Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 174 · Chapter 2634

کتاب الفضائل

باب ہفتم: آخری زمانہ میں مدینہ منورہ کی ویرانی کا بیان

7 hadiths in this chapter

12665

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12665

Sahih

۔ (۱۲۶۶۵)۔ عَنْ أَبِی ذَرٍّ قَالَ: أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَنَزَلْنَا ذَا الْحُلَیْفَۃِ، فَتَعَجَّلَتْ رِجَالٌ إِلَی الْمَدِینَۃِ، وَبَاتَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَبِتْنَا مَعَہُ، فَلَمَّا أَصْبَحَ سَأَلَ عَنْہُمْ فَقِیلَ: تَعَجَّلُوا إِلَی الْمَدِینَۃِ، فَقَالَ: ((تَعَجَّلُوا إِلَی الْمَدِینَۃِ وَالنِّسَائِ، أَمَا إِنَّہُمْ سَیَدَعُونَہَا أَحْسَنَ مَا کَانَتْ۔))ثُمَّ قَالَ: ((لَیْتَ شِعْرِی مَتٰی تَخْرُجُ نَارٌ مِنَ الْیَمَنِ مِنْ جَبَلِ الْوِرَاقِ تُضِیئُ مِنْہَا أَعْنَاقُ الْإِبِلِ بُرُوکًا بِبُصْرٰی کَضَوْئِ النَّہَار۔)) (مسند احمد: ۲۱۶۱۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہمراہ سفر سے واپس ہوئے اور ہم ذوالحلیفہ میں ٹھہرے، کچھ لوگ تو مدینہ منورہ کی طرف جلدی چلے گئے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رات وہیں بسر کی اور ہم نے بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ ہی رات گزاری، صبح ہوئی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان حضرات کے متعلق پوچھا کہ وہ کہاں ہیں؟ بتلایا گیا کہ وہ تو مدینہ کی طرف جلدی چلے گئے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ مدینہ کی طرف اور اپنی بیویوں کی طرف جلدی چلے گئے، خبردار! عنقریب ایک دور آئے گا کہ مدینہ کی اچھی بھلی حالت ہونے کے باوجود یہ مدینہ کو چھوڑ جائیں گے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کاش کہ مجھے علم ہو کہ یمن کے جبل وارق سے کب وہ آگ نمودار ہوگی، جس سے بصریٰ میں بیٹھے ہوئے اونٹوں کی گردنیں یوں چمکیں گی، جیسے دن میں چمکتی ہیں۔

12666

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12666

Sahih

۔ (۱۲۶۶۶)۔ عَنْ مِحْجَنِ بْنِ الْأَدْرَعِ قَالَ: قَالَ رَجَائٌ: أَقْبَلْتُ مَعَ مِحْجَنٍ ذَاتَ یَوْمٍ حَتّٰی إِذَا انْتَہَیْنَا إِلٰی مَسْجِدِ الْبَصْرَۃِ، فَوَجَدْنَا بُرَیْدَۃَ الْأَسْلَمِیَّ عَلٰی بَابٍ مِنْ أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ جَالِسًا، قَالَ: وَکَانَ فِی الْمَسْجِدِ رَجُلٌ یُقَالُ لَہُ: سُکْبَۃُیُطِیلُ الصَّلَاۃَ، فَلَمَّا انْتَہَیْنَا إِلٰی بَابِ الْمَسْجِدِ وَعَلَیْہِ بُرَیْدَۃُ، قَالَ: وَکَانَ بُرَیْدَۃُ صَاحِبَ مُزَاحَاتٍ، قَالَ: یَا مِحْجَنُ! أَلَا تُصَلِّی کَمَا یُصَلِّی سُکْبَۃُ؟ قَالَ: فَلَمْ یَرُدَّ عَلَیْہِ مِحْجَنٌ شَیْئًا وَرَجَعَ، قَالَ: وَقَالَ لِی مِحْجَنٌ: إِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَخَذَ بِیَدِی فَانْطَلَقَ یَمْشِی حَتّٰی صَعِدَ أُحُدًا، فَأَشْرَفَ عَلَی الْمَدِینَۃِ، فَقَالَ: ((وَیْلُ أُمِّہَا مِنْ قَرْیَۃٍیَتْرُکُہَا أَہْلُہَا کَأَعْمَرِ مَا تَکُونُ یَأْتِیہَا الدَّجَّالُ، فَیَجِدُ عَلٰی کُلِّ بَابٍ مِنْ أَبْوَابِہَا مَلَکًا مُصْلِتًا، فَلَا یَدْخُلُہَا۔)) قَالَ: ثُمَّ انْحَدَرَ حَتّٰی إِذَا کُنَّا بِسُدَّۃِ الْمَسْجِدِ رَأٰی رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَجُلًا یُصَلِّی فِی الْمَسْجِدِ، وَیَسْجُدُ وَیَرْکَعُ وَیَسْجُدُ وَیَرْکَعُ، قَالَ: فَقَالَ لِی رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((مَنْ ہَذَا؟)) قَالَ: فَأَخَذْتُ أُطْرِیہِ لَہُ، قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! ہٰذَا فُلَانٌ وَہٰذَا وَہٰذَا، قَالَ: ((اسْکُتْ لَا تُسْمِعْہُ فَتُہْلِکَہُ۔)) قَالَ: ثُمَّ انْطَلَقَ یَمْشِی حَتّٰی إِذَا کُنَّا عِنْدَ حُجْرَۃٍ لٰکِنَّہُ رَفَضَ یَدِی ثُمَّ قَالَ: ((إِنَّ خَیْرَ دِینِکُمْ أَیْسَرُہُ، إِنَّ خَیْرَ دِینِکُمْ أَیْسَرُہُ، إِنَّ خَیْرَ دِینِکُمْ أَیْسَرُہُ۔)) (مسند احمد: ۲۰۶۱۷)

اردو ترجمہ · Urdu

محجن بن ادرع سے مروی ہے کہ رجاء کہتے ہیں: میں ایک روز محجن کے ہمراہ آیا اور ہم بصرہ کی مسجد میں جاپہنچے، مسجد کے ایک دروزے پر ہم نے بریدہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو بیٹھے ہوئے پایا، مسجد میں سکبہ نامی ایک شخص تھا، وہ کافی طویل نماز پڑھتا تھا، جب ہم مسجد کے دروازے پر واپس آئے تو سیدنا بریدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ وہیں موجود تھے، وہ بڑے صاحب مزاح تھے، کہنے لگے: ارے محجن! کیا تم اس طرح نماز نہیں پڑھتے، جیسے سکبہ پڑھتا ہے؟ تو محجن نے کوئی جواب نہ دیا اور واپس آگئے، رجاء کہتے ہیں: محجن نے مجھ سے کہا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور چل پڑے، یہاں تک کہ احد کے اوپر چلے گئے، آپ نے مدینہ کی طرف جھانک کر فرمایا: افسوس ہے اس بستی پر کہ جب یہ خوب آباد ہوگی، یہاں کے باشندے اسے چھوڑ دیں گے یعنی یہاں سے نقل مکانی کر جائیں گے۔ (ایک روایت ہے محجن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اللہ کے نبی! تب یہاں کے پھل وغیرہ کون کھائے گا؟ آپ نے فرمایا: پرندے اور درندے) دجال اس بستی کی طرف آئے گا تو وہ اس کے ہر دروازے پر تلوار سونتے ہوئے فرشتے کو دیکھے گا اور اس میں داخل نہ ہو سکے گا۔ اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نیچے کو اترے، جب ہم مسجد کے دروازے پر پہنچے، تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک آدمی کو مسجد میں نماز پڑھتے دیکھا بس وہ رکوع و سجود ہی کیے جا رہا تھا، اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے پوچھا: یہ کون ہے؟ میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ارشاد کے بعد اسے غور سے دیکھنا شروع کیا، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ فلاں آدمی ہے، یہ فلاں ہے اور یہ فلاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: خاموش رہو، یہ الفاظ اسے سنا کر تم اسے ہلاکت میں ڈال دو گے۔ اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم چل پڑے، یہاں تک کہ جب ہم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے حجرہ کے قریب پہنچے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرا ہاتھ چھوڑ دیا اورفرمایا: تمہارا بہترین دین وہ ہے، جو سب سے آسان ہو، تمہارا بہترین دین وہ ہے، جس میں سب سے زیادہ آسانی ہو، تمہارا بہترین دین وہ ہے جو سب سے آسان ہو۔

12667

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12667

Sahih

۔ (۱۲۶۶۷)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَیَدَعَنَّ أَہْلُ الْمَدِینَۃِ الْمَدِینَۃَ وَہِیَ خَیْرُ مَا یَکُونُ مُرْطِبَۃٌ مُونِعَۃٌ۔)) فَقِیلَ: مَنْ یَأْکُلُہَا؟ قَالَ: ((الطَّیْرُ وَالسِّبَاعُ۔)) (مسند احمد: ۹۰۵۵)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اہل مدینہ، مدینہ کو چھوڑ جائیں گے، حالانکہ یہ ہر لحاظ سے خوش گوار اور آسودہ زندگی والاہو گا اور اس کے پھل خوب پکے ہوئے ہوں گے۔ کسی نے کہا: تب وہاں کے پھل وغیرہ کون کھائے گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پرندے اور درندے۔

12668

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12668

Sahih

۔ (۱۲۶۶۸)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ) یَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِلْمَدِینَۃِ: ((لَتَتْرُکَنَّہَا عَلٰی خَیْرِ مَا کَانَتْ مُذَلَّلَۃً لِلْعَوَافِییَعْنِی السِّبَاعَ وَالطَّیْرَ۔)) (مسند احمد: ۸۹۸۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مدینہ کے متعلق فرمایا: تم لوگ خوش حالی کے باوجود اس شہر کو درندوں اور پرندوں کے لیے چھوڑ جاؤ گے۔

12669

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12669

Sahih

۔ (۱۲۶۶۹)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((الْمَدِینَۃُیَتْرُکُہَا أَہْلُہَا وَہِیَ مُرْطِبَۃٌ۔)) قَالُوْا: فَمَنْ یَأْکُلُہَایَا رَسُولَ اللّٰہِ؟ قَالَ: ((السِّبَاعُ وَالْعَائِفُ۔)) قَالَ أَبُو عَوَانَۃَ: فَحُدِّثْتُ أَنَّ أَبَا بِشْرٍ قَالَ: کَانَ فِی کِتَابِ سُلَیْمَانَ بْنِ قَیْسٍ۔ (مسند احمد: ۱۴۶۱۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مدینہ اگر چہ تازہ کھجوروں والا ہوگا، مگر اہل مدینہ اسے چھوڑ جائیں گے۔ صحابہ نے کہا: اللہ کے رسول! یہاں (کے پھل اور غلہ وغیرہ) کون کھائے گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: درندے اور پرندے۔ ابو عوانہ نے کہا: مجھے بتایا گیا کہ ابو بشر نے کہا ہے کہ یہ حدیث سلیمان بن قیس کی کتاب میں تھی۔

12670

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12670

Sahih

۔ (۱۲۶۷۰)۔ عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَیَسِیرَنَّ رَاکِبٌ فِی جَنْبِ وَادِی الْمَدِینَۃِ، لَیَقُولَنَّ لَقَدْ کَانَ فِی ہٰذِہِ مَرَّۃً حَاضِرَۃٌ مِنَ الْمُؤْمِنِینَ کَثِیرٌ۔)) (مسند احمد: ۱۴۷۳۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مدینہ کی وادی کے قریب سے کوئی سوار گزرتے ہوئے کہے گا کہ کبھی ا س شہر میں اہل ایمان کی بہت بڑی آبادی ہوتی تھی۔

12671

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12671

Sahih

۔ (۱۲۶۷۱)۔ عَنْ جَابِرٍ قَالَ: أَخْبَرَنِی عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((لَیَسِیرَنَّ الرَّاکِبُ فِی جَنَبَاتِ الْمَدِینَۃِ، ثُمَّ لَیَقُولُ: لَقَدْ کَانَ فِی ہَذَا حَاضِرٌ مِنَ الْمُؤْمِنِینَ کَثِیرٌ۔)) قَالَ أَبِی أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ: وَلَمْ یَجُزْ بِہِ حَسَنٌ الْأَشْیَبُ جَابِرًا۔ (مسند احمد: ۱۲۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک سوار مدینہ کے پاس سے گزرتے ہوئے کہے گا کہ کبھی اس شہر میں اہل ایمان کی بڑی تعداد ہوا کرتی تھی۔ امام احمد بن حنبل نے کہا: حسن اشیب نے جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے آگے تجاوز نہیں کیا۔ (یعنی عمر بن خطاب کا تذکرہ نہیں کیا بلکہ مسند جابر کے انداز میں حدیث بیان کی ہے)