Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 174 · Chapter 2611

کتاب الفضائل

باب دوم: اس امر کا بیان کہ قریش کی اقتداء کی جائے اور خلافت ان ہی کا استحقاق ہے

6 hadiths in this chapter

12541

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12541

Sahih

۔ (۱۲۵۴۱)۔ عَنْ عَامِرِ بْنِ شَہْرٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: ((خُذُوا بِقَوْلِ قُرَیْشٍ وَدَعُوا فِعْلَہُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۸۴۷۵)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عامر بن شہر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے, رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم قریش کی بات کو سامنے رکھو اور ان کے اعمال کو نذر انداز کرو۔

12542

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12542

Sahih

۔ (۱۲۵۴۲)۔ وَعَنْ ثَوْبَانَ مَوْلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اسْتَقِیْمُوْا لِقُرَیْشٍ مَا اسْتَقَامُوْا لَکُمْ۔)) (مسند احمد: ۲۲۷۴۷)

اردو ترجمہ · Urdu

مولائے رسول سیدناثوبان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم قریش کے ساتھ اچھا برتاؤ کرو، جب تک وہ بھی تمہارے ساتھ اچھا سلوک کرتے رہیں۔

12543

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12543

Sahih

۔ (۱۲۵۴۳)۔ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعَتْ أُذُنَایَ وَوَعَاہُ قَلْبِی، عَنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((النَّاسُ تَبَعٌ لِقُرَیْشٍ، صَالِحُہُمْ تَبَعٌ لِصَالِحِہِمْ، وَشِرَارُہُمْ تَبَعٌ لِشِرَارِہِمْ۔)) (مسند احمد: ۷۹۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا علی بن طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے یہ بات میرے کانوں نے سنی اور میرے دل نے یاد کی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگ قریش کے پیرو کار ہیں، نیک لوگ قریش کے نیک لوگوں کی پیروی کرتے ہیں اور برے لوگ قریش کے برے لوگوں کے پیچھے چلتے ہیں۔

12544

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12544

Sahih

۔ (۱۲۵۴۴)۔ حَدَّثَنَا مُعَاذٌ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ: سَمِعْتُ أَبِی،یَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ یَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((لَا یَزَالُ ہٰذَا الْأَمْرُ فِی قُرَیْشٍ، مَا بَقِیَ مِنَ النَّاسِ اثْنَانِ۔)) قَالَ: وَحَرَّکَ إِصْبَعَیْہِیَلْوِیہِمَا ہٰکَذَا۔ (مسند احمد: ۴۸۳۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تک دنیا میں دو آدمی باقی رہیں گے، یہ اقتدار ہمیشہ قریش میں رہے گا۔ ساتھ ہی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی دو انگلیوں کو حرکت دے کر دو کا اشارہ کیا۔

12545

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12545

Sahih

۔ (۱۲۵۴۵)۔ عَنْ خُبَیْبِ بْنِ الزُّبَیْرِ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ أَبِی الْہُذَیْلِ، قَالَ: کَانَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ یَتَخَوَّلُنَا، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ بَکْرِ بْنِ وَائِلٍ: لَئِنْ لَمْ تَنْتَہِ قُرَیْشٌ لَیَضَعَنَّ اللّٰہُ ہٰذَا الْأَمْرَ فِی جُمْہُورٍ مِنْ جَمَاہِیرِ الْعَرَبِ سِوَاہُمْ، فَقَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ: کَذَبْتَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((قُرَیْشٌ وُلَاۃُ النَّاسِ فِی الْخَیْرِ وَالشَّرِّ إِلٰییَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۹۶۱)

اردو ترجمہ · Urdu

عبداللہ بن ہذیل سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:سیدنا عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہمارا بہت زیادہ خیال رکھتے تھے، بکر بن وائل کے قبیلہ میں سے کسی نے کہا: اگر قریش اپنی حرکتوں سے باز نہ آئے تو یہ اقتدار ان سے نکل کر عربوں کے دوسرے قبائل میں چلا جائے گا، یہ سن کر سیدنا عمر و بن العاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: تم غلط کہتے ہو، میں نے خود رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ بھلائی کا کوئی کام ہو یا برائی کا، قیامت تک ہر کام میں قریش ہی لوگوں کے سربراہ رہیں گے۔

12546

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12546

Sahih

۔ (۱۲۵۴۶)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ لِی عَلٰی قُرَیْشٍ حَقًّا، وَإِنَّ لِقُرَیْشٍ عَلَیْکُمْ حَقًّا، مَا حَکَمُوا فَعَدَلُوا، وَأْتُمِنُوا فَأَدَّوْا، وَاسْتُرْحِمُوا فَرَحِمُوا۔)) (مسند احمد: ۷۶۴۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرے کچھ حقوق قریش کے ذـمہ ہیں اور قریش کے لیے کچھ حقوق تمہارے ذمے ہیں، جب تک وہ عدل و انصاف سے فیصلے کرتے رہیں، جب ان کے پاس امانتیں رکھی جائیں تو وہ امانتیں ادا کرتے رہیں اور جب ان سے رحم کا مطالبہ کیا جائے تو وہ شفقت کرتے رہیں۔