Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 174 · Chapter 2650

کتاب الفضائل

فصل دوم: اہل یمن کی فضیلت

8 hadiths in this chapter

12738

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12738

Sahih

۔ (۱۲۷۳۸)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((الْإِیمَانُیَمَانٍ، وَالْفِقْہُ یَمَانٍ، وَالْحِکْمَۃُیَمَانِیَۃٌ، أَتَاکُمْ أَہْلُ الْیَمَنِ فَہُمْ أَرَقُّ أَفْئِدَۃً وَأَلْیَنُ قُلُوبًا، وَالْکُفْرُ قِبَلَ الْمَشْرِقِ، وَالْفَخْرُ وَالْخُیَلَائُ فِی أَہْلِ الْخَیْلِ وَالْإِبِلِ وَالْفَدَّادِینَ أَہْلِ الْوَبَرِ، وَالسَّکِینَۃُ فِی أَہْلِ الْغَنَمِ۔)) (مسند احمد: ۸۹۲۹)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اصل ایمان یمنیوں کاہے، فقاہت بھی یمن کی اور حکمت و دانائی بھی یمن کی بہتر ہے، تمہارے پا س اہل یمن آئے ہیں، یہ بہت زیادہ نرم دل ہیں اور کفر مشرق کی طرف زیادہ ہے اور فخراورتکبر اونٹ اورگھوڑے پالنے والوں اور دیہاتی لوگوں میں ہے اور بکریاں پالنے والوں میں سکینت اور نرم خوئی ہے۔

12739

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12739

Sahih

۔ (۱۲۷۳۹)۔ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَیْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِیہِ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَفَعَ رَأْسَہُ إِلَی السَّمَائِ فَقَالَ: ((أَتَاکُمْ أَہْلُ الْیَمَنِ کَقِطَعِ السَّحَابِ خَیْرُ أَہْلِ الْأَرْضِ۔)) فَقَالَ لَہُ رَجُلٌ مِمَّنْ کَانَ عِنْدَہُ وَمِنَّا یَا رَسُولَ اللّٰہِ، قَالَ: ((کَلِمَۃً خَفِیَّۃً إِلَّا أَنْتُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۶۸۸۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا جبیر بن مطعم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے آسمان کی طرف اپنا سر اٹھا کر فرمایا: تمہارے پاس اہل یمن آئے ہیں، بادلوں کے ٹکڑوں کی مانند خوش منظر اور مفید ہیں، یہ روئے زمین کے تمام لوگوں سے زیادہ بھلائی والے ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں بیٹھے ہوئے ایک آدمی نے کہا: اللہ کے رسول! اور ہم؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے آہستہ سے فرمایا: تمہارے سوا۔

12740

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12740

Sahih

۔ (۱۲۷۴۰)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ) عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَیْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِیہِ، قَالَ: بَیْنَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِطَرِیقِ مَکَّۃَ إِذْ قَالَ: ((یَطْلُعُ عَلَیْکُمْ أَہْلُ الْیَمَنِ کَأَنَّہُمُ السَّحَابُ، ہُمْ خِیَارُ مَنْ فِی الْأَرْضِ۔)) فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ: وَلَا نَحْنُ، یَا رَسُولَ اللّٰہِ!، فَسَکَتَ، قَالَ: وَلَا نَحْنُ، یَا رَسُولَ اللّٰہِ!، فَسَکَتَ، قَالَ: وَلَا نَحْنُ، یَا رَسُولَ اللّٰہِ!، فَقَالَ فِی الثَّالِثَۃِ کَلِمَۃً ضَعِیفَۃً: ((إِلَّا أَنْتُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۶۹۰۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند)سیدناجبیر بن مطعم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ مکہ کے راستے پر تھے،آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہارے پاس اہل یمن آئے ہیں، گویا کہ وہ بادل کے ٹکڑوں کی مانند ہیں، یہ روئے زمین کے تمام لوگوں سے زیادہ بھلائی والے ہیں۔ ایک انصاری نے کہا: اللہ کے رسول! کیا ہم بھی بہتر نہیں؟ اس کی بات پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خاموش رہے، اس نے دوبارہ کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم بھی بہتر نہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پھر خاموش رہے، اس نے تیسری بار کہا: اے اللہ کے رسول! اور کیا ہم بھی بہتر نہیں؟ تو آپ نے تیسری مرتبہ آہستہ سے فرمایا: ما سوائے تمہارے۔

12741

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12741

Zaeef

۔ (۱۲۷۴۱)۔ عَنْ عُتْبَۃَ بْنِ عَبْدٍ أَنَّہُ قَالَ: إِنَّ رَجُلًا قَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! الْعَنْ أَہْلَ الْیَمَنِ فَإِنَّہُمْ شَدِیدٌ بَأْسُہُمْ، کَثِیرٌ عَدَدُہُمْ، حَصِینَۃٌ حُصُونُہُمْ، فَقَالَ: ((لَا۔)) ثُمَّ لَعَنَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْأَعْجَمِیِّینَ، وَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِذَا مَرُّوا بِکُمْ یَسُوقُونَ نِسَائَہُمْ یَحْمِلُونَ أَبْنَائَہُمْ عَلٰی عَوَاتِقِہِمْ فَإِنَّہُمْ مِنِّی وَأَنَا مِنْہُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۷۷۹۷)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عتبہ بن عبد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول ! آپ اہل یمن پر لعنت کریں، کیونکہ وہ بڑے جنگجو ہیں، تعداد میں بہت زیادہ ہیں اور ان کے قلعے بھی مضبوط ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں، میں ان پر لعنت نہیں کروں گا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عجمیوں پر لعنت فرمائی۔ اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ یمنی اپنی عورتوں کو اپنے ساتھ لے کر اور اپنے بچوں کو کاندھوں پر اٹھائے تمہارے قریب سے گزریں گے، یہ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں۔

12742

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12742

Sahih

۔ (۱۲۷۴۲)۔ عَنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اطَّلَعَ قِبَلَ الْیَمَنِ، فَقَالَ: ((اللَّہُمَّ أَقْبِلْ بِقُلُوبِہِمْ۔)) وَاطَّلَعَ مِنْ قِبَلِ کٰذَا فَقَالَ: ((اللَّہُمَّ أَقْبِلْ بِقُلُوبِہِمْ، وَبَارِکْ لَنَا فِی صَاعِنَا وَمُدِّنَا۔)) (مسند احمد: ۲۱۹۴۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا زید بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یمن کی طرف دیکھ کر فرمایا: اے اللہ! ان کے دلوں کو ہماری طرف پھیرے دے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: اے اللہ! ان کے دلوں کو ہماری طرف پھیرے دے اور ہمارے صاع اور مد میں برکت فرما۔

12743

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12743

Zaeef

۔ (۱۲۷۴۳)۔ عَنْ مُعَاذٍ، أَنَّہُ کَانَ یَقُولُ: بَعَثَنِی رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِلَی الْیَمَنِ، فَقَالَ: ((لَعَلَّکَ أَنْ تَمُرَّ بِقَبْرِی وَمَسْجِدِی، وَقَدْ بَعَثْتُکَ إِلٰی قَوْمٍ رَقِیقَۃٍ قُلُوبُہُمْ، یُقَاتِلُونَ عَلَی الْحَقِّ مَرَّتَیْنِ، فَقَاتِلْ بِمَنْ أَطَاعَکَ مِنْہُمْ مَنْ عَصَاکَ، ثُمَّ یَعُودُونَ إِلَی الْإِسْلَامِ حَتّٰی تُبَادِرَ الْمَرْأَۃُ زَوْجَہَا وَالْوَلَدُ وَالِدَہُ وَالْأَخُ أَخَاہُ، فَانْزِلْ بَیْنَ الْحَیَّیْنِ السَّکُونِ وَالسَّکَاسِکِ۔)) (مسند احمد: ۲۲۴۰۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے یمن کی طرف بھیجا اور فرمایا: میں تمہیں ایک ایسی قوم کی طرف بھیج رہا ہوں جن کے دل خوب نرم ہیں اور یہ حق کے لیے لڑتے ہیں۔ یہ بات آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دوبار بیان فرمائی ان میں سے جو لوگ تمہاری اطاعت کریں انہیں ساتھ لے کر ان لوگوں سے قتال کرنا، جو تمہاری حکم عدولی کریں، پھر وہ اسلام کی طرف لوٹیں گے، یہاں تک کہ بیوی اپنے خاوند سے، بیٹا اپنے والد سے اور بھائی اپنے بھائی سے سبقت کرنے لگیں گے اور تم وہاں کے دو قبیلوں سکون اور سکاسک میں قیام کرنا۔

12744

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12744

Zaeef

۔ (۱۲۷۴۴)۔ عَنْ عَامِرِ بْنِ أَبِی عَامِرٍ الْأَشْعَرِیِّ، عَنْ أَبِیہِ، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((نِعْمَ الْحَیُّ الْأَسْدُ وَالْأَشْعَرِیُّونَ، لَا یَفِرُّونَ فِی الْقِتَالِ، وَلَا یَغُلُّونَ، ہُمْ مِنِّی وَأَنَا مِنْہُمْ۔)) قَالَ عَامِرٌ: فَحَدَّثْتُ بِہِ مُعَاوِیَۃَ فَقَالَ: لَیْسَ ہٰکَذَا قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، وَلٰکِنَّہُ قَالَ: ((ہُمْ مِنِّی وَإِلَیَّ۔)) فَقَالَ: لَیْسَ ہٰکَذَا حَدَّثَنِی أَبِی عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، وَلٰکِنَّہُ قَالَ: ((ہُمْ مِنِّی وَأَنَا مِنْہُمْ۔)) قَالَ: فَأَنْتَ إِذًا أَعْلَمُ بِحَدِیثِ أَبِیکَ، قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: ہٰذَا مِنْ أَجْوَدِ الْحَدِیثِ مَا رَوَاہُ إِلَّا جَرِیرٌ۔ (مسند احمد: ۱۷۲۹۸)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو عامر اشعری سے مروی ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرمایا: بہترین قبیلہ بنو اسداور اشعریوں کا ہے اوریہ لوگ میدان قتال سے پیٹھ پھیر کر نہیں بھاگتے اور خیانت نہیں کرتے، وہ مجھ سے اور میں ان سے ہوں۔ عامر نے کہا: میں نے یہ حدیث سیدنا معاویہ کو بیان کی،انہوں نے کہا: اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس طرح نہیں بلکہ یوں فرمایا کہ وہ مجھ سے ہیں اور ان کا میرے ساتھ تعلق ہے۔ عامر نے کہا: میرے والد نے مجھے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس طرح بیان نہیں کیا بلکہ یوں کہا کہ وہ مجھ سے اور میں ان سے ہوں۔ یہ سن کر سیدنا معاویہ نے کہا: تم اپنے والد کے بیان کردہ الفاظ کو بہتر جانتے ہو، عبداللہ بن اما م احمد نے کہا یہ عمدہ احادیث میں سے ہے اس کو صرف جریر نے روایت کیا ہے۔

12745

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12745

Sahih

۔ (۱۲۷۴۵)۔ عَنْ ثَوْبَانَ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِنِّی لَبِعُقْرِ حَوْضِی أَذُودُ عَنْہُ لِأَہْلِ الْیَمَنِ، أَضْرِبُ بِعَصَایَ حَتّٰییَرْفَضَّ عَلَیْہِمْ۔)) فَسُئِلَ عَنْ عَرْضِہِ، فَقَالَ: ((مِنْ مُقَامِی إِلٰی عُمَانَ۔)) وَسُئِلَ عَنْ شَرَابِہِ فَقَالَ: ((أَشَدُّ بَیَاضًا مِنَ اللَّبَنِ، وَأَحْلٰی مِنَ الْعَسَلِ، یَنْشَعِبُ فِیہِ مِیزَابَانِیَمُدَّانِہِ مِنْ الْجَنَّۃِ، أَحَدُہُمَا مِنْ ذَہَبٍ وَالْآخَرُ مِنْ وَرِقٍ۔)) (مسند احمد: ۲۲۷۹۰)

اردو ترجمہ · Urdu

رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے خادم سیدنا ثوبان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں اپنے حوض کے کنارے پر موجود ہوں گا لوگوں کو پیچھے ہٹاؤں گا تاکہ اہل یمن قریب آکر آسانی سے پانی پی سکیں، میں اپنا عصا لوگوں کے اوپر سے لہراؤں گا۔ آپ سے حوض کو ثر کے عرض کے بارے میں پوچھا گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کا عرض میری اس جگہ سے عمان تک کے برابر ہوگا۔ جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس کے مشروب کی ہیئت کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہوگا، جنت سے دو پر نالے بہہ کر اس میں گررہے ہیں گے، ایک سونے کا ہوگا اور دوسرا چاندی کا۔