Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 174 · Chapter 2623

کتاب الفضائل

مختلف مقامات کے فضائل کے ابواب باب اول: مکہ مکرمہ کی فضیلت کا بیان

12 hadiths in this chapter

12588

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12588

Sahih

۔ (۱۲۵۸۸)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ اَبِیْ ثَنَا الْوَلِیْدُ الْاَوْزَاعِیُّ ثَنَا یَحْیٰی عَنْ اَبِیْ سَلْمَۃَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ، قَالَ أَبِی، وَأَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْبٌ، عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِی أَبُو سَلَمَۃَ، حَدَّثَنَا أَبُو ہُرَیْرَۃَ الْمَعْنَی قَالَ: لَمَّا فَتَحَ اللّٰہُ عَلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَکَّۃَ قَامَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیہِمْ، فَحَمِدَ اللّٰہَ وَأَثْنٰی عَلَیْہِ، ثُمَّ قَالَ: ((إِنَّ اللّٰہَ حَبَسَ عَنْ مَکَّۃَ الْفِیلَ، وَسَلَّطَ عَلَیْہَا رَسُولَہُ وَالْمُؤْمِنِینَ، وَإِنَّمَا أُحِلَّتْ لِی سَاعَۃً مِنَ النَّہَارِ، ثُمَّ ہِیَ حَرَامٌ إِلٰییَوْمِ الْقِیَامَۃِ، لَا یُعْضَدُ شَجَرُہَا، وَلَا یُنَفَّرُ صَیْدُہَا، وَلَا تَحِلُّ لُقْطَتُہَا إِلَّا لِمُنْشِدٍ، وَمَنْ قُتِلَ لَہُ قَتِیلٌ فَہُوَ بِخَیْرِ النَّظَرَیْنِ، إِمَّا أَنْ یَفْدِیَ، وَإِمَّا أَنْ یَقْتُلَ۔)) فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ أَہْلِ الْیَمَنِیُقَالُ لَہُ: أَبُو شَاہٍ، فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! اکْتُبُوا لِی، فَقَالَ: ((اکْتُبُوا لَہُ۔)) فَقَالَ عَمُّ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : إِلَّا الْإِذْخِرَ فَإِنَّہُ لِقُبُورِنَا وَبُیُوتِنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((إِلَّا الْإِذْخِرَ۔)) فَقُلْتُ لِلْأَوْزَاعِیِّ: وَمَا قَوْلُہُ: اکْتُبُوا لِأَبِی شَاہٍ، وَمَا یَکْتُبُوْنَ لَہُ؟ قَالَ: یَقُولُ: اکْتُبُوا لَہُ خُطْبَتَہُ الَّتِی سَمِعَہَا، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: لَیْسَیُرْوَی فِی کِتَابَۃِ الْحَدِیثِ شَیْئٌ أَصَحُّ مِنْ ہٰذَا الْحَدِیثِ، لِأَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَمَرَہُمْ قَالَ: ((اکْتُبُوْا لِأَبِی شَاہٍ۔)) مَا سَمِعَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خُطْبَتَہُ۔ (مسند احمد: ۷۲۴۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے مکہ مکرمہ فتح کر ادیا تو اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کھڑے ہو کر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور پھر فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مکہ سے ہاتھیوں کو روک لیاتھا اور اللہ نے اپنے رسول اور اہل ایمان کو مکہ پر تسلط دیاہے، میرے لیے دن کے کچھ حصہ کے لیے اس شہر میں لڑائی کی اجازت دی گئی اب یہ قیامت تک کے لیے حرم ہے، اس کے درخت نہ کاٹے جائیں، اس کے شکار کو نہ دھمکایا جائے، یہاں پر گری ہوئی چیزوں کے ملنے پر اس کااٹھانا ناجائزہے، ہاں اگر کوئی اس کا اعلان کر سکتا ہو تو وہ اٹھا سکتا ہے اور جس کا کوئی آدمی قتل ہوجائے اسے دو میں سے ایک بات کا اختیار ہے، وہ یا تو فدیہ قبول کر لے یا قاتل کو قتل کرے۔ ایک یمنی آدمی، جس کا نام ابو شاہ تھا، نے کھڑے ہو کر کہا: اللہ کے رسول! یہ احکامات میرے لیے لکھوادیں، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ابو شاہ کے لیے لکھو۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے چچا سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے درخواست کی کہ حددو حرم میں سے اذخر گھا س کے کاٹنے کی اجازت دے دیں، کیونکہ یہ قبروں اور گھروں کے عام استعمال کی چیز ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اذخر کاٹنے کی اجازت ہے۔ ولید راوی کہتے ہیں: میں نے اوزاعی سے کہا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ارشاد ابو شاہ کے لیے لکھ دو کا کیا مطلب ہے؟ صحابہ نے اس کے لیے کیا لکھا تھا؟ انہوں نے کہا: آپ کا مقصد تھا کہ جو خطبہ اس آدمی نے سنا ہے، وہ اس کے لیے لکھ دیا جائے، ابو عبدالرحمن نے کہا ہے کہ جواز کتابت حدیث کے بارے میں اس سے بڑھ کر کوئی حدیث صحیح نہیں، کیونکہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حکم دیا تھا کہ ابو شاہ کے لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا خطبہ لکھا جائے۔

12589

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12589

Sahih

۔ (۱۲۵۸۹)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ حَرَّمَ مَکَّۃَ فَلَمْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ کَانَ قَبْلِی، وَلَا تَحِلُّ لِأَحَدٍ بَعْدِی، وَإِنَّمَا أُحِلَّتْ لِی سَاعَۃً مِنْ نَہَارٍ، لَا یُخْتَلٰی خَلَاہَا، وَلَا یُعْضَدُ شَجَرُہَا، وَلَا یُنَفَّرُ صَیْدُہَا، وَلَا تُلْتَقَطُ لُقَطَتُہَا إِلَّا لِمُعَرِّفٍ۔)) فَقَالَ الْعَبَّاسُ: إِلَّا الْإِذْخِرَ لِصَاغَتِنَا وَقُبُورِنَا، قَالَ: ((إِلَّا الْإِذْخِرَ۔)) (مسند احمد: ۲۲۷۹)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مکہ مکرمہ کوحرم ٹھہرایا ہے، مجھ سے پہلے اور میرے بعد کسی کے لیے بھی اس کی حدود میں لڑائی کی اجازت نہیں دی گئی، مجھے بھی دن کے کچھ حصہ میں لڑنے کی اجازت دی گئی تھی، یہاں کی گھاس نہ کاٹی جائے، درخت نہ کاٹے جائیں، شکار کو دھمکا یا نہ جائے اور اعلان کرنے واے کے علاوہ کوئی دوسرا آدمی یہاں پر گری پڑی چیز کو نہ اٹھائے۔ سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اذخر گھاس کی اجازت دیں، کیونکہ سنار لوگ اس کو استعمال کرتے ہیں اور یہ قبروں میں بھی استعمال ہوتی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اذخر کی اجازت ہے۔

12590

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12590

Sahih

۔ (۱۲۵۹۰)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمَ فَتْحِ مَکَّۃَ: ((إِنَّ ہٰذَا الْبَلَدَ حَرَامٌ، حَرَّمَہُ اللّٰہُ یَوْمَ خَلَقَ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضَ، فَہُوَ حَرَامٌ حَرَّمَہُ اللّٰہُ إِلٰییَوْمِ الْقِیَامَۃِ، مَا أُحِلَّ لِأَحَدٍ فِیہِ الْقَتْلُ غَیْرِی، وَلَا یَحِلُّ لِأَحَدٍ بَعْدِی فِیہِ، حَتّٰی تَقُومَ السَّاعَۃُ، وَمَا أُحِلَّ لِی فِیہِ إِلَّا سَاعَۃً مِنَ النَّہَارِ، فَہُوَ حَرَامٌ حَرَّمَہُ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ إِلٰی أَنْ تَقُومَ السَّاعَۃُ، وَلَا یُعْضَدُ شَوْکُہُ، وَلَا یُخْتَلٰی خَلَاہُ، وَلَا یُنَفَّرُ صَیْدُہُ، وَلَا تُلْتَقَطُ لُقَطَتُہُ إِلَّا لِمُعَرِّفٍ۔)) قَالَ: فَقَالَ الْعَبَّاسُ: وَکَانَ مِنْ أَہْلِ الْبَلَدِ قَدْ عَلِمَ الَّذِی لَا بُدَّ لَہُمْ مِنْہُ إِلَّا الْإِذْخِرَ یَا رَسُولَ اللّٰہِ! فَإِنَّہُ لَا بُدَّ لَہُمْ مِنْہُ، فَإِنَّہُ لِلْقُبُورِ وَالْبُیُوتِ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِلَّا الْإِذْخِرَ۔)) (زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ) فَإِنَّہُ لِبُیُوتِہِمْ وَلِقَیْنِہِمْ، فَقَالَ: ((إِلَّا الْإِذْخِرَ، وَلَا ہِجْرَۃَ وَلٰکِنْ جِہَادٌ وَنِیَّۃٌ، وَإِذَا اسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوْا۔)) (مسند احمد: ۲۸۹۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند)سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فتح مکہ والے دن فرمایا: یہ شہر حرمت والا ہے، اللہ تعالیٰ نے جس دن زمین و آسمان کی تخلیق کی، اسی دن سے اس نے اسے حرام قرارد یا، یہ قیامت تک حرم ہے، مجھ سے پہلے اور میرے بعد قیامت تک ہر ایک کے لیے اب یہ حرمت والا ہے، اللہ تعالیٰ نے اسے قیامت تک کے لیے حرم قرار دیا ہے، اس کے کانٹے نہ کاٹے جائیں، گھاس نہ اکھاڑی جائے، شکار کو نہ دھمکایا جائے اور یہاں پر گری ہوئی چیز کو کوئی نہ اٹھائے، ہاں اگر کوئی اس کا اعلان کرنا چاہتا ہو تو وہ اٹھا سکتاہے۔ سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، جو مکہ کے باشندے تھے اور وہ اہل مکہ کی ضرور ت سے واقف تھے، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول!اذخر گھاس کے کاٹنے کی تو اجازت دے دیں، یہ قبروں اور گھروں کی لازمی ضرورت ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہاں اذخرگھاس کاٹنے کی اجازت ہے۔ ایک روایت میں ہے: سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: یہ اذخر لوگوں کے گھروں کی ضرورت ہے اور لوہار اور سنار استعمال کرتے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اذخر کوکاٹنے کی اجازت ہے۔ نیز فرمایا: اب مکہ سے ہجرت نہیں ہوسکتی، البتہ جہاد اور ہجرت کی نیت باقی ہے،جب بھی ضرورت پڑی تو ہجرت یا جہاد کے لیے نکلیں گے اور جب تم سے جہاد کے لیے نکلنے کا مطالبہ کیا جائے تو اٹھ کھڑے ہو جانا۔

12591

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12591

Sahih

۔ (۱۲۵۹۱)۔ عَنْ أَبِی شُرَیْحٍ الْعَدَوِیِّ، أَنَّہُ قَالَ لِعَمْرِو بْنِ سَعِیدٍ وَہُوَ یَبْعَثُ الْبُعُوثَ إِلٰی مَکَّۃَ: ائْذَنْ لِی أَیُّہَا الْأَمِیرُ! أُحَدِّثْکَ قَوْلًا قَامَ بِہِ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْغَدَ مِنْ یَوْمِ الْفَتْحِ، سَمِعَتْہُ أُذُنَایَ، وَوَعَاہُ قَلْبِی، وَأَبْصَرَتْہُ عَیْنَایَ حَیْثُ تَکَلَّمَ بِہِ، أَنَّہُ حَمِدَ اللّٰہَ، وَأَثْنٰی عَلَیْہِ، ثُمَّ قَالَ: ((إِنَّ مَکَّۃَ حَرَّمَہَا اللّٰہُ، وَلَمْ یُحَرِّمْہَا النَّاسُ، فَلَا یَحِلُّ لِامْرِئٍ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ أَنْ یَسْفِکَ فِیہَا دَمًا، وَلَا یَعْضِدَ فِیہَا شَجَرَۃً، فَإِنْ أَحَدٌ تَرَخَّصَ بِقِتَالِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیہَا، فَقُولُوْا إِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ أَذِنَ لِرَسُولِہِ، وَلَمْ یَأْذَنْ لَکُمْ، وَإِنَّمَا أَذِنَ لِی فِیہَا سَاعَۃً مِنْ نَہَارٍ، وَقَدْ عَادَتْ حُرْمَتُہَا الْیَوْمَ کَحُرْمَتِہَا بِالْأَمْسِ، فَلْیُبَلِّغِ الشَّاہِدُ الْغَائِبَ۔)) (مسند احمد: ۱۶۴۸۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سعید مقبری سے روایت ہے کہ جب عمرو بن سعید لڑائی کے لیے مکہ مکرمہ کی طرف اپنے لشکر بھیج رہا تھا تو ابو شریح عدوی نے اس سے کہا: اے امیر! میں تمہیں ایک ایسی بات بتلاتا ہوں، جو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فتح مکہ سے اگلے دن ارشاد فرمائی تھی، اس بات کو میرے کانوں نے سنا، میرے دل نے یاد کیا اور میری آنکھوں نے دیکھا، جہاں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کلام فرمائی، سب سے پہلے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کی اور پھر فرمایا: جو آدمی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے، اس کے لیے روا نہیں کہ وہ اس شہر میں قتل و غارت کرے اور اس کے درخت کاٹے، اگر کوئی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی لڑائی کو بنیاد بنا کر مکہ میں لڑائی کا جواز پیش کرے تو تم اسے بتلا دینا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو مکہ میں لڑائی کی اجازت دی تھی اور تمہیں اس کی اجازت نہیں دی اورمیرے لیے بھی دن کے ایک حصہ میں یعنی تھوڑی دیر کے لیے اجازت دی گئی تھی، آج اس کی حرمت اسی طرح بحال ہے، جیسے کل تھی، جو لوگ موجود ہیں، وہ ان لوگوں تک یہ باتیں پہنچا دیں، جو یہاں موجود نہیں۔

12592

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12592

Sahih

۔ (۱۲۵۹۲)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مُطِیعِ بْنِ الْأَسْوَدِ، أَخِی بَنِی عَدِیِّ بْنِ کَعْبٍ، عَنْ أَبِیہِ مُطِیعٍ، وَکَانَ اسْمُہُ الْعَاصِ فَسَمَّاہُ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مُطِیعًا، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حِینَ أَمَرَ بِقَتْلِ ہٰؤُلَائِ الرَّہْطِ بِمَکَّۃَ،یَقُولُ: ((لَا تُغْزٰی مَکَّۃُ بَعْدَ ہٰذَا الْعَامِ أَبَدًا، وَلَا یُقْتَلُ قُرَشِیٌّ بَعْدَ ہٰذَا الْعَامِ صَبْرًا أَبَدًا۔)) (مسند احمد: ۱۵۴۸۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا مطیع سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب مکہ میں ایک جماعت کے افراد کے قتل کا حکم دیا تو فرمایا: آج کے بعد مکہ پر لشکر کشی نہیں کی جائے گی اور آج کے بعد کسی قریشی کو باندھ کر قتل نہیں کیا جائے گا۔

12593

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12593

Sahih

۔ (۱۲۵۹۳)۔ عَنْ سَعِیدِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: أَتَی عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عَمْرٍو ابْنَ الزُّبَیْرِ، وَہُوَ جَالِسٌ فِی الْحِجْرِ، فَقَالَ: یَا ابْنَ الزُّبَیْرِ! إِیَّاکَ وَالْإِلْحَادَ فِی حَرَمِ اللّٰہِ، فَإِنِّی أَشْہَدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: ((یُحِلُّہَا، وَیَحُلُّ بِہِ رَجُلٌ مِنْ قُرَیْشٍ، لَوْ وُزِنَتْ ذُنُوبُہُ بِذُنُوبِ الثَّقَلَیْنِ لَوَزَنَتْہَا۔)) قَالَ: فَانْظُرْ أَنْ لَا تَکُونَ ہُوَ یَا ابْنَ عَمْرٍو، فَإِنَّکَ قَدْ قَرَأْتَ الْکُتُبَ وَصَحِبْتَ الرَّسُولَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: فَإِنِّی أُشْہِدُکَ أَنَّ ہٰذَا وَجْہِی إِلَی الشَّامِ مُجَاہِدًا۔ (مسند احمد: ۷۰۴۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سعید بن عمرو سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، سیدنا عبد اللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آئے، جبکہ وہ حطیم میں تشریف فرما تھے، انھوں نے کہا: اے ابن زبیر! اللہ کے حرم میں قتل و غارت سے بچو، میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: ایک قریشی آدمی مکہ کی حرمت کو پامال کرے گا، اس کے گناہ اس قدر ہوں گے کہ اگران کا تمام انسانوں اور جنات کے گناہوں سے موازنہ کیا جائے تو اس کے گناہ وزنی ہوں گے۔ سیدنا ابن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے آگے سے کہا: اے ابن عمرو! خیال کرنا کہ وہ آدمی تم ہی نہ ہو، تم تو کتابیں پڑھے ہوئے ہو اور تم کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی صحبت کا شرف بھی حاصل ہے، انہوں نے کہا: میں تم کو گواہ بناتا ہوں کہ میں تو بغرض جہاد شام کی طرف جارہا ہوں۔

12594

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12594

Sahih

۔ (۱۲۵۹۴)۔ وَعَنْ إِسْحَاقَ بْنِ سَعِیدٍ، عَنْ أَبِیہِ قَالَ: أَتَی عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ الزُّبَیْرِ، فَقَالَ: یَا ابْنَ الزُّبَیْرِ! إِیَّاکَ وَالْإِلْحَادَ فِی حَرَمِ اللّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی، فَإِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((إِنَّہُ سَیُلْحِدُ فِیہِ رَجُلٌ مِنْ قُرَیْشٍ، لَوْ وُزِنَتْ ذُنُوبُہُ بِذُنُوبِ الثَّقَلَیْنِ لَرَجَحَتْ۔)) قَالَ: فَانْظُرْ لَا تَکُونُہُ۔ (مسند احمد: ۶۲۰۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سعید سے مروی ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، سیدنا عبداللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس گئے اور کہا: اے ابن زبیر! اللہ تعالیٰ کے حرم کے اندر فساد اور قتل و غارت سے بچو، میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: عنقریب اس حرم میں ایک قریشی آدمی قتل و غارت کرے گا، وہ اس قدر گنہگارہو گا کہ اگر اس کے گناہوں کا تمام انسانوں اور جنوں کے گناہوں سے موازانہ کیا گیاتو اس کے گناہ بھاری ہوں گے۔ دیکھ لو، کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ تم ہی ہو۔

12595

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12595

Zaeef

۔ (۱۲۵۹۵)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ سَابِطٍ، عَنْ عَیَّاشِ بْنِ أَبِی رَبِیعَۃَ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((لَا تَزَالُ ہٰذِہِ الْأُمَّۃُ بِخَیْرٍ مَا عَظَّمُوا ہٰذِہِ الْحُرْمَۃَ حَقَّ تَعْظِیمِہَا، فَإِذَا تَرَکُوہَا وَضَیَّعُوْہَا ہَلَکُوْا)) (مسند احمد: ۱۹۲۵۹)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عیاش بن ابی ربیعہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ امت جب تک مکہ کی حرمت کا پاس و لحاظ رکھے گی، خیر و سلامتی کے ساتھ رہے گی اور جب وہ اس حرمت کو چھوڑدیں گے اور ضائع کریں گے تو وہ خود بھی تباہ ہو جائیں گے۔

12596

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12596

Sahih

۔ (۱۲۵۹۶)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((الْمَدِینَۃُ وَمَکَّۃُ مَحْفُوفَتَانِ بِالْمَلَائِکَۃِ عَلٰی کُلِّ نَقْبٍ مِنْہَا مَلَکٌ، لَا یَدْخُلُہَا الدَّجَّالُ وَلَا الطَّاعُونُ۔)) (مسند احمد: ۱۰۲۷۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ کی طرف سے مکہ اور مدینہ کو فرشتوں کے ذریعے گھیر دیا گیا ہے، ان کے ہر راستے پر فرشتہ مقرر ہے، دجال اور طاعون ان دونوں شہروں میں داخل نہیں ہو سکتے۔

12597

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12597

Sahih

۔ (۱۲۵۹۷)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ: وَقَفَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلَی الْحَزْوَرَۃِ، فَقَالَ: ((عَلِمْتُ أَنَّکِ خَیْرُ أَرْضِ اللّٰہِ، وَأَحَبُّ الْأَرْضِ إِلَی اللّٰہِ، وَلَوْلَا أَنَّ أَہْلَکِ أَخْرَجُونِی مِنْکِ، مَا خَرَجْتُ۔)) قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: وَالْحَزْوَرَۃُ عِنْدَ بَابِ الْحَنَّاطِینَ۔ (مسند احمد: ۱۸۹۲۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حزورہ کے مقام پر رکے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مکہ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: میں جانتا ہوں کہ تو اللہ کی سب سے بہتر اور اس کی محبوب ترین زمین ہے، اگر تیرے رہنے والے لو گ مجھے یہاں سے نہ نکالتے تو میں از خود کبھی نہ جاتا۔ عبدالرزاق راوی حدیث کہتے ہیں: حزورہ مقام باب الحناطین کے قریب ہے۔

12598

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12598

Sahih

۔ (۱۲۵۹۸)۔ وَعَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنَ عَدِیِّ بْنِ الْحَمْرَائِ، أَنَّہُ سَمِعَ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَہُوَ وَاقِفٌ بِالْحَزْوَرَۃِ مِنْ مَکَّۃَیَقُولُ لِمَکَّۃَ: ((وَاللّٰہِ! إِنَّکِ لَأَخْیَرُ أَرْضِ اللّٰہِ، وَأَحَبُّ أَرْضِ اللّٰہِ)) فَذَکَرَ نَحْوَہٗ۔ (مسنداحمد: ۱۸۹۲۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبداللہ بن عدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ر سول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مکہ کے حزورہ مقام پر کھڑے ہو کر مکہ سے مخاطب ہو کر فرمایا: اللہ کی قسم! بیشک تو اللہ کی زمین میں سب سے بہتر اور محبوب ترین جگہ ہے، …۔ آگے سابق روایت کی طرح کے الفاظ ہیں۔

12599

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12599

Zaeef

۔ (۱۲۵۹۹)۔ عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، أَخْبَرَہُ أَنَّہُ سَمِعَ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: ((سَیَخْرُجُ أَہْلُ مَکَّۃَ، ثُمَّ لَا یَعْمُرُوْنَھَا أَوْ لَا تُعْمَرُ إِلَّا قَلِیْلًا، ثُمَّ تَمْتَلِیئُ وَتُبْنٰی، ثُمَّ یَخْرُجُونَ مِنْہَا فَلَا یَعُودُونَ فِیہَا أَبَدًا۔)) (مسند احمد: ۱۴۷۹۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عنقریب اہل مکہ یہاں سے نکل جائیں گے، پھر اس کے بعد وہ اسے آباد نہیں کرسکیں گے یا یوں فرمایا کہ اس کے بعد وہ آباد نہیں کیا جائے گا، مگر تھوڑا، پھر یہ آباد ہونا شروع ہو گا اور بھر جائے گا اور اس کو تعمیر کیا جائے گا، لیکن اس کے بعد جب لوگ نکل جائیں گے تو وہ کبھی بھی اس کی طرف واپس نہیں آئیں گے۔