Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 175 · Chapter 2682

قیامت ‘ احوالِ آخرت اور ان سے قبل برپا ہونے والے فتنوں اور علامتوں کا بیان

امام مہدی کی بیعت اور ان کے مخالفین کا زمین میں دھنسنے کا بیان

6 hadiths in this chapter

12926

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12926

Zaeef

۔ (۱۲۹۲۶)۔ عَنْ اُمِّ سَلَمَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((یَکُوْنُ اخْتِلَافٌ عِنْدَ مَوْتِ خَلِیْفَۃٍ فَیَخْرُجُ رَجُلٌ مِنَ الْمَدِیْنَۃِ ھَارِبًا اِلٰی مَکَّۃَ، فَیَاْتِیْہِ نَاسٌ مِنْ اَھْلِ مَکَّۃَ فَیُخْرِجُوْنَہُ وَھُوَ کَارِہٌ فَیُبَایِعُوْنَہُ بَیْنَ الرُّکْنِ وَالْمَقَامِ، فَیَبْعَثُ اِلَیْہِمْ جَیْشٌ مِنَ الشَّامِ فَیُخْسَفُ بِہِمْ بِالْبَیْدَائِ فَاِذَا رَاَی النَّاسُ ذٰلِکَ اَتَتْہُ اَبْدَالُ الشَّامِ وَعَصَائِبُ الْعِرَاقِ فَیُبَایِعُوْنَہُ ثُمَّ یَنْشَاُ رَجُلٌ مِنْ قُرَیْشٍ، اَخْوَالُہُ کَلْبٌ فَیَبْعَثُ اِلَیْہِ الْمَکِیُّ بَعْثًا، فَیَظْہَرُوْنَ عَلَیْہِمْ وَذٰلِکَ بَعْثُ کَلْبٍ وَالْخَیْبَۃُ لِمَنْ لَّمْ یَشْہَدْ غَنِیْمَۃَ کَلْبٍ فَیَقْسِمُ الْمَالَ وَیَعْمَلُ فِی النَّاسِ سُنَّۃَ نَبِیِّہِمْ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَیُلْقِی الْاِسْلَامَ بِجِرَانِہِ اِلَی الْاَرْضِ، یَمْکَثُ تِسْعَ سِنِیْنَ۔))وَفِیْ رِوَایَۃٍ ((سَبْعَ۔)) (مسند احمد: ۲۷۲۲۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک خلیفہ) کی وفات کے موقع پر لوگ اختلاف میں پڑ جائیں گے، اتنے میں ایک آدمی مدینہ منورہ سے فرار ہو کر مکہ مکرمہ چلا جائے گا، اہل مکہ میں سے کچھ لوگ اس کے پاس آکر اسے باہر نکالیں گے اور حجراسود اور مقام ابراہیم کے درمیان اس کے ہاتھ پر بیعت کریں گے، جبکہ وہ اس چیز کو ناپسند کر رہا ہو گا، ان کے مقابلہ کے لیے شام کی طرف سے ایک لشکر چلے گا، لیکن جب وہ بیداء مقام پر پہنچے گا تو اسے وہیں زمین میں دھنسا دیا جائے گا، جب لوگ یہ صورت حال دیکھیں گے تو ملک شام کے صلحاء اور عراق کی فوجیں آکر اس کی بیعت کریں گے، پھر قریش میں سے ایک ایسا آدمی اٹھے گا، جس کے ماموں بنو کلب کے لوگ ہوں گے، مکہ مکرمہ والا آدمی اس کے مقابلے کے لیے ایک دستہ بھیجے گا اور یہ ان پر غالب آ جائیں گے، یہ بنو کلب کا لشکر ہوگا، ناکامی ہے ان لوگوں کے لیے، جو بنوکلب کی غنیمت میں حاضر نہیں ہوں گے، پھر وہ حاکم لوگوں میں مال تقسیم کرے گا اور لوگوں میں نبی کی سنت کے مطابق عمل رائج کرے گا اور دینِ اسلام کو زمین پر برپا اور مضبوط کرے گا، اور نویا سات برس تک ٹھہرے گا۔

12927

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12927

Sahih

۔ (۱۲۹۲۷)۔ وَعَنْ عُبَیْدِ بْنِ الْقِبْطِیَۃِ قَالَ: دَخَلَ الْحٰرِثُ بْنُ اَبِیْ رَبِیْعَۃَ وَعَبْدُاللّٰہِ بْنُ صَفْوَانَ وَاَنَا مَعَہُمَا عَلٰی اُمِّ سَلَمَۃَ: فَسَاَلَاھَا عَنِ الْجَیْشِ الَّذِیْیُخْسَفُ بِہٖوَکَانَذٰلِکَفِیْ اَیَّامِ ابْنِ الزُّبَیْرِ فَقَالَتْ اُمُّ سَلَمَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا : سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((یَعُوْذُ عَائِذٌ بِالحِجْرِ فَیَبْعَثُ اللّٰہُ جَیْشًا فَاِذَا کَانُوْا بِبَیْدَائَ مِنَ الْاَرْضِ خُسِفَ بِہِمْ۔)) فَقُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! فَکَیْفَ بِمَنْ اُخْرِجَ کَارِھًا؟ قَالَ: ((یُخْسَفُ بِہٖمَعَہُمْوَلٰکِنَّہُیُبْعَثُ عَلٰی نِیَّتِہٖیَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) فَذَکَرَتُ ذٰلِکَ لِاَبِیْ جَعْفَرٍ فَقَالَ: ھِیَ بَیْدَائُ الْمَدِیْنَۃِ۔ (مسند احمد: ۲۷۰۲۰)

اردو ترجمہ · Urdu

عبید بن قبطیہ کہتے ہیں: حارث بن ابی ربیعہ اور عبد اللہ بن صفوان، سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس گئے، میں بھی ان کے ہمراہ تھا، انھوں نے سیدہ سے اس لشکر کے بارے میں پوچھا جسے زمین میں دھنسا دیا جائے گا،یہ سیدنا ابن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے زمانۂ خلافت کی بات تھی، سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: ایک پناہ طلب کرنے والا حطیم میں پناہ لے گا، تو اللہ تعالیٰ اس کے مقابلے کے لیے ایک لشکر بھیجے گا، لیکن جب وہ بیداء میں پہنچے گا تو ان کو زمین میں دھنسا دیا جائے گا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس بندے کا کیا بنے گا، جو مجبوراً ان کے ساتھ آئے گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسے بھی انہی کے ساتھ دھنسا دیا جائے گا، البتہ قیامت کے دن اس کو اس کی نیت کے مطابق اٹھا دیا جائے گا۔ جب میں نے یہ حدیث ابو جعفر سے ذکر کی تو انھوں نے کہا کہ اس سے مدینہ والا بیداء مراد ہے۔

12928

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12928

Zaeef

۔ (۱۲۹۲۸)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ اَبِیْ ثَنَا یُوْنُسُ وَحَسَنُ بْنُ مُوْسٰی، قَالَا: ثَنَا حَمَّادٌ یَعْنِی ابْنَ سَلِمَۃَ عَنْ عَلِیِّ بْنِ زَیْدٍ عَنِ الْحَسَنِ اَنَّ اُمَّ سَلَمَۃَ (قَالَ حَسَنٌ عَنْ اُمِّ سَلَمَۃَ) قَالَتْ: بَیْنَمَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مُضْطَجِعًا فِیْ بَیْتِیْ اِذِ احْتَفَزَ جَالِسًا وَھُوَ یَسْتَرْجِعُ فَقُلْتُ: بِاَبِیْ اَنْتَ وَاُمِّیْ مَا شَاْنُکَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! تَسْتَرْجِعُ؟ قَالَ: ((جَیْشٌ مِّنْ اُمَّتِیْیَجِیْئُوْنَ مِنْ قِبَلِ الشَّامِ یَؤُمُّوْنَ الْبَیْتَ لِرَجُلٍ یَمْنَعُہُ اللّٰہُ مِنْہُمْ حَتّٰی اِذَا کَانُوْا بِالْبَیْدَائِ مِنْ ذِی الْحُلَیْفَۃِ خُسِفَ بِہِمْ وَمَصَادِرُھُمْ شَتّٰی۔)) فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ!: کَیْفَیُخْسَفُ بِہِمْ جَمِیْعًا وَمَصَادِرُھُمْ شَتّٰی؟ فَقَالَ: ((اِنَّ مِنْہُمْ مَنْ جُبِرَ، اِنَّ مِنْہُمْ مَنْ جُبِرَ۔)) ثَلَاثًا۔ (مسند احمد: ۲۶۷۵۷)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے، ایک دفعہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے گھر میں لیٹے ہوئے تھے، اچانک تیزی سے اٹھ کر بیٹھ گئے اور اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّااِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ پڑھنے لگ گئے، میں نے کہا: اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، کیا بات ہوئی کہ آپ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّااِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ پڑھ رہے ہیں؟ آپ نے فرمایا: میری امت کا ایک لشکر شام کی طرف سے آئے گا، وہ ایک ایسے آدمی کے مقابلہ کے لیے آئیں گے کہ جس کی حفاظت کرنے والا اللہ تعالیٰ ہو گا، جب یہ لشکر ذوالحلیفہ کے قریب بیداء مقام پر پہنچے گا تو اس میں شامل تمام افراد کو زمین میں دھنسا دیا جائے گا، البتہ ان کا زمین سے اٹھنا مختلف انداز میں ہوگا۔ میں نے کہا: اللہ کے رسول! یہ کیسے ہوگا کہ سب افراد کو دھنسا تو دیا جائے گا، لیکن ان کا زمین سے اٹھنا ایک دوسرے سے مختلف ہو گا؟آپ نے فرمایا: ان میں بعض افراد ایسے بھی ہوں گے، جنہیں مجبور کیا گیا ہوگا، ان میں بعض افراد ایسے بھی ہوں گے جنہیں مجبور کیا گیا ہوگا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ جملہ تین بار ارشاد فرمایا۔

12929

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12929

Sahih

۔ (۱۲۹۲۹)۔ وَعَنْ اُمَیَّۃَ بْنِ صَفْوَانَ یَعْنِی ابْنَ عَبْدَاللّٰہِ بِنِ صَفْوَانَ عَنْ جَدِّہٖعَنْحَفْصَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَیَؤُمَّنَّ ہٰذَا الْبَیْتَ جَیْشٌیَغْزُوْنَہُ حَتّٰی اِذَا کَانُوْا بِالْبَیْدَائِ خُسِفَ بِاَوْسَطِہِمْ فَیُنَادِیْ اَوَّلُھُمْ وَآخِرُھُمْ فَلَایَنْجُوْ اِلَّا الشَّرِیْدُ الَّذِیْیُخْبِرُ عَنْہُمْ۔)) فَقَالَ رَجُلٌ: کَذَا وَاللّٰہِ! مَاکَذَبَتُ عَلٰی حَفْصَۃَ وَلَا کَذَبَتْ حَفْصَۃُ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۲۶۹۷۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ حفصہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک لشکر بیت اللہ پر چڑھائی کرنے کا ارادہ کر کے اِدھر کو روانہ ہوگا، جب وہ بیداء کے مقام پر ہوں گے تو ان کے درمیان والوں کو زمین میں دھنسا دیا جائے گا، ان کے شروع والے اور آخر والے، سب ایک دوسرے کو پکارنے لگیں گے، لیکن کوئی بھی بچ نہیں سکے گا، ماسوائے اس آوارہ کے، جو دھنسنے والوں کے بارے میں دوسرے لوگوں بتلائے گا۔ ایک راوی نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے سیدہ حفصہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا پر اور سیدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر جھوٹ نہیں بولا۔

12930

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12930

Zaeef

۔ (۱۲۹۳۰)۔ وَعَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ صَفْوَانَ عَنْ حَفْصَۃَ ابْنَۃِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((یَاْتِیْ جَیْشٌ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ یُرِیْدُوْنَ رَجُلًا مّنْ اَھْلِ مَکَّۃَ حَتّٰی اِذَا کَانُوْا بِالْبَیْدَائِ خُسِفَ بِہِمْ فَرَجَعَ مَنْ کَانَ اَمَامَہُمْ لِیَنْظُرَ مَا فَعَلَ الْقَوْمُ فَیُصِیْبُہُمْ مِثْلُ مَا اَصَابَہُمْ۔)) فَقُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! فَکَیْفَ بِمَنْ کَانَ مِنْہُمْ مُسْتَکْرَھًا؟ قَالَ: ((یُصِیْبُہُمْ کُلَّہُمْ ذٰلِکَ ثُمَّ یَبْعَثُ اللّٰہُ کُلَّ امْرِیئٍ عَلٰی نِیَّتِہٖ۔)) (مسند احمد: ۲۶۹۹۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ حفصہ بنت عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مشرق کی طرف سے ایک لشکر آئے گا، ان کا ارادہ مکہ کے ایک آدمی پر حملہ کرنے کا ہو گا، جب وہ بیداء کے مقام پر پہنچیں گے تو انہیں زمین میں دھنسا دیا جائے گا، آگے بڑھ جانے والے لوگ واپس پلٹ پڑیں گے تاکہ یہ دیکھ سکیں کہ پچھلے لوگوں کے ساتھ کیا ہوا ہے، اتنے میں وہ بھی اسی مصیبت میں پھنس جائیں گے، میں (حفصہ) نے کہا: اے اللہ کے رسول ! ان میں جن لوگوں کو مجبوراً لایا گیا ہوگا، ان کا کیا بنے گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ سب دھنسا دئیے جائیں گے، پھر اللہ تعالیٰ ہر فرد کو اس کی نیت کے مطابق اٹھائے گا۔

12931

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12931

Sahih

۔ (۱۲۹۳۱)۔ وَعَنْ صَفِیَّۃَ اُمِّ الْمُوْمِنِیْنَ ( ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ) قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ: ((لَا یَنْتَہِی النَّاسُ عَنْ غَزْوِ ہٰذَا الْبَیْتِ حَتّٰییَغْزُوْہُ جَیْشٌ حَتّٰی اِذَا کَانُوْا بِبَیْدَائَ مِنَ الْاَرْضِ خُسِفَ بِاَوَّلِھِمْ وَآخِرِ ھِمْ وَلَمْ یَنْجُ اَوْسَطُہُمْ۔)) قَالَتْ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اَرَاَیْتَ الْمُکْرَہَ مِنْہُمْ؟ قَالَ: ((یَبْعَثُہُمُ اللّٰہُ عَلٰی مَا فِیْ اَنْفُسِہِمْ۔)) (مسند احمد: ۲۷۳۹۵)

اردو ترجمہ · Urdu

ام المومنین سیدہ صفیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگ اس بیت اللہ پر چڑھائی کرتے رہنے سے باز نہیں آئیں گے، یہاں تک کہ اسی طرح کا ایک لشکر یہی ارادہ کر کے چلے گا، لیکن جب وہ بیداء کے مقام تک پہنچیں گے توان کے شروع والے، آخر والے سب کو زمین میں دھنسا دیا جائے گا اور درمیان والے بھی نہیں بچ سکیں گے۔ سیدہ صفیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول! ان لوگوں کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے، جو مجبوراً آئے ہوں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ ان کو ان کے دلوں کی نیتوں کے مطابق اٹھائے گا۔