Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 174 · Chapter 2653

کتاب الفضائل

باب چہارم: طائف اورمکہ کے مابین واقع وادی وج کی فضیلت

1 hadith in this chapter

12752

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12752

Zaeef

۔ (۱۲۷۵۲)۔ عَنِ الزُّبَیْرِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ: أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ لِیَّۃَ حَتّٰی إِذَا کُنَّا عِنْدَ السِّدْرَۃِ، وَقَفَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی طَرَفِ الْقَرْنِ الْأَسْوَدِ حَذْوَہَا، فَاسْتَقْبَلَ نَخِبًا بِبَصَرِہِ یَعْنِی وَادِیًا، وَقَفَ حَتّٰی اتَّفَقَ النَّاسُ کُلُّہُمْ، ثُمَّ قَالَ: ((إِنَّ صَیْدَ وَجٍّ وَعِضَاہَہُ حَرَمٌ مُحَرَّمٌ لِلَّہِ۔)) وَذٰلِکَ قَبْلَ نُزُولِہِ الطَّائِفَ وَحِصَارِہِ ثَقِیفَ۔ (مسند احمد: ۱۴۱۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی معیت میں لیہ سے واپس آرہے تھے، جب ہم بیری کے قریب پہنچے تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کالے رنگ کے چھوٹے پہاڑ کے کونے میں بیری کے بالمقابل کھڑے ہو کر ایک وادی کی طرف غور سے دیکھا اور وہاں رکے رہے، یہاں تک کہ سب لوگ جمع ہوگئے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وادیٔ وج کا شکار اور جھاڑیاں بھی حرم ہیں اور اللہ کے لیے لوگوں پر حرام کی گئی ہیں۔ یہ واقعہ آپ کے محاصرہ طائف و ثقیف سے پہلے کا ہے۔