Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 174 · Chapter 2658

کتاب الفضائل

باب دوم: مطلق طور پر راتوں کی فضیلت کا بیان

2 hadiths in this chapter

12761

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12761

Sahih

۔ (۱۲۷۶۱)۔ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِذَا کَانَ ثُلُثُ اللَّیْلِ الْبَاقِییَہْبِطُ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَی السَّمَائِ الدُّنْیَا، ثُمَّ تُفْتَحُ أَبْوَابُ السَّمَائِ، ثُمَّ یَبْسُطُیَدَہُ، فَیَقُولُ: ہَلْ مِنْ سَائِلٍ یُعْطٰی سُؤْلَہُ، فَلَا یَزَالُ کَذٰلِکَ حَتّٰییَطْلَعَ الْفَجْرُ۔)) (مسند احمد: ۳۶۷۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب رات کا آخری تہائی حصہ ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ آسمانِ دنیا پر تشریف لاتے ہیں اور آسمان کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں، پھر اللہ تعالیٰ اپنا ہاتھ پھیلا کر فرماتا ہے: ہے کوئی سوالی، جو مانگے اور وہ اسے دے دیا جائے، طلوع فجر تک یہی کیفیت رہتی ہے۔

12762

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12762

Zaeef

۔ (۱۲۷۶۲)۔ وَعَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْسَۃَ قَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ جَعَلَنِی اللّٰہُ فِدَائَ کَ شَیْئًا تَعْلَمُہُ وَأَجْہَلُہُ لَا یَضُرُّکَ، وَیَنْفَعُنِی اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ بِہِ، ہَلْ مِنْ سَاعَۃٍ أَفْضَلُ مِنْ سَاعَۃٍ، وَہَلْ مِنْ سَاعَۃٍیُتَّقٰی فِیہَا؟ فَقَالَ: ((لَقَدْ سَأَلْتَنِی عَنْ شَیْئٍ مَا سَأَلَنِی عَنْہُ أَحَدٌ قَبْلَکَ، إِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ یَتَدَلّٰی فِی جَوْفِ اللَّیْلِ، فَیَغْفِرُ إِلَّا مَا کَانَ مِنَ الشِّرْکِ وَالْبَغْیِ، فَالصَّلَاۃُ مَشْہُودَۃٌ مَحْضُورَۃٌ، فَصَلِّ حَتّٰی تَطْلُعَ الشَّمْسُ، فَإِذَا طَلَعَتْ فَأَقْصِرْ عَنِ الصَّلَاۃِ۔)) اَلْحَدِیْثُ ذُکِرَ مُطَوَّلاً فِیْ مَنَاقِبِ عَمْرِو بْنِ عَبْسَۃَ۔ (مسند احمد: ۱۹۶۵۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عمر وبن عبسہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ مجھے آپ پر فدا کرے، ایک بات جسے آپ جانتے ہیں اور میں اس سے ناواقف ہوں، آپ بتلا دیں تو آپ کو کوئی نقصان نہیں، البتہ اللہ تعالیٰ مجھے اسے فائدہ پہنچا دے گا، آیا کوئی گھڑی دوسری گھڑی سے افضل بھی ہوتی ہے؟ اور کیا کوئی وقت ایسا بھی ہے، جس میں عبادت کرنے سے بچنا چاہیے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم نے مجھ سے ایسی بات دریافت کی کہ جس کے بارے میں تم سے پہلے مجھ سے کسی نے نہیں پوچھا، آدھی رات کے بعد اللہ تعالیٰ عرش سے نیچے آجاتا ہے اس وقت شرک اور بغاوت کے علاوہ باقی گناہ کرنے والے سب لوگوں کو بخش دیتا ہے، ہر نماز کے وقت فرشتے حاضر ہوتے ہیں، تم صبح کی نماز طلوع آفتاب تک پڑھ سکتے ہو، جب سورج طلوع ہوجائے تو نماز سے رک جاؤ، یہ حدیث عمر وبن عبسہ کے مناقب میں مفصل بیان ہوچکی ہے۔