Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 173 · Chapter 2594

خلافت و امارت کے مسائل

باب ششم: اس امر کابیان کہ عراق میںمصعب کو قتل کرنے کے بعد عبدالملک نے حجاج کو سیدنا عبداللہ زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو قتل کرنے کے لیے مکہ مکرمہ روانہ کیا اور اس نے بیت اللہ کی حرمت کو پامال کیا

5 hadiths in this chapter

12455

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12455

Sahih

۔(۱۲۴۵۵) ۔ عَنْ أَبِی الصَّدَّیقِ النَّاجِیَّ ، أَنَّ الْحَجَّاجَ بْنَ یُوسُفَ دَخَلَ عَلٰی أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِی بکْرِ بَعْدَ مَا قُتِلَ ابْنُھَا عَبْدُ اللہِ بْنُ الزُّبَیْرِ ، فَقَالَ : إِنَّ ابْنَکِ أَلْحَدَ فِی ھٰذَا الْبَیْتِ ، وَإِنَّ اللہَ عَزَّوَجَلَّ أَذَاقَہُ مِنْ عَذَابِ أَلِیمِ ، وَفَعَلَ ب،ہِ مَا فَعَلَ ، فَقَالَتْ : کَذَبْتَ کَانَ بَرَّا بِالْوَالِدَیْنِ ، صوَّامًا ، وَاللہِ لَقَدْ أَخْبَرَنَا رَسُولُ اللہ ِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : ((أَنَّہُ سَیَخْرُجُ مِنْ ثَقِیفِ کَذَّابَانِ ، الْأخِرُ مِنْھُمَا شَرُّ مِنْ الْأَوَّلِ ، وَھُوَ مُبِیرٌ ۔)) (مسند احمد : ۲۷۵۰۷)

اردو ترجمہ · Urdu

ابو صدیق ناجی سے مروی ہے کہ حجاج بن یوسف جب سیدنا عبداللہ زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو قتل کر چکا تو اس کے بعد ان کی والدہ سیدہ اسماء بنت ابی بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے ہاں گیا اور کہنے لگا: تمہارے بیٹے نے بیت اللہ کے اندر الحاد کیا تھا،سو اللہ تعالیٰ نے اسے درد ناک عذاب سے دو چار کیا اور اس کے ساتھ بہت کچھ کیا، سیدہ اسماء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: تو جھوٹ کہتا ہے، وہ تو اپنے والدین کا انتہائی خدمت گزارتھا، وہ دن کو بہت زیادہ روز ے رکھنے والا اور رات کو بہت زیادہ قیام کرنے والا تھا، اللہ کی قسم! رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمیں اطلاع دے چکے ہیں کہ عنقریب قبیلہ ثقیف میں سے دو جھوٹے آدمی ظاہر ہوں گے، ان میں سے بعد والا پہلے سے بھی برا ہوگا اوروہ بہت ہی خون ریزہوگا۔

12456

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12456

Sahih

۔ (۱۲۴۵۶)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ قَالَ: وَجَدْتُ فِی کِتَابِ أَبِی ہٰذَا الْحَدِیثَ بِخَطِّ یَدِہِ، حَدَّثَنَا سَعِیدٌیَعْنِی ابْنَ سُلَیْمَانَ سَعْدَوَیْہِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبَّادٌ یَعْنِی ابْنَ الْعَوَّامِ، عَنْ ہَارُونَ بْنِ عَنْتَرَۃَ، عَنْ أَبِیہِ قَالَ: لَمَّا قَتَلَ الْحَجَّاجُ ابْنَ الزُّبَیْرِ وَصَلَبَہُ مَنْکُوسًا، فَبَیْنَا ہُوَ عَلَی الْمِنْبَرِ إِذْ جَائَتْ أَسْمَائُ، وَمَعَہَا أَمَۃٌ تَقُودُہَا، وَقَدْ ذَہَبَ بَصَرُہَا، فَقَالَتْ: أَیْنَ أَمِیرُکُمْ؟ فَذَکَرَ قِصَّۃً، فَقَالَتْ: کَذَبْتَ وَلٰکِنِّی أُحَدِّثُکَ حَدِیثًا سَمِعْتُہُ مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((یَخْرُجُ مِنْ ثَقِیفٍ کَذَّابَانِ، الْآخِرُ مِنْہُمَا أَشَرُّ مِنْ الْأَوَّلِ، وَہُوَ مُبِیرٌ۔)) (مسند احمد: ۲۷۵۱۴)

اردو ترجمہ · Urdu

عنترہ سے مروی ہے کہ جب حجاج نے سیدنا عبداللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو قتل کیا اور انہیں الٹا کر کے لٹکا دیا، تو وہ اس دوران منبر پر تھاکہ اچانک سیدہ اسماء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا آ گئیں، ان کی بینائی ختم ہوچکی تھی، ایک لونڈی ان کاہاتھ پکڑے ان کو لائی، سیدہ اسماء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: لوگو! تمہارا امیر کہاں ہے؟ اس کے بعدعنترہ نے مفصل واقعہ بیان ہے، اس کے آخر میں ہے:سیدہ اسماء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے حجاج سے کہا: تو جھوٹ کہتا ہے، میں تمہیں ایک حدیث سناتی ہوں، جو میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قبیلہ ثقیف میں دو جھوٹے آدمی نکلیں گے، ان میں سے بعد والا پہلے سے بھی زیادہ شر والا ہوگا اور وہ بہت ہی خون ریز ہوگا۔

12457

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12457

Sahih

۔ (۱۲۴۵۷)۔ وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ فِیْ ثَقِیْفٍ مُبِیْرًا وَ کَذَّابًا۔)) (مسند احمد: ۴۷۹۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قبیلہ ثقیف میں ایک ہلاک کرنے والا یعنی خون ریز آدمی ہوگا اور ایک جھوٹا۔

12458

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12458

Sahih

۔ (۱۲۴۵۸)۔ عَنْ الزُّبَیْرِیَعْنِی ابْنَ عَدِیٍّ، قَالَ: شَکَوْنَا إِلٰی أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ مَا نَلْقٰی مِنَ الْحَجَّاجِ، فَقَالَ: اصْبِرُوا فَإِنَّہُ لَا یَأْتِی عَلَیْکُمْ عَامٌ أَوْ یَوْمٌ إِلَّا الَّذِی بَعْدَہُ شَرٌّ مِنْہُ، حَتّٰی تَلْقَوْا رَبَّکُمْ عَزَّ وَجَلَّ، سَمِعْتُہُ مِنْ نَبِیِّکُمْ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔ (مسند احمد: ۱۲۳۷۲)

اردو ترجمہ · Urdu

زبیر بن عدی سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:ہم نے حجاج کے مظالم کا سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے شکوہ کیا،انہوں نے کہا: صبر کرو، میں نے تمہارے نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا تھا کہ تم پر جو بھی دن اور سال آتا ہے، اس سے بعد والا دن اور سال پہلے سے بدتر ہوتا ہے، یہاں تک کہ تم اپنے رب عزوجل سے جا ملو گے۔

12459

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12459

Sahih

۔ (۱۲۴۵۹)۔ وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ یَقُولُ: مَا أَعْرِفُ شَیْئًا مِمَّا عَہِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْیَوْمَ، فَقَالَ أَبُو رَافِعٍ: یَا أَبَا حَمْزَۃَ! وَلَا الصَّلَاۃَ؟ فَقَالَ: أَوَلَیْسَ قَدْ عَلِمْتَ مَا صَنَعَ الْحَجَّاجُ فِی الصَّلَاۃِ۔ (مسند احمد: ۱۳۲۰۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ رہ کر جو کچھ دیکھ چکا ہوں،آج مجھے ان میں سے کچھ بھی نظرنہیں آتا، ابورافع نے کہا: اے ابو حمزہ! کیا نماز بھی ویسی نہیں رہی؟ انہوں نے کہا: کیا تم نہیں جانتے کہ حجاج نے نماز کا بھی کیا حشر کر دیا ہے؟