Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 175 · Chapter 2665

قیامت ‘ احوالِ آخرت اور ان سے قبل برپا ہونے والے فتنوں اور علامتوں کا بیان

نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بعثت کے قیامت کے قریب ہونے کا بیان

10 hadiths in this chapter

12779

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12779

Sahih

۔ (۱۲۷۷۹)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((بُعِثْتُ اَنَا وَالسَّاعَۃُ کَہَاتَیْنِ۔)) وَمَدَّ اِصْبَعَیْہِ السَّبَّابَۃَ وَالْوُسْطٰی۔ (مسند احمد: ۱۳۰۴۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا : میری بعثت اور قیامت ان دو انگلیوں کی طرح متصل ہیں۔ ساتھ ہی آپ نے انگشت ِ شہادت اور درمیانی انگلی کو پھیلا کر اشارہ کیا۔

12780

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12780

Sahih

۔ (۱۲۷۸۰)۔ وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ :رَاَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُشِیْرُ بِاِصْبَعَیْہِ وَیَقُوْلُ: ((بُعِثْتُ اَنَا وَالسَّاعَۃُ کَہٰذِہِ مِنْ ہٰذِہِ۔)) (مسند احمد: ۲۱۱۶۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا جابر بن سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی دو انگلیوں کے ساتھ اشارہ کیا اور فرمایا: میری بعثت اور قیامت اب اس طرح ایک دوسرے کے قریب قریب ہیں جیسے یہ انگلی اس کے ساتھ ہے۔

12781

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12781

Sahih

۔ (۱۲۷۸۱)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ اَبِیْ ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدٍ ثَنَا الْاَ عْمَشُ عَنْ اَبِیْ خَالِدٍ عَنْ وَھْبٍ السَّوَائِیِّ قَالَ :قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((بُعِثْتُ اَنَا وَالسَّاعَۃُ کَہٰذِہِ مِنْ ہٰذِہِ، اِنْ کَادَتْ لَتَسْبِقُہَا۔))وَجَمَعَ الْاَعْمَشُ اَلسَّبَّابَۃَ وَالْوُ سْطٰی وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ مُرَّۃَ اِنْ کَادَتْ لَتَسْبِقُنِیْ۔ (مسند احمد: ۱۸۹۷۷)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا وہب سوائی کا بیان ہے،وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا میری بعثت اور قیامت اس طرح متصل ہیں جیسے یہ انگلی دوسری انگلی کے ساتھ متصل ہے، یقینا قریب تھا کہ قیامت میری بعثت سے پہلے قائم ہوجاتی ۔ پھر امام اعمش نے اپنی انگشت ِ شہادت اور درمیان والی انگلی کو ملا کر اشارہ کیا۔

12782

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12782

Sahih

۔ (۱۲۷۸۲)۔ وَعَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ بُرَیْدَۃَ عَنْ اَبِیْہِ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((بُعِثْتُ اَنَا وَالسَّاعَۃُ جَمِیْعًا اِنْ کَادَتْ لَتَسْبِقُنِیْ۔)) (مسند احمد:۲۳۳۳۵ )

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا بریدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری بعثت اور قیامت کو ایک دوسرے کے ساتھ اس حد تک متصل کر دیا گیا کہ قریب تھا کہ قیامت مجھ سے سبقت لے جاتی۔

12783

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12783

Sahih

۔ (۱۲۷۸۳)۔ وَعَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدِ نِ السَّاعِدِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَثَلِیْ وَمَثَلُ السَّاعَۃِ کَہَاتَیْنِ۔)) وَ فَرَّقَ بَیْنَ اِصْبَعَیْہِ الْوُسْطٰی وَالَّتِیْ تَلِی الْاِبْہَامَ ثُمَّ قَالَ: ((مَثَلِیْ وَمَثَلُ السَّاعَۃِ کَمَثَلِ فَرْسَیْ رَھَانٍ۔)) ثُمَّ قَالَ: ((مَثَلِیْ وَمَثَلُ السَّاعَۃِ کَمَثَلِ رَجُلٍ بَعَثَہُ قَوْمُہٗطَلِیْعَۃً فَلَمَّا خَشِیَ اَنْ یُسْبَقَ اَلَاحَ بِثَوْبِہٖاُتِیْتُمْ اُتِیْتُمْ۔)) ثُمَّ یَقُوْلُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَنَا ذٰلِکَ۔)) (مسند احمد: ۲۳۱۹۵)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا سہل بن سعد ساعدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے‘ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری اور قیامت کے قرب کی مثال ان دو انگلیوں کی طرح ہے۔ اس کے ساتھ ہی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انگوٹھے کے ساتھ والی (انگشت ِ شہادت) اور درمیانی (انگلی) کو تھوڑا سا الگ کر کے اشارہ کیا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری اور قرب ِ قیامت کی مثال مقابلہ کرنے والے دو گھوڑوں کی سی ہے۔ پھر فرمایا: میری اور قرب ِ قیامت کی مثال اس شخص کی سی ہے جسے اس کی قوم نے اپنا نمائندہ بنا کر بھیجا ہو، جب اسے خطرہ ہو ا کہ دشمن اس سے آگے نکل جائے گا تو وہ اپنا کپڑا لہرا لہرا کر قوم کو اطلاع دینے لگا کہ دشمن تمہارے پاس پہنچ گیا، دشمن تمہارے پاس پہنچ گیا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بس میں وہی ہوں۔

12784

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12784

Sahih

۔ (۱۲۷۸۴)۔ وَعَنِ الْمُطَّلَبِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عُمَرَ اَنَّہٗکَانَوَاقِفًابِعَرَفَاتٍفَنَظَرَاِلَی الشَّمْسِ حِیْنَ تَدَلَّتْ مِثْلَ التُّرْسِ لِلْغُرُوْبِ فَبَکٰی وَاشْتَدَّ بُکَاؤُہُ فَقَالَ لَہُ رَجُلٌ عِنْدَہٗ :یَا اَبَا عَبْدِ الرَّحْمٰنِ قَدْ وَقَفْتَ مَعِیَ مِرَارًا لَمْ تَصْنَعْ ہٰذَا فَقَالَ: ذَکَرَتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَہُوَ وَاقِفٌ بِمَکَانِیْ ہٰذَا فَقَالَ: ((اَیُّہَا النَّاسُ اِنَّہُ لَمْ یَبْقَ مِنْ دُنْیَاکُمْ فِیْمَا مَضٰی مِنْہَا اِلاَّ کَمَا بَقِیَ مِنْ یَوْمِکُمْ ہٰذَا فِیْمَا مَضٰی مِنْہٗ۔)) (مسنداحمد:۶۱۷۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ میدانِ عرفات میں وقوف کیے ہوئے تھے، جب سورج غروب کے وقت ڈھا ل کی مانندہو کر نظر آنے لگا تو وہ رونے لگ گئے اور بہت زیادہ روئے، ان کے قریب کھڑے ایک آدمی نے کہا : اے ابو عبدالرحمن! آپ نے میرے ساتھ کئی بار وقوف کیا ہے، لیکن آپ نے کبھی بھی ایسے تو نہیں کیا تھا۔ انھوں نے کہا:مجھے اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یاد آ گئے ہیں، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہیں میری جگہ کھڑے تھے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا تھا : لوگو! دنیا کی گزری ہوئی مدت کے مقابلے میں بقیہ زمانے کی وہی نسبت ہے جو آج کے گزرے ہوئے دن کے ساتھ اس باقی وقت کی ہے۔

12785

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12785

Zaeef

۔ (۱۲۷۸۵)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: جَائَ ذِئْبٌ اِلٰی رَاعِیْ الْغَنَمِ فَاَخَذَ مِنْہَا شَاۃً فَطَلَبَہٗالرَّاعِیْ حَتّٰی اِنْتَزَعَہَا مِنْہُ قَالَ: فَصَعِدَ الذِّئْبُ عَلٰی تَلٍّ فَاَقْعٰی وَاسْتَذْفَرَ فَقَالَ: عَمِدْتُّ اِلٰی رِزْقٍ رَزَقَنِیْہِ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ اِنْتَزَعْتَہُ مِنِّی، فَقَال الرَّجُلُ: تَاللّٰہِ! اِنْ رَاَیْتُ کَالْیَوْمِ ذِئْبًا یَتَکَلَّمُ، فَقَالَ الذِّئْبُ: اَعْجَبُ مِنْ ہٰذَا رَجُلٌ فِی النَّخَلَاتِ بَیْنَ الْحَرَّتَیْنِیُخْبِرُکُمْ بِمَا مَضٰی وَبِمَا ھُوَ کَائِنٌ بَعْدَکُمْ وَکَانَ الرَّجُلُ یَہُوْدِیًّا، فَجَائَ الرَّجُلُ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَخَبَّرَہُ: فَصَدَّقَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ثُمَّ قَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّہَا اَمَارَۃٌ مِنْ اَمَارَاتِ بَیْنَیَدَیِ السَّاعَۃِ قَدْ اَوْشَکَ الرَّجُلُ اَنْ یَّخْرُ جَ فَلَا یَرْجِعَحَتّٰی تُحَدِّثَہُ نَعْلَاہُ وَسَوْطُہُ مَا اَحْدَثَ اَھْلُہُ بَعْدَہُ۔)) (مسند احمد:۸۰۴۹ )

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے ،وہ کہتے ہیں: ایک بھیڑیا ایک چرواہے کی طرف آیا اور اس کے ریوڑ سے ایک بکری اٹھا کرلے گیا، چرواہے نے اس کا پیچھا کیا اور اس سے بکری کو چھڑالیا۔ بھیڑیا ایک اونچے ٹیلے پر چڑھ گیا اور اگلی ٹانگیں کھڑی کر کے سرین پر بیٹھ کر کہنے لگا:میں نے ایسے رزق کا قصد کیا جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کیا تھا، لیکن تو نے مجھ سے وہ چھین لیا، وہ چراوہا کہنے لگا: میں نے آج تلک ایسا منظر نہیں دیکھا کہ بھیڑیا انسانوں کی طرح باتیں کرتا ہو، یہ سن کربھیڑئیے نے کہا: تم میری بات سن کر تعجب کر رہے ہو، اس سے بھی عجیب تر بات یہ ہے کہ دو حرّوں کے مابین کھجوروں کے باغات میں ایک ایسا شخص ہے، جو انسانوں کو ماضی اور مستقبل کی باتیں بتلاتا ہے، وہ چرواہا یہودی تھا، جب اس نے آکر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سارا واقعہ سنایا تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کی تصدیق کی اور فرمایا: جانوروں کا انسانوں کی طرح باتیں کرنابھی علاماتِ قیامت میں سے ہے اور عنقریب ایسا زمانہ آئے گا کہ انسان اپنے گھر سے باہر جا ئے گا تو اس کے اہل خانہ نے اس کی عدم موجودگی میں جو کچھ کیا ہوگا، اس کی واپسی پر اس کے جوتے اور چھڑی اسے سب کچھ بتلا دیں گے۔

12786

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12786

Sahih

۔ (۱۲۷۸۶)۔ وَعَنِ الْحَسَنِ قَالَ: اَخْبَرَنِیْ اَنَسُ بْنُ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: کُنْتُ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ بَیْتِہٖ فَجَائَ رَجُلٌ فَقَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ مَتَی السَّاعَۃُ قَالَ: ((اَمَا اِنَّہَا قَائِمَۃٌ فَمَا اَعْدَدْتَّ لَھَا؟)) قَالَ: وَاللّٰہِ! یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! مَا اَعْدَدْتُّ لَھَا مِنْ کَثِیْرِ عَمَلٍ غَیْرَ اَنِّیْ اُحِبُّ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہُ قَالَ: ((فَاِنَّکَ مَعَ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلَکَ مَا احْتَسَبْتَ۔)) قَالَ: ثُمَّ قَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّیْ فَلَمَّا قَضٰی صَلَاتَہُ قَالَ: ((اَیْنَ السَّائِلُ عَنِ السَّاعَۃ؟)) فَاُتِیَ بِالرَّجُلِ فَنَظَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِلَی الْبَیْتِ فَاِذَا غُلَامٌ مِنْ دَوْسٍ مِنْ رَھْطِ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَیُقَالُ لَہٗسَعْدُبْنُمَالِکٍفَقَالَرَسُوْلُاللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ہٰذَا الْغُلَامُ اِنْ طَالَ بِہٖعُمُرُہُلَمْیَبْلُغْ بِہِ الْھَرَمُ حَتّٰی تَقُوْمَ السَّاعَۃُ۔)) قَالَ الْحَسَنُ: وَاَخْبَرَنِیْ اَنَسٌ اَنَّ الْغُلَامَ کَانَ یَوْ مَئِذٍ مِنْ اَقْرَانِیْ۔ (مسند احمد:۱۴۰۵۷ )

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے گھر میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس موجود تھا،ایک آدمی نے آکر عرض کیا: اے اللہ کے رسول! قیامت کب آئے گی؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: وہ تو قائم ہو کر رہے گی، تم نے اس کے لیے تیاری کیا کر رکھی ہے ؟ اس نے کہا :اللہ کی قسم ! میں نے قیامت کے لیے کوئی زیادہ اعمال تو نہیں کیے ہیں، البتہ اتنا ضرور ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہوں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جن کے ساتھ تم کو محبت ہو گی ‘ آخرت میں انہی کے ساتھ ہوگے اور تم جو امید رکھو گے، وہی کچھ تمہیں ملے گا۔ اس کے بعد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز کے لیے کھڑے ہوئے اور جب نما ز سے فارغ ہوئے تو پوچھا: قیامت کے بارے میں پوچھنے والا آدمی کہاں ہے؟ پس اسے لایا گیا، اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے گھر کی طرف دیکھا،تو سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے خاندان بنودوس کے ایک لڑکے پر نظر پڑی، اس کا نام سعد بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ لڑکا اگر زندہ رہا تو اس کے بڑھاپے کو پہنچنے سے پہلے پہلے قیامت آ جائے گی۔ حسن کہتے ہیں: سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھے بتلایا کہ وہ نوجوان ان دنوں ان کا ہم عمر تھا۔

12787

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12787

Sahih

۔ (۱۲۷۸۷)۔ وَعَنْ اَنَسٍ اَیْضًا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَجُلًا سَاَلَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَتٰی تَقُوْمُ السَّاعَۃُ وَعِنْدَہٗغُلَامٌمِنَالْاَنْصَارِیُقَالُ لَہُ مُحَمَّدٌ، فَقَالَ لَہٗرَسُوْلُاللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنْ یَّعِشْ ہٰذَا الْغُلَامُ فَعَسٰی اَنْ لَّا یُدْرِکَہُ الْھَرَمُ حَتّٰی تَقُوْمَ السَّاعَۃُ۔)) (مسند احمد:۱۳۴۱۹ )

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے ،وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں آکر دریافت کیا کہ قیامت کب آئے گی؟اس وقت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے قریب محمد نامی ایک انصاری لڑکا موجود تھا۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے سوا ل کے جواب میں فرمایا : اگر یہ نوجوان زندہ رہا تو اس کے بوڑھا ہونے سے پہلے پہلے قیامت قائم ہوجائے گی۔

12788

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12788

Zaeef

۔ (۱۲۷۸۸)۔ وَعَنِ الطُّفَیْلِ بْنِ اُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ عَنْ اَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((جَائَ تِ الرَّاجِفَۃُ تَتْبَعُہَا الرَّادِفَۃُ جَائَ الْمَوْتُ بِمَا فِیْہِ۔)) (مسند احمد: ۲۱۵۶۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: زمین کو جھنجھوڑنے والی بس آ گئی ہے، اس کے بعد (سخت بھونچال) آنے والا ہے، حقیقت تو یہ ہے کہ موت اپنا سارا کچھ لے کر آ گئی ہے۔