Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 174 · Chapter 2647

کتاب الفضائل

فصل سوم: حمص، بیت المقدس اور مسجد اقصیٰ کی فضیلت کا بیان

3 hadiths in this chapter

12732

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12732

Zaeef

۔ (۱۲۷۳۲)۔ عَنْ حُمْرَۃَ بْنِ عَبْدِ کُلَالٍ، قَالَ: سَارَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ إِلَی الشَّامِ بَعْدَ مَسِیرِہِ الْأَوَّلِ، کَانَ إِلَیْہَا حَتّٰی إِذَا شَارَفَہَا، بَلَغَہُ وَمَنْ مَعَہُ أَنَّ الطَّاعُونَ فَاشٍ فِیہَا، فَقَالَ لَہُ أَصْحَابُہُ: ارْجِعْ، وَلَا تَقَحَّمْ عَلَیْہِ فَلَوْ نَزَلْتَہَا وَہُوَ بِہَا لَمْ نَرَ لَکَ الشُّخُوصَ عَنْہَا، فَانْصَرَفَ رَاجِعًا إِلَی الْمَدِینَۃِ، فَعَرَّسَ مِنْ لَیْلَتِہِ تِلْکَ، وَأَنَا أَقْرَبُ الْقَوْمِ مِنْہُ، فَلَمَّا انْبَعَثَ انْبَعَثْتُ مَعَہُ فِی أَثَرِہِ، فَسَمِعْتُہُ یَقُولُ: رَدُّونِی عَنِ الشَّامِ بَعْدَ أَنْ شَارَفْتُ عَلَیْہِ لِأَنَّ الطَّاعُونَ فِیہِ أَلَا! وَمَا مُنْصَرَفِی عَنْہُ مُؤَخِّرٌ فِی أَجَلِی، وَمَا کَانَ قُدُومِیہِ مُعَجِّلِی عَنْ أَجَلِی، أَلَا! وَلَوْ قَدْ قَدِمْتُ الْمَدِینَۃَ فَفَرَغْتُ مِنْ حَاجَاتٍ لَا بُدَّ لِی مِنْہَا، لَقَدْ سِرْتُ حَتّٰی أَدْخُلَ الشَّامَ، ثُمَّ أَنْزِلَ حِمْصَ، فَإِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((لَیَبْعَثَنَّ اللّٰہُ مِنْہَا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ سَبْعِینَ أَلْفًا لَا حِسَابَ عَلَیْہِمْ وَلَا عَذَابَ عَلَیْہِمْ، مَبْعَثُہُمْ فِیمَا بَیْنَ الزَّیْتُونِ وَحَائِطِہَا فِی الْبَرْثِ الْأَحْمَرِ مِنْہَا۔)) (مسند احمد: ۱۲۰)

اردو ترجمہ · Urdu

حمر ہ بن عبد کلال سے مروی ہے کہ امیر المومنین سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اپنے پہلے سفر کے بعد شام کی طرف روانہ ہوئے، جب شام کے قریب پہنچے تو آپ کو اطلاع ملی کہ وہاں تو طاعون کی وباء پھیلی ہوئی ہے، آپ کے ساتھیوں نے کہا کہ آپ وہاں نہ جائیں اور یہیں سے واپس چلیں، کیونکہ اگر آپ ادھر جائیں گے تو ہمیں اندیشہ ہے کہ آپ اسی میں مبتلا نہ ہوجائیں، پس آپ مدینہ منورہ کی طرف واپس چل پڑے، واپسی کی پہلی رات کے کسی حصہ میں آپ ذرا سستانے کے لیے کسی جگہ رکے، سب لوگوں کی نسبت میں آپ کے سب سے زیادہ قریب تھا، آپ بیدار ہوئے تو میں بھی اٹھ بیٹھا، میں نے آپ کو سنا آپ کہہ رہے تھے ، میں شام تک جا پہنچا تھا ان لوگوں نے مجھے واپس کر دیا ، محض اس لیے کہ وہاں طاعون تھا ، حالانکہ میری وہاں سے واپسی میری موت کو مؤ خر نہیں کرسکتی اور میرا وہاں جانا میری موت کو جلدی نہ لاتا، خبردار! اب مدینہ جا کر اپنے ضروری کام تکمیل کر کے میں دوبارہ شام کی طرف جاؤں گا اور پھر حمص میں قیام کروں گا، میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یوں فرماتے سن چکا ہوں کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن وہاں سے ستر ہزار ایسے لوگوں کو اٹھائے گا، جن پر کوئی حساب و عذاب نہ ہوگا، انہیں وہاں کے زیتون اور اس کے باغات کے درمیان میں برثِ ا حمر سے اٹھا لیا جائے گا۔

12733

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12733

Zaeef

۔ (۱۲۷۳۳)۔ عَنْ زِیَادِ بْنِ أَبِی سَوْدَۃَ، عَنْ أَخِیہِ أَنَّ مَیْمُونَۃَ مَوْلَاۃَ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! أَفْتِنَا فِی بَیْتِ الْمَقْدِسِ، فَقَالَ: ((أَرْضُ الْمَنْشَرِ وَالْمَحْشَرِ ائْتُوہُ فَصَلُّوا فِیہِ فَإِنَّ صَلَاۃً فِیہِ کَأَلْفِ صَلَاۃٍ فِیمَا سِوَاہُ۔)) قَالَتْ: أَرَأَیْتَ مَنْ لَمْ یُطِقْ أَنْ یَتَحَمَّلَ إِلَیْہِ أَوْ یَأْتِیَہُ، قَالَ: ((فَلْیُہْدِ إِلَیْہِ زَیْتًایُسْرَجُ فِیہِ فَإِنَّ مَنْ أَہْدٰیلَہُ کَانَ کَمَنْ صَلّٰی فِیہِ۔)) (مسند احمد: ۲۸۱۷۸)

اردو ترجمہ · Urdu

نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خادمہ سیدہ میمونہ بنت سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے ، انھوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! آپ ہمیں بیت المقدس کے بارے میں کچھ ارشاد فرمائیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ لوگوں کے اٹھائے جانے اور جمع کیے جانے کی جگہ ہے، تم وہاں جا کر نماز پڑھا کرو، وہاں کی ایک نماز باقی مقامات کی ایک ہزار نمازوں سے افضل ہے۔ انہوں نے کہا: اس بارے میں آپ کا کیا خیال ہے کہ اگر کوئی وہاں نہ جا سکے یا سفر کی مشقت برداشت نہ کر سکے تو کیا کرے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ وہاں جلانے کے لیے زیتون کا تیل بھجوا دے، جس نے وہاں تیل بھجوا دیا، اس نے گویا وہاں نماز ادا کر لی۔

12734

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12734

Sahih

۔ (۱۲۷۳۴)۔ وَعَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: ((إِنَّ سُلَیْمَانَ بْنَ دَاوُدَ عَلَیْہِ السَّلَام سَأَلَ اللّٰہَ ثَلَاثًا أَعْطَاہُ اثْنَتَیْنِ، وَنَحْنُ نَرْجُو أَنْ تَکُونَ لَہُ الثَّالِثَۃُ، فَسَأَلَہُ حُکْمًا یُصَادِفُ حُکْمَہُ فَأَعْطَاہُ اللّٰہُ إِیَّاہُ، وَسَأَلَہُ مُلْکًا لَا یَنْبَغِی لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِہِ فَأَعْطَاہُ إِیَّاہُ، وَسَأَلَہُ أَیُّمَا رَجُلٍ خَرَجَ مِنْ بَیْتِہِ لَا یُرِیدُ إِلَّا الصَّلَاۃَ فِی ہٰذَا الْمَسْجِدِ خَرَجَ مِنْ خَطِیئَتِہِ مِثْلَ یَوْمِ وَلَدَتْہُ أُمُّہُ، فَنَحْنُ نَرْجُو أَنْ یَکُونَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَعْطَاہُ إِیَّاہُ۔)) (مسند احمد: ۶۶۴۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سلیمان بن داؤد علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے تین دعائیں کیں، اللہ تعالیٰ نے ان کی دو دعائیں قبول کر لیں، ہمیں امیدہے کہ اللہ ان کی تیسری دعا بھی قبول کر ے گا، انہوں نے اللہ سے دعا کی کہ ان کا فیصلہ اللہ کے فیصلہ کے مطابق ہو، اللہ نے ان کی یہ دعا قبول کر لی، انہوں نے دوسری دعا یہ کی کہ اللہ ان کو ایسی حکومت دے کر ایسی حکومت ان کے بعد کسی اور کونہ ملے، اللہ نے ان کی یہ دعا بھی قبول فرمائی، انہوں نے تیسری دعا یہ کی کہ جو آدمی اپنے گھر سے محض نماز ادا کرنے کے لیے مسجد اقصیٰ کو جائے، وہ گناہوں سے یوں پاک صاف ہوجائے، جیسا وہ اپنی ولادت کے روز تھا، ہمیں امید ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی یہ دعا بھی قبول کرلی ہوگی۔