیْ حَائِطٍ مُجَصَّصٍ وَعَیْنُہُ الْیُسْرٰی، کَاَنَّہَا کَوْکَبٌ دُرِّیٌّ مَعَہُ مِنْ کُلِّ لِسَانٍ وَمَعَہُ صُوْرَۃُ الْجَنَّۃِ خَضْرَائُ یَجْرِی فِیْہَا الْمَائُ، وَصُوْرَۃُ النَّارِ سَوْدَائُ تَدْخَنُ۔)) (مسند احمد: ۱۱۷۷۴)

اردو ترجمہ · Urdu

ابو و دک سے روایت ہے کہ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھ سے کہا: کیا خوارج دجال کے ظہور کا اقرار کرتے ہیں؟ میں نے کہا: جی نہیں، انہوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں ایک ہزار بلکہ اس سے زائد نبیوں کے بعد آیا ہوں، ہر نبی، جس کی پیروی کی گئی، نے اپنی امت کو دجال سے خبردار کیا ہے، لیکن مجھے اس کی ایسی ایسی علامتیں بیان کی گئی ہیں جو کسی دوسرے نبی کو نہیں بتلائیں گئی تھیں، (یاد رکھو کہ) دجال کانا ہو گا اور تمہارا رب کانا نہیں ہے،دجال کی داہنی آنکھ بھینگی اور اس طرح نمایاں ہوگی جیسے کسی چونہ گچ دیوار پر بلغم یا کھنکار کا نشان ہو اور اس کی بائیں آنکھ چمکتے ہوئے تارے کی مانند ہوگی، ہر زبان بولنے والے اس کے ساتھ ہوں گے، اس کے پاس جنت کے مشابہ سرسبز باغ ہوگا، جس میں پانی بہہ رہا ہوگا اور جہنم کے مشابہ بھی ایک سیاہ چیز ہو گی، جو دھواں چھوڑ رہی ہو گی۔

12988

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12988

Zaeef

۔ (۱۲۹۸۸)۔ وَعَنْ سَفِیْنَۃَ مَوْلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: خَطَبَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((اَلَا اِنَّہُ لَمْ یَکُنْ نَبِیٌّ قَبْلِیْ اِلَّاوَقَدْ حَذَّرَ الدَّجَّالَ اُمَّتَہُ، ھُوَ اَعْوَرُ عَیْنِہِ الْیُسْرٰی بِعَیْنِہِ الْیُمْنٰی ظَفَرَۃٌ غَلِیْظَۃٌ، مَکْتُوْبٌ بَیْنَ عَیْنَیْہِ کَافِرٌ یَخْرُ جُ مَعَہُ وَادِیَانِ، اَحَدُھُمَا جَنَّۃٌ وَلْاٰخَرُ نَارٌ، فَنَارُہُ جَنَّۃٌ وَجَنَّتُہُ نَارٌ، مَعَہُ مَلَکَانِ مِنَ الْمَلَائِکَۃِیَشْبَہَانِ نَبِیَِّیْنِ مِنَ الْاَنْبِیَائِ، لَوْ شِئْتُ سَمَّیْتُہُمَا بِاَسْمَائِہِمَا وَاَسْمَائِ آبَائِہِمَا، وَاحِدٌ مِنْہُمَا عَنْ یَمِیْنِہِ وَالآْخَرُ عَنْ شِمَالِہِ وَذٰلِکَ فِتْنَۃٌ، فَیَقُوْلُ الدَّجَّالُ: اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ؟ اَلَسْتُ اُحْیِیْ وَاُمِیْتُ؟ فَیَقُوْلُ لَہُ اَحَدُ الْمَلَکَیْنِ: کَذَبْتَ مَا یَسْمَعُہُ اَحَدٌ مِنَ النَّاسِ اِلَّا صَاحِبُہُ، فَیَقُوْلُ لَہُ: صَدَقْتَ، فَیَسْمَعُہُ النَّاسُ فَیَظُنُّوْنَ اِنَّمَا یُصَدِّقُ الدَّجَّالَ، وَذٰلِکَ فِتْنَۃٌ ثُمَّیَسِیْرُ، حَتّٰییَاْتِیَ الْمَدِیْنَۃَ، فَلَا یُوْذَنُ لَہُ فِیْہَا، فَیَقُوْلُ: ہٰذَا قَرْیَۃُ ذٰلِکَ الرَّجُلِ، ثُمَّ یَسِیْرُ حَتّٰییَاْتِیَ الشَّامَ، فَیُہْلِکُہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ عِنْدَ عَقَبَۃِ اَفِیْقَ۔)) (مسند احمد: ۲۲۲۷۵)

اردو ترجمہ · Urdu

مولائے رسول سیدنا سفینہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے ،وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا: مجھ سے قبل جو نبی بھی آیا، اس نے اپنی امت کو دجال سے خبردار کیا ہے، وہ بائیں کانی آنکھ والا ہوگا اور اس کی دائیں آنکھ پر موٹی سی جھلی ہو گی، اس کی آنکھوں کے درمیان کَافِر کا لفظ لکھا ہوگا، اس کے پاس دو وادیاں ہوں گی، ایک اس کی جنت اور دوسری اس کی جہنم ہوگی، مگر اس کی جہنم درحقیقت جنت اور اس کی جنت درحقیقت جہنم ہوگی، اس کے ساتھ دو فرشتے ہوں گے، جو دو نبیوں کے ہم شکل ہوں گے، اگر میں چاہوں تو ان کے اور ان کے آباء کے نام بیان کرسکتا ہوں، ایک دائیں طرف ہوگا اور دوسرا بائیں طرف، یہ بھی ایک آزمائش ہوگی، دجال لوگوں سے کہے گا: کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ کیا میں زندہ کرنے اور مارنے پر قادر نہیں ہوں؟ ایک فرشتہ کہے گا: تو جھوٹ بول رہا ہے، اس بات کو صرف دوسرا فرشتہ ہی سن سکے گا، لوگوں میں سے کوئی نہیں سنے گا، اس کی بات سن کر دوسرا فرشتہ کہے گا: تو نے سچ کہا، اس بات کولوگ سنیں گے تو سہی، لیکن وہ سمجھیں گے کہ وہ فرشتہ دجال کی بات کی تصدیق کر رہا ہے، یہ بھی لوگوں کے لیے ایک آزمائش ہوگی، پھر دجال مدینہ منورہ کی طرف آئے گا، لیکن اسے مدینہ میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ملے گی، وہ کہے گا کہ یہ تو اس آدمی کا شہر ہے، پھر وہ وہاں سے چلے گا اور شام کی سرزمین میں پہنچ جائے گا، اللہ تعالیٰ اسے وہاں اَفِیْق کی گھاٹی میں ہلاک کرے گا۔

12989

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12989

Sahih

۔ (۱۲۹۸۹)۔ وَعَنْ جُنَادَۃَ بْنِ اَبِیْ اُمَیَّۃَ الْاَزْدِیِّ قَالَ: ذَھَبْتُ اَنَا وَرَجُلٌ مِنَ الْاَنْصَارِ اِلٰی رَجُلٍ مِنْ اَصْحَابِ النَّبِیِِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُلْنَا: حَدِّثْنَا مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَذْکُرُ فِی الدَّجَّالِ وَلَاتُحَدِّثْنَا عَنْ غَیْرِہِ وَاِنْ کَانَ مُصَدَّقًا قَالَ: خَطَبَنَا النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((اَنْذَرْتُکُمُ الدَّجَّالَ ثَلاَثًا فَاِنَّہُ لَمْ یَکُنْ نَبِیٌّ قَبْلِیْ اِلَّا قَد اَنْذَرَہُ اُمَّتَہٗوَاِنَّہُفِیْکُمْ اَیُّتُہَا الْاُمَّۃُ، وَاِنَّہُ جَعْدٌ آدَمُ مَمْسُوْحُ الْعَیْنِ، مَعَہُ جَنَّۃٌ وَنَارٌ، فَنَارُہُ جَنَّۃٌ وَجَنَّتُہٗنَارٌوَمَعَہُ جَبَلٌ مِّنْ خُبْزٍ وَنَہْرٌ مِّنْ مَائٍ وَاِنَّہُ یُمْطِرُ الْمَطَرَ وَلَایَنْبُتُ الشَّجَرُ وَاِنَّہُ یُسَلَّطُ عَلٰی نَفْسٍ فَیَقْتُلُہَا وَلَایُسَلَّطُ عَلٰی غَیْرِھَا وَاِنَّہُ یَمْکُثُ فِی الْاَرْضِ اَرْبَعِیْنَ صَبَاحًا، یَبْلُغُ فِیْہَا کَلَّ مَنْہَلٍ وَلَایَقْرُبُ اَرْبَعَۃَ مَسَاجِدَ مَسْجِدَ الْحَرَامِ وَمَسْجِدَ الْمَدِیْنَۃِ وَمَسْجِدَ الطُّوْرِ وَمَسْجِدَ الْاَقْصٰی وَمَا یَشْبَہُ عَلَیْکُمْ فَاِنَّ رَبَّکُمْ لَیْسَ بِاَعْوَرَ۔)) (مسند احمد: ۲۴۰۸۴)

اردو ترجمہ · Urdu

جنادہ بن ابی امیہ ازدی کہتے ہیں: میں اور ایک انصاری شخص، ایک صحابی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس گئے اور ہم نے ان سے کہا:آپ ہمیں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے دجال کے متعلق سنی ہوئی کوئی حدیث بیان کریں، آپ نے کسی اور سے بیان نہیں کرنا، اگرچہ وہ تصدیق شدہ ہو، انھوں نے کہا: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں ایک خطبہ دیا اور اس میں فرمایا: میں تمہیں دجال سے با خبر کر چکاہو، یہ جملہ تین دفعہ فرمایا، مجھ سے پہلے ہر نبی نے اپنی اپنی امت کو اس سے ڈرایا اور خبردار کیا ہے، لیکن اے میری امت! وہ تم میں نکلے گا، اس کے بال گھنگریالے اور اس کا رنگ گندمی ہو گا اور اس کی ایک آنکھ مٹی ہوئی ہوگی، اس کے پاس ایک جنت ہو گی اور ایک جہنم۔ لیکن حقیقت میں اس کی جہنم ،جنت ہو گی اور اس کی جنت ،جہنم ہوگی۔ اس کے پاس روٹیوں کا ایک پہاڑ ہوگا اور پانی کی ایک نہرہوگی، وہ بارش برسا کر دکھائے گا، لیکن اس سے درخت نہیں اگیں گے، اسے ایک آدمی کو قتل کرنے کی طاقت دی جائے گی، اس کے سوا اس کو اس قسم کی طاقت نہیں دی جائے گی، وہ زمین میں چالیس دن گزارے گا اور ہر ہر جگہ پہنچے گا، البتہ اِن چار مساجد کے قریب نہیں جا سکے گا: مسجد حرام، مسجد نبوی، مسجد طور اور مسجد اقصیٰ۔ وہ تمہیں جتنے شبہات میں بھی ڈال دے، تم یاد رکھنا کہ تمہارا ربّ کانا نہیں ہے۔

12990

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12990

Sahih

۔ (۱۲۹۹۰)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ بِنَحْوِہٖ) ((وَیُسَلَّطُ عَلٰی رَجُلٍ فَیَقْتُلُہُ ثُمَّ یُحْیِیْہِ وَلَایُسلَّطُ عَلٰی غَیْرِہِ۔)) (مسند احمد: ۲۴۰۸۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) اسی طرح حدیث مروی ہے، البتہ اس میں یہ الفاظ اس طرح ہیں: دجال کو ایک آدمی پر اس طرح مسلط کیا جائے گا کہ وہ اسے قتل کرنے کے بعد دوبارہ زندہ کر سکے گا، اس کے بعد اسے اس قسم کی طاقت نہیں دی جائے گی۔

12991

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12991

Sahih

۔ (۱۲۹۹۱)۔ وَعَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ الدَّجَّالَ اَعْوَرُ الْعَیْنِ الشِّمَالِ، عَلَیْہَا ظَفَرَۃٌ غَلِیْظَۃٌ، مَکْتُوْبٌ بَیْنَ عَیْنَیْہِ کَافِرٌ اَوْ قَالَ: کُفْرٌ۔)) (مسند احمد: ۱۲۱۶۹)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دجال بائیں آنکھ سے کانا ہوگا،اس کی اس آنکھ پر موٹی سی جھلی ہو گی اور اس کی آنکھوں کے درمیان کَافِرٌ یا کُفْرٌ۔ لکھا ہو گا۔

12992

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12992

Sahih

۔ (۱۲۹۹۲)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ) اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَلدَّجَّالُ اَعْوَرُ وَاِنَّ رَبَّکُمْ لَیْسَ بِاَعْوَرَ، مَکْتُوْبٌ بَیْنَ عَیْنَیْہِ کَافِرٌ یَقْرَؤُہٗ کُلُّ مُوْمِنٍ کَاتِبٌ وَغَیْرُکَاتِبٍ۔)) (مسند احمد: ۱۳۴۱۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دجال کانا ہو گا اور تمہارا ربّ کانا نہیں ہے، اس کی آنکھوں کے درمیان کَافِرٌ لکھا ہوا ہوگا، جسے ہر پڑھا لکھا اور ان پڑھ مومن پڑھ لے گا۔

12993

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12993

Sahih

۔ (۱۲۹۹۳)۔ وَعَنْ سَعْدِ بْنِ اَبِیْ وَقَاصٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّہُ لَمْ یَکُنْ نَبِیٌّ اِلّاَ وَصَفَ الدَّجَّالَ لِاُمَّتِہٖوَلَاَصِفَنَّہُصِفَۃً لَمْ یَصِفْہَا اَحَدٌ کَانَ قَبْلِیْ اِنَّہُ اَعْوَرُ وَاِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ لَیْسَ بِاَعْوَرَ۔)) (مسند احمد: ۱۵۷۸)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا سعد بن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر نبی نے اپنی اپنی امت کو متنبہ کرنے کے لیے دجال کی صفات بیان کیں، لیکن میں اس کی ایسی صفت بیان کروں گا، جو کسی نبی نے بیان کی اور وہ یہ ہے کہ وہ کانا ہو گا اور بیشک اللہ تعالیٰ کانا نہیں ہے۔

12994

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12994

Sahih

۔ (۱۲۹۹۴)۔ وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہُ تَمَامًا وَزَادَ بَعْدَ قَوْلِہِ ((لَیْسَ بِاَعْوَرَ، عَیْنُہُ الْیُمْنٰی کَاَنَّہَا عِنَبَۃٌ طَافِیَۃٌ۔)) (مسند احمد: ۴۸۰۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس قسم کی حدیث بیان کی ہے، البتہ انھوں نے وہ کانا ہے کے الفاظ کے بعد یہ اضافی الفاظ بیان کیے ہیں: اس کی دائیں آنکھ یوں ہوگی، جیسے خوشۂ انگور میں ابھرا ہوا دانہ ہوتا ہے۔

12995

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12995

Sahih

۔ (۱۲۹۹۵)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا قَالَ: قَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی النَّاسِ وَاَثْنٰی عَلٰی اللّٰہِ بِمَا ھُوَ اَھْلُہُ، فَذَکَرَ الدَّجَّالَ فَقَالَ: ((اِنِّیْ لَاُنْذِرُکُمُوْہُ، وَمَا مِنْ نَبِیٍّ اِلَّا اَنْذَرَہُ قَوْمَہُ، لَقَدْ اَنْذَرَہُ نُوْحٌ علیہ السلام قَوْمَہُ وَلٰکِنْ سَاَقُوْلُ لَکُمْ فِیْہِ قَوْلًا لَمْ یَقُلْہُ نَبِیٌّ لِقَوْمِہِ, تَعْلَمُوْنَ اَنَّہُ اَعْوَرُ وَاِنَّ اللّٰہَ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی لَیْسَ بِاَعْوَرَ۔)) (مسند احمد: ۶۳۶۵)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لوگوں میں کھڑ ے ہوئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اللہ کے شایان شان حمد و ثنا بیان کی اور پھرفرمایا: میں تمہیں اُس دجال سے ڈراتا ہوں اور ہر نبی نے اپنی قوم کو اس سے خبردار کیا، حضرت نوح علیہ السلام نے بھی اپنی قوم کو اس سے ڈرایا تھا، لیکن میں تم سے اس کے متعلق ایسی بات بتلاتا ہوں جو کسی نبی نے اپنی امت سے نہیں کہی، تمہیں علم ہونا چاہیے کہ وہ کانا ہے اور اللہ تعالیٰ کانا نہیں ہے۔

12996

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12996

Sahih

۔ (۱۲۹۹۶)۔ وَعَنْ اَبِیْ عُبَیْدَۃَ بْنِ الْجَرَّاحِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : یَقُوْلُ: ((اِنَّہُ لَمْ یَکُنْ نَبِیٌّ بَعْدَ نُوْحٍ اِلَّا وَقَدْ اَنْذَرَ الدَّجَّالَ قَوْمَہُ وَاِنِّیْ اُنْذِرْکُمُوْہُ۔)) قَالَ: فَوَصَفَہُ لَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ قَالَ: ((وَلَعَلَّہُ یُدْرُکُہُ بَعْضُ مَنْ رَآنِیْ اَوْ سَمِعَ کَلَامِیْ۔)) قَالُوْا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! کَیْفَ قُلُوْبُنَا یَوْمَئِذٍ، اَمِثْلُہَا الْیَوْمَ؟ قَالَ: ((اَوْخَیْرٌ۔)) (مسند احمد: ۱۶۹۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو عبیدہ بن جراح ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نوح علیہ السلام کے بعد آنے والے ہر نبی نے اپنی اپنی قوم کو دجال سے خبردا رکیا اور میں بھی تمہیں اس سے باخبر کرتا ہوں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے بارے میں ہمیں بتاتے ہوئے فرمایا: ہوسکتا ہے کہ مجھے دیکھنے والا یا میری بات سننے والا کوئی آدمی بھی اسے پا لے۔ صحابہ نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! ان دنوں ہمارے دلوں کی کیفیت کیا ہوگی؟ کیا ایسی جیسے آج کل ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یا اس سے بہتر؟

12997

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12997

Sahih

۔ (۱۲۹۹۷)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ اَبِیْ ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ سِمَاکِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ عِکْرَمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ فِی الدَّجَّالِ: ((اَعْوَرُ ھِجَانٌ اَزْھَرُ، کَاَنَّ رَاْسَہُ اَصَلَۃٌ، اَشْبَہُ النَّاسِ بَعِبْدِ الْعُزّٰی بْنِ قَطَنٍ، فَاِمَّا ھَلَکَ الْہُلَّکُ، فَاِنَّ رَبَّکُمْ تَعَالٰی لَیْسَ بِاَعْوَرَ۔)) قَالَ شُعْبَۃُ: فَحَدَّثْتُ بِہِ قَتَادَۃَ فَحَدَّثَنِیْ بِنَحْوٍ مِنْ ہٰذَا ۔ (مسند احمد: ۲۱۴۸)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دجال کے بارے میں فرمایا: وہ کانا ہو گا ،اس کا رنگ چمکیلا سفید ہوگا، اس کا سر پھونک سے مار ڈالنے والے زہریلے سانپ کی طرح ہو گا، وہ لوگوں میں عبدالعزی بن قطن کے زیادہ مشابہ ہوگا،اگر (اس کے شبہات کی وجہ سے) ہلاک ہونے والے ہلاک ہونے لگیں تو یاد رکھنا کہ تمہارا ربّ کانا نہیں ہے۔ امام شعبہ کہتے ہیں کہ جب میں نے یہی حدیث امام قتادہ کو بیان کی تو انہوں نے بھی مجھے ایسی ہی حدیث بیان کی۔

12998

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12998

Zaeef

۔ (۱۲۹۹۸)۔ وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَقَدْ اَکَلَ الطَّعَامَ وَمَشٰی فِی الْاَسْوَاقِ یَعْنِی الدَّجَّالَ۔)) (مسند احمد: ۲۰۲۳۵)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دجال (لوگوں کی طرح) کھانا کھائے گا اور) بازاروں میں چلے گا۔

12999

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12999

Sahih

۔ (۱۲۹۹۹)۔ وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((رَاَیْتُ عِنْدَ الْکَعْبَۃِ مِمَّا یَلِیْ وَجْہَہَا رجُلًا آدَمَ سَبْطَ الرَّاْسِ، وَاضِعًا یَدَہُ عَلٰی رَجُلَیْنِ،یَسْکُبُ رَاْسُہُ اَوْ یَقْطُرُ رَاْسُہُ، فَقَلْتُ: مَنْ ہٰذَا؟ فَقَالُوْا: عِیْسَی بْنُ مَرْیَمَ اَوْ اَلْمَسِیْحُ بْنُ مَرْیَمَ، وَرَاَیْتُ وَرَائَ ہُ رَجُلاً اَعْوَرَ عَیْنِ الْیُمْنٰی، جَعْدَ الرَّاْسِ اَشْبَہُ مَنْ رَاَیْتُ بِہٖ ابْنُ قَطَنٍ، فَقُلْتُ: مَنْ ہٰذَا؟ قَالُوْا: اَلْمَسِیْحُ الدَّجَّالُ۔)) (مسند احمد: ۴۹۷۷)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے کعبہ کے دروازے کے قریب ایک آدمی دیکھا، اس کی رنگت گندمی، سر کے بال قدرے خمدار، دو آدمیوں پر اپنا ہاتھ رکھے ہوا تھا، اس کے سر سے پانی کے قطرے گر رہے تھے۔میں نے پوچھا: یہ کون ہے؟فرشتوں نے کہا: یہ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام ہیں۔ پھرمیں نے ان کے پیچھے ایک اور آدمی کو دیکھا، وہ دائیں آنکھ سے کانا تھا اور اس کے سر کے بال گھنگریالے تھے، میں نے جو لوگ دیکھے ہیں ان میں ابن قطن اس سے مشابہ ہے۔ میں نے پوچھا: یہ کون ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ مسیح دجال ہے۔

13000

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #13000

Sahih

۔ (۱۳۰۰۰)۔ وَعَنْ مُجَاہِدٍ قَالَ: کُنَّا عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ، فَذَکَرُوْا الدَّجَّالَ، فَقَالُوْا: اِنَّہُ مَکْتُوْبٌ بَیْنَ عَیْنَیْہِ ک ف ر قَالَ: مَا تَقُوْلُوْنَ؟ قَالَ: یَقُوْلُوْنَ مَکْتُوْبٌ بَیْنَ عَیْنَیْہِ ک ف ر قَالَ: فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: لَمْ اَسْمَعْہُ قَالَ ذٰلِکَ، وَلٰکِنْ قَالَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَمَّا اِبْرَاہِیْمُ علیہ السلام فَانْظُرُوْا اِلٰی صَاحِبِکُمْ وَاَمَّا مُوْسٰی فَرَجُلٌ آدَمُ جَعْدٌ عَلٰی جَمَلٍ اَحْمَرَ مَخْطُوْمٍ بِخُلْبَۃٍ، کَاَنِّیْ اَنْظُرُ اِلَیْہِ اِذَا انْحَدَرَ فِی الْوَادِیْیُلَبِّیْ۔)) (مسند احمد: ۲۵۰۱)

اردو ترجمہ · Urdu

مجاہد کہتے ہیں: ہم سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ لوگوں نے دجال کا ذکر چھیڑ دیا اورکہا: اس کی آنکھوں کے درمیانی یعنی پیشانی پر ک ف ر لکھا ہوگا، سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے پوچھا: تم کیا کہہ رہے ہو؟ انھوں نے کہا: ہم کہہ رہے ہیں کہ اس کی آنکھوں کے درمیان ک ف ر لکھا ہوگا۔ سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں نے تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے یہ نہیں سنا، البتہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ فرمایا ہے کہ: اگر ابراہیم علیہ السلام کو دیکھنا چاہتے ہو تو مجھے دیکھ لو اور موسیٰ علیہ السلام گندمی رنگ اور گھنگریالے بالوں والے تھے، میں دیکھتا ہوں کہ کھجور کے پتوں کی بنی ہوئی وہ مہار والے ایک سرخ اونٹ پر سوار تلبیہ کہتے ہوئے وادی میں اتر رہے ہیں۔

13001

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #13001

Zaeef

۔ (۱۳۰۰۱)۔ وَعَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّہُ قَالَ: اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنِّی قَدْ حَدَّثْتُکُمْ عَنِ الدَّجَّالِ حَتّٰی خَشِیْتُ اَنْ لَا تَعْقِلُوْا، اِنَّ مَسِیْحَ الدَّجَّالِ رَجُلٌ قَصِیْرٌ اَفْحَجُ جَعْدٌ اَعْوَرُ مَطْمُوْسُ الْعَیْنَیْنِ لَیْسَ بِنَاتِئَۃٍ وَلَاحَجْزَائَ فَاِنْ اُلْبِسَ عَلَیْکُمْ۔)) قَالَ یَزِیْدُ (اَحَدُ الرُّوَاۃِ) ((رَبُّکُمْ، فَاعْلَمُوْا اَنَّ رَبَّکُمْ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی لَیْسَ بِاَعْوَرَ وَاِنَّکُمْ لَنْ تَرَوْنَ رَبَّکُمْ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی حَتّٰی تَمُوْتُوْا قَالَ یَزِیْدُ: تَرَوْ رَبَّکُمْ حَتّٰی تَمُوْتُوْا۔)) (مسند احمد: ۲۳۱۴۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں تم لوگوں کو دجال کے متعلق بتا تو چکا ہوں، لیکن مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ تم اسے پہچان ہی نہ سکو۔ (یاد رکھنا کہ) مسیح دجال پست قامت ہوگا، اس کے پیروں کا اگلا حصہ قریب اور ایڑیاں دور ہوں گی،اس کے بال گھنگریالے ہوں گے، اس کی آنکھ اس طرح مٹی ہوئی ہوگی کہ وہ نہ تو ابھری ہوئی ہوگی اور نہ اندر کو دھنسی ہوئی، اگر پھر بھی معاملہ تم پر خلط ملط ہونے لگے تو جان لو کہ تمہارا ربّ کانا بھی نہیں ہے اور تم مرنے سے قبل اللہ تعالیٰ کو دیکھ بھی نہیں سکتے۔