Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 174 · Chapter 2608

کتاب الفضائل

باب چہارم: دورِ اول، دورِ دوم، دورِ سوم، دورِ چہارم اور ایک روایت کے مطابق دورِ پنجم کی فضیلت کابیان

4 hadiths in this chapter

12529

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12529

Sahih

۔ (۱۲۵۲۹)۔ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((خَیْرُ ہٰذِہِ الْأُمَّۃِ الْقَرْنُ الَّذِینَ بُعِثْتُ فِیہِمْ، ثُمَّ الَّذِینَیَلُونَہُمْ، ثُمَّ الَّذِینَیَلُونَہُمْ، ثُمَّ الَّذِینَیَلُونَ الَّذِینَیَلُونَہُمْ، قَالَ حَسَنٌ: ثُمَّ یَنْشَأُ أَقْوَامٌ تَسْبِقُ أَیْمَانُہُمْ شَہَادَتَہُمْ وَشَہَادَتُہُمْ أَیْمَانَہُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۸۵۳۹)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا نعمان بن بشیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس امت کا بہترین زمانہ اور بہترین لوگ وہ ہیں، جن کے اندر مجھے مبعوث کیا گیا، ان کے بعد وہ لوگ جو اِس زمانے کے بعد آئیں گے، ان کے بعد وہ لوگ جو اِن کے بعد آئیں گے، اِن کے بعد وہ لوگ جو ان کے بعد آئیں گے، پھر ایسے لوگ آئیں گے، جن کی قسمیں ان کی گواہی پر اوران کی گواہی ان کی قسموں سے سبقت لے جائے گی۔

12530

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12530

Sahih

۔ (۱۲۵۳۰)۔ عَنْ أَبِی نَضْرَۃَ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَوَلَۃَ قَالَ: کُنْتُ أَسِیرُ مَعَ بُرَیْدَۃَ الْأَسْلَمِیِّ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: ((خَیْرُ ہٰذِہِ الْأُمَّۃِ الْقَرْنُ الَّذِینَ بُعِثْتُ أَنَا فِیہِمْ، ثُمَّ الَّذِینَیَلُونَہُمْ، ثُمَّ الَّذِینَیَلُونَہُمْ، ثُمَّ الَّذِینَیَلُونَہُمْ، ثُمَّ یَکُونُ قَوْمٌ تَسْبِقُ شَہَادَتُہُمْ أَیْمَانَہُمْ وَأَیْمَانُہُمْ شَہَادَتَہُمْ۔)) وَقَالَ عَفَّانُ مَرَّۃً: ((الْقَرْنُ الَّذِینَ بُعِثْتُ فِیہِمْ، ثُمَّ الَّذِینَیَلُونَہُمْ، ثُمَّ الَّذِینَیَلُونَہُمْ، ثُمَّ الَّذِینَیَلُونَہُمْ، ثُمَّ الَّذِینَیَلُونَہُمْ۔)) (مسند احمد: ۲۳۴۱۲)

اردو ترجمہ · Urdu

عبداللہ بن مولہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدنا بریدہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ چل رہا تھا، انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: اس امت کا بہترین دور وہ ہے، جس کے اندر مجھے مبعوث کیا گیا ہے، اس کے بعد صحابہ کا، اس کے بعد تابعین اور اسکے بعد تبع تابعین کادور ہے، ان کے بعد ایسے لوگ آجائیں گے کہ جن کی گواہی ان کی قسموں پر اور ان کی قسمیں ان کی گواہی سے سبقت لے جائے گی۔ عفان نے ایک مرتبہ روایت کو یوں بیان کیا: سب سے بہتر زمانہ وہ ہے، جس میں مجھے مبعوث کیا گیا، اس کے بعد صحابہ کا، اس کے بعد تابعین کا اس کے بعد تبع تابعین کا اور اس کے بعد بعدوالوں کا زمانہ ہے۔

12531

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12531

Sahih

۔ (۱۲۵۳۱)۔ وَعَنْ زَہْدَمٍ قَالَ: سَمِعْتُ عِمْرَانَ بْنَ حُصَیْنٍیُحَدِّثُ: أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِنَّ خَیْرَکُمْ قَرْنِی، ثُمَّ الَّذِینَیَلُونَہُمْ، ثُمَّ الَّذِینَیَلُونَہُمْ، ثُمَّ الَّذِینَیَلُونَہُمْ، (قَالَ عِمْرَانُ: فَلَا أَدْرِی قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَعْدَ قَرْنِہِ مَرَّتَیْنِ أَوْ ثَلَاثَۃً؟) ثُمَّ یَکُونُ بَعْدَہُمْ قَوْمٌ یَشْہَدُونَ وَلَا یُسْتَشْہَدُونَ، وَیَخُونُونَ وَلَا یُؤْتَمَنُونَ، وَیَنْذُرُونَ وَلَا یُوفُونَ، وَیَظْہَرُ فِیہِمُ السِّمَنُ۔)) (مسند احمد: ۲۰۱۴۸)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہارے لیے میرا زمانہ سب سے بہتر ہے، اس کے بعد ان لوگوں کا زمانہ جو اس کے بعد آئیں گے، پھر ان کے بعد والے لوگوں کا اور پھر اس کے بعد والوں کا زمانہ بہتر ہو گا، پھر ان کے بعد ایسے لوگ آئیں گے، جن سے گواہی طلب نہ کی جائے گی، مگر وہ پھر بھی گواہی دیں گے، وہ خیانتیں کریں گے، امانتوں کا پاس نہیں کریں گے، وہ نذر مانیں گے، مگر پوری نہیں کریں گے اور ان میں موٹاپا عام ہوگا۔ سیدنا عمران ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: مجھے یہ یاد نہیں ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے زمانے کے بعد دو زمانوں کا ذکر کیا یا تین کا۔

12532

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12532

Sahih

۔ (۱۲۵۳۲)۔ وَعَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: لَا یَاْتِیْ عَلَیْکُمْ زَمَانٌ اِلَّا ھُوَ شَرٌّ مِنَ الزَّمَانِ الَّذِیْ قَبْلَہٗ،سَمِعْنَاذٰلِکَ مِنْ نَبِیِّکُمْ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَرَّتَیْنِ۔ (مسند احمد: ۱۲۱۸۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: تم پر جو بھی زمانہ آئے گا، وہ گزرے ہوئے زمانہ سے بدتر ہوگا، ہم نے یہ بات نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے دومرتبہ سنی تھی۔