Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12455
۔(۱۲۴۵۵) ۔ عَنْ أَبِی الصَّدَّیقِ النَّاجِیَّ ، أَنَّ الْحَجَّاجَ بْنَ یُوسُفَ دَخَلَ عَلٰی أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِی بکْرِ بَعْدَ مَا قُتِلَ ابْنُھَا عَبْدُ اللہِ بْنُ الزُّبَیْرِ ، فَقَالَ : إِنَّ ابْنَکِ أَلْحَدَ فِی ھٰذَا الْبَیْتِ ، وَإِنَّ اللہَ عَزَّوَجَلَّ أَذَاقَہُ مِنْ عَذَابِ أَلِیمِ ، وَفَعَلَ ب،ہِ مَا فَعَلَ ، فَقَالَتْ : کَذَبْتَ کَانَ بَرَّا بِالْوَالِدَیْنِ ، صوَّامًا ، وَاللہِ لَقَدْ أَخْبَرَنَا رَسُولُ اللہ ِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : ((أَنَّہُ سَیَخْرُجُ مِنْ ثَقِیفِ کَذَّابَانِ ، الْأخِرُ مِنْھُمَا شَرُّ مِنْ الْأَوَّلِ ، وَھُوَ مُبِیرٌ ۔)) (مسند احمد : ۲۷۵۰۷)
اردو ترجمہ · Urdu
ابو صدیق ناجی سے مروی ہے کہ حجاج بن یوسف جب سیدنا عبداللہ زبیر رضی اللہ عنہ کو قتل کر چکا تو اس کے بعد ان کی والدہ سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا کے ہاں گیا اور کہنے لگا: تمہارے بیٹے نے بیت اللہ کے اندر الحاد کیا تھا،سو اللہ تعالیٰ نے اسے درد ناک عذاب سے دو چار کیا اور اس کے ساتھ بہت کچھ کیا، سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے کہا: تو جھوٹ کہتا ہے، وہ تو اپنے والدین کا انتہائی خدمت گزارتھا، وہ دن کو بہت زیادہ روز ے رکھنے والا اور رات کو بہت زیادہ قیام کرنے والا تھا، اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں اطلاع دے چکے ہیں کہ عنقریب قبیلہ ثقیف میں سے دو جھوٹے آدمی ظاہر ہوں گے، ان میں سے بعد والا پہلے سے بھی برا ہوگا اوروہ بہت ہی خون ریزہوگا۔