Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 174 · Chapter 2640

کتاب الفضائل

رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے منبر کی کیفیت اور اس امر کابیان کہ وہ کس چیز سے بنا ہوا تھا

3 hadiths in this chapter

12696

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12696

Sahih

۔ (۱۲۶۹۶)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ کَانَ جِذْعُ نَخْلَۃٍ فِی الْمَسْجِدِ یُسْنِدُ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ظَہْرَہُ إِلَیْہِ، إِذَا کَانَ یَوْمُ جُمُعَۃٍ، أَوْ حَدَثَ أَمْرٌ یُرِیدُ أَنْ یُکَلِّمَ النَّاسَ، فَقَالُوْا: أَلَا نَجْعَلُ لَکَ یَا رَسُولَ اللّٰہِ! شَیْئًا کَقَدْرِ قِیَامِکَ؟ قَالَ: ((لَا عَلَیْکُمْ أَنْ تَفْعَلُوْا۔)) فَصَنَعُوْا لَہُ مِنْبَرًا ثَلَاثَ مَرَاقٍ۔ قَالَ: فَجَلَسَ عَلَیْہِ، قَالَ: فَخَارَ الْجِذْعُ کَمَا تَخُورُ الْبَقَرَۃُ جَزَعًا عَلٰی رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَالْتَزَمَہُ وَمَسَحَہُ حَتّٰی سَکَنَ۔ (مسند احمد: ۵۸۸۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ مسجد نبوی میں کھجور کا ایک تنا تھا، جمعہ کے دن یا کسی خاص موقع پر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لوگوں سے مخاطب ہونا چاہتے تو اپنی پشت اس کے ساتھ لگا کر کھڑے ہوجاتے، لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ! ہم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے کھڑے ہونے کے لیے بلند چیز نہ بنادیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ٹھیک ہے، ، اس میں کوئی حرج نہیں۔ تو انہوں نے تین سیڑھیوں ولاا ایک منبر تیار کر دیا، سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خطبہ دینے کے لیے اس پر کھڑے ہوئے تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی جدائی پر غمگین ہو کر وہ تنا اس طرح بلند آواز سے جزع فزع کرنے لگا، جیسے گائے جزع فزع کرتی ہے، تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جا کر اسے سینہ سے لگایا اور اس پر ہاتھ پھیرا تو وہ خاموش ہو گیا۔

12697

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12697

Sahih

۔ (۱۲۶۹۷)۔ عَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّہُ سُئِلَ عَنِ الْمِنْبَرِ مِنْ أَیِّ عُودٍ ہُوَ؟ قَالَ: أَمَا وَاللّٰہِ! إِنِّی لَأَعْرِفُ مِنْ أَیِّ عُودٍ ہُوَ؟ وَأَعْرِفُ مَنْ عَمِلَہُ؟ وَأَیُّیَوْمٍ صُنِعَ؟ وَأَیُّیَوْمٍ وُضِعَ؟ وَرَأَیْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَوَّلَ یَوْمٍ جَلَسَ عَلَیْہِ، أَرْسَلَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِلَی امْرَأَۃٍ لَہَا غُلَامٌ نَجَّارٌ، فَقَالَ لَہَا: ((مُرِی غُلَامَکِ النَّجَّارَ أَنْ یَعْمَلَ لِی أَعْوَادًا، أَجْلِسُ عَلَیْہَا إِذَا کَلَّمْتُ النَّاسَ۔)) فَأَمَرَتْہُ فَذَہَبَ إِلَی الْغَابَۃِ فَقَطَعَ طَرْفَائَ فَعَمِلَ الْمِنْبَرَ ثَلَاثَ دَرَجَاتٍ، فَأَرْسَلَتْ بِہِ إِلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَوُضِعَ فِی مَوْضِعِہِ ہٰذَا الَّذِی تَرَوْنَ فَجَلَسَ عَلَیْہِ أَوَّلَ یَوْمٍ وُضِعَ فَکَبَّرَ ہُوَ عَلَیْہِ، ثُمَّ رَکَعَ ثُمَّ نَزَلَ الْقَہْقَرٰی فَسَجَدَ وَسَجَدَ النَّاسُ مَعَہُ، ثُمَّ عَادَ حَتّٰی فَرَغَ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: ((یَا أَیُّہَا النَّاسُ إِنَّمَا فَعَلْتُ ہٰذَا لِتَأْتَمُّوا بِی وَلِتَعْلَمُوا صَلَاتِی۔)) فَقِیلَ لِسَہْلٍ: ہَلْ کَانَ مِنْ شَأْنِ الْجِذْعِ مَا یَقُولُ النَّاسُ، قَالَ: قَدْ کَانَ مِنْہُ الَّذِی کَانَ۔ (مسند احمد: ۲۳۲۵۹)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا سہل بن سعد ساعدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ان سے کہا گیا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا منبر کس چیز سے بنا ہوا ہے؟ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! میں خوب جانتا ہوں کہ وہ کس لکڑی کا بنا ہوا ہے؟ اسے کس نے کب بنایا ہے اور کس دن لا کر اسے رکھا گیا؟ اور میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو پہلے دن اس پر تشریف رکھتے دیکھا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک خاتون کو پیغام بھیجا تھا، جس کا غلام بڑھئی تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے فرمایا: تم اپنے غلام بڑھئی سے کہو کہ وہ لوگوں سے میرے مخاطب ہوتے وقت بلند جگہ بیٹھنے کے لیے لکڑی کی کوئی چیز تیار کردے۔ اس خاتون نے اس غلام کو اس کا حکم دیا، تو وہ جنگل میں گیا اور وہاں سے جھاؤ کی لکڑی کاٹ کر لایا اور اس نے تین سیڑھیوں پر مشتمل ایک منبر تیار کر دیا، چنانچہ اس خاتون نے وہ منبر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں بھجوادیا، چنانچہ اسے اس کی اسی جگہ پر رکھا گیا، جہاں تم اسے اب دیکھ رہے ہو، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پہلے دن اس منبرپر بیٹھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسی پر اللہ اکبر کہا اور رکوع کیا اس کے بعد الٹے پاؤں نیچے اتر کر زمین پر سجدہ کیا اور لوگوں نے بھی آپ کے ہمراہ سجدہ کیا، اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پھر منبر پر چلے گئے، تاآنکہ نماز سے فارغ ہوئے، نما ز سے فارغ ہوئے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگو! میں نے عمداً یہ کام کیا ہے، تاکہ تم میری اقتدا کرسکو اور میری نماز کا طریقہ سیکھ لو۔ سیدنا سہل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا گیا: اس تنے کا کوئی ایسا واقعہ بھی پیش آیا تھا جو لوگ بیان کرتے ہیں؟ انہوں نے کہا: ایسا ہوا تھا۔

12698

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12698

Sahih

۔ (۱۲۶۹۸)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ سَھْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: کَانَ مِنْ اَثَلِ الْغَابَۃِ،یَعْنِیْ مِنْبَرَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۲۳۱۸۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) سیدنا سہل بن سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: منبر نبوی جھاؤ کی لکڑی کا تھا۔