Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 174 · Chapter 2628

کتاب الفضائل

مدینہ منورہ کے فضائل کے ابواب باب اول: مدینہ منورہ کی حرمت او راس کے حرم ہونے کا بیان

17 hadiths in this chapter

12608

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12608

Sahih

۔ (۱۲۶۰۸)۔ عَنْ أَبِی حَسَّانَ، أَنَّ عَلِیًّا رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ کَانَ یَأْمُرُ بِالْأَمْرِ فَیُؤْتٰی، فَیُقَالُ: قَدْ فَعَلْنَا کَذَا وَکَذَا، فَیَقُولُ: صَدَقَ اللّٰہُ وَرَسُولُہُ، قَالَ: فَقَالَ لَہُ الْأَشْتَرُ: إِنَّ ہٰذَا الَّذِی تَقُولُ قَدْ تَفَشَّغَ فِی النَّاسِ أَفَشَیْئٌ عَہِدَہُ إِلَیْکَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، قَالَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ: مَا عَہِدَ إِلَیَّ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ شَیْئًا خَاصَّۃً دُونَ النَّاسِ إِلَّا شَیْئٌسَمِعْتُہُ مِنْہُ، فَہُوَ فِی صَحِیفَۃٍ فِی قِرَابِ سَیْفِی، قَالَ: فَلَمْ یَزَالُوا بِہِ حَتّٰی أَخْرَجَ الصَّحِیفَۃَ، قَالَ: فَإِذَا فِیہَا، ((مَنْ أَحْدَثَ حَدَثًا أَوْ آوَی مُحْدِثًا فَعَلَیْہِ لَعْنَۃُ اللّٰہِ وَالْمَلَائِکَۃِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِینَ، لَا یُقْبَلُ مِنْہُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ۔)) قَالَ: وَإِذَا فِیہَا، ((إِنَّ إِبْرَاہِیمَ حَرَّمَ مَکَّۃَ، وَإِنِّی أُحَرِّمُ الْمَدِینَۃَ حَرَامٌ مَا بَیْنَ حَرَّتَیْہَا، وَحِمَاہَا کُلُّہُ، لَا یُخْتَلَی خَلَاہَا، وَلَا یُنَفَّرُ صَیْدُہَا، وَلَا تُلْتَقَطُ لُقَطَتُہَا إِلَّا لِمَنْ أَشَارَ بِہَا، وَلَا تُقْطَعُ مِنْہَا شَجَرَۃٌ إِلَّا أَنْ یَعْلِفَ رَجُلٌ بَعِیرَہُ، وَلَا یُحْمَلُ فِیہَا السِّلَاحُ لِقِتَالٍ۔)) قَالَ: وَإِذَا فِیہَا، ((الْمُؤْمِنُونَ تَتَکَافَأُ دِمَاؤُہُمْ، وَیَسْعٰی بِذِمَّتِہِمْ أَدْنَاہُمْ، وَہُمْ یَدٌ عَلٰی مَنْ سِوَاہُمْ، أَلَا! لَا یُقْتَلُ مُؤْمِنٌ بِکَافِرٍ، وَلَا ذُو عَہْدٍ فِی عَہْدِہِ۔)) (مسند احمد: ۹۵۹)

اردو ترجمہ · Urdu

ابو حسان سے مروی ہے کہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ جب کوئی حکم دیتے اور وہ کام کر کے کہا جاتا کہ ہم لوگوں نے فلاں فلاں کام کر دیا ہے تو وہ کہتے: اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے سچ کہا ہے،اشتر نے ان سے کہا:آپ جو ایسی ایسی بات کہہ جاتے ہیں، اب یہ لوگوں میں عام پھیل گئی ہے، کیا یہ کوئی ایسی بات ہے جو آپ کو اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بطورِ خاص ارشاد فرمائی ہے؟ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے لوگوں سے الگ طور پر کوئی بات ارشاد نہیں فرمائی، البتہ میں نے آپ سے ایک بات سنی ہوئی ہے، جو اس صحیفہ میں لکھی ہوئی ہے اور وہ صحیفہ میری تلوار کے میان میں محفوظ ہے، لوگوں کے اصرار پر انہو ں نے وہ صحیفہ نکالا تو اس میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا یہ فرمان لکھا ہوا تھا: جو شخص دین میں نیا کام جاری کرے یا کسی نئے کام کرنے والے کو تحفظ دے، اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور سب لوگوں کی لعنت ہے، اس کی کوئی نفل یا فرض عبادت مقبول نہیں ہو گی۔ نیز اس میں یہ بھی لکھا ہوا تھا کہ ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کی حرمت کا اعلان کیا اور میں مدینہ منورہ کی حرمت کاا علان کرتا ہوں، یہ دونوں حرّوں کے درمیان کا علاقہ حرم ہے اور اس کی تمام چراگاہوں میں سے گھاس نہ کاٹی جائے اور نہ اس کے شکار کو دھمکایا ڈرایاجائے اور یہاں پر گری ہوئی چیز کو نہ اٹھایا جائے، البتہ اگر کوئی اس کا اعلان کرنا چاہتا ہوتو اٹھاسکتا ہے اور نہ حدود حرم میں درخت کاٹے جائیں، ہاں کوئی آدمی اپنے اونٹ چرا سکتا ہے اور یہاں لڑائی کے لیے ہتھیار نہ اٹھائے جائیں۔ اور اس میں یہ بھی تحریر تھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمام اہل ایمان کے خون برابر ہیں اور جب کوئی مسلمان کسی غیر مسلم کو امان دے دے تو سب مسلمان ا س عہد و پیمان کو پورا کریں اور مسلمان اپنے دشمن کے مقابلہ میں سب مل کر ایک ہیں، یاد رکھو کہ کسی مومن کو کسی کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جاسکتا اور نہ امان والے کو اس کی مدت امان میں قتل کیاجاسکتا ہے۔

12609

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12609

Sahih

۔ (۱۲۶۰۹)۔ وَعَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَلْمَدِیْنَۃُ حَرَمٌ مَا بَیْنَ عِیْرٍ اِلٰی ثَوْرٍ، فَمَنْ أَحْدَثَ فِیہَا حَدَثًا أَوْ آوَی مُحْدِثًا فَعَلَیْہِ لَعْنَۃُ اللّٰہِ وَالْمَلَائِکَۃِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِینَ، لَا یَقْبَلُ اللّٰہُ مِنْہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ عَدْلًا وَلَا صَرْفًا۔)) (مسند احمد: ۶۱۵)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مدینہ عیر پہاڑ سے ثور پہاڑ تک حرم ہے، جس نے مدینہ میں کوئی بدعت جاری کی یابدعتی کو پناہ دی، پس اس پر اللہ تعالیٰ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی کوئی فرض یا نفل عبادت قبول نہیں کرے گا۔

12610

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12610

Sahih

۔ (۱۲۶۱۰)۔ وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((لِکُلِّ نَبِیٍّ حَرَمٌ وَحَرَمِی الْمَدِینَۃُ، اللَّہُمَّ إِنِّی أُحَرِّمُہَا بِحُرَمِکَ، أَنْ لَا یُؤْوٰی فِیہَا مُحْدِثٌ، وَلَا یُخْتَلٰی خَلَاہَا، وَلَا یُعْضَدُ شَوْکُہَا، وَلَا تُؤْخَذُ لُقَطَتُہَا إِلَّا لِمُنْشِدٍ۔)) (مسند احمد: ۲۹۲۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر نبی کا کوئی نہ کوئی حرم ہوتا ہے اور میرا حرم مدینہ ہے، اے اللہ! میں اسے آپ کی اجازت سے حرم قرار دیتا ہوں، کوئی بدعتی یا گناہ گار یہاں پناہ نہ لے سکے، یہاں کے درخت نہ کاٹے جائیں اور نہ گھاس کاٹی جائے اور اعلان کرنے والے کے علاوہ کسی دوسری کے لیے یہاں کی گری ہوئی چیز اٹھانے کی اجازت نہیں۔

12611

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12611

Sahih

۔ (۱۲۶۱۱)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ تَوَلّٰی قَوْمًا بِغَیْرِ إِذْنِ مَوَالِیہِ فَعَلَیْہِ لَعْنَۃُ اللّٰہِ وَالْمَلَائِکَۃِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِینَ، لَا یَقْبَلُ اللّٰہُ مِنْہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ عَدْلًا وَلَا صَرْفًا، وَالْمَدِینَۃُ حَرَامٌ، فَمَنْ أَحْدَثَ فِیہَا أَوْ آوٰی مُحْدِثًا فَعَلَیْہِ لَعْنَۃُ اللّٰہِ وَالْمَلَائِکَۃِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِینَ، لَا یَقْبَلُ اللّٰہُ مِنْہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ عَدْلًا وَلَا صَرْفًا، وَذِمَّۃُ الْمُسْلِمِینَ وَاحِدَۃٌ،یَسْعٰی بِہَا أَدْنَاہُمْ، فَمَنْ أَخْفَرَ مُسْلِمًا فَعَلَیْہِ لَعْنَۃُ اللّٰہِ وَالْمَلَائِکَۃِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِینَ، لَا یَقْبَلُ اللّٰہُ مِنْہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ عَدْلًا وَلَا صَرْفًا۔)) (مسند احمد: ۹۱۶۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی اپنے مالکوں کی اجازت کے بغیر کسی دوسرے کو اپنا مالک بناتا ہے، اس پر اللہ تعالیٰ فرشتوں اور سب لوگوں کی لعنت ہے، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کی کوئی فرض یا نفل عبادت قبول نہ کرے گا، مدینہ حرم ہے، جو شخص یہاں بدعت یا گناہ کاکام کرے یا کسی بدعتی اور گناہ گار کو پناہ دے، اس پر اللہ تعالی، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کی کوئی فرض یا نفل عبادت قبول نہ کرے گا، تمام مسلمانوں کی پناہ برابر ہے، کوئی ادنیٰ مسلمان کسی غیر مسلم کو پناہ دے سکتا ہے، جس نے کسی مسلمان کا عہد توڑا، اس پراللہ تعالیٰ کی، فرشتوں کی اور سب لوگوں کی لعنت ہو گی اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کی کوئی فرض یا نفل عبادت قبول نہیں کرے گا۔

12612

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12612

Sahih

۔ (۱۲۶۱۲)۔ (وَعَنْہُ اَیْضًا) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((حَرَّمَ اللّٰہُ عَلَی لِسَانِی مَا بَیْنَ لَابَتَیِ الْمَدِینَۃِ۔)) ثُمَّ جَائَ بَنِی حَارِثَۃَ، فَقَالَ: ((یَا بَنِی حَارِثَۃَ مَا أُرَاکُمْ إِلَّا قَدْ خَرَجْتُمْ مِنَ الْحَرَمِ۔)) ثُمَّ نَظَرَ فَقَالَ: ((بَلْ أَنْتُمْ فِیہِ، بَلْ أَنْتُمْ فِیہِ۔)) (مسند احمد: ۷۸۳۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مدینہ کے دو حرّوں کے درمیان والی جگہ کو میری زبان کے ذریعے حرم قرار دیا ہے۔ اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بنو حارثہ کے ہاں گئے اور فرمایا: بنو حارثہ! میرا خیال ہے کہ تمہاری سکونت حرم سے باہر ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے غور سے دیکھا اور فرمایا: نہیں،نہیں، تم حرم کے اندر ہی ہو، تم حرم کے اندر ہی ہو۔

12613

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12613

Sahih

۔ (۱۲۶۱۳)۔ وَعَنْہُ فِیْ اُخْرٰی قَالَ: عَنِ ابْنِ الْمُسَیَّبِ أَنَّ أَبَا ہُرَیْرَۃَ قَالَ: حَرَّمَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَا بَیْنَ لَابَتَیِ الْمَدِینَۃِ، قَالَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ: فَلَوْ وَجَدْتُ الظِّبَائَ مَا بَیْنَ لَابَتَیْہَا مَا ذَعَرْتُہَا، وَجَعَلَ حَوْلَ الْمَدِینَۃِ اثْنَیْ عَشَرَ مِیلًا حِمًی۔ (مسند احمد: ۷۷۴۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابوہریر ہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مدینہ کے دو حرّوں کے درمیان والی جگہ کو حرم قرار دیا ہے، سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اگر میں ان دو حرّوں کے درمیان ہرن پاؤں تو میں ان کو ڈراتا دھمکاتا نہیں اور آپ نے مدینہ کے ارد گرد بار ہ میل کو حرم قرار دیا تھا۔

12614

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12614

Sahih

۔ (۱۲۶۱۴)۔ (وَعَنْہُ اَیْضًا) قَالَ: لَوْ رَأَیْتُ الْأَرْوٰی تَجُوسُ مَا بَیْنَ لَابَتَیْہَایَعْنِی الْمَدِینَۃَ مَا ہِجْتُہَا وَلَا مَسِسْتُہَا، وَذٰلِکَ أَنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ(( یُحَرِّمُ شَجَرَہَا أَنْ یُخْبَطَ أَوْ یُعْضَدَ۔)) (مسند احمد: ۷۴۶۹)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اگر میں جنگلی بکریوں کو مدینہ کے دو حرّوں کے درمیان گھومتے دیکھو ں تو میں نہ انہیں ڈراتا دھمکاتا ہوں، اور نہ اس کو ہاتھ لگاتا ہوں، اس لیے کہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے سنا تھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کے درختوں کو جھاڑنے یا کاٹنے کو حرام قرار دے رہے تھے۔

12615

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12615

Sahih

۔ (۱۲۶۱۵)۔ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَرَّمَ مَا بَیْنَ حَرَّتَیِ الْمَدِینَۃِ، لَا یُقْطَعُ مِنْہَا شَجَرَۃٌ إِلَّا أَنْ یَعْلِفَ الرَّجُلُ بَعِیرَہُ۔ (مسند احمد: ۱۴۶۷۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مدینہ منورہ کے د و حرّوں کے درمیان والی جگہ کو حرم قرار دیا ہے کہ وہاں سے کوئی درخت نہیں کاٹا جاسکتا، البتہ اگر کوئی آدمی اپنے اونٹ کو چارہ ڈالنا چاہے تو اس کی اجازت ہے۔

12616

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12616

Sahih

۔ (۱۲۶۱۶)۔ وَعَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ اَبِیْ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: رَاَیْتُ سَعْدَ بْنَ اَبِیْ وَقَّاصٍ اَخَذَ رَجُلًا یَصِیْدُ فِی حَرَمِ الْمَدِیْنَۃِ الَّذِیْ حَرَّمَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَسَلَبَہُ ثِیَابَہُ، فَجَائَ مَوَالِیہِ فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَرَّمَ ہٰذَا الْحَرَمَ، وَقَالَ: ((مَنْ رَأَیْتُمُوہُیَصِیدُ فِیہِ شَیْئًا فَلَہُ سَلَبُہُ۔)) فَلَا أَرُدُّ عَلَیْکُمْ طُعْمَۃً أَطْعَمَنِیہَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، وَلٰکِنْ إِنْ شِئْتُمْ أَعْطَیْتُکُمْ ثَمَنَہُ، وَقَالَ عَفَّانُ مَرَّۃً: إِنْ شِئْتُمْ أَنْ أُعْطِیَکُمْ ثَمَنَہُ أَعْطَیْتُکُمْ۔ (مسند احمد: ۱۴۶۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سلیمان بن ابی عبداللہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا سعد بن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے حرم مدینہ، جسے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حرم قرار دیا تھا، میں نے ایک آدمی کو شکار کرتے دیکھا تو انھوں نے اس کے کپڑے اپنے قبضے میں لے لیے، اس کی برادری کے لوگ آئے، تو سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اس حرم کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حرم قرار دیا اور فرمایاکہ تم اس حرم میں کسی کو شکار کرتا دیکھو تو اس سے چھینا ہوا مال اس کا ہو گا۔ پس جو چیز رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے دی ہے، میں تو اسے واپس نہیں کروں گا، البتہ اگر تم چاہتے ہو تو میں اس کی قیمت تمہیں دے دیتا ہوں۔

12617

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12617

Sahih

۔ (۱۲۶۱۷)۔ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّ سَعْدًا رَکِبَ إِلٰی قَصْرِہِ بِالْعَقِیقِ، فَوَجَدَ غُلَامًا یَخْبِطُ شَجَرًا أَوْ یَقْطَعُہُ فَسَلَبَہُ، فَلَمَّا رَجَعَ سَعْدٌ جَائَ ہُ أَہْلُ الْغُلَامِ فَکَلَّمُوہُ أَنْ یَرُدَّ مَا أَخَذَ مِنْ غُلَامِہِمْ، فَقَالَ: مَعَاذَ اللّٰہِ أَنْ أَرُدَّ شَیْئًا نَفَّلَنِیہِ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَأَبٰی أَنْ یَرُدَّ عَلَیْہِمْ۔ (مسند احمد: ۱۴۴۳)

اردو ترجمہ · Urdu

عامر بن سعد سے روایت ہے کہ سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سواری پر سوار ہو کر وادیٔ عقیق میں واقع اپنے محل کی طرف جارہے تھے، انہوں نے ایک لڑکے کو دیکھا جو درختوں کے پتے جھاڑ رہا تھایاکاٹ رہا تھا، انہوں نے اس کا سازو سامان چھین لیا، جب سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ واپس آئے تو اس لڑکے کی برادری کے لوگوں نے آکر درخواست کی کہ انہوں نے اس لڑکے کا جو سامان قبضے میں لیا ہے، وہ اسے واپس کر دیں، لیکن انہوں نے کہا: اللہ کی پناہ، ایسا نہیں ہوسکتا کہ جو چیز اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے دی ہو، میں وہ واپس کر دوں اور انہوں نے وہ سامان واپس کرنے سے انکار کردیا۔

12618

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12618

Sahih

۔ (۱۲۶۱۸)۔ عَنْ سَہْلِ بْنِ حُنَیْفٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((بَلِیَّۃُ قَوْمٍ قِبَلَ الْمَشْرِقِ مُحَلَّقَۃٌ رُئُ وْسُہُمْ۔)) وَسُئِلَ عَنْ الْمَدِینَۃِ فَقَالَ: ((حَرَامٌ آمِنٌ حَرَامٌ آمِنٌ۔)) (مسند احمد: ۱۶۰۷۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مشرق کی طرف ایک قوم ظاہر ہو گی ، ان کے سر منڈے ہوں گے اور وہ فتنوں میں مبتلا ہو گی ۔ اور جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مدینہ منورہ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : یہ حرم ہے ، امن کی جگہ ہے ، یہ حرم ہے ، امن کی جگہ ہے ۔

12619

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12619

Sahih

۔ (۱۲۶۱۹)۔ عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَیْرٍ قَالَ: خَطَبَ مَرْوَانُ النَّاسَ، فَذَکَرَ مَکَّۃَ وَحُرْمَتَہَا، فَنَادَاہُ رَافِعُ بْنُ خَدِیجٍ فَقَالَ: إِنَّ مَکَّۃَ إِنْ تَکُنْ حَرَمًا، فَإِنَّ الْمَدِینَۃَ حَرَمٌ، حَرَّمَہَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، وَہُوَ مَکْتُوبٌ عِنْدَنَا فِی أَدِیمٍ خَوْلَانِیٍّ، إِنْ شِئْتَ أَنْ نُقْرِئَ کَہُ، فَعَلْنَا فَنَادَاہُ مَرْوَانُ أَجَلْ، قَدْ بَلَغَنَا ذٰلِکَ۔ (مسند احمد: ۱۷۴۰۴)

اردو ترجمہ · Urdu

نافع بن جبیرسے مروی ہے کہ مروان نے لوگوں کو خطبہ دیا اور اس نے مکہ اورحرم مکہ کا ذکر کیا، سیدنا رافع بن خدیج ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بلند آواز سے اسے مخاطب کر کے کہا: اگر مکہ حرم ہے تو مدینہ منورہ بھی حرم ہے، جسے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حرم قرار دیا ہے اور یہ مسئلہ ہمارے پاس خولانی چمڑے میں لکھا ہوا موجود ہے، اگر تم چاہو تو میں وہ تحریر تمہیں پڑھا سکتا ہوں، تو مروان نے بھی بآواز بلند کہا: ہاں ہاں یہ مسئلہ ہمیں بھی معلوم ہے۔

12620

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12620

Sahih

۔ (۱۲۶۲۰)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ سَلَامٍ قَالَ: مَا بَیْنَ کَدَائٍ وَأُحُدٍ حَرَامٌ حَرَّمَہُ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، مَا کُنْتُ لِأَقْطَعَ بِہِ شَجَرَۃً، وَلَا أَقْتُلَ بِہِ طَائِرًا۔ (مسند احمد: ۲۴۱۸۸)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبداللہ بن سلام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: مدینہ منورہ کداء سے احد پہاڑ تک حرم ہے، اسے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حرم قرار دیا ہے، میں حدودِ حرم میں سے نہ کوئی درخت کاٹتا ہوں اور نہ کسی پر ندے کو قتل کرتا ہوں۔

12621

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12621

Sahih

۔ (۱۲۶۲۱)۔ عَنْ یَحْیَی بْنِ عُمَارَۃَ، عَنْ جَدِّہِ أَبِی حَسَنٍ قَالَ: دَخَلْتُ الْأَسْوَاقَ، وَقَالَ: فَأَثَرْتُ، وَقَالَ الْقَوَارِیرِیُّ مَرَّۃً: فَأَخَذْتُ دُبْسَتَیْنِ، قَالَ: وَأُمُّہُمَا تُرَشْرِشُ عَلَیْہِمَا، وَأَنَا أُرِیدُ أَنْ آخُذَہُمَا، قَالَ: فَدَخَلَ عَلَیَّ أَبُو حَسَنٍ فَنَزَعَ مِتِّیخَۃً، قَالَ: فَضَرَبَنِی بِہَا، فَقَالَتْ لِی امْرَأَۃٌ مِنَّا یُقَالُ لَہَا مَرْیَمُ: لَقَدْ تَعِسْتَ مِنْ عَضُدِہِ وَمِنْ تَکْسِیرِ الْمِتِّیخَۃِ، فَقَالَ لِی: أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَرَّمَ مَا بَیْنَ لَابَتَیِ الْمَدِینَۃِِِِِ؟ (مسند احمد: ۱۶۸۳۱)

اردو ترجمہ · Urdu

یحیی بن عمارہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں بازار میں داخل ہوا تو میں نے دو چھوٹے چھوٹے پرندے دیکھے، جن پر ان کی ماں اپنے پر پھیلائے بیٹھی تھی، میں نے ان کو پکڑ نا چاہا تواچانک ابو حسن آگئے، انہوں نے کھجور کی شاخ کھینچی اور مجھے مار دی، تو ہمارے خاندان کی ایک خاتون، جس کا نام مریم تھا، اس نے کہا: تو اس کے بازو اور کھجور کی شاخ توڑنے کی وجہ سے ہلاک ہو جائے، پھر انھوں نے مجھ سے کہا: کیا تم نہیں جانتے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مدینہ منورہ کی دو حرّوں کے درمیان والی جگہ کو حرم قرار دیا ہے؟

12622

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12622

Sahih

۔ (۱۲۶۲۲)۔ عَنْ شُرَحْبِیلَ قَالَ: أَخَذْتُ نُہَسًا بِالْأَسْوَاقِ، فَأَخَذَہُ مِنِّی زَیْدُ بْنُ ثَابِتٍ فَأَرْسَلَہُ، وَقَالَ: أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَرَّمَ مَا بَیْنَ لَابَتَیْہَا؟ (مسند احمد: ۲۱۹۰۹)

اردو ترجمہ · Urdu

شرحبیل کہتے ہیں: میں نے (مدینہ منورہ کی) اسواق جگہ سے نُہَس پرندا پکڑ لیا، لیکن سیدنا زید بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھ سے لے کر چھوڑ دیا اور کہا: کیا آپ جانتے نہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان دو حرّوں کے درمیان کی جگہ کو حرم قرار دیا ہے۔

12623

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12623

Sahih

۔ (۱۲۶۲۳)۔ وَعَنْ زِیَادِ بْنِ سَعْدِ الْخُرَاسَانِیِّ سَمِعَ شُرَحْبِیْلَ بْنَ سَعْدٍ یَقُوْلُ: أَتَانَا زَیْدُ بْنُ ثَابِتٍ، وَنَحْنُ فِی حَائِطٍ لَنَا، وَمَعَنَا فِخَاخٌ نَنْصِبُ بِہَا فَصَاحَ بِنَا وَطَرَدَنَا وَقَالَ: أَلَمْ تَعْلَمُوا أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَرَّمَ صَیْدَہَا؟ (یَعْنِی الْمَدِیْنَۃَ)۔ (مسند احمد: ۲۲۰۰۳)

اردو ترجمہ · Urdu

شرجیل بن سعد سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں: ہم انپے باغ میں پرندوں کے شکار کے لیے جال لگائے ہوئے تھے کہ سیدنا زید بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تشریف لائے اورہمیں دیکھ کر چیخ اٹھے اور ہمیں بھگا دیا اور کہا: کیا تم لوگ نہیں جانتے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مدینہ منورہ میں شکار کرنے کو حرام قرار دیا ہے۔

12624

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12624

Sahih

۔ (۱۲۶۲۴)۔ عَنْ یَعْلَی بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ ہُرْمُزَ، أَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عَبَّادٍ الزُّرَقِیَّ، أَخْبَرَہُ أَنَّہُ کَانَ یَصِیدُ الْعَصَافِیرَ فِی بِئْرِ إِہَابٍ وَکَانَتْ لَہُمْ، قَالَ: فَرَآنِی عُبَادَۃُ بْنُ الصَّامِتِ وَقَدْ أَخَذْتُ الْعُصْفُورَ، فَیَنْزِعُہُ مِنِّی فَیُرْسِلُہُ وَیَقُولُ: أَیْ بُنَیَّ! إِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَرَّمَ مَا بَیْنَ لَابَتَیْہَا، کَمَا حَرَّمَ إِبْرَاہِیمُ مَکَّۃَ۔ (مسند احمد: ۲۳۰۸۴)

اردو ترجمہ · Urdu

عبداللہ بن عباد زرقی سے مروی ہے کہ وہ اِہاب کنویں کے قریب چڑیوں کا شکا رکر رہے تھے، یہ ان کا اپنا کنواں تھا، وہ کہتے ہیں: سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھے وہاں دیکھ لیا، جبکہ میں نے ایک چڑیا پکڑی ہوئی تھی، انہوں نے وہ مجھ سے چھین کر چھوڑ دی اور کہا: پیارے بیٹے! رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مدینہ کے دو حرّوں کے درمیان والی جگہ کو اسی طرح حرم قرار دیا ہے، جیسے ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرم قرار دیا ہے۔